نئے صوبے بنانا، نئے ڈویژن بنانا، نئے ضلعے بنانا، نئی تحصیلیں بنانا اور نئے ٹاؤن بنانا، یہ انتظامی معاملات ہیں۔ بھارت میں بھی نئے صوبے بنے ہیں، لیکن ہمیں اپنے ملک کی انتظامی ساخت کو پہلے دیکھنا چاہیے، اس کا پورا مطالعہ کرنا چاہیے۔
نقوی صاحب ہمارے برخوردار ہیں، لیکن کچھ وقت سے پہلے بالغ ہوگئے ہیں۔ اب یہ معلوم نہیں کہ انہوں نے یہ بات اپنی ذاتی حیثیت میں کی ہے یا نہیں۔ لیکن اپنی ذاتی حیثیت میں بات کرنا کیسے ممکن ہے، جبکہ وہ اس وقت وفاقی کابینہ کے رکن ہیں۔کیا وہ یہ کہہ سکتے ہیں؟ یا وزیراعظم پاکستان یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ میری آشیرباد پر ہوا ہے، یا میری اجازت سے ہوا ہے؟ یا وفاقی کابینہ یہ کہہ سکتی ہے کہ یہ ہماری اجازت سے ہوا ہے؟ یا اگر کسی اور طرف سے کوئی بات ہوئی ہے تو وہ بھی واضح کر دی جائے۔
کیا ملک اس بات کے لیے تیار ہے کہ نئے صوبے بنائے جائیں؟ صوبے بنانا کوئی بری بات نہیں،
میں ایک سال سے زیادہ عرصہ چیختا رہا کہ فاٹا ابھی انضمام کے قابل نہیں بنا۔ مگر ہمارے سر پر یہ تھوپ دیا گیا کہ تم تو انضمام کے مخالف ہو۔ ہم نے کہا، نہیں، ہم انضمام کے خلاف نہیں ہیں۔ یہ فاٹا کے عوام اور ان کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ ہے، لہٰذا اس میں کئی آپشنز ہو سکتے ہیں۔ ذرا وہاں کے عوام سے بھی پوچھ لیا جائے کہ وہ صوبے میں انضمام چاہتے ہیں، ایک الگ صوبہ چاہتے ہیں، یا اپنی سابقہ حیثیت برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ لیکن ان سے نہیں پوچھا گیا۔
آج وہ خود کہہ رہے ہیں کہ ہم سے غلطی ہو گئی۔ وہاں کے عوام کی زندگی اب ایسی ہو گئی ہے کہ وہ خود نہیں سمجھ رہے کہ ہم اب فاٹا ہیں یا صوبے کا حصہ ہیں۔ وہاں کوئی نظام موجود نہیں ہے، باقی نظام تو دور کی بات ہے۔
یہ کوئی کیک تو نہیں کہ آپ آرام سے چھری لے کر جس طرح چاہیں اسے کاٹ دیں۔ صوبہ بنانے کی بات کے لیے کیا ملک تیار ہے؟ آپ مجھے بتائیں، اگر چار یا پانچ بھائیوں کا مشترکہ مکان ہو اور اس کے بعض حصوں میں آگ لگ جائے، تو اس وقت وہ آگ بجھائیں گے یا کہیں گے کہ آئیے بھائی، پہلے اس کی تقسیم کر لیتے ہیں؟
ہر چیز کے لیے ایک مناسب ماحول بنانا پڑتا ہے۔ سوائے اس کے کہ عوام کو جو مسائل درپیش ہیں، جو مشکلات ہیں، جو بدامنی ہے، جس نے زندگی اجیرن بنا دی ہے، ان سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لیے آپ ہم سب کو ایک نئی بحث میں لگا دیتے ہیں۔ روز نئے ایشو اٹھاتے ہیں، پھر اس پر بحث ہوتی ہے۔ یہ صوبوں والی بحث پہلے بھی کئی بار ہو چکی ہے۔
ہم اصولی طور پر صوبوں کے خلاف نہیں ہیں، لیکن اگر قومیتوں کی بنیاد پر بنیں گے تو پھر ان کی شکل کیا ہوگی؟ اور اگر محض انتظامی بنیادوں پر بنیں گے تو پھر ان کی شکل کیا ہوگی؟ اس پر ہر صوبے کے عوام کا ردِعمل آئے گا۔ وہ کہیں گے کہ یہ ہونا چاہیے یا نہیں ہونا چاہیے، مجھے اس صوبے میں شامل کرو یا نہ شامل کرو۔ یہ سارے معاملات ابھی باقی ہیں۔
ایک مشکل مسئلے میں اتنی آسانی کے ساتھ ہاتھ ڈال دیا گیا ہے کہ شاید یہ ان کے بس میں نہ ہو، بلکہ اس سے مشکلات اور پیچیدگیوں میں مزید اضافہ ہو جائے۔ یہی میرے خدشات ہیں۔ ہر چیز مشاورت سے ہونی چاہیے تھی۔ یہ پورے ملک کا مسئلہ ہے، ملک کے ہر شہری کا مسئلہ ہے۔ یہاں مختلف قومیتیں رہتی ہیں، ان کی اپنی ایک شناخت ہے۔ آپ اس شناخت کو نظرانداز کریں گے یا اسے سامنے رکھ کر فیصلے کریں گے؟ یہ سارے معاملات غور و فکر کی ضرورت ہیں۔
میں ایک عرصے سے کہہ رہا ہوں کہ یہاں جمہوریت نہیں ہے، یہاں پارلیمنٹ کی اہمیت ختم ہو گئی ہے۔ لیکن اب کیا کرنا ہے؟ ہم تو کہتے ہیں کہ اس کا حل آج بھی ہے اور کل بھی تھا، وہ ہے ملک کا آئین۔ آئین کے مطابق ملک کو چلاؤ، جمہوریت بھی ٹھیک ہو جائے گی، اور اللہ کے دین اور اس کے احکامات کے مطابق قانون سازی بھی شروع ہو جائے گی۔اور عوام میں خود اعتمادی بھی پیدا ہوگی کہ اصل میں ہماری مرضی کی حکومتیں ہونی چاہئیں، ہم پر جبراً کوئی حکومتی مسلط نہ کی جائے۔
لیکن وہ دھاندلیوں کے ذریعے دھوکہ دیتے ہیں، جیسے واقعی یہ عوام کی حکومتیں ہوں، جبکہ یہ بھی انہی کی حکومتیں ہوتی ہیں اور ان کی لگام بھی انہی کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ اس حوالے سے عوام پریشان ہیں، عوام کی کوئی حکومت نہیں ہے۔
میں یہ سوچتا ہوں کہ پہلے یہ بتایا جائے کہ انہوں نے یہ باتیں کس حیثیت میں کی ہیں؟ وہ کابینہ کے رکن ہیں۔ اگر نظام ناکام ہو چکا ہے تو یا تو اپنی حکومت سے کہیں کہ وہ مستعفی ہو جائے، یا پھر کم از کم خود مستعفی ہو کر میدان میں آ جائیں۔ نہیں، نوکری بھی اسی تنخواہ پہ کرنی ہے اور باتیں بھی بڑی بڑی کرنی ہیں، تو میں اب کیا کہہ سکتا ہوں۔
'چھوٹے لوگوں کو بڑا کہنا پڑا ہے مجھ کو اکثر،
ایسی تکلیف کئی بار اٹھائی میں نے۔'
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمٰن کی کوئٹہ میں صحافیوں سے گفتگو
آپ نے ہمارے نصاب کو بھی جائز تسلیم کیا، آپ نے ہمارے مدارس کے نظم و نسق کو بھی جائز تسلیم کیا، آپ نے ہمارے مالیاتی نظام کو بھی جائز تسلیم کیا، پھر اس وقت سے لے کر آج تک مدارس کی رجسٹریشن کیوں نہیں ہو رہی؟ مدارس کے اکاؤنٹس کیوں بند ہیں؟اس کا معنیٰ یہ ہے کہ آپ مسئلے کا حل نہیں چاہتے۔
آپ کسی طرح چاہتے ہیں کہ مدارس اشتعال میں آئیں، سڑکوں پر آئیں، نوجوان کو اشتعال ملے، وہ بندوق کی طرف جائے، اور پھر ریاست بندوق کی طاقت کو طاقت کے ساتھ مارنے کے لیے اپنے لیے ایک جواز مہیا کر سکے۔ سو، ہم نے آپ کو یہ جواز مہیا نہیں کیا۔ ہم نے اس ملک کو پُرامن ملک بنانے کی کوشش کی۔ تاہم ایک گروہ ضرور ہے جو پہاڑوں میں چلا گیا، جو بندوق لے کر کھڑا ہو گیا، لیکن وہ بندوق اٹھا کر جب افغان_ستان جا رہا تھا تو آپ نے افغانس_تان جانے کے لیے اس کا راستہ روکا؟ آپ امریکہ کے اتحادی بھی بنے، آپ نے ہوائی اڈے بھی دیے، فضائیں بھی ان کو دیں، یہاں سے جہاز بھی اڑتے تھے، ان فضاؤں سے گزر کر وہاں پر بمباری بھی کرتے تھے، اور دوسری طرف اس جنگ میں شریک ہونے کے لیے پاکستانی مجاہد بھی جا رہا تھا، اور تم بھی اس کو تھپکی دے رہے تھے کہ آپ مجاہد ہیں۔ پھر انہی حالات میں ان کے ساتھ مصالحت کرنے کے لیے میں نہیں گیا ہوں، ان کے ساتھ مفاہمت کرنے کے لیے میں نے افغانستان کا سفر نہیں کیا۔ میں نے دو ملکوں کے درمیان معاملات ٹھیک کرنے کے لیے سفر کیا، لیکن طال_بان کے ساتھ بات کرنے کے لیے میرے ملک کے آئی ایس آئی کے چیف گئے ہیں، اور اس نے وہاں پر ان سے کیا باتیں کی ہیں، کچھ مجھے معلوم بھی ہے۔
سو اگر ان دہشت گردوں کو کوئی حوصلہ دلانے کا عمل ہے، وہ بھی آپ کے صفوں میں مل رہا ہے، ہمارے صفوں میں تو وہ ہم سے ناراض ہیں۔ آپ اپنے شہداء کی بات کرتے ہیں، مجھے سکھاتے ہو کہ شہید کس کو کہتے ہیں؟ مجھے سکھاتے ہو کہ شہید کا مقام کیا ہے؟ میں قرآن و سنت کا ایک طالب علم ہوں، میں شہید کے مقام کو جانتا ہوں، شہید کیا ہوتا ہے؟ جو شہید اپنے وطن کے لیے قربانی دیتا ہے، اس کی قدر و منزلت کو میں جانتا ہوں۔ آپ مجھے اس کی قدر و منزلت نہ سمجھائیں۔
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا اسلام آباد میں وکلاء کنونشن سے خطاب
#قائدانقلاب_مولانا
#سیاسی_چوکیدار
#مولانا_سے_معافی_مانگ
#شہداء_صرف_بہانہ
#لشکر_نہیں_امن
بھروسا تم نے توڑا تھا مگر خود کو سزا یوں دی
کہ پھر جو مل گیا مجھ کو، بھروسا کر لیا اس پہ۔
عدم اعتماد کی فضا تم نے پیدا کی۔ میرے مخالفین ساری زندگی کبھی ملا ملٹری الائنس کہتے تھے، کبھی کہتے تھے کہ اسٹیبلشمنٹ کے بہت قریب ہے۔ کیوں؟ میری سیاست اعتدال کی ہے۔ میں مذہبی طبقے سے تعلق رکھتا ہوں، اور اس کو اشتعال دلانے کے لیے پوری دنیا وسائل استعمال کر رہی ہے۔ اس ماحول میں رہ کر جب میں اپنے ماحول کو اعتدال کی راہ دکھاؤں گا تو یقیناً کچھ نرمیاں اس کے اندر آئیں گی۔ کوئی اس کو کہتا ہے: تم مفاد پرست ہو، موقع پرست ہو، تم نے فلاں جگہ یہ کیا، وہ کیا۔ نہیں! ہم نے حالات کے مطابق پالیسی اختیار کی، اور ہم کبھی حکومتوں کی خواہش پر نہیں چلے۔
میں اگر 1988ء میں اسمبلی میں آیا، تب بھی اپوزیشن میں تھا۔ مجھے 1990ء میں ہرایا گیا۔ 1993ء میں آیا، میں پھر اپوزیشن میں تھا۔ 1997ء میں اسمبلی میں آیا، میں پھر اپوزیشن میں تھا۔ تم نے میرے خلاف اس وقت بھی گندا پروپیگنڈا کیا، غلیظ ترین پروپیگنڈا کیا۔ کبھی کہا: ڈیزل پرمٹ خریدا ہے۔ پھر ڈیزل پرمٹ اگر میں نے لیا ہے تو دستاویز ہوگی نا؟ پرمٹ کے معنی ہی دستاویز ہیں۔ 2003ء، 2004ء میں آپ نے میرے خلاف یہ پروپیگنڈا کیا۔ آج 2026ء ہے۔ کہیں کوئی اس کا ریکارڈ، کوئی دستاویز، کوئی ثبوت تمہیں آج تک ملا؟ کہتے تھے: پلازے لے لیے ہیں، فیکٹریاں بنا لی ہیں، دبئی میں ہوٹل بنا لیے ہیں۔ اسی ہزار کی لسی پی لی ہے، دو دن ہوٹل میں ٹھہرا ہوں تو کہتے ہیں: اسی ہزار کی لسی پی لی ہے۔ شرم بھی نہیں آتی اس قسم کی گفتگو کرتے ہوئے۔
اور پھر ایک وقت آیا جب اسٹیبلشمنٹ کی ایک اہم شخصیت نے مجھے پیغام بھیجا کہ وہ مجھ سے ملنا چاہتے ہیں۔ میں نے انکار کر دیا۔ پھر نوابزادہ نصر اللہ خان مرحوم درمیان میں آئے اور مجھے کہا: "آپ کو بات کر لینی چاہیے۔" میں نے اپنی جماعت سے مشورہ کیا۔ انہوں نے بھی مجھے کہا: "ہاں، ہمیں مل لینا چاہیے تاکہ پتا تو چلے کہ ہم کس غار سے ڈسے جا رہے ہیں۔"
ان ملاقاتوں میں جب میں نے اپنی شکایات ان کے سامنے رکھیں، اور میں نے ان کو چیلنج کیا کہ اللہ تمہیں دیکھ رہا ہے، اللہ تمہیں سن رہا ہے، میں بھی بیٹھا ہوں، تم بھی بیٹھے ہو۔ اگر میرے ہاتھ سے یا میرے ماحول کے اندر کوئی ایسے غلط کام ہوئے ہوں، کوئی ایسے غلط مفادات میں نے حاصل کیے ہوں، تو اللہ کے لیے کم از کم مجھے واضح طور پر بتا دو کہ فضل الرحمٰن، آپ کے اندر یہ نقص ہے۔ اس اعلیٰ ترین افسر نے سر جھکایا، پھر سر اٹھایا، پھر کہا: "مولانا! کوئی ایسی بات نہیں ہے، قطعاً کوئی ایسی بات نہیں ہے۔"
تو میں نے کہا: "پھر میری کردار کشی کیوں کی؟ کیوں میرے بارے میں یہ غلط باتیں کیں؟"
انہوں نے کہا: "میں متعلقہ حلقوں (Concerned Quarters) کو ہدایت دے دوں گا، ان شاء اللہ آئندہ ایسا نہیں ہوگا۔
تو میں نے کہا: آپ نے تو کہہ دیا کہ ہم نے جو بولا، جھوٹ بولا، غلط بولا، اور آئندہ ہدایت دے دوں گا کہ ایسا نہیں ہوگا، لیکن میرا دعویٰ تو اپنی جگہ برقرار ہے کہ تم نے الیکشن میں دھاندلی کرائی ہے، اور حکمران جو بھی بنے گا، دھاندلی سے بنے گا۔سو آج میرا سوال یہ ہے کہ دھاندلی سے بنی ہوئی حکومت ہمیں قبول نہیں
قائدِ جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا اسلام آباد میں وکلاء کنونشن سے خطاب
#قائدانقلاب_مولانا
#سیاسی_چوکیدار
#مولانا_سے_معافی_مانگ
#شہداء_صرف_بہانہ
#لشکر_نہیں_امن
میں قوم کے سامنے اپنی بات دلائل سے پیش کرتا ہوں، تو میری بات آخر آپ قوم تک کیوں نہیں پہنچانے دیتے؟ اسمبلی بلڈنگ کے اندر چیمبرز میں ٹی وی لگے ہوتے ہیں، اور ان چیمبرز میں جو لوگ بیٹھے ہوتے ہیں، وہ جب میری تقریر سنتے تھے تو اس کو بھی بند کر دیا گیا۔ اب صرف ایوان کے اندر کے لوگ سن رہے ہیں۔ تو میں نے کہا کہ یہ تو میں نے آپ سے کہا تھا نا کہ آپ ایک اِن کیمرا اجلاس تو بلائیں تاکہ ہم دیکھیں کہ پاکستان کہاں کھڑا ہے؟
ہندوستان کی سرحد بند ہے، افغانستان کی سرحد بند ہے، چین آپ کے ساتھ کاروبار کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔
اور جب آپ نے درخواست دی، پرسوں یا ترسوں، کہ پاکستان میں آپ کی جو ایک سو ستر ارب ڈالر کی سرمایہ کاری تھی، اور جسے ہم پورا نہیں کر سکے، اس لیے آپ مہربانی کریں اور وہ ایک سو ستر ارب ڈالر ہمیں معاف کر دیں، تو چین نے آپ کی اس درخواست کو مسترد کر دیا۔
تفتان کے علاقے، سندک میں ابتدا ہی سے چین کام کر رہا ہے۔ آج اس نے وہاں سے بستر اٹھانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ تو یہ آپ کے چین کے ساتھ تعلقات ہیں۔ ایران آپ پر کتنا اعتماد کرتا ہے، لیکن خود برے حالات میں ہے،پاکستان کو محصور کردیا اپ نے یہ تمہاری پالیسیاں ہیں۔ آپ انڈیا سے لڑے، ہم نے سب سے پہلے آپ کو سپورٹ کیا۔ آپ نے امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمت کی بات کی، ہم نے اس کی بھی سپورٹ کی کہ ہم خطے میں امن کو ترجیح دیں۔
لیکن ہماری رضامندی کے باوجود آپ آ رہے ہیں، جا رہے ہیں، آ رہے ہیں، جا رہے ہیں، آ رہے ہیں، جا رہے ہیں۔ وہ گلہری کی طرح: "میری آنیاں جانیاں وے۔" اور آج بھی امریکہ ایران پر حملے کر رہا ہے۔ آبنائے ہرمز کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ جب امریکہ نے میرے سپہ سالار کو تھپکی دی کہ: "آپ ایک بہت اچھے آدمی ہیں، بہت اچھے آدمی ہیں۔" اس وقت تک اچھے آدمی تھے، جب ہمارے جھنڈوں کے نیچے ان کے جہازوں نے ہرمز کو عبور کیا۔ اور یہ فائدہ اٹھانے کے بعد، جب ہم گھر واپس آئے، تو ایران پر پھر دوبارہ حملے ہو رہے ہیں۔ اب آپ کچھ کارکردگی تو دکھائیے نا۔
چین ناراض، افغانستان کے ساتھ آپ کی سرحد بند، ملک محصور، اشیائے ضروریہ کی قلت ہو رہی ہے۔ اور اب آپ ناراض کس بات پر ہوئے ہیں؟ کہ میں نے کہا: "ہم لشکر نہیں بنائیں گے۔" آپ قبائل سے کہہ رہے ہیں، جگہ جگہ، کہ تم لشکر بناؤ اور لڑو۔ ہم نے کہا: "نہیں، یہ عوام کی ذمہ داری نہیں ہے۔" اس کے لیے آپ ہیں۔ آپ ہی بھرتی ہوتے ہیں، آپ ہی پیٹیاں باندھتے ہیں۔ لیکن پھر بھی پاکستان کے عوام نے آپ کو اخلاقی طور پر سپورٹ کیا ہے۔ آپ عوام کو جنگ میں جھونکنا چاہتے ہیں۔
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا اسلام آباد میں وکلاء کنونشن سے خطاب
#قائدانقلاب_مولانا
#سیاسی_چوکیدار
#مولانا_سے_معافی_مانگ
#شہداء_صرف_بہانہ
#لشکر_نہیں_امن
آپ اپنے شہداء کی بات کرتے ہیں، مجھے سکھاتے ہو کہ شہید کس کو کہتے ہیں؟ مجھے سکھاتے ہو کہ شہید کا مقام کیا ہے؟ میں قرآن و سنت کا ایک طالب علم ہوں، میں شہید کے مقام کو جانتا ہوں، شہید کیا ہوتا ہے؟ جو شہید اپنے وطن کے لیے قربانی دیتا ہے، اس کی قدر و منزلت کو میں جانتا ہوں۔ آپ مجھے اس کی قدر و منزلت نہ سمجھائیں۔ میں تمہیں جانتا ہوں کہ تمہاری نظر میں اپنے شہداء کی کیا قدر و قیمت ہے۔
پاکستان ایک ادارہ جاتی ملک ہے، اور پوری دنیا میں ادارے متعین ہیں، ان کا دائرۂ کار متعین ہے، ان کا دائرۂ اختیار متعین ہے۔ اگر میں نے آپ کو ان کی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کیا ہے، اگر میں نے آپ کو ان کے اپنے دائرۂ کار اور اس دائرۂ کار کے اندر ان کی صلاحیتوں کی طرف متوجہ کیا ہے، تو میں اب بھی کہتا ہوں:
پالیسی ساز لوگو! سپاہی نے تو آپ کا حکم ماننا ہے۔ پالیسی ساز تو آپ بڑے ہیں۔ میں آپ کی پالیسیوں سے اختلاف کر رہا ہوں، بڑے ادب و احترام کے ساتھ اختلاف کر رہا ہوں، لیکن آپ میرے بیان کی ازخود تشریح کر کے جو میری کردار کشی کرنا چاہتے ہیں، اور سمجھتے ہیں کہ فضل الرحمٰن جھک جائے گا، سرنڈر کر جائے گا۔
یاد رکھو! مجھے میرے ماں باپ نے سرنڈر ہونے کے لیے نہیں جنا۔ اور میں نے آپ کو اپنی ذمہ داریوں تک محدود رہنے کی بات کی ہے۔ یہ میں نے پہلی مرتبہ نہیں کی۔ یہ تو پارلیمنٹ میں اور عام جلسوں میں بھی میں نے بار بار کہی ہے۔ قصور والی بات قصوروار ٹھہری، اور عجیب بات بتاؤں، وکلاء حضرات! ذرا اس پر بھی غور کریں کہ اڑتالیس گھنٹے بعد ان کو پتا چلا کہ میں نے یہ بات کہی ہے۔
مجھے افسوس یہ ہے کہ میرے خلاف بدنیتی پر مبنی ایک جملے کی غلط تشریح کر کے قوم کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی، عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی، میڈیا کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی، اور شہداء کے خاندانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی۔
میں ان کو بتانا چاہتا ہوں کہ صرف ہم ہیں، الحمد للہ، صرف ہم ہیں جنہوں نے ایک سے زیادہ مرتبہ جلسوں میں یہ بات کہی ہے: "اگر میری فوج پر خدا سخت وقت نہ لائے، میرے ملک پر خدا برا وقت نہ لائے، ورنہ جب میری فوج اپنے ملک کا دفاع کرے گی تو میرے یہ فقیر ان شاء اللہ اپنے فوجیوں کے شانہ بشانہ مورچوں میں کھڑے ہوں گے۔" آپ نے کبھی ہمارے اس جذبے کو سراہا؟ اور قربانیاں ہیں، اگر پاکستان کا ایک سپاہی ملک کے لیے قربانی دیتا ہے، اور اسی لیے وہ فوج میں بھرتی ہوا ہے، تو جمعیۃ علماء اسلام تو فوج نہیں ہے، پھر میری جمعیۃ علماء اسلام کی صفوں کے اندر سے بڑے اکابر سے لے کر عام علماء اور طلبہ تک دو سو سے زیادہ شہداء ہم نے کیوں دیے؟ کس کے لیے دیے؟
تم نے اس قسم کی حرکت کر کے جمعیۃ علماء اسلام کے کارکنوں اور ان کی قربانیوں کا مذاق اڑایا ہے، اور اب اس کا ردِعمل آئے گا۔ آپ سمجھتے ہیں کہ ہم پیچھے ہٹ جائیں گے؟ ہم نے ترتیب بنا لی ہے۔ میں چاروں صوبوں میں جاؤں گا۔ چاروں صوبوں میں وہاں کے عوام اور کارکنوں کے درمیان جاؤں گا، بڑے جلسوں سے بھی اور کنونشنوں سے بھی خطاب کروں گا۔ میں اپنا موقف لے کر آگے جاؤں گا۔
تم نے میرے علماء کو شہید کیا۔ علماء کرام شہید ہوئے۔ میرے استاد اور میرے شیخ مولانا حسن جان شہید ہو گئے۔ میرے والد صاحب کے شاگردِ رشید، وزیرستان کے استاد الاساتذہ مولانا نور محمد شہید ہو گئے۔ مولانا معراج الدین، جو میں سمجھتا ہوں کہ میرا دایاں بازو تھے، تم نے وہ بازو توڑ دیا۔ اور میں نے باجوڑ میں ایک جلسے کے ایک سو جنازے اٹھائے ہیں، میں روزانہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں کہیں نہ کہیں دو یا تین جنازے اٹھا رہا ہوں۔ میں تو آپ کے ہر جنازے پر آپ کے ساتھ رویا ہوں۔ کبھی یاد ہے کہ تم میرے جنازے پر میرے ساتھ روئے ہو؟
مجھے کہتے ہو تم نے غلط بات کی ہے؟ میں کہتا ہوں تم نے اپنے شہداء کی بھی تذلیل کی ہے، فوج کے شہداء کی بھی تذلیل کی ہے، ان کے خاندانوں کی بھی تذلیل کی ہے، تم نے میرے شہداء کی بھی تذلیل کی ہے، تم نے ان کی بھی بے توقیری کی ہے۔
معافی کہتے ہو فضل الرحمٰن مانگے؟ نہیں! آج اگر میری بات غلط ہے تو مجھے ضرور رائے دیں۔ آپ قانون کے ماہر ہیں، میری رہنمائی کریں۔ میرا مطالبہ یہ ہے کہ جس فوج نے، جس جنرل نے، جس دفتر سے میرے خلاف اور میری جماعت کے خلاف پروپیگنڈا کمانڈ کیا ہے، اس کو معافی مانگنی ہوگی۔ ہم نے ایسی کوئی کچی گولیاں نہیں کھیلی ہیں۔
بھروسا تم نے توڑا تھا، مگر خود کو سزا یوں دی
کہ پھر جو مل گیا مجھ کو، بھروسا کر لیا اُس پر
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا اسلام آباد میں وکلاء کنونشن سے خطاب
#مرد_آہن_مولانا
#پروپیگنڈہ_برگیڈ
#چوکیدار_وڑگیا
#BroadcastMaulanaNow
#LawyersStandWithMaulana
میرے خلاف پروپیگنڈا کیا گیا کہ میں نے ڈیزل کے پرمٹ لیے پلازے بنا لیے دبئی میں ہوٹل بنا لیا 80 ہزار کی لسی پی لی دو دن میں ہوٹل میں رہا اور میں نے 80 ہزار کی لسی پی لی شرم بھی نہیں آتی اس قسم کی گفتگو کرتے ہوئے
#BroadcastMaulanaNow#LawyersStandWithMaulana
جمعیت لائر فورم کے زیر اہتمام وکلاء کنونشن
ملک خلیل کاکٹر کنوینر جے ایل ایف بلوچستان
پاکستان کی آزادی میں علماء کا بڑا کردار ہے ۔
اس ملک کی سلامتی اور قانون کی پاسداری میں جمعیت علماء کا مثبت کردار ہے ۔
پاکستان میں آئین کی بنیاد قرآن وسنت ہے ۔
1973 کے آئین میں ہمارے قائدین کا کردار سب کے سامنے ہے ۔
ہم یہاں دستور کے مطابق زندگی گذارنا چاہتے ہیں ۔
ہندوستان کے ساتھ جنگ میں ہمیشہ اپنی افواج کا ساتھ دیا اور صف اول کا کردار ادا کیا ۔
اس ریاست کا دفاع ہم پر لازم ہے ۔
جب بھی یہاں حالات خراب ہوئے ہم نے پارلیمنٹ ،میدان میں کردار ادا کیا ہے ۔
ہم ریاست پاکستان کے دفاع پر کبھی آنچ نہیں آنے دیں گے ۔
قائد محترم کی آواز پر ہر وقت لبیک کہیں گے ۔
ہم اپنی قیادت کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں ۔
#مرد_آہن_مولانا
#پروپیگنڈہ_برگیڈ
#چوکیدار_وڑگیا
#کنگال_عوام
#عیاش_حکمران
مولانا صاحب کی تقریر کو اس کے پس منظر میں سنا اور سمجھا جائے تو کیا پروپیگنڈا بنتا ہے ؟
مولانا صاحب کا ایک قصور ہے
کہ بلوچستان کے پی اور سندھ میں مولانا بھی موجود اور ان کی جماعت بھی موجود
مولانا صاحب کا قصور یہ ہے کہ وہ قصور میں جمعیت کا قافلہ لے کر پہنچ گئے ۔
مولانا صاحب نے پنجاب کے مزدور کسان کو جاگنے کا مشورہ دیا ان کے سامنے کے پی اور بلوچستان کے حالات سامنے رکھے ؟
بتایا جائے کہ اس تقریر میں کچھ خلاف آئین ہے ؟
کیا اس پر معافی بنتی ہے ۔
مولانا صاحب پاکستان اور دستور کی بات کررہے ہیں ۔
اب کہتے ہیں کہ تم پروپیگنڈہ کرنے والوں کو لگڑ بگڑ کہتے ہیں ۔
اس کنونشن کا مطالبہ ہے کہ پروپیگنڈہ کرنے والے معافی مانگیں
سنیٹر کامران مرتضی
#مرد_آہن_مولانا
#پروپیگنڈہ_برگیڈ
#چوکیدار_وڑگیا
#کنگال_عوام
#عیاش_حکمران
جمعیت لائر فورم کے زیر اہتمام وکلاء کنونشن
غلام سرور بلیدی ۔ صدر جے ایل ایف سندھ
مولانا صاحب کی تقریر کے چند جملوں کو لے کر جو طوفان بدتمیزی پیدا کی گئی وہ افسوسناک ہے ۔
بدامنی کا یہ حال ہے کہ مغرب کے بعد گھروں سے نہیں نکل سکتے ۔
مولانا صاحب نے صرف یاد دلایا کہ ان کی ذمہ داری کیا ہے ۔
میں آج وکیل ہوں تو اپنی خواہش پر آیا ہوں ۔
اب اگر کسی کلائنٹ کے لئے رات کو جاگوں تو یہ میری ذمہ داری ہے کسی پر احسان نہیں ۔
بلوچستان اور کے پی آپ کے ہاتھوں سے نکل چکا ہے ۔
صوبہ سندھ کے حالات ہمیں معلوم ہیں ۔
مولانا صاحب نے بغیر فیس کے مشورہ دیا ہے ۔ شکر گذار ہوتے الٹا تنقید کر رہے ہیں ۔
آئین کے ہم سب پابند ہیں ، آپ بھی اور ہم بھی ۔
ہم قائد جمعیت کا خطاب ہر بار کونسل میں کروائیں گے ۔
جنہوں نے الزمات لگائیں وہ مولانا صاحب اور عوام سے معافی مانگیں ۔
#مرد_آہن_مولانا
#پروپیگنڈہ_برگیڈ
#چوکیدار_وڑگیا
#کنگال_عوام
#عیاش_حکمران
جمعیت لائر فورم کے زیر اہتمام وکلاء کنونشن
سردار وقار الملک
ہم اس ملک میں قانون کی حکمرانی کی جد وجہد کرتے ہیں ۔
ہم ایسی شخصیت کھڑے ہیں جو چالیس سے ملک میں پارلیمانی خدمات سرانجام دے رہے ہیں ۔
ہمارے قائد کا دامن کرپشن سے پاک ہے ۔
ملک میں آئینی بحران ہوتا ہے تو سب کی نظریں قائد پر ہوتی ہیں ۔
قائد کے کوششوں سے کئی بار جمہوریت کو نقصان سے بچایا ۔
ہمارے کارکنوں نے اپنے قائد کے موقف کا دفاع کیا ۔
اس قسم کے کنونشن ملک بھر میں ہونے چاہیے تاکہ عوام تک قائد جمعیت کا موقف پہنچے ۔
#مرد_آہن_مولانا
#پروپیگنڈہ_برگیڈ
#چوکیدار_وڑگیا
#کنگال_عوام
#عیاش_حکمران
جمعیت لائر فورم کے زیر اہتمام وکلاء کنونشن
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمان صاحب
جس افسر کے آفس سے میرے خلاف پروپیگنڈے کئے گئے ۔ وہ معافی مانگے ۔تم نے اپنے شہداء کی اور ان کی فیملی کی توہین کی ہے ۔ میرے شہداء کی توہین کی ہے ۔
#BroadcastMaulanaNow#LawyersStandWithMaulana
جمعیت لائر فورم کے زیر اہتمام وکلاء کنونشن کا آغاز
کنونشن سے قائد جمعیت مولانا فضل الرحمان ،مرکزی قائدین خطاب کریں گے ۔
کنونشن سے جمعیت لائر فورم کے مرکزی کنوینر سنیٹر کامران مرتضی اور دیگر خطاب کریں گے ۔
جے ایل ایف (جمعیت لائر فورم )کے دیگر مرکزی و صوبائی قائدین خطاب کریں گے ۔
کنونشن میں سینکڑوں وکلاء شریک
ملک بھر سے وکلاء کی شرکت
#مرد_آہن_مولانا
#پروپیگنڈہ_برگیڈ
#چوکیدار_وڑگیا
#کنگال_عوام
#عیاش_حکمران
جمعیت لائر فورم کے زیر اہتمام وکلاء کنونشن
عبدالولی ناصر بلوچستان
آج وکلاء نے ثابت کردیا کہ مولانا صاحب آپ کے قد اور سوچوں سے اوپر ہے ۔
چوہانوں جیسے لوگوں کے کمنٹس سے ہم پر کوئی فرق نہیں پڑتا ۔
آج کے مقتدرہ کو احساس ہوگیا کہ انہوں نے کس طاقت کو للکارا ہے ۔
ہمارے اکابرین نے برصغیر کو انگریز سے آزادی دلائی
#مرد_آہن_مولانا
#پروپیگنڈہ_برگیڈ
#چوکیدار_وڑگیا
#کنگال_عوام
#عیاش_حکمران
جمعیت لائر فورم کے زیر اہتمام وکلاء کنونشن
عثمان انور ۔صدر جے ایل ایف اسلام آباد۔
تمام اکابرین کا شکریہ ادا کرتا ہوں ۔ مولانا صاحب کی تقریر کی تائید کرتے ہیں ۔
ہم اور ہماری قیادت کبھی کسی کی دل آزاری نہیں کی ۔
اس تقریر میں ایک لفظ بھی ایسا نہیں جسے توہین آمیز کہا جائے ۔
#مرد_آہن_مولانا
#پروپیگنڈہ_برگیڈ
#چوکیدار_وڑگیا
#کنگال_عوام
#عیاش_حکمران