عنوان: *سائیں !*
"سنا ہے جس عورت سے آپکی شادی ہوئی تھی وہ بڑی خطرناک عورت تھی، اور آپ نے ڈر کے مارے اسے طلاق دے دی تھی"
برگد کے درخت کے نیچے کرسی پر بیٹھے ایک خاموش طبع بوڑھے سے ایک منچلے نے استہزائیہ کہا.
"اللہ بخشے اسے، بہت اچھی عورت تھی" بنا ناراض ہوئے
، بغیر غصہ کئے بابا جی کی طرف سے ایک مطمئن جواب آیا.
ایک نوجوان نے ذرا اونچی آواز میں کہا "لیکن بابا جی لوگ تو کہتے ہیں وہ بڑی خطرناک عورت تھی۔
بابا جی کچھ دیر خاموش رہے پھر کہنے لگے۔
"کہتے تو ٹھیک ہی ہیں، وہ واقعی بہت خطرناک تھی اور حقیقتاً میں نے ڈر کے مارے اسے طلاق دی تھی".
*"یہ بات تو مردانگی کے خلاف ہے، عورت سے ڈرنا کہاں کی بہادری ہے؟*
"نوجوان جوشیلے انداز میں بولا...
"میں عورت سے نہیں ڈرتا تھا، میں تو 'اس' سے ڈرتا تھا جس تک اس کی رسائی تھی" پرسکون جواب۔۔۔
جوانوں نے حیرت سے ایک دوسرے کو دیکھا.
ایسی عورتوں کو تو جہنم میں ہونا چاہیئے...لا حول ولا قوہ.. کہاں آپ جیسا شریف النفس آدمی کہاں وہ عورت؟
اچھا کیا چھوڑ دیا "نوجوان کے لہجے میں غصہ تھا۔
بوڑھے کی متجسس زندگی کا پٹارا کھل کر سامنے آگیا تھا۔ تجسس ختم ہوا، اب سب باری باری منتشر ہونے لگے. جانے والوں نے عنوان پڑھ لیا تھا،کہانی خود بنانی تھی, جو رہ گئے تھے وہ وہی تھے جو اصل کہانی جاننا چاہتے تھے-
ــــ
*"میں بھی ایسا ہی سوچتا تھا کہ اسے جہنم میں ہی ہونا چاہیئے تھا، تب ہی میں نے اسے جہنم جیسی زندگی دی تھی"*
بوڑھی آنکھوں میں اضطراب اترا۔
یہ تب کی بات ہے جب میں سرکار کے ہاں ایک روپیہ ماہوار پر ملازم ہوا، میری ماں چاہتی تھی کہ میری شادی ہوجائے۔ رشتہ ڈھونڈا گیا، ایک مونگ پھلی فروش کی بیٹی میری ماں کو پسند آئی, سلیقہ مند، خوبصورت اور ایک دم خاموش طبع. مجھے اس رشتے پر اعتراض تھا کہ وہ ایک مونگ پھلی بیچنے والی کی بیٹی تھی۔ مزدور کی اولاد کو پیٹ کی فکر رہتی ہے، تربیت کی نہیں، تربیت بڑے گھرانوں میں کی جاتی ہے جہاں افلاس آنکھوں کے روشنی چھیننے سے قاصر ہوتا ہے۔
وہ کیا تربیت دے گی میری اولاد کو؟
لیکن وہ لڑکی میری ماں کو ایسی پسند تھی کہ اماں اس کے علاوہ کسی کا نام نہیں سننا چاہتی تھیں۔
پھر وہ بیاہ کر میرے گھر آگئی، رخص��ی کے وقت اس کے باپ نے مجھے کہا *"میری بیٹی سیدھی سادھی ہے، اسے دنیاداری کا کوئی خاص پتا نہیں،اگر کہیں کوئی چوک ہوجائے تو معاف کردینا،یوں ہے بڑے دل والی، "اپنے سائیں" کو خوش رکھے گی"*,
وہ بالکل ویسی ہی تھی جیسی میری ماں نے بتایا تھا، سلیقہ مند، سگھڑ اور تابعدار."
"باہر دوستوں کے ساتھ میری صحبت کوئی اچھی نہیں تھی، ملازمت کے اوقات میں کھانا گھر سے باہر کھاتا، دوستوں میں بیٹھتا ،رات گئے تک محفل چلتی پھر گھر جاتا. وہ کیا کھاتی کیا پیتی کس حال میں رہتی تھی مجھے کوئی پرواہ نہیں تھی. انہی دنوں میری ماں بھی دنیا سے رخصت ہوگئی تھی۔
ایک روز میں جوئے میں بھاری رقم ہار کر جب تھ��ا ہارا گھر آیا تو کہنے لگی "آپ تو کھانا باہر کھالیتے ہیں، مجھے بھوک لگتی ہے، ہوسکے تو ایک ہی بار مہینے کا راشن ڈلوا دیا کیجیئے، روز روز بازار سےخریداری کی صعوبت نہیں اٹھانی پڑے گی"-
کیا؟ اس مونگ پھلی بیچنے والے کی بیٹی کی اتنی اوقات کہ مجھ سے مطالبہ کرسکے- مجھے طیش آیا۔
*"ہو ناں تم کسی بہت بڑے باپ کی بیٹی کہ تمہیں پورے مہینے کا راشن اور خرچ چاہیئے, اپنی اوقات دیکھی ہے؟ "* غصے میں آکر اس پر ہاتھ اٹھایا اور مغلظات بھی بکے۔ میں یہ نہیں سوچ سکا کہ آخر اسے زندہ رہنے کے لئے روٹی تو ہر حال میں چاہیئے تھی !
وہ جسمانی اعتبار سے کافی کمزور تھی، مار برداشت نہیں کرسکتی تھی, پشیمانی تھی یا کیا وہ دو دن تک بستر پر پڑی رہی۔ مجھے اسکی بھی کوئی پرواہ نہیں تھی۔
پھر اس نے گھر میں ہی
سینا پرونا شروع کردیا، ہاتھ کا ہنر اس کے کام آیا، یوں اسکی روٹی کا انتظام ہوگیا اور میں ی�� سوچ کر پہلے سے بھی
بے پرواہ ہوگیا
ایک روز ایک ہمسائے نے مجھے روک کر کہا "دن میں جب آپ گھر نہیں ہوتے تو آپ کے گھر سے باتوں کی آوازیں آتی ہیں", میرے سوا میری غیر موجودگی میں کون آتا تھا جس سے وہ اتنی آواز میں باتیں کرتی تھی۔۔؟ غصہ حد سے سوا تھا،
بس نہ چلتا تھا کہ اسے جان سے مار دوں، لیکن میں بس ایک موقع کی طاق میں تھا.
ایک رات پچھلے پہر کسی کے بولنے کی آواز پر میری آنکھ کھلی، چاندی رات میں صحن میں پڑی ہر شے بالکل واضح طور پر دکھائی دیتی تھی، میں اٹھ کر دروازے تک آیا اب آواز زیادہ واضح تھی وہ کہ رہی تھی:
👇👇👇
This baby went from sad/confused to absolute JOY the second those glasses went on.
First time seeing the world clearly. That smile says everything.
♥️ Heart = melted.
Who else is obsessed with these moments?
Meet the legendary drama writer Haseena Moin. She wrote many blockbuster dramas, including Ankahi, Dhoop Kinarey, Tanhaiyaan, Shehzori, Parchaiyan, Aansoo, and many more
Born: 20 November 1941, Kanpur
Died: 26 March 2021, Karachi
For XPENG IRON, we developed a general-purpose framework that mimics human skeletal geometry and utilized a muscle-like lattice structure to replicate actual muscular movement.
جس وقت عالمی منڈی میں پٹرول کی قیمت 100 ڈالر تھی اس وقت ہندوستان میں پٹرول 250 تھا بنگلہ دیش میں پٹرول 200 تھا اور پاکستان میں ایک درویش کے دور میں پٹرول 138 تھا اور اسی وقت کچھ لوگ م��نگائی کے خلاف مارچ کرتے تھے
آج بھی عالمی منڈی میں پٹرول کی قیمت 100 ڈالر تک پہنچ چکی ہے لیکن آج پاکستان میں پٹرول کی قیمت 460 ہو گئی ہے جبکہ ہندوستان میں پٹرول 102.92 روپے فی لیٹر ہے اور بنگلہ دیش میں 116 ٹکا ہے
ہندوستان اور بنگلہ دیش نے اپنے اپ کو بہتر کیا جبکہ پاکستان مزید پیچھے چلا گیا
اب آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کارکردگی کس قدر ہے
ہاں پھر یاد تو اتی ہوگی
جب باپ ساوتھ انڈین/ایشین اور بیٹی امریکن ہو تو یہی پڑھائی ہوتی ہے۔ یہ کیوٹ پیاری بیٹی صرف اپنے باپ کی انگریزی کا تلفظ یا لہجہ ٹھیک نہیں کررہی ب��کہ ہمارے ہمارے جیسے ٹاٹ سکول سے پڑھنے والے دیہاتی��ں کی بھی کررہی ہے جو ساری عمر چائے کے Cup کپ کو سپ Sup (سانپ) پڑھتے رہے کیونکہ استاد محترم نے ہمیں سپ ہی پڑھایا تھا.🤓😎