No other investment could be so rewarding: Top Pakistani bureaucrats invested 2-day salary (Rs15,000-30,000) into PM Austerity Fund in April and got within two months guaranteed Rs100,000-150,000 per month for ever.
PM Shehbaz is so generous while spending out of public money and keeps increasing petrolum levy and POL prices
The U.S. is HITTING IRAN HARD Tonight
They have opened FIRE on WESTERN Iran's Khorramabad now.
2 injuries reported so far in Southern Iran's Bandar Abbas. Footage is from Bandar Abbas
پی ٹی اے کی اس سے بڑی بےشرمی کوئی اور نہیں ہوسکتی کہ بلز/ پیکجز میں اکٹھے33 فیصد اضافےکی منظوری دے دی ہے. محترمہ @ShazaFK کو فوری نوٹس لینا چاہئے. ٹیلی کام سیکٹر مکمل طور پر شتر بےمہار ہو چکا ہے. ایسا ماحول بنایا جارہا ہے کہ عوام کو اپنےگھرکے برتن تک بیچنے پڑجائیں گے.
@CMShehbaz
ISRAEL CONTINUES ITS REIGN OF TERROR IN GAZA.
Today, Israeli missile strikes DECIMATED residential homes in Gaza City.
ISRAEL'S OBJECTIVE IS AS PLAIN AS THE NOSE ON YOUR FACE. ISRAEL IS DETERMINED TO DESTROY GAZA AND MAKE IT COMPLETELY UNLIVABLE FOR PALESTINIANS.
حکومت نے یہ سلسلہ جون 2022 سے شروع کیا تھا آج تک جاری ہے اور اپنے اخراجات حکومت نے آج تک کم نہیں کئے عوام پر حکمران صبر کی تلقین ، مشکل فیصلے ، جنگ کے نام پر بوجھ ڈالتے ہی چلے جا رہے ہیں پانچواں برس شروع ہو چکا ہے
پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچانے کے لیے پٹرول مہنگا کر دیا گیا۔ اب ہم دیکھیں گے حکومت اپنی اور بڑے بڑے افسران ججوں جرنیلوں وغیرہ پر اضافی اخراجات کو کیسے کم کرتی ہے۔ سارا بوجھ غریبوں پر مت ڈالیں، سب اپنے اپنے اخراجات کو کم کریں اور معیشت کو بہتر بنائیں۔
Donald Trump has been escalating his threats against Iran in recent days as the two sides have traded strikes for nearly two weeks https://t.co/M8HcDeFeqq
BREAKING: Trump is raining bombs on civilian areas in Iran for the 13th consecutive night.
At the very same time, Israel is dropping bombs on residential buildings across Gaza, burning civilians alive.
This is terrorism.
آج مستونگ میں ہونے والے مسلح حملے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ صاحب اور ان کے سیکیورٹی اہلکار کی شہادت کی خبر سن کر شدید دکھ ہوئی۔
مجھے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کے مقدمات، خصوصاً ان کی ضمانت کی درخواستوں میں، متعدد بار مستونگ میں حکیم صاحب کی عدالت میں پیش ہونے کا موقع ملا۔ ان کی زندگی میں بہت سی باتیں ایسی تھیں جو میں نہیں لکھ پائی لیکن آج مجھے لگتا ہے کہ لوگوں کو یہ جاننا چاہیے کہ وہ دراصل کیسے انسان اور کیسے جج تھے۔
میں پورے یقین سے کہہ سکتی ہوں کہ عبدالحکیم کاکڑ ایک نہایت دیانت دار، اصول پسند اور باوقار جج تھے۔ وہ اکثر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کے مقدمات کی قانونی نوعیت پر مجھ سے کھل کر بات کیا کرتے تھے۔ کئی بار انہوں نے مجھ سے کہا کہ حالات چاہے جس نہج پر بھی ہوں، میرے فیصلوں میں آپ کو ہمیشہ قانون کی بالادستی اور انصاف کے اعلیٰ تقاضوں کی پاسداری نظر آئے گی۔
ان کی یہ باتیں ان سیاسی گھٹن زدہ حالات میں میرے لیے ہمیشہ امید کی ایک کرن ہوا کرتی تھیں، اور بعد میں ان کے فیصلوں نے بھی ان کے ان الفاظ کو سچ ثابت کیا۔ انہوں نے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور گلزادی بلوچ کو تین مقدمات میں ضمانت دی، جبکہ بیبرگ بلوچ کو ایک ایف آئی آر میں ضمانت کے مرحلے پر ہی مقدمے سے بری کر دیا۔ ان کے فیصلوں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ وہ دباؤ سے بالاتر ہو کر قانون اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق فیصلے کرنے پر یقین رکھتے تھے۔
تربت میں اپنی تعیناتی کے دوران بھی انہوں نے اسی نوعیت کے ایک مقدمے میں سبغت اللہ شاہ جی کی ضمانت منظور کی اور ایک بار پھر دباؤ کے بجائے قانون کی بالادستی کو ترجیح دی۔
مجھے آج بھی مستونگ کی ایک پیشی یاد ہے جب محکمہ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) ایک کم عمر لڑکے کو مختلف الزامات کے تحت عدالت میں پیش کر رہا تھا۔ حکیم صاحب نے اس بچے سے پوچھا، “تمہیں کب گرفتار کیا گیا تھا؟” بچے نے جواب دیا، “کل۔” اس پر حکیم صاحب نے سی ٹی ڈی کے انچارج کی طرف دیکھ کر کہا، “اس بچے کے چہرے کو دیکھو، ایسا لگتا ہے جیسے اس نے برسوں سے سورج کی روشنی نہیں دیکھی۔ اور تم لوگوں نے اسے اس قدر ڈرایا اور دھمکایا ہے کہ اب وہ تمہاری ہر بات میں ہاں ملا رہا ہے۔” پھر انہوں نے سی ٹی ڈی کے اہلکاروں سے کہا، “اللہ سے ڈرو۔”
آج جب ان کی شہادت کی خبر دیکھی تو دل میں یہ احساس پیدا ہوا کہ صرف ایک انسان کو نہیں مارا گیا، بلکہ انصاف پر بھی حملہ کیا گیا ہے۔ کیونکہ حکیم صاحب قانون کی حکمرانی، انصاف، آئینی حقوق اور عوام کے وقار پر یقین رکھتے تھے
میں جج عبدالحکیم کاکڑ کے اہلِ خانہ کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہوں۔ میری دعائیں اور ہمدردیاں اس غم کی گھڑی میں ان کے خاندان کے ساتھ ہیں۔
معزز شہید عبدالحکیم کاکڑ صاحب، بلوچستان کے عوام آپ کو ہمیشہ آپ کی دیانت، اصول پسندی اور انصاف کے ساتھ مضبوط وابستگی کے لیے یاد رکھیں گے۔
آپ کے اصول اور آپ کی جرأت اُن لوگوں کے لیے ہمیشہ مشعلِ راہ رہیں گے جو انصاف اور قانون کی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں۔
سول نیوکلیئر ڈیل پر امریکہ اور سعودی عرب کے وزرائے توانائی دستخط کر چکے تھے، جب ٹرمپ کی باری آئی تو اس نے اچانک ڈیل اسرائیل کو تسلیم کرنے سے مشروط کر دی، قرائن یہی بتا رہے ہیں کہ شاید ٹرمپ ہمیں دس ارب ڈالر کا قرض بھی اسرائیل کو تسلیم کرنے سے مشروط کر دے، صیہونی لابی اور ایپسٹین فائلز نے ٹرمپ کو پوری طرح جکڑا ہوا ہے، کیا سعودی عرب اس شرط پر امریکہ سے نیوکلیئر ڈیل کرے گا؟
یہ میرا بھائی کتنا مجبور اور دکھی ہوگا کہ آنسو گر رہے ہیں۔
مہنگائی اور غربت کی وجہ سے لوگ چیخ رہے ہیں۔۔گھر کا سامان بیچ کر بجلی کے بل ادا کر رہے ہیں لوگ۔سر@CMShehbaz ایران کا دُکھ ختم ہوگیا ہو تو ان نوجوانوں کو بھی دیکھ لیں۔
کس منہ سے قبر میں جائیں گے کیا جواب دینگے۔؟