محسن نقوی کے بیان پر ترجمان جےیوآئی کا ردعمل
ہائبرڈ نظام کی ناکامی کا اعتراف اس کا خالق خود کر رہا ہے۔ ترجمان جےیوآئی
مولانا فضل الرحمن پچھلے دو سال سے اس نظام کی ناکامی کا بار بار کہہ رہے ہیں۔ اسلم غوری
سسٹم کی خرابی اور کمزوری کا تو بچے بچے کو علم ہے ۔ترجمان جے یو آئی
وفاقی وزیر کی اپنی ہی حکومت کیخلاف چارج شیٹ لمحہ فکریہ ہے۔ اسلم غوری
طے یہ کرنا ہے کہ اس سسٹم کے خالق کون اور اسکی خرابی کے ذمہ دار کون ہیں ۔ترجمان جےیوآئی
ہائبرڈ نظام کے خالق اور اس کا حصہ بننے والے دونوں ملک کو اس مقام پر پہنچانے کے ذمہ دار ہیں ۔اسلم غوری
ہائبرڈ نظام نے ملک کی جڑیں کھوکھلی کردی ہیں ۔ترجمان جےیوآئی
محسن نقوی کا بیان اعتراف جرم کے زمرے میں آتا ہے۔اسلم غوری
نظام عدل کا کنٹرول، شعائر اسلام کی توہین ، اسمبلیوں کی خرید وفروخت ، دھاندلی زدہ انتخابات، آئین پاکستان میں غیر آئینی ترامیم اس نظام کے سیاہ کارنامے ہیں ۔اسلم غوری
آئین سے ماوراء ہر قدم ملک اور نظام کو تباہی کیطرف دھکیل رہا ہے ۔ترجمان جےیوآئی
جے یو آئی کے خلاف پروپیگنڈہ ہمیں آئین کے تحفظ کی سزا دی جارہی ہے ۔اسلم غوری
قیادت کے خلاف جھوٹ پر مبنی پروپیگنڈے کئے جاتے ہیں ۔اسلم غوری
میڈیا سیل جے یو آئی پاکستان
75 سال آپ نے کشمیریوں کے خون پر سیاست کی۔ ان کے خون کو آپ نے بیچا، ان کی منڈیوں کو آپ نے بیچا اور آج بڑی آسانی کے ساتھ آپ نے سودا کر دیا۔
اس لیے ہم نے کہا ہے کہ اب 5 اگست کو بھی پورے ملک میں انشاءاللہ کشمیریوں کے حق میں یوم سیاہ منایا جائے گا۔ یہ وہ دن ہے جب انڈیا نے اقدامات کیے اور ہم نے اس وقت بھی کہا تھا۔ میں نے یہ بات کہی تھی۔
#سروس_یا_پروپیگنڈا #پٹرولیم_��یوی_نامنظور
#کشمیر_کو_امن_دو #ادارے_بدنام_ناکرو
اسلام آباد:امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا اہم ویڈیو پیغام، یکم اگست 2026
کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی کی زیرِ قیادت اہلِ کشمیر کا احتجاج جاری ہے۔ دو ماہ سے زیادہ عرصہ ہو گیا ہے، وہ دھرنا دیے بیٹھے ہیں۔ اس حوالے سے 5 جون 2026ء کو جب حالات خراب ہوئے، کشیدگی بڑھ گئی، حکومت اور کمیٹی کے درمیان بات چیت تعطل کا شکار ہو گئی، تو کمیٹی نے مجھے پیغام بھ��جا۔ ایک بہت بڑے وفد کے ساتھ یہاں تشریف لائے اور تحریری طور پر مجھ سے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی درخواست کی۔ انہوں نے مجھ پر اعتماد کیا، میں ان کا تہہِ دل سے ممنون ہوں۔
میں نے ثالثی کا کردار ادا کرنے کے لیے ان کی اپیل پر لبیک کہا۔ اس کے بعد میرا رابطہ حضرت مولانا سعید یوسف خان صاحب، امیر جمعیت علماء اسلام آزاد جموں و کشمیر، اور جناب سردار کامران اعظم خان صاحب کے ذریعے ان کے ساتھ رہا۔
اس پورے دورانیے میں، جہاں کمیٹی نے مجھ پر اعتماد کیا اور ثالثی کا کردار ادا کرنے کی اپیل کی، وہاں حکومت نے اسے کوئی اہمیت نہیں دی۔ سیاسی حل کی طرف متوجہ ہونے کے لیے بھی حکومت تیار نہ ہوئی، بلکہ طاقت کے ذریعے ان کی تحریک کو کچلنے پر مصر رہی، جو نہایت افسوسناک بات ہے۔
عوام اپنی حکومت اور اپنی ریاست سے ماں جیسا سلوک روا رکھنے کی امید رکھتے ہیں۔ یہاں وہ ہر وقت، صبح و شام، اور ہر لمحہ ریاست کے بھیانک جبر و ظلم کے خوف میں مبتلا رہے۔ مائیں، بہنیں اور چھوٹے چھوٹے بچے اسی خوف میں زندگی گزارتے رہے، لیکن حکمرانوں کے جسم پر ��وں تک نہ رینگی، انہیں کوئی احساس تک نہ ہوا۔
اس وقت، ہر چند کہ حکومت نے تشدد کا راستہ اختیار کیا، نہتے عوام پر گولیاں چلائیں، اور میری معلومات کی حد تک شہداء کی تعداد اسی تک پہنچ چکی ہے، تب بھی حکمرانوں کے دل پتھر بن چکے ہیں۔ کسی بھی طریقے سے وہ اپنے عوام اور اپنے کشمیریوں، جن کے سینوں میں ایک پاکستانی دل دھڑکتا ہے، ان کے لیے کوئی رحم دکھاتے نظر نہیں آتے۔
اس کے باوجود کشمیر ایکشن کمیٹی نے اس نئی صورتحال میں جو اگلا اقدام اٹھانا ہے، میں ایک بار پھر ان حالات میں، جہاں میں ان کے جذبات، ان کے کرب اور ان کی تکلیف کو دیکھ کر، ان سے معذرت کے لہجے میں اپیل کرنا چاہتا ہوں کہ وہ مسئلے کے حل کے لیے مزید مہلت دیں، کسی بڑے اقدام سے گریز کریں، اور ایک اور موقع دیں۔
باوجود اس کے کہ ان کا جسم زخمی زخمی ہے، لہو لہو ہے، ان کے دامن میں لاشیں پڑی ہوئی ہیں، اس کے باوجود میں ان کے تحمل، ان کے صبر اور ان کی برداشت کو سلام کرتا ہوں، اس اپیل کے ساتھ کہ وہ مزید کوئی بڑا اقدام کرنے سے گریز کریں، تاکہ اللہ کرے مسئلے کا کوئی منصفانہ اور پائیدار حل سامنے آ سکے۔
ہمیں اس بات پر بھی تشویش ہے، اور یہ بڑے خطرے کی گھنٹی ہے، کہ اب یہ تحریک پورے کشمیر میں پھیل گئی ہے۔ اس کے اثرات پاکستان کے مختلف علاقوں میں نظر آ ��ہے ہیں، اور بیرونِ ملک، خاص طور پر یورپ میں، کشمیری عوام سراپا احتجاج بن رہے ہیں، اور یہ تحریک پوری دنیا میں پھیل رہی ہے۔
اس ساری صورتحال کی سنگینی کا حکومت کو احساس کرنا چاہیے، ہمارے ریاستی اداروں کو اس کا احساس کرنا چاہیے، ہماری ریاستی قوت کو اس کا احساس کرنا چاہیے، اور اپنے گھر کو خون سے رنگین کرنے کے بجائے اسے شاداب کرنے کی طرف متوجہ ہونا چاہیے۔ صلح و آشتی کی طرف میں ان سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ ہماری اپیل پر سنجیدگی سے غور کریں اور مسئلے کے حل کے لیے آگے بڑھیں۔
میں کشمیریوں کے صبر، تحمل، برداشت اور مجھ پر ان کے اعتماد پر ان کا بہت شکر گزار ہوں۔
اللہ تعالیٰ کشمیر کو جنت نظیر بنائے، اسے امن کا گہوارہ بنائے اور ترقیوں سے سرفراز فرمائے۔
وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين۔
یار اڑتالیس گھنٹے سے زائد ہوچکا ہے
اس مرد قلندر کے دو جملوں کے آفٹر شاکس ابھی تک جاری ہیں، گھنٹوں کی پریس کانفرنسز ، زر خرید مولویوں کے ٹکٹ پی سی ہوٹل کے کرائے، اوورایکٹنگ اور رونے دھونے کے خرچے کل ملاکر ابتک بتیس سے زائد مزدور میدان میں اتارے جاچکے ہیں، مگر معاملہ کہیں سے حل ہوتا نظر نہیں آرہا ☺️♥️
#مولانا_کی_للکار #پروپیگنڈہ_چھوڑو_امن_دو
سیاق و سباق سے ہٹائے گئے چند سیکنڈ کے کلپ کبھی بھی کسی شخصیت کا مکمل مؤقف نہیں ہوتے۔ مولانا فضل الرحمٰن نے پالیسی پر بات کی، شہداء کی قربانیوں کی توہین نہیں کی۔ اختلافِ رائے کو شہداء کی حرمت کے خلاف ثابت کرنا دیانت نہیں بلکہ سیاسی پروپیگنڈا ہے۔
#شہداء_کو_ڈھال_نہ_بناؤ
شہداء کے خون کی اس سے بڑی توہین کیا ہوگی کہ انکے دفاع کیلئے
فیاض اللہسن چوہان، عون چوہدری
مخطی قوی، ٹائر اشربی
جیسے سکہ بند بےغیرتوں کو مولانا فضل الرحمان کیخلاف میڈیا میں اتارا گیا ہے۔
(شیخ نوید)
#شہداء_کو_ڈھال_نہ_بناؤ#لشکر_نہیں_خود_لڑو#مولانا_کی_للکار
#پروپیگنڈہ_چھوڑو_امن_دو
بلاول بھٹو زرداری صاحب افواج پاکستان کے خلاف آپ کے والد صدر پاکستان جناب آصف علی زرداری صاحب نے نہ صرف بولا تھا بلکہ افواج پاکستان کی اینٹ سے اینٹ بجانے کی بات بھی کی تھی جس کے بدلہ مین آپکے والد صدر پاکستان ایک بار نہین دو بار بن گئے
تو کیا آپ اپنے والد کے بیان کو بھی برداشت نھین کرین گے ؟؟؟
#مولانا_قدم_بڑھاؤ #پروپیگنڈہ_چھوڑو_امن_دو #لشکر_نہیں_خود_لڑو #مولانا_کی_للکار #مولانا_کی_للکا�� #شہداء_کو_ڈھال_نہ_بناؤ #NationStandsWith_Maulana #معافی_مائی_فٹ
قوم و وطن کا ھر شہید ھمارے سر کا تاج ھے چاھے وہ سویلین ھو یا وردی پوش فوجی یا پولیس ولا، صحافی ھو یا عالم یا عام سویلنن، جس کو وطن کی حفاظت و محبت کی پاداش میں شہید کیا گیا۔
تو شہدا کے خون کی آڑ میں شہداء کے وارثوں کے خلاف بیانیے نہیں بنا کرتے اور جب آڑ بھی فیک اور جھوٹی ھو ۔
#شہداء_کو_ڈھال_نہ_بناؤ
#لشکر_نہیں_خود_لڑو
#مولانا_کی_للکار
#پروپیگنڈہ_چھوڑو_امن_دو
#مولانا_قدم_بڑھاؤ
پارلیمنٹ اسٹیبلشمنٹ کے گھر کی لونڈی ہے جس کی اہمیت ختم ہوچکی ہے،ایوان نہیں اب اس میدان کی حیثیت ہے، اس لئے ایوان میں ہماری پانچ سیٹیں ہوں یا دس اس کی پرواہ کئے بغیر جعلی پارلیمنٹ کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں۔
ہم جس جمہوریت کے علمبردار ہیں وہ آئین و اسلام کی علمبردار اور عوام کی نمائندہ جمہوریت ہے، ہم قرآن و سنت اور اسلام کی سربلندی کے قائل ہیں،اگر وہاں اعلاء کلمۃ اللہ نہیں ہے تو پھر وہاں غلامی ہے، ٹرمپ اور امریکہ کی غلامی ہے،ایسے نظام پر لعنت بھیجتے ہیں۔
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کا ڈیرہ اسماعیل خان میں مفتی محمود کانفرنس سے خطاب
#معافی_مائی_فٹ
#شہداء_کو_ڈھال_نہ_بناؤ
#لشکر_نہیں_خود_لڑو
#مولانا_کی_للکار
#پروپیگنڈہ_چھوڑو_امن_دو
تین دن سے ھر حربہ آزما لیا دھونس دھمکی منت و سماجت سے صحافیوں اور سیاسی کارکنوں وسرکاری صاحبان جبہ دستار سے پوسٹیں اور ٹویٹس کروالیں ھر MNA/MPA سےویڈیوز بنوالیں ھروزیر مشیر سے پریس کانفرنسز کروالیں سب کچھ پٹ گیا۔
اب صدر پاکستان اور وزیراعظم پاکستان باقی ھیں ان سے بھی مولانا صاحب کے خلاف تقریر کروالو نا، ان کو بولنا نہیں آتاکیا؟؟
#شہداء_کو_ڈھال_نہ_بناؤ
#لشکر_نہیں_خود_لڑو
#مولانا_کی_للکار
#پروپیگنڈہ_چھوڑو_امن_دو
#مولانا_قدم_بڑھاؤ