🚨 بھارت میں نچلی ذات سے تعلق رکھنے والے ایک ہندو کی زندگی کی جھلک۔
یہ مناظر نہایت پریشان کن ہیں اور بھارت میں موجود ذات پات پر مبنی امتیازی سلوک کے سنگین مسئلے کی عکاسی کرتے ہیں۔
A man is judged by the company he keeps, while the nobility of one’s family’s is measured by one’s vocabulary, the character, and the conduct to its fellow man. Being in gears, your company is very obvious, yet your language also reflects that your family has short supply of nobility.
سردار امان کشمیری کا راولاکوٹ دھرنے سے خطاب
انتخابات کا طریقۂ کار اپناؤ۔ ہمیں یہ ہرگز قبول نہیں کہ 12 چور اُس پار سے لاؤ، 12 چور اِس پار سے لاؤ، اور پھر حکومتیں بنا لو۔ عوام کو ووٹ دینے اور اپنے نمائندے منتخب کرنے کا حق دو۔
نون لیگ کا تحریکِ آزادیٔ کشمیر سے کیا تعلق ہے؟ نون لیگ ہمیں یہ نہ بتائے کہ تحریکِ آزادی کیا ہے۔ نہ رانا ثناء اللہ کی یہ اوقات ہے کہ وہ ہمیں تحریکِ آزادیٔ کشمیر کا درس دیں، اور نہ ہی خواجہ آصف کی یہ حیثیت ہے کہ وہ اس جدوجہد پر ہمیں لیکچر دیں۔ ان کا تحریکِ آزادیٔ کشمیر سے کوئی تعلق نہیں۔
#خان_کی_قید_تنہائی_جرم_ہے
#استحکام_کی_ضمانت_عاصم_منیر #عدم
#شہ_رگ_کا_سانس_بند_نہ_کرو
#RightsMovementAJK
پہلے قوم کو سیاسی شعور دینے والے محسن قائد عمران خان کو پسِ زندان ڈالا گیا، پھر ایمان مزاری کی آواز کو زنجیروں میں جکڑا گیا، اس کے بعد مہرنگ بلوچ اور اب شوکت نواز میر کو بھی پابندِ سلاسل کر دیا گیا ہے۔
مگر تاریخ گواہ ہے کہ ہر دبائی گئی آواز کے بدلے کئی نئی آوازیں جنم لیتی ہیں۔ اختلافِ رائے کا جواب طاقت اور جبر سے نہیں، بلکہ دلیل، انصاف اور آئین کی بالادستی سے دیا جاتا ہے۔ گرفتاریاں نظریات کو ختم نہیں کرتیں، بلکہ انہیں مزید مضبوط اور توانا بنا دیتی ہیں۔آوازِ حق کو زنجیروں میں جکڑا نہیں جا سکتا، کیونکہ سچ ہمیشہ اپنی راہ خود بنا لیتا ہے۔ یہ گرفتاریاں ایک بوکھلائے ہوئے اور خوف زدہ نظام کی بے بسی کی علامت ہیں۔
یہ آوازیں اب کسی ایک شخص کی جاگیر نہیں رہیں، بلکہ اس دھرتی کے ہر مظلوم، ہر محروم اور ہر پسے ہوئے انسان کی دھڑکن بن چکی ہیں۔
شوکَت نواز میر کی گرفتاری صرف ایک شخص کی گرفتاری نہیں، بلکہ حق، انصاف اور عوامی آواز کو دبانے کی ایک ناکام کوشش ہے۔ ظلم اور جبر کی تاریخ گواہ ہے کہ نہ قیدیں نظریات کو روک سکتی ہیں، نہ ہتھکڑیاں آزادی کی خواہش کو ختم کر سکتی ہیں۔
یاد رکھو، کشمیر کا ہر بچہ، ہر نوجوان، ہر باہمت انسان شوکت نواز میر ہے۔ تم آخر کس کس کو گرفتار کرو گے؟ کس کس کی آواز دباؤ گے؟ حق کی صدا دیواروں اور زنجیروں سے نہیں رکتی۔
ریاستی دہشت گردی بند کرو۔ اختلافِ رائے کو جرم بنانا اور حق کی آواز کو طاقت کے زور پر خاموش کرنا انصاف نہیں، کمزوری کی علامت ہے۔
قفس میں قید پرندوں سے یہ کہنا اے صیاد،
پرواز کا حوصلہ زنجیروں سے نہیں مرتا۔
ایک بار، ایک پورن اسٹار کے انٹرویو میں، انٹرویو لینے والے نے اس سے پوچھا کہ کیا اسے کبھی اپنے پیشے پر شرمندگی یا ندامت محسوس ہوئی۔ اس نے پورے اعتماد کے ساتھ جواب دیا کہ اسے نہ شرمندگی محسوس ہوتی ہے نہ ندامت، کیونکہ اس کے نزدیک یہ اس کا کام ہے۔جہاز مہنگا تھایا سستا تھا کیوں لیا ؟ یہ محترمہ کیوں اس کی توجیہ پیش کریں یا کیوں اسپر شرمندہ ہوں ۔اس موصفہ کےجواب کالبے لباب یہ ہیکہ (اسطرح کی واردتیں، ن لیگ اور خاص طور پر شریف خاندان کا کام ہے) جہاز لیا ہے جواکھاڑ نا ہے اکھاڑ لو! بات یہاں غورطلب یہ ہےکہ جب لوگ کسی رویے کو مکمل طور پر معمول بنا لیتے ہیں تو شرمندگی یا اخلاقیات کی اپیلیں یا دلیلیں شاذونادر ہی کام کرتی ہیں۔ جب کوئی عادت جبلت بن جائے، تو اس شخص کی رائے بدلنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے اور یہ جبلت اس شخص کی شناخت کا حصہ بن جاتی ہے۔
گزشتہ چار دہائیوں میں، ن لیگ اور خاص طور پر شریف خاندان اور ان کے کچن کیبنٹ کے لوگ شرمندگی کی تمام حدیں پار کر چکے ہیں۔ اس مرحلے پر محض دلائل دینا یا یہ امید رکھنا کہ احساسِ جرم ان کے رویے کو بدل دے گا، بے سود ہے۔
کیونکہ اعمال—نہ کہ الفاظ—آخرکار کسی شخص کے کردار کو بے نقاب کرتے ہیں۔
Your celebration is nothing more than putting lipstick on a pig.
The real question that this Form 47 government seems desperate to avoid is: Why did Fauji Fertilizer Company (FFC) initially submit an independent bid for PIA’s 75% stake, withdraw before the final bidding round, and then, just one day after the auction, approve joining the Arif Habib-led consortium? If everything was transparent and competitive, why did this sequence of events unfold?