مصلحت لاکھ سرِ راہ آئی مرے دل میں
قلم حق کو کسی خوف سے جھکایا نہیں
اپنے حصے کا جو سچ تھا، وہ کہتا رہا
عہ�� صدق و صفا سے خود کو ہٹایا نہیں
لوگ بدلتے مصلحتِ وقت کے ساتھ
میں نے اپنے کردار کا معیار گرایا نہیں
میرے کردار کی بنیاد تھی صدق واستقامت
میں نے خود کو کھبی دنیا سے ملایا نہیں ۔۔
جو ہیں مظلوم ان کو تو تڑپتا چھوڑ دیتے ہیں
یہ کیسا شہر ہے ظالم کو زندہ چھوڑ دیتے ہیں
انا کے سکے ہوتے ہیں فقیروں کی بھی جھولی میں
جہاں ذلت ملے اس در پہ جانا چھوڑ دیتے ہیں
ہوا کیسا اثر معصوم ذہنوں پر کہ بچوں کو
اگر پیسے دکھاؤ تو کھونا چھوڑ دیتے ہیں
اگر معلوم ہو جائے پڑوسی اپنا بھوکا ہے
تو غیرت مند ہاتھوں سے نوالہ چھوڑ دیتے ہیں..
ہم یوسف زماں تھے ابھی کل کی بات ہے
تم ہم پہ مہرباں تھے ابھی کل کی بات ہے
وہ دن بھی تھے کہ ہم ہی تمہاری زباں پہ تھے
موضوع داستاں تھے ابھی کل کی بات ہے
جن دوستوں کی آج کمی ہے حیات میں
وہ اپنے درمیاں تھے ابھی کل کی بات ہے
کچھ حادثوں سے گھر گیا محسن زمین پر
ہم رشک آسماں تھے ابھی کل کی بات ہے ..
اٹھائے ہیں تیرے حضور یہ خالی ہاتھ
ہیں دل میں ابھی تک کئی سوالی ہاتھ
نه تخت و تاج، نہ مال و زر کی طلب
ترے در پہ لایا ہوں فقط ملالی ہاتھ
ہمیں نصیب کہاں تھی وفا کی دولت
اپنے حصے میں لایا ہوں فقط زوالی ہاتھ
یہ اور بات کہ دنیا نے ہم کو سمجھا نہیں
اپنے عہد میں رکھ آیا ہوں مثالی ہاتھ
کسی کے سامنے جھکنا مجھے گوارا نہ تھا
ترے در اقدس پہ اٹھائے ہوں سوالی ہاتھ 🤲 ..
بڑے بے قدروں کو ہم دستیاب ہوئے
یہی وجہ تھی جو ہم نا کامیاب ہوئے
وہ جنہیں سمجھا تھا دل کا سکون ہم نے
وہی لوگ دل و جاں کے عذاب ہوئے
فقط چند لمحوں کا کھلونا تھا ان کے لیے
وہ جن کے لیے جوانی میں ہم خراب ہوئے
وہ جن پہ وار دیں ساری خوشیاں ہم نے ، روح
اس شخص کے سارے غم ہم سے انتساب ہوئے ..
ہم تو موجود تھے راتوں میں اجالوں کی طرح
تم نے ڈھونڈا ہی نہیں ڈھونڈنے والوں کی طرح
ہم تو چاہتے تھے کہ تیری روح میں اتر جائیں
مگر تم نے چاہا ہی نہیں چاہنے والوں کی طرح ..
@UrduVirsa
خدا پر چھوڑ دیتا ہوں یقیں سارے ، گماں سارے
تبھی ہو جاتے ہیں آسان میرے امتحان سارے
قتل کس نے کیا آخر ؟ یہاں لوگوں سے مت پوچھو
ضمیر زندہ تو ہے سب کا، مگر ہیں بے زباں سارے
میرے رہبر سے کہہ دو کہ فقط منزل کو دیکھے وہ
وگرنہ راستہ کھو دیں گے اس کے کارواں سارے
جو بولوں جھوٹ تو سب مان لیتے ہیں کہ سچ بولا
جو بولوں سچ تو مجھ سے ہو جاتے ہیں بد گماں سارے
نصیر اس دور فتنوں میں تو ہی دانا نہیں شاید
یہاں تجھ سے زیادہ بھی پڑے ہیں نادان سارے۔۔
Follow