🚨BREAKING: For the first time, the original Pakistani cypher — cable I-0678, the document that triggered the removal of former Pakistani Prime Minister Imran Khan — is being released in full by Drop Site.
قید تنہائی میں ڈالنے سے قبل وکلاء، اراکین اسمبلی اور پارٹی قیادت کے لیے احکامات تھے عدالتوں کے باہردھرنا دیں جب تک انصاف نہیں ملتا۔ ان سب کو جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر یاد کراچکا ہوں۔ وکلاء کے نام بھی سخت پیغام تھا اور کیوں نہ ہوتا پارٹی عہدوں سے لیکر اسمبلی ٹکٹ اور بار الیکشن تک عمران خان کے نام پر لڑے جاتے ہیں لیکن خان صاحب کے احکامات کے باوجود عدالت کے باہر مستقل، بمع اراکین اسمبلی دھرنا نہیں دیا جا سکتا؟ پہلے بارش تھی، پھر رمضان تھا اب گرمی ہے۔۔
خان صاحب کی بیماری، ڈرون حملے،آپریشن، بدلتے ہوئی بین الاقوامی حالات،پیٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے،بے جا ٹیکسسسز، مہنگائی کے تناظر میں تحریک چلانے کی صلاح۔ صرف صوبہ نہیں ملک بند کرنے کا پلان،عمران خان کی صحت کے معاملے پر متحرک ہونے کی درخواست، ایوانوں سے استعفوں کے زریعے حکومت سے legitimacy واپس لینے ک�� لیے سب سے پہلے اپنے استعفیٰ کی پیشکش۔۔۔
میں یہ سمجھتا ہوں کہ عمران خان کی اسیری کا زمہ دار ان میں سے کوئی فرد نہیں بلکہ بین الاقوامی اسٹیبلیشمنٹ کی ایماء پر برسرپیکار عاصم منیر، قانونی و غیر قانونی طور پر اس کے ماتحت آنے والے ادارے اور اسکے اشاروں پر ناچنے والی سیاسی قوتیں ہیں۔ مگر کیا عمران خان اپنی ذات کے لیے مقید ہے کہ اس کی رہائی کے لیے اپنی پوری قوت سے کوشش کرنا بھی کسی کا فرض نہیں ہے؟ قیادت سے لیکر قوم تک کسی کا بھی نہیں؟
تحفظ آئین پاکستان مہینوں بعد ایک بیٹھک منعقد کرنے کا فیصلہ خود کر سکتی ہے،سی ایم جلسے کا اعلان اور پھر ملتوی خود کر سکتا ہے، اراکین اسمبلی شادیوں اور دعوتوں میں مخالفین کے ساتھ بیٹھنے کا فیصلہ خود کر سکتے ہیں، مارکوپولو بن کر دنیا کے چکر لگانے کا فیصلہ خود کر سکتے ہیں،سیاسی کمیٹی خود کو “محب وطن” ثابت کرنے کے لیے ایمرجنسی اجلاس بلا سکتی ہے،تنظیمیں عہدوں کے نئے نئے نوٹیفیکشن کرسکتی ہیں،صوبائی حکومت فارم ۴۷ وزیراعظم اور صدر کے ساتھ بیٹھ سکتی ہے، کور کمانڈر ہاؤس کا رخ کر سکتی ہے لیکن جب عمران خان کا سوال ہو تو سیاسی کمیٹی کا جواب ہوتا ہے تحفظ آئین پاکستان، ان کا جواب ہوتا ہے پی ٹی آئی قیادت، قیادت فیملی کا نام لیتی ہے اور پھر سی ایم پر بات آجاتی ہے اور یہی سلیم اللہ سے کلیم اللہ اور کلیم اللہ سے سلیم اللہ چلتا رہتا ہے۔تو جب سارے فیصلے اپنے طور پر کیے جا سکتے ہیں تو تحریک کا فیصلہ کیوں نہیں؟ محض اس کے لیے عمران خان کی ہدایت درکار ہے اور جہاں عمران خان کی ہدایات میسر ہیں وہاں حیلے بے شمار ہیں۔ مان لیتے ہیں کہ منزل ایک ہے لیکن طریقہ کار مختلف ہے تو ایک دن کے نوٹس پر آپ سب ایک چھت کے نیچے بیٹھ کر مشترکہ اجلاس بلا کر عملی جدوجہد کا فیصلہ کر سکتے ہیں اور ادھر ہی مشترکہ پریس کانفرنس کا انعقاد بھی ہوسکتا ہے۔ چلو یہ بھی مان لیتے ہیں کہ زیادہ تر تحریک کے حق میں ہیں تو کچے دھاگے توڑنے کے لیے اجلاس کو لائیو نشر کیجئے ویسے بھی کونسا ایٹم بم کا فارمولہ ڈسکس ہونا ہے تو جو بھی رکاوٹ ہوگی قوم خود اسٹیبلیشمنٹ کے ساتھ ان کا بھی احتساب کر لے گی۔
ہمیں تو گراونڈ ریلئٹی نہیں معلوم ناں تو بس پبلکی مشورہ دے دیا کیونکہ خان صاحب کی بیماری کے وقت میں نے ایک وائس نوٹ میں وہ تمام تجاویز دہرائے جو میں قیادت کو بارہا بھیج چکا تھا، نا ہی کوئی کال دی نا ہی کوئی فیصلہ کیا لیکن خان صاحب کے لیے کچھ کرنے کے بجائے مجھے قیادت و صوبائی حکومت نے پیغام بھجوایا کہ آپ کے ایک وائیس نوٹ سے تحریک کو Irreversible نقصان ہوا ہے۔ سیریسلی؟ اور یہ میرے ساتھ پہلی مرتبہ نہیں ہوا۔۔
تین سال بہت لمبا عرصہ ہوتا ہے وہ بھی ناحق اسیری اور عمران خان جیسا لیڈر۔ چار سال مجھے ہوگئے پہلے دربدر اور پھر مستقل اور پھر روپوشی بھی ایسی کہ کوئی ایک ہفتہ بھی نہ گزار سکے۔ آج صرف مل بیٹھ کر ایک جہد مسلسل کی گزارش کر رہا ہوں اگر نہیں ہو رہا آپ سے تو جیسا آپ ہمارے بیانیہ کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے ہم آپ کی غفلت کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے۔ ا��ر یہ جو کرنل سے مل کر ایک دوسرے کو مشورے دیتے ہو کہ خان تو جیل میں ہی رہے گا مراد سعید تو پاگل ہے نہ اپنی پرواہ نہ کسی اور کی وہ تو جب بھی نظر آیا مارا جائے گا اپنی زندگی کیوں خراب کرتے ہو تو اتنا کہوں گا اللہ آپ کو مزید آسانیاں دے لیکن ہمارے مقصد ہماری جدوجہد اور ہماری زندگیوں کی قیمت پر نہیں بالکل بھی نہیں۔ کوئی فیصلہ کیجیے-
“اس ملک کے ججوں کو خود پر شرم آنی چاہیے۔ ہم نے بارہا عدلیہ سے رجوع کیا، ��یکن انہوں نے اپنی ذاتی مراعات کے عوض اپنے ضمیر کا سودا کر لیا ہے۔ انہوں نے اپنی دیانتداری بیچ ڈالی ہے۔
وہ جانتے ہیں کہ وہ مجھے توڑ نہیں سکتے، اس لیے وہ میری اہلیہ کو اذیت پہنچاتے ہیں۔ صرف مجھے بلیک میل کرنے کے لیے ججز بشریٰ بی بی کے ساتھ اس قدر غیر انسانی سلوک کی اجازت کیسے دے سکتے ہیں؟ انہیں دن کے 24 گھنٹے قید تنہائی میں رکھا جاتا ہے، اور پورے ہفتے میں مجھ سے ملاقات کے محض 30 منٹ دئیے جاتے ہیں، اور اکثر تو اس ملاقات پر بھی پابندی عائد کر دی جاتی ہے۔ اسلام میں عورتوں، بچوں اور بزرگوں کو نقصان پہنچانے کی ممانعت ہے۔ ان کے مقاصد بالکل واضح ہیں۔
جج معاشرے میں انصاف کے ذمہ دار ہوتے ہیں، لیکن اس ملک کے ججز کو خود پر شرم آنی چاہیے” -
ناحق قید سابق وزیرِ اعظم پاکستان عمران خان کا اڈیالہ جیل سے اپنے بیٹوں سے ٹیلی فونک گفتگو کے دوران پیغام
(21 مارچ، 2026)
My sons Sulaiman & @kasim_khan_1999 applied for visas in January (again… ) to allow them to visit their father @ImranKhanPTI in Pakistan. The Pakistan consulate states that online visa processing normally takes 7–10 working days. It has now been 60 days. This despite the public promise that they could safely travel there to see their father after 4 years, made by both Defence Minister @khawajaMAsif to @mehdirhasan & PM spokesperson @mosharrafzaidi to @SkyYaldaHakim
Meanwhile, they are not allowed to speak to him on the phone, nor send him a letter. They haven’t seen him since 2022 after he was shot in an assassination attempt.
This is an appeal directly to Pakisan’s PM @CMShehbaz to please allow Imran Khan’s two sons to see their father asap, particularly since, by all accounts, his health is in decline.
@SupariKhan Afsoos aur sharam ka maqam ha @SupariKhan .
Ap itnay nechay level par b aa sakty ho ye main at least ap se tu expect nahe karta ta.
Khair baqi ap ki apni marzi jo krna ha karo
but
khud ko IMRAN KHAN ka supporter na Kaho kiokay ap Sirf GANDAPURI supporter reh gaye ho.
@kbsalsaud InshaAllah, the Government of Pakistan will be the one to bring all nations together for peace, and our favourite Field Marshal, Syed Asim Munir, will try his best! This man never gives up, and the whole world knows that. Pak–Saudi friendship Zindabad! 🇵🇰🇸🇦
زمانہ طالب علمی سے دہشتگردی کے خلاف جنگ کے عام آدمی پر اثرات اور ریاست کے دوغلے کردار پر لکھنا شروع کیا۔ تفصیل میں جائے بغیر، نومبر ۲۰۲۵ میں پرننٹنگ کے لیے روابط کا آغاز کیا تاہم ہر جگہ سے انکار ہوا۔ بلآخر ایک دوست جو اس وقت خود بھی مشکلات کا شکار ہیں نے مدد پر آمادگی ظاہر کی اور بہت تگ و دو کے بعد تقریباً پانچ ماہ کی مکمل رازداری میں کی محنت سے یہ پراسس مکمل ہوا۔ میرے لیے یہ انتظار نہایت تکلیف دہ تھا کیونکہ میرا مقصد ملک کو ایک اور جنگ میں دھکیلنے والوں کے خلاف بروقت تنبیہہ کرکے مزید جنازے روکنا تھا جس کا حتمی آغاز ضلع خیبر کے علاقے تیرہ سے ہونے جارہا تھا۔ ��ین سال پہلے جس جنگ کی پیشنگوئی کی تھی آج وہ شروع ہوچکی ہے۔ آج اگر ان حالات میں بھی مالاکنڈ نسبتاً پرامن ہے تو الحمدللہ ہماری بروقت امن تحریک اس کا وسیلہ بنی۔آپ کہیں گے پرانی باتیں نہ دہراؤ مگر جب مجھے روپوش ہونا پڑا تو درخواست کی کہ اب اس تحریک کا بیڑہ آپ اٹھائیں اپنے لوگوں کی آواز بنیں۔ آج جب افغانستان کے ساتھ جنگ چھیڑ دی گئی ہے تو میں یاد دلاؤں گا کہ میں نے کہا تھا کہ آپ کی دہلیز تک ایک اور جنگ لائی جارہی ہے اور آپ کی لاشوں پر بیانیے بنیں گے۔
اللہ کے حکم سے اپنے کارکنان کے ساتھ مل کر خان صاحب کی گرفتاری کی پہلی کوشش کی ناکامی سے لے کر کتنی مرتبہ وارن کیا ہے کہ پاکستانیو! اپنا فیصلہ کرو آپ نے مرسی کا مصر بننا ہے یا اردگان کا ترکی؟ آپ نے عمران خان کی زندگی پر ہونے والی ہر اٹیمپٹ کی ناکامی کے بعد تالیاں پیٹ کر میری وا�� واہ تو کرلی۔ داد تو دے دی۔ میری بات کو کتنی سنجیدگی سے لیا؟ عمران خان کی زندگی کو لاحق خطرات تین ماہ پہلے سے نہیں ہیں، تین سالوں سے اس منصوبے پر کام ہورہا ہے۔ یہ میں پہلی دفعہ نہیں بتا رہا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت آئی آپ کبھی ایک کے کبھی دوسرے کے بیانات پر شادیانے بجاتے رہے میں نے نہیں جھنجھوڑا کہ عمران خان بین الاقومی طاقتوں کے مفادات کی راہ میں کھڑا ہے؟ ان کی لفظی کاروائیوں پر نہ جائیں، عمران خان ان کے منصوبوں میں فٹ نہیں بیٹھتا۔ رجیم چینج آپریشن میں شامل کردار اپنی طاقت کو طول دینے کے لیے سب داؤ پر لگانے کو تیار ہیں، اور آپ نے دیکھا سب داؤ پر لگا بیٹھے ہیں۔
نومبر ۲۰۲۴ میں ڈی چوک میں سامنے سے گولیاں سے ماری گئیں، اکتوبر ۲۰۲۵ میں مریدکے میں قتلِ عام ہوا یہ معمولی واقعات تو نہیں تھے لیکن دیدہ دلیری سے ہوئے کیون��ہ بین الاقوامی ایجنڈے پر عمل درآمد کے بدلے مکمل چشم پوشی کی کمٹمنٹ ہوئی تھی۔
اسرائیل کے حوالے سے پالیسی پر آپ کو بارہا بتایا۔ کسی نے تعریف کی کسی نے تنقید کی، کسی نے جلی کٹی سنائیں۔ کسی نے اپنے گریباں میں جھانکے بغیر دشنام طرازی کی۔ رُک کے غور شاید ہی کسی نے کیا۔
نومبر ۲۰۲۵ میں واضح ہوگیا کہ گھر کی دہلیز تک ایندھن پہنچا تو پہلے دیا گیا تھا، اب آگ بھڑکائی جانی تھی۔ تیرہ سے آپریشن کے آغاز کا ارادہ ہوچکا تھا۔ افغانستان کے ساتھ جنگ کی راہ ہموار کی جارہی تھی۔ نظریاتی سرحدوں کا سودا الگ ہورہا تھا۔
یہاں یہ بھی یاد دلا دوں کہ جب مجھ جیسے آباد علاقوں کے پختونوں کو آپریشن کی ہولناکیوں کا اندازہ بھی نہیں تھا عمران خان اس وقت اپنے لوگوں کو پرائی جنگ میں جھونکنے کے خلاف اٹھنے والی اکلوتی آواز تھا۔ یہ مشن میرے لیڈر کا تھا۔ ابسولوٹلی ناٹ کا فیصلہ میرے لیڈر کا تھا، کہ پاکستان کی سرزمین کسی بھی بیرونی طاقت کے مفادات کے لیے کسی ہمسایے کے خلاف نہیں استعمال ہوگی۔
میں نے صرف ان عناصر سے پردہ اٹھایا ہے جنہیں عمران خان کے اس کردار سے تکلیف تھی۔ جو ان کے موقف کے سبب ان کی جان کے درپے ہیں۔ جوں جوں بین الاقوامی قوتوں کی فرمان برداری اور غلامی میں انکے ساتھ کمٹمنٹس پورے ہو رہے ہیں یوں یوں عمران خان کی زندگی کو خطرہ بڑھ رہا ہے۔ یوں یوں پاکستان کا وجود خطرے میں پڑ رہا ہے۔ میرا کام وارن کرنا تھا میں نے کردیا، ایک مرتبہ پھر۔ فیصلہ کل بھی آپ کو کرنا تھا، فیصلہ آج بھی آپ کو کرنا ہے۔
۱/۲