جب بھی تیرےبارے میں کتاب لکھوں گا
میں تیرے ہونٹوں کوگلاب لکھوں گا
تیری آنکھوں کو شراب لکھوں گا
لکھوں گاتجھے رانی پریوں کی
اور پھر خود کو نواب لکھوں گا
سلیقہ سکھایا جائیگا جب کہیں محبت کا
میں تیرے ہر انداز کو آداب لکھوں گا
ہوگا سوال جنت کا جب کہیں میں تیری باہوں کو جواب لکھوں گا