گذ شتہ برس خان صاحب کا پیغام موصول ہوا کے سینیٹ کے لیے کاغذات جمع کراؤ۔ مجھے کچھ مناسب نہیں لگا کہ حلقے کی سیاست کرنے والے کو سینیٹ لڑوانا اور اس کا سینیٹ پر راضی ہوجانا دونوں ہی زیادہ دانشمندانہ باتیں نہیں لگتیں۔ دوبارہ پیغام آیا کہ لازمی اپلائی کرنا ہے، سو کیا۔
پھر وہی ہوا جس کی توقع تھی۔ جنرل الیکشن میں کاغذات ریجیکٹ ہوئے، تائید کنندہ اور تجویز کنندہ کو اغوا کرکے ان پر تشدد کیا گیا۔ اپیل میں گیا وہاں سے بھی فیصلہ خلاف آیا۔ سینیٹ کی نامزدگی پر بھی یہی متوقع تھا یہی ہوا۔ ابھی چونکہ چھبیسویں ترمیم کے زریعے آئین کا مکمل کباڑہ نہیں نکالا گیا تھا، پارٹی نے آئی ایل ایف کے وکلاء کے ساتھ ساتھ پرائیوٹ وکیل ہائیر کرکے ہائیکورٹ میں فیصلہ چیلنج کردیا۔ ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے فیصلہ حق میں دیا تو سینیٹ انتخابات ملتوی کردیے گئے۔ شرط ایک؛ جس نام پہ کاٹا لگا تھا اس پر کاٹا لگا رہیگا۔ ہم خدا ہیں ہمارا فیصلہ ہے اول تو ہوگا نہیں، ہوا تو جیتے گا نہیں، جیتا تو آ نہیں سکتا، آیا تو واپس نہیں جائیگا۔ اور ساتھ ہی بیانیے؛ کیا کرلیگا؟ سیٹ ضائع، ووٹ ضائع (جیسے ووٹ، اکثریت جیسی چیزیں یہ اب تلک خاطر میں لائے ہوں)۔ آج دن تک خدائی کی لڑائی جاری رہی۔ مجھے یقین ہے آگے بھی جاری رہے گی، دنوں کی بات ہے ارادے واضح تھے واضح تر ہوجائیں گے۔ اور کوئی فرق نہیں پڑتا۔ نہ مجھے عمران خان کے بغیر اس پارلیمانی نظام کا حصہ بننے میں کوئی دلچسپی ہے نہ اس کا کوئی فائدہ۔ انتخابات کی واضح اکثریت۔ فارم ۴۷ کی حکومت مسلط کرنے کے باوجود نوے سے اوپر ایم این ایز۔ سینکڑوں نمائندگان دیگر اسمبلیوں میں کیا کرپائے ہیں جو ایک سینیٹ کی نشست کر لے گی کہ جب ملک میں آئین ہی نہیں۔ جب عدل ہی تماشہ ہے اور ڈنڈے کے زور پر ڈگڈگی تماشہ لگا کر ملک کے ہر ادارے کو مافیہ کے مفادات کے تحفظ کا ننگا ناچ نچوایا جارہا ہے۔ ایسے میں کون سے ایوان کی کوئی تقدیس باقی رہ گئی ہے کہ جس کا نمائندہ بننا کوئی قابلِ تحسین امر ہو (اور جو ایوان بنا ہی ووٹ کا استحصال کرکے ہو وہاں آپ اپنے لوگوں کے حقوق کا ہی کیا تحفظ کر پائیں گے)۔
سچ کہوں تو مجھے خان صاحب کی سوچ بھی نہیں سمجھ آئی کیا کرنا ہے مراد سعید کو سینیٹر بنوا کر؟ فائدہ؟ ایوانِ بالا کا احترام نہ شبلی فراز کا گریبان بچا سکا، نہ اعظم سواتی کی چادر اور چاردیورای اور قید تو وہ ہے جو اعجاز چوہدری دو سال سے کاٹ ہی رہا ہے۔ مراد سعید کا سر کیا بچا لینا ہے اس نے؟
بہت منطق ڈھونڈی نہیں ملی تو بسم اللہ پڑھ کر دستخط کردیے۔ دوسری جانب جو بھاگ دوڑ شروع ہوئی اور جو ایڑھی چوٹی کا زور لگا تو خان صاحب کی منطق سمجھ آئی؛”آپ کوئی نہیں ہوتے کسی پر کاٹا لگانے والے، کاٹا صرف اللہ کی ذات لگاتی ہے“۔
۲۰۱۳ کے الیکشن میں جب پارٹی کے بڑوں نے میرے ٹکٹ کی مخالفت کی تو خان صاحب نے ایک جملہ کہا تھا ”مراد میرا پوسٹر بوائے ہے“۔ آپ کو اپنا پرایا، کوئی مراد سعید کے بغض میں، کوئی محبت کے لبادے میں تو کوئی کھلم کھلا عمران خان کی نفرت میں تو کوئی مایوسی میں تنکے کا سہارہ کھوجتے اور کم فہمی میں وراثت کے منجن بیچے گا، مگر میں بس یہی ہوں۔ پوسٹر بوائے؛ ایک استعارہ۔ بس یہی بتانا تھا کہ اس سے زیادہ ایڑھی چوٹی کا زور لگا لو، چاہے ایوانوں اور عدالتوں کو قحبہ خانے بنا دو، ملک کی ہر قابلِ فروخت زبان سے اپنی خدائی کے بیانیے بنوالو آج عمران خان نے آپ کی آنکھوں کے سامنے محض ایک پوسٹر رکھا ہے، جس کا ٹائٹل ہے؛ “آپ کوئی نہیں ہوتے کسی پر کاٹا لگانے والے“۔
انشاءاللہ عمران خان واپس آئیگا!
میرا خیال ہے ڈیل ہوچکی ہے !
سوال بہت سارے ہیں۔ کیا کوئی ڈیل ہورہی ہے؟ کیا نجم سیٹھی جیسے معتبر آدمی کی خبر کا یقین کیا جاسکتا ہے؟ کیا فوج ان حالات میں ڈیل کرنا چاہتی ہے ؟ کیا فوج اور عمران خان موجودہ سٹیٹس کو سے تھک چکے ہیں ؟ اس سے بھی زیادہ اہم اگر عمران خان اور فوج کسی منطقی سمجھوتے تک پہنچتے ہیں تو کیا اسے ڈیل کی بجائے کسی بہتر نام سے پکارا جاسکتا ہے؟ اگر یہ خبریں فوج پھیلا رہی ہے تو کیوں پھیلا رہی ہے ؟ لیکن ان سبھی سوالات کے جوابات کا نچوڑ ایک ہی ہے۔ آثار اور شواہد بتاتے ہیں کہ ڈیل ہوچکی ہے۔
شروع کرتے ہیں سوالات سے اور پھر ان سوالات کو منطقی جواب تک بھی لیجایا جائے گا۔ جیسے ہی پیرول پر رہائی کی "خوشخبری" ختم ہوئی تو موجودہ خبریں یعنی حالات بہتر ہورہے ہیں۔ ہوا بدل رہی ہے۔ سیز فائر ہورہا ہے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ اتفاقا یہ سلسلہ جن اکاونٹس سے شروع ہوا ان میں احتشام بھائی یوکے والے ، بلکہ آصف غفور والے ، میاں علی اشفاق آبپارے والے اور چند انتہائی "گزرگزیدہ" عسکری صحافی شامل ہیں۔ یعنی ڈیل کی خبروں کا علم تحریک کے ان رہنماوں کو نہیں جو احتجاجی تحریک کی تیاری کررہے ہیں عمران خان کے خاندان کو نہیں۔ تحریک انصاف کے زیر عتاب رہنماوں کو نہیں لیکن ان مہرے صحافیوں کو اچانک سے علم ہوگیا ہے۔
اب جیسے ہی ان خبروں کی آمد شروع ہوئی تو عوام نے ان لوگوں کی گائے سوپ ساتھ چلے توپ سے دھلائی شروع کردی۔ لہذا ان کو پٹتے دیکھ کر نجم سیٹھی جیسے "معتبر" کو میدان میں اتارا گیا ہے۔ اس سے پہلے انصار عباسی کی من گھڑت خبر پر بھی بے تحاشا تجزیے و تبصرے کرکے اس خبر کو پھیلانے کی کوشش کی گئی کہ عمران خان نے شہباز شریف کی مذاکرات کی پیشکش قبول کرلی ہے۔ جہاں عمران خان کے انتہائی بااعتماد ساتھی فوج کے مہرے بن سکتے ہیں جہاں عمران خان کا انتہائی مشکل حالات میں لگایا ہوا وزیراعلی ڈبل گیم کرسکتا ہے وہاں پی سی بی کی چئیرمینی کے لیے اپنا ضمیر تک بیچنے والے شخص کو استعمال کرنا فوج کے لیے کتنا ہی مشکل ہے؟
اب اگلا سوال کہ فوج یہ سب کیوں کررہی ہے ؟ کیوں عمران خان کی رہائی اور ڈیل ہونے کے تاثر کو پھیلا جارہا ہے۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ ممکنہ احتجاجی تحریک کا گلہ گھونٹا جاسکے اور فوج اس دوران کچھ ہفتوں کے لیے ایک بڑی پی آر کیمپین چلا کر اپنی ساکھ کی بحالی کی کوشش کرلے اور اپنے قدم جما لے۔ گزشتہ تین سال میں فوج کبھی اس پوزیشن میں آئی ہی نہیں کہ خود کو ایک طاقتور پوزیشن میں دکھا سکے ۔ نو مئی کا دبدبہ کچھ مہینے چلا اور الیکشن میں تحریک انصاف نے سارے حساب برابر کردیے۔ جعلی حکومتیں انتہائی حد کی نفرت کاشکار ہیں۔ معیشت ، سفارت ، سیاست سب جام ہوچکا ہے۔ بھارت سےمختصر محاذ آرائی کو فوج نے فتح مبین قرار دیتے ہوئے ایک ملک گیر مہم برپا کردی ہے۔ فوج کو لگتا ہے کہ یہ مہم بالآخر فوج کی مقبولیت کی بحالی پر متنج ہوگی۔ عمران خان کے اعصاب کمزور پڑجائیں گے۔ تب تک تحریک انصاف احتجاجی تحریک کا دم خم کھو چکی ہوگی اور پھر وہ عمران خان کو ایک لمبے عرصے تک جیل میں رکھ کر تحریک انصاف کو اپنی مرضی کی قیادت کی مدد سے چلا سکیں گے۔
تحریک انصاف کی احتجاجی تحریک فوج اور عاصم منیر کی پی آر مہم کے لیے زہر ثابت ہوگی۔ اگر احتجاجی تحریک کو فوج زبردستی نہیں روکے گی تو عاصم منیر وڑ جائے گا۔ زبردستی روکے گی تو چھبیس نومبر کے قتل عام کی طرح دوبارہ عاصم منیر اور فوج وڑ جائے گی۔ یعنی یہ احتجاجی تحریک فوج ہر قیمت پر روکنا چاہتی ہے۔ اس کے لیے فوج نے سب سے پہلے روایتی ہتھیار یعنی میاں علی اشفاق اور وغیرہ وغیرہ استعمال کیے۔ جب بات نہیں بنی تو انصار عباسی اور نجم سیٹھی کی مدد لی گئی۔ اگر اب بھی بات سرے نہ لگی جو یقیننا نہیں لگنے والی تو تحریک انصاف کی قیادت میں سے کچھ لوگ اس کارخیر کے لیے استعمال کئے جائیں گے۔ لہذا چوکنے بھی رہیں۔
اب پہنچتے ہیں اختتام کی جانب۔ عمران خان کی ڈیل تو ہوچکی ہے لیکن عوام کیساتھ۔ یہ ڈیل ایسی مضبوط ڈیل ہے کہ یہ ہر دو کے درمیان میں کوئی رکاوٹ سرے سے مانتی ہی نہیں۔ عمران خان اور فوج کا سمجھوتہ جس بات پر ہوگا اس کا نام ڈیل کی بجائے مناسب طریقے سے حقیقی آزادی پکارا جاسکتا ہے۔ فوج اور عمران خان کے درمیان ہونے والی اس ڈیل کے نتیجے میں فوج کو مینڈیٹ واپس کرنا ہوگا اور بیرکوں میں واپس جانا ہوگا۔ فوج نے طے کرنا ہے کہ یہ ڈیل پرامن طریقے سے حاصل کرنی ہے یا بنگلہ دیش والے طریقے سے۔ اگر فوج کے سارے فارمولے بنگلہ دیش والے ہیں تو نتیجہ ویسا ہی نکلے گا۔
عمران خان نے پیرول پر رہائی کی درخواست دینے پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔عمران خان اپنے موقف سے نہ ایک قدم ہورہا ہے نہ ادھر۔ لہذا فوکس رکھیں۔ ایسے کسی جھانسے میں مت آئیں۔ منہ جیسا بھی معتبر دکھ رہا ہو اسکی ایسی کسی موشگافی پر یقین نہ کریں۔خیال رکھیے۔ اللہ حافظ
Pakistan is leaderless while it has been attacked, and forced into a war by Modi’s RSS ideology following Indian government. We need a leader. We need Imran Khan to lead us in this war!
#ReleaseImranKhanNow
THREE PAK PILOTS WHO DESTROYED THE $1.5 Billion S-400 FAKE IRON DOME, CAME BACK SAFELY ALTHOUGH IT WAS ALMOST A SUICIDAL MISSION.
PAF TAKES THE LEAD.
HOW WILL GEN ASIM MUNIR BE FEELING. HE MUST PROVE EQUAL TO THE PAF FIGHTERS.
جنگ ہو یا امن ہو! فیصلے وہی کرے جسے قوم نے فیصلے کرنے کا مینڈیٹ دے رکھا ہے۔ موجودہ قیادت جعلی ہے اور اسکے پاس قوم کے فیصلے کرنے کامینڈیٹ نہیں۔ عوامی اعتماد کی کمی انہیں مزید کمزور بنا رہی ہے۔
عمران خان کو رہا کرو !
آٹھ فروری کے مینڈیٹ کو فیصلے کرنے دو !
اربابِ اختیار کو اگر واقعی میں پاکستان کی بقا اور سلامتی کی فکر ہے تو قوم کے لیڈر عمران خان کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔ اس وقت جب بھارت کا جنگی جنون پاگل پن کی حدوں کو چھو رہا ہے عمران خان کی اسیری کی قیمت قوم کو اپنی حمیت پر حملوں کی صورت چکانی پڑرہی ہے۔ ملک کو ایک مضبوط قیادت کی ضرورت ہے جس پر قوم اور دنیا دونوں کو اعتماد ہو۔
موجودہ حالات میں عمران خان کی زندگی کو داؤ پر لگانا پاکستان کے دشمنوں کو شررانگیزی کا موقع فراہم کرنا ہے۔
اللہ پاکستان کا حامی و ناصر ہو۔
#ReleaseImranKhanNOW
پاکستان اس وقت انتہائی سنگین صورتحال سے دوچار ہے۔
بھارت کی مسلسل دھمکیاں اب مسلسل حملوں کی شکل اختیار کر چکیں ہیں۔ موجودہ فارم 47 کی حکومت میں نہ صلاحیت ہے نہ بصیرت کہ وہ دشمن کو للکارے یا اس بحران کا مقابلہ کر سکے۔ ایسے نازک وقت میں قوم کو ایک مضبوط، دلیر اور آزمودہ قیادت کی ضرورت ہے۔
عمران خان کو فوراً رہا کیا جائے—یہ وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے، کیونکہ قومی سلامتی، ملک کا استحکام اور قوم کا مستقبل اسی فیصلے سے جڑا ہے۔
زاتی انا اور سیاسی انتقام کر پس پشت ڈال کر پاکستان کے چوبیس کروڑوں افراد کی زندگیوں کا سوچنا ہو گا۔
#ReleaseImranKhanNow
General Asim Munir, This is the time to prove your loyalty and patriotism to Pakistan. Get on with the war, everybody is behind you although you don't deserve this support. Release Imran Khan if you want the World to find out how Pakistan will fight. Get rid of your ego and GO, or GO TO WAR.
آج اپنی افتتاحی تقریر میں @realDonaldTrump نے جو کہا کہ امریکہ کو کیا ضرورت ہے اور کیا چاہیے، اور وہ یہ فراہم کریں گے، وہ بالکل وہی ہے جو @ImranKhanPTI کہتے ہیں کہ پاکستان کو ضرورت ہے اور چاہیے ۔
مسلح افواج کا واحد کام دشمنوں کو شکست دینا ہے۔
ریاستی طاقت کے ہتھیار بنانے کو ختم کریں۔
قانون اور آئین کے تحت سب کے لیے منصفانہ، مساوی اور غیرجانبدارانہ انصاف فراہم کریں۔
حکومت کی سنسرشپ بند کریں اور آزادی اظہار کو بحال کریں۔
کوئی جنگ نہیں۔ سب کے ساتھ امن۔
1. The sole job of Armed forces is to defeat our enemies.
2. Eliminate weaponization of State power.
3. Fair Equal, Impartial Justice for all under Law and Constitution.
4. Stop Government censorship and bring Back Free Speech
5. No Wars. Peace with all
What @realDonaldTrump said today in his inaugural speech, about what USA NEEDS and WANTS and he will deliver, is EXACTLY WHAT @ImranKhanPTI says PAKISTAN NEEDS & WANTS for PAKISTAN