الْأَسْبَاطِ."
ترجمہ:
"حسین مجھ سے ہیں اور میں حسین سے ہوں۔ اللہ اس شخص سے محبت کرے جو حسین سے محبت کرے۔ حسین (میرے) نواسوں میں سے ایک نواسہ ہیں۔"
اس روایت کو محدثین نے حسن قرار دیا ہے۔
سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 144 (کتاب السنہ، باب: حسن بن علی اور حسین بن علی کی فضیلت)
حضرت یعلیٰ بن مرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں:
ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک دعوت میں جا رہے تھے۔ راستے میں حسین بن علی رضی اللہ عنہ گلی میں بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے۔ نبی ﷺ آگے بڑھے، اپنے ہاتھ
پھیلائے، اور حسینؓ اِدھر اُدھر بھاگنے لگے۔ نبی ﷺ انہیں ہنساتے رہے، یہاں تک کہ انہیں پکڑ لیا، ایک ہاتھ ان کی ٹھوڑی کے نیچے اور دوسرا سر پر رکھا، پھر انہیں بوسہ دیا اور فرمایا:
"حُسَيْنٌ مِنِّي وَأَنَا مِنْ حُسَيْنٍ، أَحَبَّ اللَّهُ مَنْ أَحَبَّ حُسَيْنًا، حُسَيْنٌ سِبْطٌ مِنَ
@adeelah01641712@SumoRizvi نینوا، کربلا، غاضریہ، طف اور عقر اس پورے علاقے کے مختلف مقامات یا بستیوں کے نام تھے کربلاکا نام اسلامی دور سے پہلے بھی بعض تاریخی روایات میں ملتا ہے، جبکہ نینوا اسی خطے کے ایک مخصوص حصے کا نام تھا، پورے شہر کا نہیں۔
اسی لیے معتبر تاریخی مصادر میں یہ نہیں ملتا کہ "نینوا کا نام بدل
@icom_xiii ان ہستیوں پر تبرا کرنے کیلئے ان ہستیوں سے زیادہ حسب نسب ضروری ہے۔ بکواس کرنے سے پہلے ان سے زیادہ حسب نسب تقویٰ اللہ کی رضا پر راضی زہد عجز لاؤ پھر بھونکنا تم ہو کون تمہاری اوقات کیا ہے تمہارے مردود جسم پر کوئی تھوکے بھی نہیں ان کے ساتھ تمہاری برابری کس چیز کی ہے؟
@adeelah01641712@SumoRizvi جس نینوا کا ذکر واقعۂ کربلا کے حوالے سے کیا جاتا ہے، اس سے مراد موصل کے قریب والا قدیم شہر نہیں ہے۔ کربلا کے زمانے میں نینوا فرات کے کنارے، موجودہ کربلا کے قریب ایک علاقہ یا بستی کا نام تھا، جہاں سے کربلا کا میدان شروع ہوتا تھا۔ اس لیے کربلا والی نینوا اور موصل والی قدیم نینوا دو