اگر ملا عمر رحمہ اللہ 13،افراد کے ساتھ میدان میں اتر سکتا ہے تو ہم کیوں نہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی ملا میدان میں اترا ہے چاہے وہ تلوار کے ساتھ ہو یا بندوق کے ساتھ ملا ہی وہ میدان جیت چکا ہے۔
تکبیر
اللہ اکبر
#ایوان_نہیں_میدان
جو بغیر کسی لالچ کے ٹوئٹر پر "جےیوآئی" کو سپورٹ کرتے ہیں،
وہ فالو کریں اور ہینڈل مینشن کریں تاکہ انکو فالو کرسکوں.
ریٹویٹ کریں اور ایک دوسرے کی طاقت بنیں.
شکریہ
#ووٹ_صرف_کتاب_کا
جمعیت علماۓ اسلام دیر بالا کے زیر اہتمام ڈیجیٹل میڈیا کنونشن کرنے کا انعقاد.
بتاریخ: 14 جنوری
بروز: اتوار:
بوقت: 1بجے دوپہر.
بمقام: شیلٹن ہوٹل پڑاٶ دیر اپر
#ڈیجیٹل_میڈیاکنونشن_دیراپر
Abdul Jalil Jan
#Sadaqat Khan
جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان کی امارت اسلامیہ افغانستان کے وزیراعظم ملا محمد حسن اخوند سے ملاقات
وزیراعظم کا پاکستانی علماء کے وفد کا خیرمقدم
بیرونی قبضے کے خلاف امارت اسلامیہ کو عظیم فتح حاصل ہوئی ہے ۔مولانا فضل الرحمان
افغانستان کے عوام کو مبارکباد دیتے ہیں ۔مولانا فضل الرحمان
افغانستان میں اسلامی نظام مزید مستحکم ہو گا جس کی برکت سے اس کے مثبت اثرات پوری اسلامی دنیا تک پہنچیں گے۔مولانا فضل الرحمان
ہمارے دورہ افغانستان کا مقصد دونوں ممالک کے تعلقات میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کو دور کرناہے ۔مولانا فضل الرحمان
دونوں ملکوں کے سیاسی تعلقات، معیشت، تجارت اور باہمی ترقی میں تعاون کی راہیں تلاش کرنا ہے۔مولانا فضل الرحمان
جے یو آئی نے افغان مہاجرین کے ساتھ پاکستان کے حکمرانوں کے رویے کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی ہے ۔مولانا فضل الرحمان
ہم اس قسم کے رویے کو غلط اور دونوں ممالک کے درمیان مسائل کی وجہ قرار دیتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان
ہم یہاں خیر سگالی کا پیغام لائے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ اس سفر کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔مولانا فضل الرحمان
امید کرتے ہیں کہ دورہ دونوں پڑوسی ممالک اور برادر عوام کے درمیان بھائی چارے اور مثبت تعلقات کی مضبوطی کا باعث بنے گا۔ملا محمد حسن
افغانستان اور پاکستان دو ایسے ممالک ہیں جن کے مختلف شعبوں میں بہت سی مشترکات ہیں اس لیے ایک کو دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ملا محمد حسن
افغانستان میں اسلامی نظام کی حکمرانی ہے۔ملا محمد حسن
علمائے کرام ہر معاملے کو شریعت کی نظر سے دیکھتے ہیں ۔ملا محمد حسن
امارت اسلامیہ افغانستان پاکستان سمیت کسی بھی پڑوسی ملک کو نقصان پہنچانے یا مسائل پیدا کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی ۔ملا محمد حسن
مسائل کے حل اور غلط فہمیوں کے خاتمے کے لیے علمائے کرام کا کردار اہم ہے ۔ملا حسن
پاکستانی حکام کا افغان مہاجرین کے ساتھ اپنا ظالمانہ رویہ بند کرنا چاہیے کیونکہ اس قسم کے رویے سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ م��الفت اور مایوسی میں اضافہ ہوتا ہے۔ملا حسن
ملاقات میں اس بات پر زور دیا گیا کہ دونوں ممالک کو مل کر تمام مسائل کے حل کی راہیں تلاش کرنی چاہئے اور ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جس سے مزید مسائل پیدا ہوں۔
اس ملاقات میں مولانا فضل الرحمان کے ہمراہ مولانا عبدالواسع ،مولانا صلاح الدین ،مولانا کمال الدین ،مولانا جمال الدین ،مولانا سلیم الدین شامزئی، مولانا امداد اللہ ،مولانا ادریس ،ڈاکٹر عتیق الرحمان ،مفتی ابرار بھی تھے
امارت اسلامیہ افغانستان کے چیف جسٹس مولوی عبدالحکیم جبکہ حقانی، وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی، وزیر ارشاد حج و اوقاف شیخ الحدیث مولوی نور محمد ثاقب اور بعض دیگر حضرات نے شرکت کی۔ کابینہ کے ارکان نے بھی شرکت کی۔پاکستانی سکالرز نے وفد سے مختلف موضوعات پر تبادلہ خیال کیا۔
وزیر خارجہ مولوی امیر متقی نے افغان مہاجرین کے مسائل کے علاوہ افغان تاجروں کے مسائل، پاکستانی حکام کی طرف سے راہداری اور برآمدات میں پیدا ہونے والے مسائل کا بھی ذکر کیا جس سے ہر سال افغان تاجروں کو بھاری مالی نقصان ہوتا ہے اور اس بات پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممال�� کے درمیان تجارتی یا اقتصادی لین دین کو سیاسی مسائل کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔
میڈیا سیل جے یو آئی پاکستان