یہ کیسااتفاق ہے کہ ہر بار میرٹ کی دھجیاں اڑائی جائیں۔سندھ کے پڑھے لکھے نوجوانوں کے مستقبل پر شب خون ماراجائےاور نوازشات کا رخ صرف مخصوص خاندان مخصوص لوگوں طرف ہی ہو؟
سوال ہو تو ویر اعلی برہم ہوکر کہتا ہے کہ بتائیں میرے خاندان کے کون سے 3 افراد پاس ہوئے ہیں؟
#RejectCCE2024Result
غیر سیاسی: شیر مرگیا۔۔ بندر نے ضد کی اسے میئر بنادو
ضد کرکے ۔۔ مینی پولیشین ۔۔۔ کرکے ۔۔ کھینچ کھانچ کے بن گیا۔۔
ایک دفعہ شدید بارش ہوئی ۔۔ جانوروں نے دہائی دی۔
میئر صاحب کچھ کریں۔۔
میئر صاحب ایک ڈال سے دوسری ڈال تیزی سے چھلانگ لگاتے۔ پھر ادھر ۔۔ پھر ادھر تیز تیز۔۔
جانوروں نے کہا۔۔ صاحب توجہ!
کہنے لگا دیکھو۔۔۔ میں کتنی محنت کررہا ہوں۔۔
شرجیل میمن نے آج پریس کانفرنس میں کہا
کراچی کی آبادی مردم شماری کے مطابق کم بتائی جاتی ہے دو کروڑ
پھر کہنے لگے حالانکہ آبادی زیادہ ہے
لوگ کہتے ہیں تین کروڑ
شرجیل بھائی۔۔ لوگ کہتے ہیں کیا ہوتا ہے؟
بتائیں کتنی آبادی ہے؟
ایک ظلم یہ بھی ہے کراچی والوں پر۔۔پورا گنا جائے
@sharjeelinam
یہ ڈکیٹ آج کل دالرصحت اسپتال گلستان جوہر کے آس پاس ڈکیتیاں کر رہے ہیں۔ اور یہ تصویر وہاں کی امام بارگاہ کے کے سامنے ڈکیتی کے وقت کی ہے۔
@SindhPoliceDMC
کسی بھی سانحہ کے بعد اگر ریسکیو ٹیم کی متاثرہ جگہ پر فوری رسائی ممکن نہیں ہوتی اور انہیں جان کا خطرہ ہوتا ہے تو اس جگہ پر چھوٹے ڈرون کے استعمال کرکے لائیو فوٹیج سے صورتحال دیکھی جاتی ہے۔
ہمارے پاس تو پانی ، سیڑھیاں، کٹر، دیوار توڑنے کا سامان نہیں تھا تو ڈرون کہاں سے لاتے۔
ابھی لوگ جیالوں کی دماغی حالت پر احیران تھے کہ گل پلازہ پر فائرسیئفٹی ایگزٹ اور الارم نہ ہونے پر اپنے وزیراعلی سے سوال کرنے کے بجاے 1991 کے ںقشوُں کو رو رہے ہیں، کہ وزیر اعلی سندھ صاحب تو اٹھارویں صدی میں ایسٹ انڈیا کمپنی سے ایوان میں شروع ہوے۔
انہیں کوئی جگائے کہ 2026 چل رہا ہے، دنیا چاند پر جاچکی ہے۔ دو سال میں مریم نے لاہور کی شکل بدل دی ہے۔ان سے انکی 18 سالہ نااہلی پر سوال پوچھو تو یہ اٹھارویں صدی سے شروع ہوتے ہیں۔
#GulPlazaTragedy
یہ کراچی کے لڑکے ہیں۔ اپنے پروفیشنز میں بھی سچے ہیں۔ زرا سنئیے اپنے کان سے کہ چار کروڑ کا شہر پاکستان کا فائنشل حب اور سندھ کا گلک “کراچی” چل کیسے رہا ہے اور گل پلازہ پر اگ بجھائی کیسے جارہی تھی۔