یہ موصوف اسد خان ہیں
ملتان میں یونائٹیڈ بنک کے منیجر ہیں
. تو ظاہر ہے تعلیم بھی اچھی ہو گی
اسی گزشتہ جمعہ 31 جولائی کے دن
موصوف اسد خان اپنے تین انتہائی مہذب دوستوں سمیت باہر ریڑھی سے سموسے لیکر انٹرنیشنل فوڈ چین سب وے کے ہال میں جا گھسے تاکہ فوڈ چین کا ائرکنڈیشن اور صاف ستھری جگہ کو مفت میں انجوائے کر سکیں
جب یہ چاروں پڑھے لکھے جاہل فوڈ چین کی ٹیبل پہ قبضہ کر کے سموسوں میں مشغول ہوئے تو فوڈ چین کے ویٹر نے انہیں کہا کہ یہاں باہر سے فوڈ لا کر کھانا منع ہے اس بات پہ یہ چاروں ویٹر کو گالیاں دینے لگ گئے ویٹر نے شفٹ انچارج فضیل کو صورتحال سے آگاہ کیا تو فضیل ان کی ٹیبل پہ خود آیا اور اتنا کہا کہ یہاں کے رولز کیمطابق آپ باہر سے کوئی فوڈ لا کر یہاں نہیں کھا سکتے مگر اب آپ لوگ کھا رہے ہیں تو جلدی سے ختم کر کے چلے جائیے کہیں ہماری ملازمت ہی نہ چلی جائے
اس بات پر موصوف اسد خان یونائٹیڈ بنک منیجر شفٹ انچارج فضیل کو تھپڑ مارنے لگ گیا فضیل نے کوئی بات کی نہ ری ایکشن دیا مگر پھر بھی اسد خان نے کاونٹر پہ جا کر فضیل کو پھر مارا
اسی دوران سب وے میں موجود کسٹمر نے ون فائیو پہ کال کر دی تو اسد خان اور اسے کے ساتھی باہر چلے گئے اور فضیل کو بھی باہر بلا لیا کہ ہم معافی مانگنا چاہتے ہیں مگر فضیل جب باہر آیا تو ان چاروں نے مل کر فضیل کو مارنا اور زد و کوب کرنا شروع کر دیا اور اتنی دیر تک مارتے رہے کہ جب تک پولیس موقع پر پہنچی اور انہیں گرفتار کر لیا
دنیا سچ کہتی ہے کہ تعلیم ایک نالج ہے
مگر اچھا انسان بننے کیلیے انا و تکبر کو دفنانا پڑتا ہے
تہذیب سکھاتی ہے جینے کا سلیقہ
تعلیم سے جاہل کی جہالت نہیں جاتی
🛑 توبہ توبہ توبہ
📌پچھلے ساڑھے پانچ سالوں میں 7 کھرب 2 سو 75 ارب روپے آئی پی پیز کو دئیے
جبکہ ان سے بجلی ایک دھیلے کی بھی نہیں ملی مطلب ایک یونٹ بجلی بھی حاصل نہیں ہوئی ۔
صرف پچھلے سال 1کھرب 1 سو 49 ارب آئی پی پیز کو دئیے گئے
ان پیسوں سے 5 دیامر بھاشا ڈیم بن سکتے تھے
🔥ظلم در ظلم یہ بھی کہ 7275 ارب پہ ٹیکس بھی نہیں لیا گیا
رواں سال کے یعنی 2026 کے پہلے 4 ماہ میں ایک ہزار 4 سو 30 ارب آئی پی پیز مالکان کو دیا جا چکا ہے
🔥اگلا ظلم سنیں
نیپرا کے ایک ملازم نے لگے ہوئے 108 پلانٹس کی انسپیکشن کرنا ہوتی ہے مطلب اس کی ڈیوٹی یہی ہے کہ اس نے ان پلانٹس کو چیک کرنا ہوتا ہے کہ کونسا پلانٹ چل رہا ہے یا کونسا نہیں چل رہا
اس نے پچھلے 6 سالوں میں صرف 30 پلانٹس کا وزٹ کیا
🔥اگلا ظلم سنیں
چئیرمین نیپرا کی تنخواہ 11 لاکھ تھی
جسے بڑھا کر 32 لاکھ کیا جا چکا ہے
ان درندوں کا نا پیٹ بھر رہا ہے نا نیت ، دولت کی ہوس ہے کہ ختم ہی نہیں ھو رہی ۔
یہ واقعہ ملتان میں جمعہ 31 جولائی 2026 کو پیش آیا ہے۔
ایک سب وے (Subway) کے ملازم کو مبینہ طور پر صرف اس لیے تشدد کا نشانہ بنایا گیا کہ اس نے نہایت شائستگی سے ریسٹورنٹ کے اندر باہر کا کھانا لانے سے منع کیا، کیونکہ یہ ریسٹورنٹ کی پالیسی کے خلاف تھا۔ اس قسم کا تشدد کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں۔
متعلقہ حکام سے اپیل ہے کہ اس واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں اور ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔ اتنی معمولی بات پر تشدد کی کوئی بھی توجیہہ پیش نہیں کی جا سکتی۔
دنیا کی دو طاقتور ترین شخصیات ایک دوسرے سےگفتگو مترجم کے زریعے کررہی ہیں جبکہ پاکستان میں جس کو انگریزی نہ آتی ہو وہ سی ایس ایس میں فیل کردیا جاتا ہے ۔
فوج کا ترجمان کہہ رہا ہے اب ہم اچھے ہو گئے ہیں پچھلے سال ایک شہید کے بدلے 2 دہشتگرد تھے اس سال ایک شہید کے بدلے ڈھائی دہشتگرد ہیں
انہوں نے کہا ہم نے 40 ہزار آپریشنز کیے ہیں روزانہ کی بنیاد پر 10 دہشتگرد مارے جا رہے ہیں
پورے ملک میں انہوں نے 2025 میں 62 ہزار آپریشنز کیے ہیں اس سے پہلے 22 ہزار آپریشن کیے 2024 میں تقریباً 1 لاکھ 40 بار آپریشن ہوں گے جو انہوں نے کیے ہیں ان کے مطابق ان کی سرحد پر چوکیاں 1260 ہیں
لیکن سب سے اہم بات یہ ہے جب KPK کے اسمبلی اراکین نے ان سے سوال کیا آپکے 1260 ناکے ہیں آپ نے 1 لاکھ سے زیادہ آپریشن کیے ہیں ٹوٹل دہشتگرد 4 ہزار ہیں
دلچسپ بات یہ ہے مومن میں جب دہشتگرد داخل ہو رہے تھے تو مومن کی 11 ایف سی کی سیکورٹی فورسز کی چوکیاں خالی کروا لی گئیں مومن میں جو ان کے سربراہان ہیں ان کا ذکر کریں تو آپکے سامنے یہ چیز آۓ گی یہ فوجی تحویل میں تھے
مراد سعید
دیس میں بچے پیدا کرو تو اغوا کاروں سے بچاتے پھرو، بزنس کرو تو خود اغوا ہونے کا خطرہ، موبائیل پر بات یا اے ٹی ایم سے پیسے نکالو تو کھوپڑی میں سوراخ ہونے کا ڈر۔۔۔
صرف پچیس برس کی عمر...
آئی بی اے سے تعلیم یافتہ ایک ذہین نوجوان، جس نے سرکاری یا نجی ملازمت کے لیے قطار میں کھڑے ہونے کے بجائے ایک چھوٹی سی دکان سے معاشی سرگرمی کا آغاز کیا اور ۔۔۔
دیکھتے ہی دیکھتے پانچ کامیاب فرنچائزز کا مالک بن گیا۔
چند ماہ بعد اس کے سر پر سہرا سجنا تھا، مگر اس سے پہلے ہی اس کی زندگی اور اس کے والدین کی امیدیں بے دردی سے چھین لی گئیں۔
میر رضا علی میرے بیٹے کا قریبی دوست تھا۔
اسی نے میرے بیٹے کو کاروبار شروع کرنے کی ترغیب دی۔ ایک ہی سڑک پر دونوں کے سیلز پوائنٹس آمنے سامنے تھے۔
وہ خوش اخلاق، محنتی اور دوسروں کو آگے بڑھانے والا نوجوان تھا۔ اس کی کامیابی سوشل میڈیا کی مصنوعی تشہیر نہیں، بلکہ صلاحیت اور مسلسل جدوجہد کا ثمر تھی۔
آج اس کی شہادت کے بعد میرے بیٹے نے ایک ایسا جملہ کہا جس نے دل کو ہلا کر رکھ دیا۔
"امی! صبح سے دوستوں کے گروپس میں غم کے ساتھ مایوسی ہے کہ یہاں محنت کی نہیں،کامیابی کی نہیں، صرف موت کی گارنٹی ہے۔"
یہ جملہ اس نسل کا نوحہ ہے جسے پاکستان کا مستقبل کہا جاتا ہے۔
یہ وہ نوجوان ہیں جو کاروبار کرنا،صنعت لگانا، روزگار پیدا کرنا، ٹیکس دینا اور ملک کو آگے لے جانا چاہتے ہیں مگر۔۔۔ آج وہ اپنے مستقبل کی حفاظت کے لیے وطن چھوڑنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں کیونکہ انہیں اپنی جان محفوظ نظر نہیں آتی۔
حقیقت یہی ہے کہ
جہاں ایک موبائل فون انسان سے زیادہ قیمتی ہو جائے...
جہاں دن دہاڑے ڈاکے معمول بن جائیں...
جہاں کاروباری نوجوان ہر شام گھر واپس پہنچنے کو خوش قسمتی سمجھیں...
جہاں کاروباری باپ اپنے بیٹوں کو کاروباری گر سکھانے کے بجائے حفاظت کے گر سکھائے...
اور جہاں قاتلوں کو قانون سے زیادہ اپنی سفارشوں پر یقین ہو تو وہاں سے پرندے بھی ہجرت کر جاتے ہیں
یہ ریاست کی ساکھ اور
اس ملک کے مستقبل کا مقدمہ ہے۔
دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں بھی جرائم ہوتے ہیں، مگر وہاں قاتل جانتا ہے کہ ریاست اس کا تعاقب کرے گی، اسے ڈھونڈ نکالے گی اور سزا دے گی۔ اسی یقین سے معاشرہ زندہ رہتا ہے۔
ہمارے ہاں لوگ بے بس قانون سے ڈرتے ہیں۔
نوجوان قاتل کے خنجر سے نہیں، اپنے مستقبل سے خوفزدہ ہیں۔
یہ صرف "برین ڈرین" نہیں، یہ "ڈریم ڈرین" ہے۔
پاکستان اپنے نوجوانوں کے دماغ ہی نہیں، ان کے خواب بھی کھو رہا ہے۔
آج ایک میر رضا علی کے جانے سے صرف ایک گھر میں کہرام نہیں مچا، ہزاروں نوجوانوں کے حوصلے ٹوٹ گئے ہیں۔
ریاست کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ نوجوانوں کو تحفظ دے گی یا انہیں ہوائی اڈوں کی طرف دھکیلتی رہے گی۔
آج اگر ہم خاموش رہے تو کل کسی اور میر رضا علی کی باری ہوگی، پھر کسی اور گھر کا آنگن اجڑے گا، کسی اور منگیتر کے ہاتھوں کی مہندی آنسوؤں میں دھل جائے گی۔
جب ایک محنتی نوجوان قتل ہوتا ہے تو صرف ایک انسان نہیں مرتا، ایک قوم کا مستقبل زخمی ہو جاتا ہے
قاتل صرف میر رضا علی کا نہیں، اس پاکستان کا بھی مجرم ہے جسے نوجوانوں کے مضبوط بازوؤں پر کھڑا ہونا تھا۔
جب خواب قتل ہونے لگیں تو قومیں صرف آبادی نہیں کھوتیں، اپنا مستقبل کھو دیتی ہیں۔"
اب اپنے نوجوانوں کے مستقبل کے لیے نکلنا ہوگا۔۔
نوحہ نہیں قومی بیداری وقت کا چیلنج ہے۔۔۔
افشاں نوید
30 جولائی
2026ء
#copied
#copiedpost
#justice
#JusticeForVictims
#Justicia #دیس
#انصاف
#مایوسی
🚨⚠️مجھے نہیں معلوم اسد طور کو کہاں سے عمران خان کی صحت کے بارے میں معلومات ملیں لیکن میرے پاس جو معلومات پہنچیں ہیں وہ بہت credible ہے۔ وہ ساری نہیں بتاؤں گا لیکن عمران خان کا blood pressure شدید shoot کر رہا ہے ۔ کیا انکو کھانے میں کسی قسم کا نمک دیا جا رہا ہے جسکی وجہ سے انکا بلڈ پریشر شوٹ کر رہا ہے۔ اگر بلڈ پریشر بہت دیر تک اسی طرح رہے تو برین ہمیرج، اسٹروک، ہارٹ اٹیک، کڈنی فلئیر ہو سکتا ہے ۔ کیا انکا بلڈ پریشر اس لیے شوٹ کر رہا ہے کہ وہ بہت ذیادہ اسٹریس میں ہیں؟کئی مہینوں سے انھیں قید تنہائی میں رکھا گیا ہے ۔ عمران خان کی عمر 74 برس ہونے والی ہے اور انکو زندگی کی رمق سے محروم کر دیا گیا ہے۔ آنکھ کا مسئلہ ہم پہلے ہی دیکھ چکے ہیں انکو بلڈ پریشر کا مسئلہ اس اسٹریس کی وجہ سے ہے
سہیل آفریدی کو عمران خان نے عزت بخشی سپیل آفریدی کی یہ زمہ داری ہے کہ وہ ملٹری سے negotiate کرے۔
نعرے مارنے، رہائی فورس بنانا فضول باتیں ہیں ۔ اس وقت عمران خان کو بنیادی صحت کی سہولت مل سکے جو ہر قیدی کا حق ہے۔ پاکستان میں لوگوں نے کہا تھا کہ جو محمد مرسی کے ساتھ ہوا وہ عمران خان کے ساتھ ہو گا۔ مجھے فوج پہ اعتماد تھا کہ وہ ایسا نہیں کرے گی۔وہ مصر کی طرح گھٹیا فوج کی طرح نہیں ہو گی۔ لیکن جو کچھ ہمارے سامنے ہو رہا ہے وہ مصر کی طرح ہے۔ اگر عمران خان کو کچھ ہوا تو ملک اور فوج کا ادارہ اسکا نقصان نہیں اٹھا سکے گا۔ پاکستان میں پہلے ہی تین جگہوں میں ریاست کے خلاف مزاحمت ہو رہی ہے یہ وزن ریاست برداشت نہیں کر سکے گی ۔
محسن نقوی کہتا ہے سسٹم ناکام ہو چکا ہے جبکہ مرد مجاہد نے تین سال پہلے کہا تھا۔ جیل میں تو میں چلا جاؤں گا لیکن کیا یہ پاکستان کی معیشت کے حالات کو برداشت کر لیں گے۔
یہ ویڈیو آج ہر کسی کے ٹائم لائن پر ہونی چاہیئے 🔥
"میں اس کلپ کو بار بار دیکھ رہا ہوں۔ اس ڈپٹی کمشنر کی رعونت دیکھیں، اس کا اسٹائل دیکھیں۔ یہ ماڈل ہے ہمارے بابو لوگوں کا، گورا اسٹائل۔ کیوں آپ نے یہ جعلی نیپا اور ٹریننگ ادارے بنا رکھے ہیں جب سب کو پتا ہے کہ ترقی کیسے ہوتی ہے؟ حکمرانوں کی حکم پروری جس میں قانون اور آئین راہ میں نہ آئیں۔ اب کیونکہ عدلیہ بھی پارٹنر ان کرائم ہے اور میڈیا بھی اوقات میں کر دیا گیا ہے، سو کوئی نہیں بچا عوام کو بچانے کے لیے۔ یہ ملک ایک جہنم بن چکا ہے۔ انتظامیہ بے شرم اور بے رحم ہو چکی، عدلیہ لاچار اور اس ظلم کی حصہ دار۔"۔عامر متین
@AmirMateen2
سورس جاننے کیلئے QR Code سکین کریں
ایک راست باز ، نڈر اور قانون کی بالا دستی پر یقین رکھنے والے شہید سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی یاد میں نادیہ بلوچ کی تحریر پڑھیے اور سوچئے کہ اسے کیوں شہید کیا گیا
—————————
آج مستونگ میں ہونے والے مسلح حملے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ صاحب اور ان کے سیکیورٹی اہلکار کی شہادت کی خبر سن کر شدید دکھ ہوئی۔
مجھے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کے مقدمات، خصوصاً ان کی ضمانت کی درخواستوں میں، متعدد بار مستونگ میں حکیم صاحب کی عدالت میں پیش ہونے کا موقع ملا۔ ان کی زندگی میں بہت سی باتیں ایسی تھیں جو میں نہیں لکھ پائی لیکن آج مجھے لگتا ہے کہ لوگوں کو یہ جاننا چاہیے کہ وہ دراصل کیسے انسان اور کیسے جج تھے۔
میں پورے یقین سے کہہ سکتی ہوں کہ عبدالحکیم کاکڑ ایک نہایت دیانت دار، اصول پسند اور باوقار جج تھے۔ وہ اکثر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کے مقدمات کی قانونی نوعیت پر مجھ سے کھل کر بات کیا کرتے تھے۔ کئی بار انہوں نے مجھ سے کہا کہ حالات چاہے جس نہج پر بھی ہوں، میرے فیصلوں میں آپ کو ہمیشہ قانون کی بالادستی اور انصاف کے اعلیٰ تقاضوں کی پاسداری نظر آئے گی۔
ان کی یہ باتیں ان سیاسی گھٹن زدہ حالات میں میرے لیے ہمیشہ امید کی ایک کرن ہوا کرتی تھیں، اور بعد میں ان کے فیصلوں نے بھی ان کے ان الفاظ کو سچ ثابت کیا۔ انہوں نے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور گلزادی بلوچ کو تین مقدمات میں ضمانت دی، جبکہ بیبرگ بلوچ کو ایک ایف آئی آر میں ضمانت کے مرحلے پر ہی مقدمے سے بری کر دیا۔ ان کے فیصلوں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ وہ دباؤ سے بالاتر ہو کر قانون اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق فیصلے کرنے پر یقین رکھتے تھے۔
تربت میں اپنی تعیناتی کے دوران بھی انہوں نے اسی نوعیت کے ایک مقدمے میں سبغت اللہ شاہ جی کی ضمانت منظور کی اور ایک بار پھر دباؤ کے بجائے قانون کی بالادستی کو ترجیح دی۔
مجھے آج بھی مستونگ کی ایک پیشی یاد ہے جب محکمہ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) ایک کم عمر لڑکے کو مختلف الزامات کے تحت عدالت میں پیش کر رہا تھا۔ حکیم صاحب نے اس بچے سے پوچھا، “تمہیں کب گرفتار کیا گیا تھا؟” بچے نے جواب دیا، “کل۔” اس پر حکیم صاحب نے سی ٹی ڈی کے انچارج کی طرف دیکھ کر کہا، “اس بچے کے چہرے کو دیکھو، ایسا لگتا ہے جیسے اس نے برسوں سے سورج کی روشنی نہیں دیکھی۔ اور تم لوگوں نے اسے اس قدر ڈرایا اور دھمکایا ہے کہ اب وہ تمہاری ہر بات میں ہاں ملا رہا ہے۔” پھر انہوں نے سی ٹی ڈی کے اہلکاروں سے کہا، “اللہ سے ڈرو۔”
آج جب ان کی شہادت کی خبر دیکھی تو دل میں یہ احساس پیدا ہوا کہ صرف ایک انسان کو نہیں مارا گیا، بلکہ انصاف پر بھی حملہ کیا گیا ہے۔ کیونکہ حکیم صاحب قانون کی حکمرانی، انصاف، آئینی حقوق اور عوام کے وقار پر یقین رکھتے تھے
میں جج عبدالحکیم کاکڑ کے اہلِ خانہ کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہوں۔ میری دعائیں اور ہمدردیاں اس غم کی گھڑی میں ان کے خاندان کے ساتھ ہیں۔
معزز شہید عبدالحکیم کاکڑ صاحب، بلوچستان کے عوام آپ کو ہمیشہ آپ کی دیانت، اصول پسندی اور انصاف کے ساتھ مضبوط وابستگی کے لیے یاد رکھیں گے۔
آپ کے اصول اور آپ کی جرأت اُن لوگوں کے لیے ہمیشہ مشعلِ راہ رہیں گے جو انصاف اور قانون کی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں۔
منقول
میں نے Mezan Bank سے نقد رقم کا ایک سیل بند (Sealed) پیکٹ وصول کیا۔
چونکہ پیکٹ مکمل طور پر بند تھا، اس لیے اسے کھولے بغیر دوسرے بینک میں جمع کروانے کے لیے لے گیا۔
جب دوسرے بینک میں بینک اسٹاف کی موجودگی میں سیل شدہ پیکٹ کھولا گیا اور رقم گنی گئی تو حیرت انگیز طور پر اس میں Rs. 1,500 کم نکلے۔
سیل بند پیکٹ میں رقم کی کمی ایک انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے، کیونکہ صارف بینک کی سیل اور گنتی پر مکمل اعتماد کرتا ہے۔
ایسے واقعات نہ صرف مالی نقصان کا باعث بنتے ہیں بلکہ بینکنگ نظام پر عوام کے اعتماد کو بھی متاثر کرتے ہیں۔
میں Mezan Bank سے درخواست کرتا ہوں کہ اس معاملے کی مکمل تحقیقات کی جائیں، متعلقہ CCTV فوٹیج، کیش ہینڈلنگ ریکارڈ اور کیش پیکنگ کے تمام مراحل کا جائزہ لیا جائے، تاکہ حقیقت سامنے آئے اور اگر کہیں غلطی یا غفلت ہوئی ہے تو اس کا ازالہ کیا جا سکے۔
امید ہے بینک اس شکایت کو سنجیدگی سے لے گا اور مناسب کارروائی کرتے ہوئے صارف کو انصاف فراہم کرے گا۔
"اسلام آباد کے دیہاڑی داروں کو میں اکثر کسی نہ کسی کام سے اپنے ہاں بلالیتا ہوں۔ پورے دن کی مشقت کے بعد وہ دو ہزار روپے وصول کرتے ہیں۔ زندہ اور محنت کے قابل رہنے کے لئے انہیں دن میں کم از کم پانچ روٹیاں تو درکار ہوں گی۔ 5 کو 25سے ضرب دیں تو 125روپے بنتے ہیں۔ روٹی کے ساتھ اسے ناشتے میں چائے اور دوپہر اور رات کو سالن بھی درکار ہوگا یعنی کم از کم مزید 300روپے بھی خرچ کرتا ہوگا۔ سوال اٹھتا ہے کہ فقط زندہ اور محنت کے قابل رہنے کے لئے اپنی ذات پر 2000میں سے 500روپے روز خرچ کرنے والا بقیہ 1500روپے روزانہ سے گھر کا کرایہ اور بجلی کا بل کیسے ادا کرسکتا ہے؟ فرض کیا کسی کھولی میں دیگر مزدوروں کے ساتھ رہتا ہے تب بھی دیہات میں موجود ماں باپ یا بیوی بچوں کو کتنی رقم بچاکر بھیج سکتا ہے؟"۔ نصرت جاوید
سورس جاننے کیلئے QR Code سکین کریں
عمران خان جیسا زمانہ پھر کبھی نہیں آنا
ریئل اسٹیٹ کے بزنس مین کہتے ہیں کہ وہ دور آئیڈیل تھا کنسٹرکشن کے حوالے سے کسان کہتے ہیں کہ اتنی برکت تھی کہ جو فصل کاشت کی بمپر کراپ ہوئی اور ریٹ بھی بہترین ملا اور پیسے بھی جلدی ملے اس جیسا دور کبھی آ نہیں سکتا۔ آٹو سیکٹر والے کہتے ہیں جتنی گاڑی خان کے دور میں بک رہی تھی پاکستان کی تاریخ میں اتنا کام کبھی نہ ہوا۔ غریب کہتے ہیں کہ ہمارے جیب میں 10 لاکھ روپے کا چیک تھا جب بھی کسی کو کوئی بیماری ہوئی مفت علاج ہوا دوائیاں تک مفت ملا کرتی تھیں۔۔
واقعی ایک غریب پرور اللہ کا خوف والا حکمران پاکستان میں آیا تھا۔ جب سے گیا یے ملک برباد ایسے ہو رہا ہے جیسے کسی نے تیار فصل میں خنزیر چھوڑ دئیے ہوں
”آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کے مطابق ملزمان سے وصول شدہ 4 کروڑ 69 لاکھ روپے سرکاری خزانے میں جمع کرانے کی بجائے چیئرمین نیب کے ذاتی اکاونٹ میں جمع کرا دیئے گئے-“-@AUKhanOfficial1
نیب کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد بٹ ہیں، جنہوں نے اپنی تعیناتی کے بعد آلہ کار بن کر عمران خان اور بشریٰ بی بی کو نشانہ بنایا اور نواز شریف، شہباز شریف، زرداری اور پی ڈی ایم کے دیگر وزراء کے خلاف ناقابلِ تردید مقدمات واپس لے لیے-
#DakooDufferAlliance
صوابی میں تین سالہ معصوم بچہ نہر میں ڈوب چکا تھا اور اہلِ خانہ اسے مردہ سمجھ کر غم سے نڈھال تھے۔
اسی لمحے ریسکیو اہلکار کامران نے بچے کو دیکھتے ہی سی پی آر دینا شروع کر دی اور چند لمحوں کے بعد بچے کی سانس بحال ہو گئی۔
کامران جیسے لوگ ہمارے ہیروز ہیں ❤️
اینکر کا سوال: اگر آپ گرفتار ہوتے ہیں تو کیا اس جیل میں رہنا پسند کریں گے جس میں نواز شریف کو رکھا گیا تھا؟
عمران خان: دیکھیں۔ مجھے تو کوئی فرق نہیں پڑتا گرفتاری سے لیکن کیا پاکستان کی معیشت کے جو حالات ہیں کیا یہ برداشت کر لیں گے۔
مرد مجاہد پھر سچا ثابت ہوا 🔥