یہ وہ شخص ہے جس کو ٹارگٹ کرنے کے عمران خان کی جانب سے براہ راست احکامات جاری ہوتے تھے لیکن پھر بھی اس شخص نے کبھی اپنی سوچ میں bias کو نہیں آنے دیا۔ حکومت پر تنقید ہو تو تنقید کرتے ہیں، تعریف ہو تو تعریف
ہم ان یوتھیوبر گیڈروں کے رووف کلاسرہ صاحب پر حملے کی بھرپور مذمت کرتے ہیں
کل خبر آئی کہ شہباز شریف نے پیٹرول کمپنیوں کے ستر ارب سے زائد ناجائز منافع کا نوٹس لیا ہے پچھلے سال کی خبر تھی کہ پاکستان کی تمام ڈسکوز نے عوام کے بلوں میں 904.6 ملین یونٹس (تقریباً 90 کروڑ 46 لاکھ یونٹس) بغیر جواز کے شامل کیے گئے تھے۔ یہ لائن لاسز، چوری اور آپریشنل ناکامیوں کو چھپانے کے لیے کیا گیا تھا اس سے اربوں روپے عوام سے ناجائز وصولے اس پر بھی کمیٹی بنی تھی مگر نتیجہ کچھ نہی نکلا ہے
یہ حکومت عوام کی ہڈیوں سے گودا تک نچوڑ رہی ہے
یہ جنگ اخبار کی خبر ہے کہ حکومت نے دو سال میں صرف پیٹرولیم کیوی کی مد میں عوام کی جیب سے 2725 ارب روپے وصول کیا ہے جبکہ جس آئی ایم ایف کے قرضے کے نام پر یہ ظلم کیا اس کے دونوں قرضوں کی رقم دوہزار تین سو ارب روپیہ تھا
جب عوام سے اتنا ٹیکس صرف پیٹرول میں لے سکتے تو یہ آئی ایم ایف کے قرضے کی کیا ضرورت ہے ؟
بدقسمتی یہ ہے کہ پاکستان کے بنیادی ذرائع آمدن تجارت اور برآمدات نہیں بلکہ پٹرولیم بجلی اور سڑکوں کے محصولات ہیں۔
اس میں مزید ہولناک صورتحال یہ ہے کہ جو کوئی اس نیٹ میں پھنس جاتا ہے اس سے سب کچھ نچوڑا جاتا ہے۔
میں کسی علاقے کا تذکرہ نہیں کرتا لیکن پاکستان کا ایک بہت بڑا حصہ بجلی کا بل ادا نہیں کرتا لیکن جو ادا کرتا ہے اس سے باقیوں کی ریکوری بھی کی جاتی ہے اور حکومتی اخراجات بھی وہیں سے پورے ہوتے ہیں۔
یہی صورتحال سمگل شدہ پٹرول اور سرکاری شدہ پٹرول پمپ سے پٹرول بھروانے والے کے درمیان ہے۔
جو دوکاندار ایف بی آر کے نیٹ میں ہے وہ بھاری ٹیکس بھی دیتا ہے ہر لمحہ سولی پر بھی لٹکا رہتا ہے جبکہ ریٹرن جمع نہ کروانے والا تاجر ہر فکر اور پریشانی سے آزادی کی زندگی گزارتا ہے۔
ملک کا مسئلہ صرف اور صرف دوہرا میعار ہے اور کچھ بھی نہیں۔
ان لوگون کے سر شرم سے جھکے ہوئے ہیں نظریں نہین اٹھا پا رہے ، کہنے کو یہ پانچ ہزار سال پرانی تاریخ رکھنے والے پختون ہیں جنہیں پاکستان کی زرا بھی پرواہ نہین اور نا ہی پاکستان آنا چاہتے ہیں لیکن ان کا ہر قول و فعل چیخ چیخ کر کہتا ہے افغان باشندے پاکستان کے بغیر کچھ بھی نہیں ، یا اپ کہ سکتے ہیں افغانوں کو اب پاکستان کے بغیر چلنا نہیں آتا کچھ بھی ہو جایے یہ بھاگ بھاگ کر پاکستان میں ہی گھسے گے
کہانی کچھ یوں ہے ایف آئی اے پشاور نے ایک ہوسٹل میں خفیہ طور پر کاروائی کی وہاں سے چودہ افغان باشندے جو پاکستان کے جعلی شناختی اور پاسپورٹ بنوا رہے تھے پکڑے گیے ، اور ان کو یہ ساری سروسز فراہم کرنے والے بھی افغانی تھے جنہوں نے پاکستانیوں کے گم ہونے والے یا نادرا کے ڈیٹا سے چوری شدہ کارڈز کا استعمال کر کے ان کے جعلی کارڈز بنائے تھے اور اب پاسپورٹ بنانے کا کام جاری تھا بعد ان لوگون نے جعلی ویزوں کا بندوبست کرنا تھا جس کے بعد انہوں نے پاکستانی بن جانا تھا اور بعد میں بیرون ملک سفر بھی کر لینا تھا ۔
یعنی کچھ بھی ہو جائے پاکستان میں رہنا ہے ، پاکستان کو نقصان پہنچانا ہے ، پاکستان کو بدنام کرنا ہے اور جب پاکستان ان کے خلاف کاروئی کرے تو گالیاں بھی پاکستان کو ہی دینی ہے ۔ اور جب پکڑے جاتے ہیں پھر کہتے ہیں ہم تو بہت ہی عزت والے با غیرت قسم کے افغان ہیں ہمیں کچھ مت کہو ۔
ہارڈ سٹیٹ کا کارنامہ: حکومت کی جانب سے 2 سال میں آئی ایم ایف سے 2,340 ارب روپے قرضہ لیا گیا جبکہ پٹرولیم لیوی کے نام پر عوام سے 2,725 ارب روپے بٹور لئے گئے۔ جیو نیوز میں عاطف شیرازی کی خبر کے مطابق آئی ایم ایف سے قرض رقم سے زیادہ رقم عوام سے پیٹرولیم لیوی کی مد میں حاصل کی گئی۔
دنیا میں تیل کی قیمتوں میں تیزی سے کمی کا رجحان ہے۔
دوسری فخر کی بات یہ ہے کہ یہ کمی ریاست پاکستان کی وجہ سے یو رہی ہے۔
لیکن
بدقسمتی دیکھیں ہم پاکستانی اس کمی سے سب سے کم مستفید ہو رہے ہیں۔
حکومت کم از کم سو روپے قیمت کرنے کے لیے اقدامات کرے غریب رو رہا ہے چیخ رہا ہے۔
کہیں انکی گفتگوبول چال سوچ خیال
سےلگتاہےکہ یہ مقروض ملک کےعہدیدارہیں یاایسی عوام کےنمائندہ ہیں جن کیلئےدووقت کی روٹی کاحصول ایک مسئلہ ہےجہاں ہسپتالوں سکولوں کی حالت زارپرروناآتاہے
انکےوچارسُنیں انکےخواب وخیال کاجائزہ لیں تواس ملک کے25کروڑلوگوں کولگےگاکہ وہ واقعی اس ملک میں اجنبی ہیں گورننس اورنوکریوں کااحوال یہ ہےکہ یورپ یاترقی یافتہ ملک کےویزے کُھل جائیں توجتنی بڑی ہجرت پاکستان بنتےوقت اندرہوہی اس سےبڑی باہر ہوجائے
مگرفکرنہ فاقہ عیش کرکاکا!!!!
انکی بلاکو! یہ توباکومیں گُم ہیں
عالمی منڈی میں تیل کی تقریبا 5 فیصد کمی ۔ کوئی وزیر اعظم شہباز شریف کو بتا دے ہر وقت deeply saddened رہتے ہیں عوام کے لئے ۔۔۔ ان قیمتوں میں کمی کو تھوڑا دیکھ لیں کیا کر سکتے ہیں اس بارے عوام کے لئے۔