✍️ داستان ماضی
باب الظاہر ایک تاریخی یادگار کو الوداع
ایشیا کی عظیم اسلامی درسگاہ دارالعلوم دیوبند کا ہر گوشہ اپنے اندر ایک منفرد تاریخ اور بے شمار یادیں سموئے ہوئے ہے
اطلاعات کے مطابق دارالعلوم دیوبند کا تاریخی گیٹ باب الظاہر اپنی مخدوش حالت کے باعث منہدم کیا جا رہا ہے
یہ گیٹ تقریباً اسی برس قبل 1359ھ میں افغانستان کے آخری بادشاہ محمد ظاہر شاہ مرحوم کے عطیے سے تعمیر کیا گیا تھا۔ یہ محض ایک داخلی دروازہ نہیں تھا، بلکہ افغانستان اور دارالعلوم دیوبند کے درمیان قائم گہرے علمی، دینی اور روحانی تعلق کی ایک نمایاں علامت بھی تھا
باب الظاہر آج اپنی مادی صورت میں شاید باقی نہ رہے، مگر اس سے وابستہ یادیں کبھی منہدم نہیں ہوں گی۔ افغانستان کے بادشاہ محمد ظاہر شاہ کی یہ علمی درسگاہ سے محبت، دارالعلوم دیوبند کے ساتھ افغانستان کے دیرینہ علمی و روحانی تعلق کی یہ نشانی، اور ہماری طالب علمی کی یہ داستان ہمیشہ تاریخ اور یادداشت کے صفحات پر زندہ رہے گی۔
الوداع باب الظاہر الوداع
دارالعلوم دیوبند
الوداع تاریخی یادگار باب الظاہر الوداع
ایشیا کی عظیم اسلامی درسگاہ دارالعلوم دیوبند کا تاریخی گیٹ باب الظاہر جسے تقریباً اسی برس قبل افغانستان کے آخری بادشاہ محمد ظاہر شاہ نے تعمیر کروایا تھا اپنی مخدوش حالت کے باعث منہدم کیا جا رہا ہے
One is Only @MoulanaOfficial
فیض احمد فیض کے جذبات کی عکاسی انکی زندگی کے بعد سالار جمہوریت مولانا فضل الرحمٰن کے علاؤہ کوئی بھی کرنے دعویٰ دار نہیں ہوسکتا
چند روز اور مری جان فقط چند ہی روز
ظلم کی چھاؤں میں دم لینے پہ مجبور ہیں ہم
اور کچھ دیر ستم سہہ لیں تڑپ لیں رو لیں
اپنے اجداد کی میراث ہے معذور ہیں ہم
جسم پر قید ہے جذبات پہ زنجیریں ہیں
فکر محبوس ہے گفتار پہ تعزیریں ہیں
فیض کے جذبات کی عکاسی کرنے والی واحدشخصیت@MoulanaOfficial
جماعت اسلامی کو بنگلہ دیشی صدارتی انتخاب میں بدترین شکست
مرزا فخر الاسلام عالمگیر نے صدارتی انتخاب میں 255 ووٹوں کے ساتھ کامیابی حاصل کی جبکہ ان کے مدمقابل اپوزیشن جماعت جماعت اسلامی اور اس کی اتحادی جماعتوں کے امیدوار اولی احمد کو صرف 88 ووٹ ملے۔
انتخاب میں پارلیمنٹ کے مجموعی طور پر 349 ارکان ووٹ ڈالنے کے اہل تھے۔
یہ اکتوبر 1991 کے بعد بنگلہ دیش میں پہلا صدارتی انتخاب تھا جس میں باقاعدہ مقابلہ ہوا۔ 1991 میں ملک میں پارلیمانی جمہوریت کے قیام کے بعد ہونے والے تمام صدارتی انتخابات میں حکمران جماعت کے امیدوار کے مقابلے میں کوئی امیدوار میدان میں نہیں اترا تھا۔
مرزا فخر الاسلام عالمگیر طویل عرصے تک بی این پی کے سیکریٹری جنرل رہے اور شیخ حسینہ کے 15 سالہ دورِ حکومت کے خلاف سیاسی تحریک کی قیادت میں اہم کردار ادا کیا۔
بنگلہ دیش میں صدر ریاست کے سربراہ اور بااثر مسلح افواج کے کمانڈر اِن چیف ہوتے ہیں جبکہ وزیراعظم حکومت کے سربراہ ہوتے ہیں۔
بنگلہ دیش میں 35 سال بعد ہونے والے صدارتی انتخابات میں پارلیمنٹ نے جمعرات کو حکمران بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی BNP کے سیکرٹری جنرل مرزا فخر الاسلام عالمگیر کو ملک کا نیا صدر منتخب کر لیا
کراچی
اس وقت ملیر کے فقیر محمد گوٹھ کے اطراف پولیس کی بھاری نفری موجودگی میں سماجی کارکن @BalochHafeez201 کے مطابق کچھ عمارتیں جن میں مسجد بھی شامل ہے توڑ دیا گیا ہے جبکہ مقامی مرد اور خواتین گزشتہ 36 گھنٹوں سے جاگ رہے ہیں اور اپنے گاؤں کی حفاظت کے لیے پہرہ دے رہے ہیں۔
یہ معاملہ محض زمین کا نہیں، بلکہ گھروں، شناخت، تاریخ اور ایک برادری کے اپنے وجود کے حق کا معاملہ ہے۔سندھ حکومت ہمارے ساتھ ایسا سلوک کر رہی ہے جیسے ہمارے کوئی حقوق ہی نہیں۔ ہماری آبائی زمینیں لے کر انہیں ’’ایجوکیشن سٹی‘‘ کے نام پر بااثر سرمایہ کاروں کے حوالے کیا جا رہا ہے۔ ریاست اپنی طاقت کے ساتھ کھڑی ہے، جبکہ ہمارے لوگ اپنی ہمت، وقار اور مزاحمت کے ساتھ کھڑے ہیں۔
اور اگر کل ہم اپنی زمین سے محروم بھی ہو جائیں، تب بھی ہماری مزاحمت شکست نہیں ہوگی۔ ملیر اور اس کے رہائشی ایک حقیقت ہیں۔ دیہات کو دھمکایا جا سکتا ہے، زمین چھینی جا سکتی ہے، لیکن کسی قوم یا برادری کی تاریخ، شناخت اور عزم کو محض طاقت کے ذریعے مٹایا نہیں جا سکتا۔
ہم کھڑے ہیں۔ ہم موجود ہیں۔ ہم پُرامن اور باوقار انداز میں مزاحمت جاری رکھیں گے۔
کراچی
ملیر کا فقیر محمد گوٹھ
ریاست پولیس و انتظامیہ کے بل بوتے پہ رہائشیوں کو بےخل کرکے’’ایجوکیشن سٹی‘‘ کے نام پر بااثر سرمایہ کاروں کے حوالے کیا جا رہا ہے۔جبکہ مقامی آبادی اس بے دخلی کے خلاف گزشتہ 24 گھنٹوں سے اپنی ہمت ، پُرامن اور باوقار انداز میں مزاحمت جاری رکھے ہوئے ہیں۔
عمران نیازی کو اٹھارہ گاڑیوں کے خصوصی پروٹوکول میں شفا ہسپتال پہچا دیا گیا
سالار جمہوریت مولانا فضل الرحمٰن نے جس دن آڈر آیا کیا تھا اسے ہسپتال لے جائیں کوئی فرق نہی پڑتا مگر دو دن ڈٹنے کے بعد وہ حکم جسے غیر قانونی کہتے رہے وہی تسلیم کر لیا گیا ہے
ثابت ہوا کہ ن لیگ کو چلانے والوں نے ان کے سر سے ہاتھ اٹھا لیا اس بات کو سمجھنے میں وہ ناکام رہی اور میرٹ پر ذلیل ہوئی
کالعدم پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران نیازی مبینہ طور پر طبی علاج کے لیے اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال جا رہے ہیں۔
ہسپتال کے باہر مقامی اور بین الاقوامی میڈیا کے نمائندوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔