آج حسینی چوک، میلہ والی گلی میں ایک ایسا منظر دیکھا جس نے مجھے چند لمحوں کے لیے خاموش کر دیا۔
شدید گرمی تھی…
ایسی گرمی کہ سڑکیں آگ برسا رہی تھیں، زمین سے اٹھتی ہوئی تپش چہرے کو جھلسا رہی تھی، لوگ چند منٹ دھوپ میں کھڑے ہونے سے گھبرا رہے تھے۔ ہر شخص سایہ تلاش کر رہا تھا، لیکن اسی بے رحم دھوپ میں ایک چودہ سال کا بچہ اپنی ریڑھی کے ساتھ کھڑا تھا۔
دبلا پتلا جسم، معصوم چہرہ، پسینے سے تر پیشانی اور آنکھوں میں چھپی ہوئی وہ اداسی جو شاید عمر بھر نہ بھول سکے۔
پہلی نظر میں مجھے لگا شاید کوئی سکول کا بچہ ہوگا، لیکن جب میں اس کے قریب گیا اور اس کی کہانی سنی تو دل واقعی بھر آیا۔
اس بچے کے والد کو ہارٹ اٹیک کے باعث فوت ہوئے تقریباً دو سال ہو چکے ہیں۔
باپ کے جانے کے بعد اس چھوٹے سے گھر کی دنیا بدل گئی۔
کرائے کا گھر…
گھر میں صرف یہ بچہ اور اس کا ایک چھوٹا بھائی…
کل ملا کر صرف دو بھائی ہیں۔
اور ان دونوں بھا��یوں کے سر پر باپ کا سایہ نہیں رہا۔
یہ بچہ مجھے بتا رہا تھا کہ وہ آٹھویں جماعت تک پڑھا، لیکن والد کے انتق��ل کے بعد گھر کے حالات اتنے خراب ہو گئے کہ اسے اپنی تعلیم چھوڑنی پڑی۔
وہ عمر جس میں بچے سکول بیگ اٹھا کر جاتے ہیں، اس عمر میں اس نے گھر کی ذمہ داری اٹھا لی۔
آج یہ اپنی والدہ کے ساتھ مل کر بریانی اور شامی کباب تیار کرتا ہے اور پھر حسینی چوک اور میلہ والی گلی کے آس پاس اپنی ریڑھی لے کر نکل پڑتا ہے۔
سب سے زیادہ افسوس مجھے اس بات کا ہوا کہ اس بچے کی اپنی کوئی دکان نہیں۔
کوئی مستقل جگہ نہیں۔
کوئی ٹھکانہ نہیں۔
یہ چند منٹ ایک دکان کے سامنے کھڑا ہوتا ہے تو اسے وہاں سے ہٹا دیا جاتا ہے۔
پھر دوسری جگہ جاتا ہے، پھر تیسری جگہ۔
یوں پورا دن دھوپ میں اپنی ریڑھی دھکیلتا رہتا ��ے تاکہ شام کو اپنے گھر کے لیے چند سو روپے لے جا سکے۔
جب میں نے اس سے پوچھا:
“بیٹا! اتنی محنت کرتے ہوئے کبھی دل نہیں گھبراتا؟”
تو اس نے مسکرا کر کہا:
“بھائی جان! ابو کے جانے کے بعد زندگی نے بہت کچھ سکھا دیا ہے۔ اب اگر میں محنت نہیں کروں گا تو گھر کیسے چلے گا؟”
یہ الفاظ سن کر میری نظریں جھک گئیں۔
کیونکہ یہ بات ایک چودہ سال کے بچے کی نہیں لگ رہی تھی، یہ بات ایک ایسے انسان کی لگ رہی تھی جسے حالات نے وقت سے پہلے بڑا کر دیا ہو۔
غربت نے اس کا بچپن چھین لیا…
لیکن اس کی ہمت نہیں چھین سکی۔
مشکلات نے اسے رُلایا ضرور…
لیکن جھکانا نہیں سکا۔
آج بھی اس کی زبان پر شکوہ نہیں بلکہ “الحمدللہ” ہے۔
اللہ تعالیٰ اس محنتی بچے کے رزق میں بے شمار برکت عطا فرمائے، اس کے والد کی مغفرت فرمائے اور اس کے چھوٹے بھائی کے نصیب میں بھی آسانیاں لکھ دے۔
آمین۔ 🤲❤️
ایسے بچوں کو سلام، جو اپنی عمر سے پہلے بڑے ہو جاتے ہ��ں۔
Via Facebook
منقول
بیوی کاپُرانا ٹی وی تقریبا ایک سال سے سٹور میں بند پڑا تھا۔ بولی اسے کام والی کو دے دیتے ہیں۔ میں نے کہا پاگل ہو، سات آٹھ ہزار کا آرام سے نکل جائے گا۔
وہ نہیں مانیں کہ اتنے کا بکے گا۔اس کے انکار کے باوجود olx پہ لگا دیا۔
دو دن بعد ایک بھائی کی کال آئی کہ بھائی آپ نے آٹھ ہزار کا لگایا ہوا ہے۔ میرے پاس پانچ ہزار ہیں اور میں نے اپنے بچوں کے لیے لینا ہے وہ ضد کر رہے ہیں ٹی وی لے کے دو۔ میں مزدور آد��ی ہوں۔ میں نے کہا چھ ہزار دے دو اور لے جاؤ۔
خیر وہ لینے آگیا۔ میرے گیٹ کھولتے ہی وہ میرے پیچھے چل پڑا۔جب اس نے پیسے دے کے ٹی وی اُٹھایا اور باہر دروازے تک گیا تو میں نے ساتھ گیٹ تک اس کے پیچھے جاتے ہوئےغور کیا اُسکی ایک ٹانگ ٹھیک نہیں تھی (مطلب لنگڑا کے چل رہا تھا)۔اور وہ ایک دُبلے پتلے جسم کا نوجوان تھا، بمُشکل اُس نے ٹی وی باہر بائیک تک پہنچایا۔
ٹی وی ایل جی الٹرا سلم تھا اسکا وزن زیادہ نہیں تو کم بھی نہیں تھا۔ جو لے جا کے وہ بائیکیا موٹر سائیکل پہ بیٹھا جسے وہ ساتھ لایا تھا اور اُسے چلنے کا کہا۔
میں اسی کشمکش میں تھا کہ یہ ٹی وی ہمارے تو کسی کام کا نہیں تھا لیکن اس کے لئے اُس باپ نے جسمانی معذوری کے باوجود محنت کر کر کے پیسے جوڑے ہیں۔کمرے تک پہنچتے پہنچتے ارادہ بنا لیا کہ اُسے بلا کر پیسے واپس دیتا ہوں۔
فون کر دیا لیکن بتایا نہیں کہ پیسے لے جاؤ۔ اسے بولا یہ ایک ایکسٹرا ر��موٹ بھی ہے وہ بھی لے لو۔ دس منٹ تک وہ واپس آیا تو میں نے اُسے پورے چھ ہزار واپس کر دئیے۔
یقین مانیں اُسکی آنکھوں میں پانی آگیا۔اور وہ کچھ لمحے ساکت رہا۔خیر بہت شُکریہ کے ساتھ وہ ٹی وی لے گیا۔ مجھے انتہائی خوشی ہوئی۔
لیکن یہ سوچیں کہ ایک باپ اپنی پوری کوشش کرتا ہے کہ وہ اپنی اولاد کو ہر حال میں ہر وہ چیز مہیا کرے جو اس کی پہنچ میں ہے۔ہمیں قدر کرنی چاہئیے اپنے والدین کی۔
(یہ ایک خیالی تحریر نہیں بلکہ بالکل سچا واقعہ ہے جو میرے ساتھ پیش آیا۔)
ایک غریب شخص کے جنازہ سے پہلے امام صاحب نے شرکاء سے کہا
"یہ میت جس کا ہم جنازہ پڑھنے لگے ہیں اپنے گھر کا واحد کفیل تھا۔ سوگواران میں ایک بیوہ اور چھوٹے بچے ہیں۔جس کا عدت کے ایام میں کوئی ذریعہ آمدنی نہیں ہے۔ جنازہ گاہ کے مرکزی دروازے پر ایک چادر بچھا دی گئی ہے۔ اللہ کی رضا کے لئے اپنی حیثیت کے مطابق جو جتنی رقم دے سکتا ہے وہ وہاں ڈال دے۔"
ایک لاکھ روپے سے زائد رقم اکٹھی ہوئی تعزیت صرف دعا کرنے کا نہیں مشکل گھڑی میں عملی سہارا بننے کا نام ہے۔
( منقول )
بغیر داڑھی والے اس شخص کی بات ذرا دل میں خدا کی محبت کا دیا جلا کر سنیں
کس فخر سے ہمارے ربّ نے ہماری وکالت کی ہے
ہمیں تو کبھی خدا سے محبت سکھائی ہی نہیں گئی ہ��یں تو صرف جنت کی لمبائی اور دوزخ کی گہرائی ہی بتائی گئی ہے
🙏🏻🙏🏻🙏🏻🙏🏻🙏🏻
اس آدمی کو پینٹ شرٹ میں مت دیکھیں اس کی بات سنیں، سمجھیں اور عمل کریں۔
اتنی اہم بات کتنے سادہ و آسان لفظوں میں سمجھا دی ہے موصوف نے۔
کاش ہمیں بھی یہ بات سمجھ آ جائے۔۔.
پاکستان کے سب سے بڑے بینک کا ڈیٹا لیک، سب احتیاط کریں،
بینک کے آفیشل نمبر سے کال، یہ کیسے ممکن؟ اسکیمرز سب جانتے؟
۔
۔
۔
#ammarkhanyasir#meezanbank#scam
یہ تھا دریاۓ راوی پر عمران خان کا بنایا گیا پلان، جس میں عمران خان نے 🇵🇰کی آنے والی نسلوں کا سوچا؛
جس کے مطابق بھارت دریائے راوی میں چاہے جتنا مرضی پانی چھوڑتا، کبھی بھی راوی کے ارد گرد آبادی متاثر نہ ہوتی۔
بلکہ حفاظت کے ساتھ شہر کی خوبصورتی بھی بڑھتی۔
A public service message
*یہ بچہ ملا ہے گجرات کنجاہ کے پاس گاؤں کوٹ لحہ بخش کے پاس سے اور اس بچے کو کسی نے اغواہ کیا ہوا تھا اور بہت ڈرا ہوا ہے اور یہ بچہ کوٹ لحہ بخش گاؤں میں موجود ہے اس تصویر کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ بچہ اپنے گھر والوں پاس جا سکے ،،، اللہ پاک ہم سب کا حامی و ناصر ہو آمین*
*نظر انداز نہیں کرنا آگے دوسرے گروپس میں بھی فارورڈ کرتے جائیں تاکہ ورثا تک بچہ سلامتی کے ساتھ پہنچ سکے شکریہ*
"علیم خان جواب دے کہ اس نے دریا کے راستے میں سوسائٹی کیوں بنائی؟ ہم اپنے کروڑوں روپے کے گھروں کو تالے لگا کر نقل مکانی کرنےپر مجبور ہیں اب۔
عمران خان نے بلکل ٹھیک کیا تھا جو اسے یہاں پارک ویو سوسائٹی بنانےنہیں دے رہا تھا۔ اسے لاکھوں زندگیوں کا احساس تھا"