🚨 یہ ہر اخبار کے صفحہ اول پر کیوں نہیں ہے؟
(Should be Headline)
اسرائیلی فوج نے ایک فلسطینی نوجوان کو کنکریٹ کے نیچے دفن کر دیا انہوں نے اس ظُلم کے ساتھ انسانیت کے وجود کو ہی مٹانے کی کوشش کی ہے۔
قیمت رہ گئی۔ یہ ہاتھ کبھی اتنا گراں اور کبھی اتنا ارزاں کیوں ہو جاتا ہے؟ اس میں باری تعالیٰ کی یہی حکمت ہے، اس کو خوب ذہن نشین کر لیں۔
(صاوی، ج ۲، ص ۲۸۳)
*ایک یہودی کو دندان شکن جواب*
قاضی عبدالوہاب بہت ہی ذہین اور حاضر جواب علمائے کبار میں سے ہیں۔ ایک مرتبہ کسی یہودی نے آپ کے سامنے دینِ اسلام کے قانون پر اعتراض کرتے ہوئے نہایت طنز کے ساتھ یہ شعر پڑھا:
عِزُّ الْأَمَانَةِ أَغْلَاهَا وَأَرْخَصَهَا
ذُلُّ الْخِيَانَةِ فَافْهَمْ حِكْمَةَ الْبَارِي
یعنی ہاتھ جب تک امانت دار تھا، عزتِ امانت نے اس کو بیش قیمت بنا رکھا تھا، لیکن جب چوری کر کے یہ ہاتھ خائن بن گیا تو خیانت کی ذلت نے اس کی اس قدر و قیمت گھٹا دی کہ صرف چوتھائی دینار اس کی
حیرت ہے
نہ ہی حکومت کو
نہ ہی IMF کو
نہ ہی وزارت خزانہ کو
نہ ہی وزارت پانی و بجلی کو،
11 ارب ڈالر سالانہ کپیسٹی چارجز لینے والے کرائے کے بجلی گھر نظر آتے،
مگر 200 یونٹ ماہانہ استعمال کرنے والے صارفین نظر بھی آتے ہیں اور چبھ بھی رہے ہیں،
#بھتہ_خور_آئی_پی_پیز_نامنظور
**جمیعت علماء اسلام کی جانب سے وفاقی شرعی عدالت میں ڈومیسٹک وائلنس ایکٹ 2026 کے خلاف درخواست دائر**
اسلام آباد: جمیعت علماء اسلام نے وفاقی شرعی عدالت میں ڈومیسٹک وائلنس (پریوینشن اینڈ پروٹیکشن) ایکٹ 2026 کے بعض دفعات کو قرآن و سنت کے منافی قرار دیتے ہوئے شریعت پٹیشن دائر کر دی ہے۔ سنیٹر کامران مرتضٰی نے پٹیشن جمع کی
**اہم نکات:**
• درخواست می�� مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اسلام ظلم، تشدد اور گھریلو بدسلوکی کی ہر شکل کی مذمت کرتا ہے اور متاثرہ افراد کے تحفظ کا مکمل حامی ہے۔
• پٹیشن میں کہا گیا ہے کہ ایکٹ کی بعض شقیں اسلامی خاندانی نظام، نکاح، طلاق اور خاندانی تنازعات کے حل سے متعلق شرعی اصولوں سے متصادم ہیں۔
• جے یو آئی نے اعتراض اٹھایا ہے کہ قانون میں "ٹرانس جینڈر پرسن" کی شمولیت ایسے تصور پر مبنی ہے جسے وفاقی شرعی عدالت پہلے ہی قرآن و سنت کے منافی قرار دے چکی ہے۔
• درخواست کے مطابق قانون میں "طلاق یا دوسری شادی کی دھمکی" کو نفسیاتی تشدد قرار دینا قرآنِ مجید میں دیے گئے بعض شرعی حقوق کو متاثر کرتا ہے۔
• پٹیشن میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ یکطرفہ شکایت پر شوہر کو گھر سے بے دخل کرنے کے اختیارات اسلامی اصولِ عدل اور خاندانی نظام سے مطابقت نہیں رکھتے۔
• درخواست گزار کے مطابق خاندانی تنازعات کے حل کے لیے قرآن مجید میں صلح، مصالحت اور ثالثی (تحکیم) کا جو طریقہ مقرر کیا گیا ہے، قانون میں اسے مناسب اہمیت نہیں دی گئی۔
• پٹیشن میں استدعا کی گئی ہے کہ قانون کو اسلامی تعلیمات، قرآن و سنت اور آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 227 کے مطابق ہم آہنگ بنایا جائے۔
• جے یو آئی نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ متنازع دفعات کو کالعدم قرار دیا جائے یا ان میں مناسب ترامیم کی ہدایت دی جائے۔
***
درخواست میں واضح کیا گیا ہے کہ مقصد گھریلو تشدد کے متاثرین کے تحفظ کی مخالفت نہیں بلکہ ایسے قانونی فریم ورک کا قیام ہے جو متاثرین کو تحفظ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ اسلامی خاندانی نظام اور آئینی تقاضوں سے بھی ہم آہنگ ہو۔
نچلے درجے کے ملازمین کا بجٹ سال میں ایک مرتبہ 10 فیصد تک بڑھتا ہے۔۔۔
جبکہ اعلی درجے والے ��ال میں کئی بار اور 400 فیصد تک بھی بڑھاتے ہیں لیکن آندھی آئی ایم ایف کو نظر نہیں آتا۔۔۔
پتہ نہیں یہ بلا صرف ہمیں ڈرانے کے لئے کیوں پالی ہے۔۔