قرضوں میں ڈوبے بھیک مانگتے ملک کے سپیکر صاحب پودا لگانے پارلیمان سے باہر تشریف لا رہے زرا تیاری چیک کریں
ابھی امریکہ سے دس ارب ڈالر مانگا ہے جو انہیں کاموں پر اڑانا ہے
آپ کو یورپ امریکہ کے سربراہ تک ایسا پروٹوکول لیتے نظر نہی آییں گے
بناسپتی گھی، آر بی ڈی پام آئل سے بنتا ہے، کرونا دور میں اس کے نرخ دگنے ہوئے تو گھی سازوں نے گھی اور ککنگ آئل سے نرخ اڑھائی گنا کر دئیے۔ کرونا کے بعد آر بی ڈی کے نرخ تو واپس آ گئے، لیکن گھی اور خوردنی تیل کے نرخ اسی جگہ پر ساکن ہیں، ایک گھی مل والا مل چلنے کے تین ماہ میں اپنی ٹوٹل انوسیٹمنٹ نکال لیتا ہے، اتنا منافع تو ہیروئن سمگلنگ میں بھی نہیں۔
آواز اٹھائیے یا لٹتے رہئے
پاکستان میں الیٹ کیسے لوٹتے ہیں یہ اس کی ایک مثال ہے کروڑوں روپے فیس لینے والی بیکن ہاؤس یونیورسٹی کو چیرٹی یعنی خیراتی ادارے کے طور پر رجسٹر کرنے کا بل پنجاب اسمبلی کی کمیٹی میں ڈسکس ہو رہا ہے اب خیراتی ادارہ بنے گا تو اربوں کے ٹیکس معاف اور بیرون ملک سے امداد بھی لے سکیں گے اور جب ایسے ادارے ٹیکس نہی دیتے تو مہنگا پیٹرول بجلی گیس عوام کو بیچنے پڑتے ہیں بیکن ہاؤس سمیت تمام اکیٹ ادارے اسلام آباد میں اسی چیرٹی کے نام پر پوش سیکٹر میں بڑے پلاٹ بھی لے چکے ہیں
دنیا کے بیشتر ممالک اپنے عوام کا بہت اچھی طرح تحفظ کر رہے ہیں بلکہ یورپ کے کچھ ممالک تو ویلفیئر اسٹیٹ کی پالیسی پر بھی گامزن ہیں-
اور ایک ہمارا اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا بدقسمت پاکستان ہے جہاں کسی ایک شہری کی جان, اسکا مال اور عزت و آبرو محفوظ نہیں- یہاں اپنے بھی لوٹ رہے ہیں اور غیر بھی- بلکہ غیر ملکی بھی یہاں آ کر غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہیں- ساری دنیا نے پاکستان کو خالہ جی کا گھر بنایا ہوا ہے-
🔹️سرحد پار سے مسلسل دہشتگردی نے ہماری ترقی کی راہیں مسدود کر رکھی ہیں- ہمارے فوجی جوان اور شہری ہزاروں کی تعداد میں شہید ہو چکے ہیں- ہم آج تک سرحد پار سے دراندازی نہیں روک سکے- پاکستان دہشتگردی سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی دو ذیلی کمیٹیوں کا چیئرمین اور وائس چیئرمین ہے- کیا کبھی حکومت نے ان دو فورمز کو اپنے خلاف ہونے والی دہشتگردی کے سدباب کیلئے استعمال کیا؟ کیا سلامتی کونسل میں اس بارے کوئی قرارداد پیش کی؟ کیا اپنی حالیہ سفارتی کامیابیوں کو اس مقصد کیلئے استعمال کیا؟
🔹️مہنگائی کا جن بوتل سے نکل کر وہ غدر مچا چکا ہے کہ الامان الحفیظ- کسی قسم کی اشیاء کی قیمتوں پر حکومت کا کوئی کنٹرول نہیں- ایل پی جی سلنڈر تک سرکاری ریٹ سے کہیں اوپر کی قیمتوں پر فروخت ہو رہے ہیں لیکن پوچھنے والا کوئی نہیں-
🔹️عدلیہ اور پولیس کرپشن, نااہلی اور نالائقی کی حدیں پار کر کے پوری دنیا میں پاکستان کو بدنام کر چکی ہیں- نہ عدالتی اصلاحات کی طرف کوئی کاوش دکھائی دیتی ہے اور نہ ہی پولیس, ایف آئی اے, این سی سی آئی اے, نیب اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تطہیر کی جانب کوئی اقدامات ہوتے دکھائی دیتے ہیں- ریاست جرائم پیشہ لوگوں اور مافیاز کی جنّت ہے جبکہ شریف اور پڑھے لکھوں کیلئے جہنم-
🔹️بجلی کے عام صارفین کی کمر اپنے ماہانہ بلوں میں آئی پی پیز کے کیپیسٹی چارجز, چوری ہونے والی بجلی کے پیسے اور بیشمار ناجائز ٹیکسز اور چارجز ادا کر کر کے توڑی جا چکی ہے- حکومت نے شروع میں آئی پی پیز کے معاملے میں سرگرمی دکھائی اور محدود پیمانے پر کامیابیاں بھی ملیں لیکن ایک عرصہ سے یہ عمل تاخیر کا شکار ہے جبکہ بجلی کی چوری روکنے کے سلسلے میں پیش رفت بالکل صفر ہے-
🔹️اگرچہ بین الاقوامی تناظر میں تیل کی عالمی مارکیٹ بے قابو ہے لیکن آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرنے کے چکّر میں غیر ضروری ٹیکسز اور لیوی عائد کر کے حکومت نے عوام کے کس بل نکال دیئے ہیں-
🔹️ہر دس میں سے نو نجی ہاؤسنگ سوسائٹیاں فراڈ ہیں اور لوگوں کو لوٹ رہی ہیں لیکن حکومت آج تک کسی ایک کے خلاف بھی کوئی کارروائی نہیں کر سکی بلکہ پنڈی کی شہرہ آفاق فراڈ سوسائٹی کا مالک تو ممبر صوبائی حکومت بھی ہے-
🔹️ آن لائن فراڈ تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہیں- انواع و اقسام کے Scams کے اشتہارات سوشل میڈیا پر کھلے عام چل رہے ہیں- یہاں تک کہ جسم فروشی اور جادوئی عملیات تک کے اشتہارات چل رہے ہیں لیکن متعلقہ اتھارٹی انکے خلاف کوئی ایکشن لینے سے عاری ہیں کیونکہ انکی اپنی نوکریاں پکّی ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ وہ کام کریں یا نہ کریں, انکا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا-
🔹️ای-کامرس (آن لائن کاروبار) میں فراڈ اور دو نمبریاں اپنے عروج پر ہیں- آج تک ای-کامرس کیلئے کوئی ریگولیٹری اتھارٹی نہیں بنائی گئی-
🔹️عوامی خدمات سے متعلق تمام سرکاری ادارے کرپشن کا گڑھ بن چکے ہیں- ہر کسی کے آگے لیٹنے کیلئے مشہور یہ حکومت اب سول بیوروکریسی کے سامنے بھی بے بس ہے-
🔹️لینڈ ریونیو ریکارڈ کمپیوٹرازڈ ہونے کے باوجود عوام تحصیلداروں, پٹواریوں, گرداوروں اور دیگر اہلکاروں کے ہاتھوں نہ صرف تنگ ہے بلکہ لٹ رہی ہے-
🔹️لاہور نے بہتری دکھائی ہے لیکن کراچی پہلے سے کہیں زیادہ ابتر حالت میں ہے- سندھ حکومت تو چور ہے ہی لیکن وفاقی حکومت بھی کراچی کے سلسلے میں بے حس بنی بیٹھی ہے- اور تو اور اسلام آباد کا کرائم ریٹ روز افزوں ترقی کر رہا ہے اور دارالحکومت میں بھی صرف ہائی پروفائل کیسز یا سفارشیوں کے مقدمات کے علاوہ عام لوگوں کے کیسز کا وہی حال ہے جیسا دیگر صوبوں میں ہے- اسلام آباد پولیس نے بھی اپنے سر پہ سجا مثالی پولیس کا تاج برسوں پہلے سے اتار پھینکا ہے- ہر تھانے میں رشوت اور مجرموں کی پشت پناہی عام ہے- میرے اپنے سیکٹر میں ہر دوسرے یا تیسرے دن کار/موٹر سائیکل کی چوری اور موبائل فون چھیننے کی وارداتیں رپورٹ ہو رہی ہیں- دو روز قبل موبائل فون چھینے جانے کے دوران ایک نوجوان گولی لگنے سے اپنی زندگی کی بازی ہار گیا-
🔹️افغان مہاجرین اب بھی ہر شہر میں کھلے عام دکھائی دے رہے ہیں اور دھڑلے سے اپنے کاروبار کر رہے ہیں-
🔹️سمگل شدہ ڈیزل اب بھی پورے ملک میں کھلے عام فروخت ہو رہا ہے-
صفحہ نمبر 2 پہ جاری ہے ⬇️ (1/2)
24 کروڑ آبادی کے پاکستان میں اس سال 355 افراد کو سول اعزازات سے نوازا گیا ہے۔ دوسری طرف ہندوستان کی آبادی 140 کروڑ ہے، وہاں امسال 131 افراد کو پدما سول ایوارڈز دیئے گئے ہیں۔ اتنے تیس مار خان، افلاطون ہونے کے باوجود بجانے کیوں پاکستان ترقی نہیں کر رہا، سسٹم کولیپس کر جاتا ہے۔۔۔
سوچیں یو ٹیکٹی سٹور خسارے کے بعد بند ہو گیا اس بات کو ڈیڑھ سال بیت چکا ہے مگر اس کے ایم ڈی فیصل نثار چوہدری کو بھی تمغہ امتیاز سے نواز دیا گیا ہے
مطلب ملک اور ادارے ڈبو دینا بھی ایوارڈ کے لئے ایک میرٹ ہے
آئی پی پیپز نے سات ہزار ارب پانچ سال میں بغیر بجلی پیدا کی وہ نجی بجلی گھروں نے حکومت سے مزید پیسے مانگے جس کی وجہ سے دو روپے یونٹ بجلی مزید مہنگی ہو رہی ہے
جس طرح یہ ایوارڈ بانٹتے ویسے ہی امور مملکت چلاتے اس لیے عوام کا خسارہ ہی خسارہ ہے
پلیز۔۔۔ یہ موقع ہمیں بھی دیں کہ اس طریقے سے مراعات، تنخواہیں اور پر تعیش طرز زندگی کے ذریعے ہم بھی عوام کی خدمت کریں۔ اور جواب میں ہمیں بھی یوں تمغوں سے نوازا جائے۔ خدارا یہ درخواست قبول کریں۔ عوامی خدمت کی خواہش اب سونے بھی نہیں دیتی۔
ضروری نہیں کہ طاقتور کی ہر خواہش حقیقت میں بدل سکے مثال کے طور پر نئی نہریں بنانی تھیں نہیں بنا پائے، نئے صوبوں کی تجویز بُری نہیں لیکن انہیں بنانا نئی نہریں بنانے سے بھی زیادہ مشکل ہے وطن عزیز تجربات کا مرکز رہا ہے بہتر ہوگا کہ اگر صوبوں کا تجربہ کرنے سے پہلے ضلعی حکومتوں کا نظام بحال کیا جائے، اس ملک کا یہ بھی المیہ ہے کہ بلدیاتی نظام کو زیادہ حمایت آمریت میں ملی بلکہ انہوں نے متعارف کروایا اور جمہوریت کے علمبرداروں نے موقع ملتے ہیں اسے دفن کرنا مناسب سمجھا، اسی طرح اٹھارہویں ترمیم آئی پیسہ وفاق سے صوبوں کو منتقل ہوا لیکن ضلعی سطح پر نہیں جانے دیا گیا، سیاسی جماعتیں بھی طاقت اور وسائل کا ارتکاز چند ہاتھوں میں ہی دیکھنا چاہتی ہیں آمریت انکے اندر بھی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے
انکا بھائی کا نام (ولی اللہ معروف) ہے یہ پورے پاکستان میں اپنوں سے بچھڑے ہوئے لوگوں کو ڈھونڈ انکے گھروں تک پہنچاتے ہیں۔
اب تک سینکٹروں لوگوں کو گھروں میں پہنچا چُکے ہیں
عالمی میڈیا تک انکے کام کو سراہتا ہے۔۔لیکن اس بندے کو کوئی تمغہ نا مل سکا
کیونکہ حقدار کو کوئی نہیں پوچھتا۔
ناروے کی فی کس آمدنی اور اُن کا وزیر خارجہ اپنا سامان اسلام آباد ائیر پورٹ پر خُود گھسیٹ رہا ہے
پاکستان کی فی کس آمدنی اور اسلام آباد کے کمشنر اور آئی جی کا کروفر ۔۔۔۔ آج کا ایڈیٹوریل 👇
ابھی پاکستان میں کرپشن کے بارے میں ڈیٹا اکٹھا کر رہا تھا
کچھ حیرت انگیز فگرز سامنے آئے
2005 میں پاکستان کا کرپشن میں 159 ممالک میں سے 144 واں نمبر تھا
مشرف
پاکستان کی تاریخ کا کرپٹ ترین سال
1996 میں 54 ممالک میں سے پاکستان کا 53 واں نمبر تھا
بینظیر بھٹو
یہ بھی کرپٹ ترین
+
ترکی ، سعودی ، پاکستان معائدہ کس کے خلاف ھے؟
انڈیا کے خلاف یہ اسلیئے نہیں کہ پاکستان کو انڈیا کےخلاف لڑنے کے لئے نہ سعودی عرب کی ضرورت ھے نہ ترکی کی۔پاکستان کو ان دونوں ممالک کی ضرورت نہیں انڈیا کے خلاف-
تو پھر کیا ایران کے خلاف ھے؟ پاکستان اور ترکی کو ایران سے خطرہ نہیں ھے.1/3