اس نوجوان کا نام ممتاز ہے اور والد کا نام عبد الستار ہے۔ گھر میں پیار سے ببلو بولتے تھے۔
سال 2011 کی بات ممتاز سات آٹھ سال کی عمر میں گھر سے دوستوں کے ساتھ کھیلنے نکلا تھا۔ دوست آگے نکل گئے ممتاز پیچھے رہ گیا۔ جاتے جاتے ممتاز بھٹک گیا۔ رات ہوئی کسی نے لاوارث پاکر اپنے گھر میں رکھا اور ایک ہفتے تک اپنے پاس رکھا۔ پھر اس نے ممتاز کو پولیس کے حوالے کیا پولیس نے شیلٹر میں جمع کردیا۔
ممتاز کا کہنا ہے کہ ہمارا گھر سکھر میں تھا۔ گھر کے آس پاس سورج مکھی کی فصل بہت زیادہ ہوتی تھی۔ سکھر کے شیلٹر سے ممتاز کو کراچی بھیج دیا گیا۔ وہ دن اور آج کا دن ممتاز کی آنکھیں گھر والوں کے ایک جھلک دیکھنے کے لئے ترس رہی ہیں۔ ایک فیکٹری میں کام کرتا ہےباور وہیں سوتا ہے۔نا عید منانا ہے نا کسی شادی بیاہ پر کوئی بلاتا ہے۔ کسی قسم کی سماجی زندگی نہیں ہے۔
ممتاز کو اپنی والدہ کا نام آمنہ یاد ہے،بھائیوں کے نام الطاف اور زین یاد ہیں۔ اور بہن جو سب سے بڑی تھی کا نام مریم تھا۔ گھر میں سندھی زبان بولتے تھے۔
والد صاحب آٹے کی مل پر بھی کبھی کبھی لیجاتا تھا۔ یہ یاد نہیں ہے کہ مل میں کام کرتا تھا یا صرف گھمانے لیجاتا تھا۔
ممتاز کا کہنا ہے کہ اتنا یاد ہے کہ کسی موقع پر سب محلے والے گھروں سے کھانا لیکر مسجد آتے تھے نماز پڑھ کر سب ملکر کھانا کھاتے تھے۔ مسجد کا نام قائد ذہن میں آرہا ہے شاید کوئی اور نام ہو۔ (قائد سے ملتا جلتا کوئی نام ہو تو وہاں ضرور کوئی لنک مل سکتی ہے)۔ گھر کے پاس ایک جگہ گندا پانی جمع تھا جسمیں لوگ کچرا پھینکتے تھے۔
ممتاز اپنوں کو یاد کرکے بہت دکھی ہوتا ہے اور تنہائی میں روکر اپنا غم ہلکان کرتا ہے۔
ممتاز کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھ کر شئیر کریں۔آپکا ایک شئیر ایک انسان کی ویران دنیا سنوار سکتا ہے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829
4 july 2026
#waliullahmaroof #sindh #PakistanZindabad #MissingChild #sukkur #Sindhi
"السلام علیکم محترم!
امید ہے آپ خیریت و عافیت سے ہونگے
آپکی مدد کی ضرورت ہے
میں بچپن میں کھو گئی تھی تقریبا 4 یا 5 سال کی ہونگی اپنے گھر والوں کے ساتھ کسی رشتے دار کے ہاں آئی تھی وہاں سے باہر چیز کے لئے باہر نکلی تو میں گھر بھول گئی ایسے چلتے چلتے پھر کسی روڈ پر رکی تو وہاں ہوٹل تھا ایک شخص تھا وہ مجھے گھر لے گیا وہ کچھ پوچھ بھی رہا تھا شاید میں اسکی زبان نہیں جانتی تھی اسلئے کچھ نہیں بولا مجھے اپنا نام گھر والوں کے نام کچھ بھی یاد نہیں ہے بس یہ واقعہ یاد ہے
خیر پھر کچھ دن اس شخص نے مجھے اپنے گھر رکھا اس دن کی پک بھی بنوائی تاکہ ماں باپ کو ڈھونڈا جاسکے لیکن نہیں ملے کراچی نارتھ ناظم آباد یونین کونسل کے ذریعے میں ایک فیملی کے زیر نگہداشت میں آئی اب 21 سال کی ہوں انہوں نے ہی تعلیم و تربیت کی ابھی تک میرے گھر والوں کا کچھ پتہ نہیں چلا آپکی وال دیکھی آپ نے کتنے لوگوں کو انکے گھر والوں سے ملوایا مجھے اللہ سے امید ہے آپ کے ذریعہ وسیلہ بنے ان شاء اللہ تعالٰی میں بھی حضرت یوسف علیہ السلام کی طرح ایک دن اپنے گھر والوں سے ضرور ملوں گی بس آپکی مدد کی ضرورت ہے
میرے 3 بھائی تھے 2 بہت بڑے تھے ایک کی شادی ہوچکی تھی اور یہی انکو بجلی کا کام بھی آتا تھا اور ایک پانی کا ٹینکر چلاتے تھے اور ایک مجھ سے ایک سال بڑا ہوگا یا دو سال میری جیسی شکل کا تھا اور 3 ہی بہنیں تھی ایک شادی شدہ تھی اور دو ہم عمر تھی شاید جڑواں ایک کا رنگ کافی گورا تھا اور ایک سانولی گھر میں سب سے چھوٹی تھی
گھر سے تھوڑا دور شہر لگتا تھا جہاں سپیوں کی فیکٹری تھی ایک بار بہنوں کے ساتھ گئی تھی
اور گھر کے برابر میں قبرستان تھا اور اسی کے سامنے مسجد یا مدرسہ تھا قبرستان ایسا تھا کہ ہم دیوار سے جھانک لیا کرتے تھے گھر میں توری کی بیل تھی
یہ کنفیوژن ہے کہ جسکو میں بہن بھائی سمجھ رہی ہوں شاید رشتہ دار ہوں جوائنڈ فیملی سسٹم ہو ۔
امی کا چہرہ گول تھا جیسا میرا ہے والد کا لمبا قد تھا سفید داڑھی تھی ناک بھی لمبی تھی دبلے پتلے تھے ایک بار یاد ہے مجھے بخار ہوا تو والد صاحب ڈاکٹر کے پاس لے کر گئے تھے ڈاکٹر نے انجیکشن لگایا تھا تو روئی تھی والد صاحب نے کہا چیونٹی کاٹ کر چلی گئی وہ کندھوں پر بٹھا کر جھلاتے تھے جب شیو کرتے تھے تو ایک بار میں نے بھی انکی نقل کی تھی اور
گھر ہمارا فرش پکا مکان تھا گھر میں ٹینک بھی بنا تھا شاید باہر گھر کی دہلیز پر ہم نے سپیاں بھی لگائی تھی۔
جنکو بہن بھائی اور والد کہہ رہی ہوں شاید وہ کوئی اور ہوں
*کھونے کا دن*
اس دن ہم اپنے گھر سے اپنے ماموں کے گھر آئے تھے یا شاید کوئی رشتہ دار مجھے لگتا ہے کہ ماموں کی ٹانگ ٹوٹی تھی انکو دیکھنے آئے تھے ہم کسی بس میں سوار ہو کر آئے تھے جیسے کراچی میں w11 ہوتی ہے ویسی گھر پکا تھا گھر کے سامنے دوکان تھی پہلے ہم بچے ساتھ مل کر چیز لینے گئے اسکے بعد میں نے امی سے ضد کی کہ مجھے دوبارہ چیز لینی ہے انہوں نے منع بھی کیا لیکن میں نے ضد کی پھر انہوں نے سکہ دیا میں باہر گئی ننگے پیر کیونکہ سامنے دوکان تھی اور یہ ذہن میں رکھا تھا کہ گھر کے دو دروازے ہیں براؤن یا مہرون یہی کلر تھا پھر میں چیز لے کر مڑی تو مجھے ہر گھر کے دو دروازے دکھے اور وہ بھی ایک ہی کلر کے جو گھر دیکھتی دو دروازے اور ایک جیسے کلر پھر چلتے چلتے کافی دور ہوگئی اندھیرا ہونے لگ گیا تھا پہلے دن تھا اور ایک جگہ ڈھال سے جیسے پہاڑی سے نیچے اترے ایسی جگہ تھی اور شاید کوئی ندی کی طرف کوئی علاقہ تھا میں بس دیکھا لیکن وہاں گئی نہیں سیدھی سیدھی چلتے چلتے شہر کی طرف آگئی جہاں ہوٹل اور ٹریفک تھا وہاں سامنے ایک پٹھان لڑکا میرے پاس کچھ بولتا ہوا کچھ پوچھ رہا تھا میں نے شاید جواب دیا پھر وہ اپنے ساتھ اپنے گھر لے گیا انہوں نے ایک ہفتہ رکھا تصویر بنائی اور بہت ڈھونڈا ان کے گھر کبوتر تھے جو پٹھان لڑکا تھا ایک بار انکے گھر سے بھی نکلی تھی تو بیچ میں چورنگی تھی اور چار راستے تھے پھر وہ پٹھان انکل مجھے لینے اگئے کیونکہ زیادہ دور نہیں تھا اور انکا گھر میں روڈ پر تھا بڑے بڑے گھر تھے پھر کچھ دن بعد یا موجودہ والد مجھے لینے اگئے اور جب میں باہر کمرے سے نکلی تھی میرے پاس وہی فراک تھی جس دن کھوئی تھی وہ کپڑے پہنے تھے انہوں نے باندھ کر دی تھی ان کے گھر سے پیلے رنگ کا سوٹ پہن کر نکلی تھی (پٹھان کے گھر سے) باہر انکا لان بنا تھا وہاں میرے موجودہ والد کسی پیپر پر سائن کر رہے تھے پھر انکے ساتھ میں گھر آگئی
والسلام علیکم"
یہ تصویر گمشدگی کے روز کی ہے 2008 میں
اپنی بہن سمجھ کردنیا بھر میں اس پوسٹ کو عام کریں۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829
4 july 2026
#waliullahmaroof
اس نوجوان کا نام اسا*مہ ہے اور والد کا نام میاں خان ہے۔
اس کا کہنا ہے کہ سال2005 میں گھر سے چیز لینے نکلا تھا۔ دور کہیں نکل کر بھٹک گیا تھا تو لاوارث پاکر مجھے کسی نے اسلام آباد کے ایک شیلٹر میں جمع کروادیا تھا۔
اسا*مہ کا کہنا ہے کہ میری دھندلی یادوں کے مطابق ہم شاید راولپنڈی میں رہتے تھے۔گھر کے پاس کوئی کالج یا اسکول تھا۔
اسامہ کو والد میاں خان ، والدہ یاسمین اور ایک بھائی حسیب کا نام یاد ہے۔
فائل کے مطابق دو بھائی اور دو بہنیں تھیں۔
اسامہ جب پہلی بار ہم سے ملنے آیا تھا تو تقریبا دس منٹ تک سسکیاں لیکر روتا رہا بات نہیں ہوپارہی تھی۔ بہت تنہا اور بے یار و مددگار ہے۔
ایک فیکٹری میں کام کرتا ہے اور وہی راتیں گزارتا ہے۔ کبھی عید پر یا کسی خوشی غمی پر کہیں جانا نہیں ہوا۔ کسی قسم کی سماجی زندگی نہیں ہے۔
آپ تمام دوستوں سے اپیل ہے کہ خدارا اسا*مہ کا خاندان ڈھونڈنے میں مدد کریں۔ آپکا ایک شئیر اس کو تنہائی والی زندگی سے نکال کر ماں باپ سے ملواسکتا ہے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829
2 july 2026
#waliullahmaroof #Rawalpindi #islamabad #MissingChild
یہ دونوں بہن بھائی ہیں
بھائی کا نام علی اور بہن کا نام ثناء ہے۔
علی اور ثناء سال 2002 میں اپنے چچا کے ہاتھوں لاہور کے ایک شیلٹر میں داخل ہوئے تھے۔
دونوں بہت ننھے منے سے تھے۔ اب یہ جوان ہوچکے ہیں۔
علی کہتا ہے کہ میں جب بھی ثناء سے ملنے جاتا ہوں تو اسکا ایک ہی سوال ہوتا ہے کہ ہمارا گھر کب ملےگا؟
علی کی فائل کے مطابق انکو انکے چچا محمد نیاز ولد ابراہیم نے سال 2002 میں یتیم کہہ کر داخل کیا تھا۔ چچا کے شناختی کارڈ کی کاپی بھی لگی ہے جسمیں انکا ایڈریس لاہور کا علاقہ غازی آباد مغل پورہ مکان نمر 32 گلی نمبر 32 لکھا ہوا ہے۔
انکے والد کا نام عبدالملک لکھا ہوا ہے۔
دونوں بہن بھائی چاہتے ہیں کہ وہ اپنے خاندان کو ضرور ایک بار دیکھ لیں۔ دونوں شادی کی عمر ہوچکی ہے ان شاءاللہ انکا گھر بھی بس جائےگا لیکن اگر ماں کہیں موجود ہو تو وہ ضرور ماں کو دیکھنا چاہتے ہیں۔ یا ماں کے خاندان والے مل جائیں ۔ زندگی میں ضرور ایک بار اپنوں کی محبت دیکھنا چاہتے ہیں۔
علی اپنی بہن ثناء کے لئے ایک مضبوط چٹان بن کر بھائی ہونے کی ذمہ داری بنھا رہا ہے۔ لیکن کہیں نا کہیں اپنوں کی کمی انکو ضرور اداس کردیتی ہے۔
لاہور کے تمام دوستوں سے اپیل ہے کہ اس پوسٹ کو خوب زیادہ شئیر کریں۔ 2002 سے آج تک جو چہرے مرجھائے ہوئے ہیں ان چہروں پر مسکراہٹ لوٹ آئے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں۔
+923162529829
30 june 2026
#waliullahmaroof #lahore #PakistanZindabad
اس نوجوان کا نام مبارک علی ہے۔
مبارک علی قوت سماعت و گویائی سے محروم ہے۔انکی رہائش نارووال میں ہے۔
دو اکتوبر دوہزار پندرہ کو مبارک علی گھر سے گوجرانوالہ کام کے سلسلے میں نکلا تھا آج تک لوٹ نہیں سکا۔
گھر والوں کا کہنا ہے کہ مبارک علی ذہنی و جسمانی طور پر بالکل تندرست ہے۔بس بول اور سن نہیں سکتا جسکی وجہ سے کہیں جاکر پھنس گیا ہوگا اپنا ایڈریس کسی کو بتانہیں سکتا۔
ٹریکٹر ٹرالی بہت اچھی طرح چلانا جانتا ہے
مبارک علی کا گھرانہ انکے جانے کے بعد بہت دکھی اور افسردہ ہے۔ماں باپ کافی ضعیف ہوچکے ہیں۔ دن رات نظریں دروازے پر ہیں کہ ابھی دستک ہوگی اور مبارک اندر آئےگا لیکن سورج ڈوبنے کے ساتھ انکا دل بھی مایوسی میں ڈوب جاتا۔ اگلی صبح پھر اسی امید کے ساتھ دل منتظر ہوجاتا ہے۔
آپ تمام دوستوں سے اپیل ہے کہ اس پوسٹ کو ملک بھر میں خوب عام کریں۔
ملک کے کسی کونے میں بھی مبارک موجود ہو وہاں تک خطر پہنچے ۔
آپکا ایک شئیر بوڑھے والدین کو انکا شہزادہ دلوا سکتا ہے
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں۔
+923162529829
27 june 2026
#waliullahmaroof
چکوال کے دوست انور بی بی کا خاندان تلاش کرنے میں ہماری مدد کریں۔۔!!
انور بی بی کا کہنا ہے کہ وہ تقریبا دس سال کی تھی جب گھر سے بچھڑ گئی تھی۔چکوال سے کراچی مومن آباد شفٹ ہوئے تھے۔ والدہ فوت ہوئی تھی۔بہن بھائی چھوٹے تھے۔کوئی سنبھالنے والا نہیں تھا۔ بڑے بھائی کی شادی ہوگئی تو میں بھائی کےپاس رہتی تھی۔ بھائی کی ڈانٹ سے ڈر کر میں گھر سے نکل کر ٹرین اسٹیشن پہنچ گئی کہ وہاں سے گاوں جاکر پھوپھی کے پاس رہونگی, پھوپھی بہت پیار کرتی تھی۔
لیکن ٹرین نکل گئی تھی اور لوگوں نے کمسنی کی وجہ سے روک لیا کہ غلط ہاتھوں میں چلی جائےگی۔
مجھے پولیس کے حوالے کردیا،پولیس نے مجھے گھر بھیجنے کا کہا لیکن میں نے ان سے کہا کہ بھائی مجھے مارےگا دل میں بھائی کا خوف تھا۔
پولیس نے عارضی طور پر ایک شیلٹر جانے کا کہا میں وہاں جمع ہوگئی۔
تین سال بعد میں شیلٹر سے کسی طرح نکل گئی ایک فیملی نے مجھے رکھ لیا، میری شادی کروادی۔
ابھی میرے بچے ہیں۔شوہر چھوڑ چکا ہے۔
مجھے میرے بھائی اور بہن بہت یاد آتے ہیں۔خدارا کے لئے مجھے اپنوں سے ملائیں
انور بی بی کے والد کا نام غلام رسول ہے،والدہ فاطمہ فوت ہوچکی تھی۔
بھائیوں کے نام عاشق حسین،ساجد حسین،اور عابد حسین اور ایک بہن سمیرا کے نام یاد ہیں۔
دادے کا نام کرم الہی اور چچا نذیر دوسرا حاجی فیض رسول۔
ایڈریس:چکوال،چوا سیدن شاہ، گاؤں ڈنڈوٹ ۔
سال 1997 میں کراچی میں اپنے گھر سے نکلی تھی۔
انور بی بی کی داستان مکمل ہم لکھنے سے فیصل الحال قاصر ہیں۔اللہ کسی دشمن کو بھی اس طرح کے دن نا دکھائے۔
آپ نے اگر کسی بے بس اور مظلوم انسان کی دعا لیکر اپنا بیڑا پار کروانا ہو تو اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شئیر کریں اسکے اپنے مل گئے اور وہ ایکسپٹ کرنے کو تیار ہوجائیں تو بہت ساری دعائیں آپکے حق میں کرےگی جو ان شاءاللہ رد نہیں ہونگیں۔
کسی بھی اطلاع کے لیے نیچے درج نمبر پر رابطہ کریں۔
+923162529829
27 june 2026
#waliullahmaroof
میرا گھر ڈھونڈنے میں مدد کریں۔۔!!
اس نوجوان کا نام شان یا شانی ہے۔والد کا نام بشیر یاد ہے۔والدہ کا یاد نہیں ہے۔
شان کا کہنا ہے کہ میں ایک روز گھر سے باہر نکل کر ہوٹل پر بیٹھا تھا۔ گھر جانے کے لئے راستہ بھول گیا۔
ایک شخص مجھے اپنے گھر لےگیا وہاں تین دن تک مجھے رکھا۔
میری تصویریں بنائیں اور پھر مجھے تین روز بعد ملتان کے ایک شیلٹر میں جمع کرادیا۔
ملتان سے پھر مجھے کراچی لایا گیا۔
مجھے اپنا شہر تاندلےوال یا تاندلا یاد ہے (جب ہم نے سرچ کیا تو تاندلیانوالہ میپ پر ملا)۔
تین بھائی اور تین بہنیں تھیں انکے نام مجھے اب یاد نہیں ہیں۔
گھر کے پاس ایک طرف کھیت اور ایک طرف باڑا تھا۔
میں نے ہوش سنبھال کر اپنی فائل نکال کر چیک کی تو اسمیں میرے داخلے کا سال 2006 لکھا تھا۔
میں چاہتا ہوں کہ میرے بھی بہن بھائی ہوں امی ابو ہو۔ میں بھی لاوارث نا کہلاؤں۔
خدارا مجھے میرے پیاروں سے ملائیں۔
پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شئیر کریں۔آپ کا ایک شئیر کسی اداس ماں کو خوشحال بناسکتا ہے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں۔
+923162529829
22 june 2026
#waliullahmaroof
ان سے ملئے۔۔!!
انکا نام بلال ہے،بلال چھ سات سال کی عمر میں گھر سے نکلا تھا،بالوں میں چاندنی آچکی ہے آج تک اپنوں سے جدا ہے۔
بلال کا کہنا ہے کہ ہمارا گھر اٹک کے کسی قریبی علاقے میں تھا،گھر کے قریب ٹرین رکتی تھی میں ٹرین میں بیٹھ کر اٹک جاتا تھا۔
گھر سے بھاگتا بھی زیادہ تھا۔
ایک بار جب اٹک کے لئے نکلا تو ٹرین میں آنکھ لگ گئی اور اپنے اسٹیشن پر اتر نہیں سکا۔ آنکھ جب کھلی تو اٹک کے بجائے کہیں اور تھا۔
مجھے ایک شیلٹر لیجایا گیا اور میں ہمیشہ کے لئے اپنوں سے دور ہوگیا۔
پہلی بار جس شیلٹر میں گیا وہ اسلام آباد کا شیلٹر تھا اور سال 1996 تھا۔
پھر لاہور لایا گیا اور لاہور سے کراچی ۔
میرے والد ویلڈنگ کا کام کرتے تھے،والدین کے نام یاد نہیں ہیں۔دو بہنیں تھیں،ایک بہن کا نام مجھے یوں لگتا ہے شاید نام حنا تھا۔
بھائی صرف میں تھا
والد کی ایک نشانی یاد ہے انکی گدی پر بڑا سا مَسّہ تھا۔
اور علاقے میں ایک مسجد تھی جو کراچی کی میمن مسجد کی طرح سرخ تھی۔
بلال کو یہ یاد نہیں ہے کہ گھر میں کونسی زبان بولتے تھے لیکن انکو پشتو کافی حد تک آتی ہے شاید ممکن ہے پختون گھرانے سے ہوں۔
جہانگیرہ اور پشاور کا امکان زیادہ ہوسکتا ہے۔
بلال نام کے ساتھ آفریدی لکھتا ہے اسے یہ نہیں معلوم کہ یہ آفریدی ہیں یا کوئی اور قوم، شیلٹر والوں نے نام کے ساتھ آفریدی لکھا ہے اسکی وجہ شاید یہ ہوسکتی ہے کہ بچپن سے کرکٹ کے ساتھ بہت لگاو تھا اور شاہد آفریدی کے بہت جذباتی فین تھے۔پشتو جب بولتا ہے تو لہجہ آفریدی نہیں ہے۔
بلال کافی عرصے سے صرف اس وجہ سے ہمیں اپنا کیس نہیں دے رہا تھا کہ مجھے لوگ لاوارث کہیں گے،یہ بات کرتے ہوئے اشکبار بھی ہوا۔
بات بات پر بلال کا گلا بھرا جاتا ہے اور والدین ملنے کی خواہش کا اظہار کرتا ہے۔
تمام دوست اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شئیر کریں۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں۔
+923162529829
22 may 2026
#waliullahmaroof
ہم نے گزشتہ ماہ عرفان/عمر اور ممکنہ رمضان کی ویڈیو کلپ اپلوڈ کی تھی۔
پانچ سال کی عمر میں کراچی سے گم ہوا تھا اور کراچی میں ہی ایک شیلٹر میں رہ کر بڑا ہوا جوان ہوا اور وہاں سے نکل کر کروڑوں انسانوں کے بیچ لاوارث بن کر دردر ٹھوکریں کھانے لگا۔
ہماری ملاقات لاہور میں ہوئی تھی۔یہاں روزگار کے ساتھ ساتھ رہنے کے لئے چھت مل رہی تھی اس لئے کراچی چھوڑ کر آیا چند روز قبل آیا تھا۔
انکی ویڈیو بہت زیادہ شئیر ہوئی بہت سارے لوگوں نے رابطے کئے۔انکی فائل میں کھارادر لکھا تھا جسکی وجہ سے انہوں نے اپنے گھر کا پتہ کھارادر بتایا تھا۔
تقریبا دو ہفتوں سے ایک خاندان رابطے میں ہےجو کراچی میں ہے ۔
عرفان نے والدین اور اپنا نام عمر بتایا تھا یہ میچ نہیں ہوا۔دو بھائیوں معراج اور اکرم نام یاد تھے،اکرم کو چاچو کہہ رہا تھا لیکن وہ بڑا بھائی ہے۔اس خاندان میں اکرم اور معراج موجود ہیں۔
گھر اور محلے کا جو نقشہ بتایا تھا وہ بھی میچ ہے۔گھر والوں نے بتایا کہ بچپن میں ران پر دانہ نکلا تھا جسکا چھوٹا آپریشن ہوا تھا اور اسکا کان ذرا ٹیڑھا ہے۔ زخم کا نشان بھی موجود ہے اور کان بھی ذرا مختلف سا ہے ہم نے بھی دیکھا تھا۔
اور یہ فیملی بہاولپور سے کراچی آئی تھی اسکے ایک دو روز بعد رمضان پانچ سال کی عمر میں گم ہوا تھا۔ عرفان کو بھی پنجاب کی دھندلی یادوں کا ذکر کیا لیکر شہر کا نام یاد نہیں۔
کافی ساری نشانیاں میچ ہیں لیکن ڈی این اے کے بغیر فیصلہ کرنا ممکن نہیں ہے۔
والدین بہت ضعیف ہیں والد ٹھیلا چلاتا ہے ۔ڈی این اے کی فیس 65ہزار روپے ادا نہیں کرسکتے۔
اس قبل بلال/راشد والے کیس میں بھی ڈی این اے تک بات پہنچ گئی ہے،کل بلال کا سیمپل لیا گیا تھا اور آج اسکی والدہ کا رحیم یارخان میں سیمپل لےلیا گیا ہے۔بلال کی فیس ہم نے اپنے چینل کی آمدن سے ادا کی ہے اور عرفان کی فیس کسی دوست سے کروائیں گے ان
شاءاللہ۔
آپ تمام دوستوں سے دعاؤں کی شدید درخواست ہے اللہ ان دونوں کو اپنوں سے ملوائے۔آمین
#waliullahmaroof
اپنا بچہ سمجھ کر ایک بار ضرور شئیر کریں۔۔۔!!
یہ معصوم بچہ نومبر 2025 میں فیصل آباد کے ڈی ٹائپ پولیس اسٹیشن کی حدود سے لاوارث حالت میں ملا تھا۔
یہ صرف اپنا نام “موسیٰ” بتاتا ہے، اس کے علاوہ اسے اپنے والدین، گھر، خاندان یا پتے کے بارے میں کچھ یاد نہیں۔
نہ ماں کا نام معلوم ہے، نہ باپ کا… نہ یہ جانتا ہے کہ اسکا گھر کہاں ہے۔
آج یہ بچہ ایک ادارے کی تحویل میں ہے، اسکی آنکھیں آج بھی اپنے ماں باپ کو ڈھونڈتی ہیں۔
ماں دن رات اپنے بچے کی جدائی میں تڑپ رہی ہوگی…
خدارا… اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شئیر کریں
ہوسکتا ہے آپ کا ایک شئیر موسیٰ کو اسکے گھر والوں تک پہنچا دے اور ایک بچھڑا ہوا لخت جگر خاندان کو دوبارہ مل جائے۔
کسی بھی اطلاع کی صورت میں نیچے درج نمبر پر واٹس ایپ کریں
03162529829
7 May 2026
#waliullahmaroof #Faisalabad #MissingChild
ایک ماں کی فریاد۔۔۔!!
میرا بیٹا فیصل ولد محمد فضل…
جب وہ صرف 15 سال کا تھا، 13 جون 1996 کو اپنے والد کی سختی سے دل برداشتہ ہوکر گھر سے نکلا…
اور پھر کبھی واپس نہیں آیا۔
ہم اس وقت کراچی، سول اسپتال کے قریب رینبو سینٹر کے پاس رہتے تھے۔
بیٹا…
تمہارے جانے کے بعد میری زندگی وہیں رک گئی…
میں نے 1996 سے آج تک ایک بھی رات سکون سے نہیں سوئی۔
ہر دن، ہر رات، ہر دعا میں صرف تمہارا نام ہوتا ہے۔
آج بھی…
جب کسی انجان نمبر سے کال آتی ہے…
یا دروازے پر ہلکی سی دستک ہوتی ہے…
میرا دل دھڑک اٹھتا ہے…
کہ شاید میرا فیصل واپس آگیا ہے…
بیٹا…
اگر یہ پیغام تم تک پہنچ جائے تو بس ایک بار لوٹ آؤ…
میں تم سے کوئی سوال نہیں کروں گی…
کوئی شکوہ نہیں ہوگا…
بس تمہیں گلے لگا کر اپنی باقی زندگی گزار لوں گی۔
تمہارے بغیر میری دنیا ویران ہوچکی ہے…
دنیا بھر کے لوگوں سے اپیل ہے
ایک ماں کے درد کو سمجھیں…
اس پیغام کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں…
شاید کسی ایک شیئر سے یہ آواز فیصل تک پہنچ جائے…
کسی بھی اطلاع کے لیے واٹس ایپ کریں:
03162529829
تاریخ: 7 مئی 2026
#WaliullahMaroof