Updates on $XTSY 💎:
Security : $XTSY smart contract has been fully audited by Hacken, one of the most trusted names in blockchain security. Boosting project confidence.
Growth: $XTSY IDO that i mentioned earlier is now LIVE on Coin Terminal, a Tier1 launchpad with 4M $XTSY locked for sale.
New Update: $XTSY is now also available on Solana, opening the gates to massive cross chain liquidity and investor flow.
security locked, partnerships secured, and multi-chain access live ✅
Join here : https://t.co/xT48CHKVUs
#XTSY #IDO #CoinTerminal #Solana
🇵🇰 The Commonwealth has been accused of colluding with Pakistan’s military-backed government to cover up widespread election rigging
https://t.co/t2ONuVBYB8
Altcoin Season starts in July 2025 🔥
The Golden Accumulation phase ends next week, and lowcaps will pump 100–150x.
Every $50 in altcoins today = $20,000 by the end of the summer.
Here’s what I’m buying ahead of the biggest bull run in history 🧵🔽
“Two years ago, I was asked to step aside for three years and allow the current system to function unchallenged. But I won’t stay silent even for three minutes at the behest of any Yazeed [tyrant].
I am being pressured to accept the 26th Constitutional Amendment, yet my entire struggle has been for the rule of law, and this amendment blatantly violates it.
They demand that I apologize for May 9th (2023). Yet those who owe the nation an apology are the ones who stole CCTV footage, dishonored women, desecrated homes, imprisoned thousands of political workers, and martyred innocent citizens. If even one hour of the May 9th cases were heard on merit, these baseless cases would collapse instantly. The tragedy here is not only the absence of justice, but that not even a semblance of justice is visible.
Nations do not perish under oppression. They are reborn through struggle. The Holy Prophet (Peace Be Upon Him) endured thirteen of the most difficult years but remained steadfast and was ultimately triumphant. Therefore, following in his footsteps, we too must stand firm as a nation and fight until the very end.
Peaceful protest becomes the only viable path when every door to justice is sealed shut. I call upon the entire nation, including Pakistan Tehreek-e-Insaf, to prepare for a nationwide protest.
Rule of law is entirely suspended in Pakistan. Even the dignity of women is no longer secure. My wife, Bushra Bibi, has been in solitary confinement for 14 months over mere allegations of facilitation, without a single proven charge. Dr. Yasmin Rashid, a cancer survivor and an elderly woman, has been shamelessly jailed under false cases. My sisters, aged between 65 and 70, visit me in jail under High Court orders, which is a basic right, but a Colonel obstructs them, flouting court directives with impunity. My sisters are abducted and abandoned in remote areas in the dead of night. A nation that treats its own women this way has lost its moral compass. When Maryam Nawaz was found guilty of owning five undisclosed flats in London, her bail was granted within two months, because the Sharif family had agreed to a deal. Anyone who bows before tyranny gets absolved of all charges, while those who stand on principle are punished without cause.
No foreign investment has come into Pakistan for two years because the world knows that the law here is trampled under a Colonel’s boot. Without investment, there can neither be no economic stability nor development. Investor confidence will remain non-existent as long as judicial orders remain subject to a Colonel’s whims.
The entire nation now looks to the judiciary for justice yet the 26th Amendment has crippled the judiciary.
There are two motives behind this amendment: The first is to protect a rigged election. And secondly, to keep me, PTI leadership, and its workers incarcerated, violating basic human rights without fear of accountability.
There are two direct consequences of this Amendment:
1- The judiciary has entirely surrendered to the executive. The Supreme Court has authorized military courts in direct contradiction of Article 175(3) of the Constitution, which mandates a separation of powers. Special benches are being formed to snatch reserved seats from PTI despite the people voting for us. These seats are being handed to other parties in complete violation of the Constitution.
2- The judiciary is so paralyzed that even High Courts and judges cannot assign cases of their own volition. As a result, I am being denied justice. Sometimes benches for my cases remain incomplete, while hearings are arbitrarily delayed at other times. My cases are deliberately kept in limbo. Even my basic rights under jail regulations are denied—I am not allowed to speak to my children, scheduled meetings with my wife are cancelled, and even my books are withheld. All of this is designed to break my spirit. 1/2
پہلے قاضی فائز عیسیٰ کے ذریعے پاکستان میں فسطائیت جاری تھی اور اب چھبیسیوں ترمیم کے ذریعے ظلم کو تحفظ دیا جا رہا ہے۔ اگر آج عدلیہ تاریخ کی درست سمت کھڑی نہیں ہو گی تو ان کا نام بھی جسٹس منیر اور قاضی فائز عیسیٰ کے ساتھ ہی لکھا جائے گا جو ہمیشہ تاریخ میں مجرم ہی رہیں گے۔
میری طرف سے سلمان اکرم راجہ بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، عورتوں سے بد سلوکی، چھبیسویں ترمیم اور کرنل سطح کے لوگوں کی جانب سے مسلسل توہین عدالت جیسی قانون کی پامالی پر سپریم کورٹ کے دونوں سربراہان اور ہائی کورٹ کے ججز کو خط تحریر کریں۔ یہ بوجھ ججز کے کندھوں پر ہے کہ وہ انصاف کا نظام قائم کر کے تاریخ کی درست جانب کھڑے ہوں۔
شریف خاندان این آر او لینے کا عادی ہے۔ دو مرتبہ پہلے این آر او لیا اور اب الیکشن چوری کر کے قوم پر مسلط ہیں۔ اس ملک کو کبھی بھی ایسے لوگ اوپر لے کر نہیں جا سکتے چاہے ایس آئی ایف سی بنا لیں یا کوئی اور کلیہ آزما لیں۔ قوم صرف تب ہی اوپر جاتی ہے جب وہ آزاد ہو اور حکمران اخلاقی طور پر مضبوط ہوں۔
سمبڑیال الیکشن میں تمام لوگ بڑھ چڑھ کر حصہ ڈالیں۔ اس ظلم کے نظام کے خلاف اپنی واحد طاقت یعنی ووٹ کے ذریعے فیصلہ دیں۔ انہوں نے الیکشن چوری کا پورا پلان بنایا ہو گا لیکن آپ لوگ چوکنا رہیں- فارم 45 لے کر پولنگ سٹیشن سے نکلیں اور فارم 47 ملنے تک RO کے دفتر میں موجود رہیں- دھاندلی کے آگے دیوار بننا ہے تاکہ اس حکومت کو اس کی مقبولیت کا اندازہ دلایا جائے۔
میری ہدایت ہے کہ پارٹی کی پنجاب میں تنظیم سازی کے حوالے سے ترتیب دی گئی کمیٹی میں عالیہ حمزہ اور چاروں ریجنز کے صدور کو شامل کیا جائے۔ کمیٹی کا کنوینر مقرر کرنے کی بجائے سب ایک سطح پر مل کر کام کریں۔
جنگ ہمیشہ باہر والوں سے ہوتی ہے۔ میرا تمام پارٹی اور سوشل میڈیا کو پیغام ہے کہ اپنی تنقید کا نشانہ اپنے لوگوں کو نہ بنائیں اس سے ہمارے بیانیے کو نقصان ہوتا ہے۔ ہمیں ساری توجہ فسطائی قوتوں کے خلاف مرکوز رکھنی چاہیئے تاکہ اس اندھیری رات کا جلد سے جلد خاتمہ ہو سکے-
میرا تحریک انصاف کے لیے خصوصی پیغام ہے کہ جماعت میں کسی کو بھی قربانی دینے سے نہیں گھبرانا چاہیئے۔ اگر مجھ سمیت سینکڑوں کارکنان اور لیڈر شپ جیلوں سے نہیں گھبرائی تو آپ لوگوں کو بھی نہیں گھبرانا چاہیئے۔ پارٹی عہدیداران کو فیصلہ کرنا ہو گا کہ وہ اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ بر ہونے کو تیار ہیں یا نہیں۔ اب جو عہدہ دار سرگرم نہیں ہو گا اسے برطرف کر دیا جائے گا۔ اس ملک سے ظلمت کے سائے ختم کرنے کے لیے ہم سب کو اپنے حصے کی قربانی دینا ہو گی” -
اڈیالہ جیل میں ناحق قید سابق وزیراعظم عمران خان کی وکلأ، پارٹی ورکرز اور صحافیوں سے گفتگو
2/2
“مجھے دو سال پہلے کہا گیا کہ تین سال کے لیے پیچھے ہٹ جاؤں اور موجودہ نظام کو چلنے دوں، لیکن میں کسی یزید کے کہنے پر تین سال تو کیا تین منٹ بھی خاموش نہیں رہوں گا۔
مجھ پر چھبیسویں ترمیم کو قبول کرنے کا بھی زور ڈالا جا رہا ہے لیکن میری جدوجہد ہی قانون کی حکمرانی کی ہے اور چھبیسویں آئینی ترمیم عین اس کے منافی ہے۔
مجھ سے نو مئی کی معافی مانگنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے مگر معافی وہ لوگ مانگیں جنہوں نے سی سی ٹی وی فوٹیج چرائی ہے، جنہوں نے عورتوں کی عزتیں پامال کیں، لوگوں کے گھروں کا تقدس برباد کیا، ہزاروں سیاسی ورکروں کو جیلوں اور عقوبت خانوں میں ڈالا اور بے گناہ لوگوں کو شہید کیا۔ نو مئی کے کیسز کی ایک گھنٹہ بھی میرٹ پر سماعت ہو تو یہ بےبنیاد مقدمات فوری ختم ہو جائیں گے، لیکن المیہ یہ ہے کہ یہاں انصاف ہونا تو دور کی بات انصاف ہوتا نظر بھی نہیں آ رہا۔
ظلم سے قومیں کبھی ختم نہیں ہوتیں بلکہ نئے سرے سے بنتی ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے 13 سال مشکل ترین وقت کاٹا لیکن آپ ﷺ ڈٹے رہے اور بالآخر سرخرو ہوئے۔ لہٰذا ہم سب کو آپ ﷺ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے بحیثیت قوم ڈٹ کر آخری دم تک مقابلہ کرنا ہوگا۔
جب انصاف کا ہر دروازہ بند کر دیا جائے پھر پر امن احتجاج کے سوا کوئی راستہ نہیں بچتا۔ تحریک انصاف سمیت پوری قوم کو پیغام دیتا ہوں کہ ملک گیر احتجاج کے لیے تیار رہیں۔
پاکستان میں قانون مکمل طور پر معطل ہے۔ یہاں عورتوں کی بھی عزت محفوظ نہیں ہے۔ میری اہلیہ بشریٰ بیگم صرف سہولت کاری کے الزام میں 14 ماہ سے قید تنہائی میں ہیں حالانکہ ان پر جرم ثابت بھی نہیں ہوا۔ ڈاکٹر یاسمین راشد کینسر سروائیور اور بزرگ خاتون ہیں مگر ان کو بھی بے شرمی سے جعلی مقدمات میں پابند سلاسل کیا گیا ہے۔ میری ہمشیرگان، جن کی عمریں 65 سے 70 سال کے درمیان ہیں، ہائی کورٹ کے حکم پر جیل مجھ سے ملنے آتی ہیں جو ان کا اور میرا بنیادی حق ہے مگر ایک کرنل ان کو روک دیتا ہے اور عدالت کا حکم ردی کی ٹوکری کی نذر ہو جاتا ہے۔ جنگل کے قانون کا یہ عالم ہے کہ میری بہنوں کو یہاں سے گرفتار کیا جاتا ہے اور چکری کے پاس آدھی رات کو لے جا کر بے یارو مددگار چھوڑ دیا جاتا ہے۔ جس ملک میں اپنی ہی خواتین کے ساتھ ایسا سلوک ہو وہاں کا اخلاقی معیار فوت ہو چکا ہے۔ مریم نواز کے لندن میں 5 فلیٹس نکلے تھے مگر ان کی ضمانت دو ماہ میں ہی ہو گئی تھی کیونکہ شریف خاندان ڈیل پر راضی تھا۔ جو فرعونیت کے آگے جھک جاتا ہے اس کے سب کیس معاف ہیں مگر جو حق پر کھڑا ہو وہ بے جرم بھی سزاوار ٹھہرتا ہے۔
دو سال میں بیرون ملک سے کوئی سرمایہ کاری اسی لیے نہیں آ سکی کیونکہ دنیا جانتی ہے یہاں قانون ایک کرنل کے جوتے کی نوک پر ہے۔ یاد رہے کہ سرمایہ کاری کے بغیر نہ ملک میں معاشی استحکام آتا ہے اور نہ ہی معیشت ترقی کر سکتی ہے۔ جب تک عدالتی احکامات کرنل کے اشاروں کے محتاج ہوں گے تب تک سرمایہ کاروں کے لیے اعتماد کی فضا ناپید رہے گی۔
پوری قوم انصاف کے لیے عدلیہ کی طرف دیکھ رہی ہے۔ مگر چھبیسویں آئینی ترمیم کر کے عدلیہ کو مفلوج کر دیا گیا ہے۔
اس ترمیم کے پیچھے دو ہی وجوہات ہیں:
ایک تو دھاندلی ذدہ الیکشن کا تحفظ کرنا، اور دوسرا مجھ سمیت تحریک انصاف کی لیڈر شپ و کارکنان کو جیل میں قید رکھنا اور احتساب کے خوف کے بغیر بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنا۔
چھبیسویں آئینی ترمیم کے براہ راست دو نتائج نکلے ہیں:
۱: ایک یہ کہ عدلیہ نے اپنے آئینی و روایتی کردار کے برعکس انتظامیہ کے سامنے بالکل سرنڈر کر دیا ہے۔ ملٹری کورٹس کے حوالے سے سپریم کورٹ کا فیصلہ آئین کے آرٹیکل 175 (3) کے متصادم ہے جو کہتا ہے کہ عدلیہ انتظامیہ سے الگ ہے مگر یہاں اس آرٹیکل میں ترمیم کیے بغیر ہی ایگزیکٹو کو عدلیہ کے تمام اختیارات سونپ دیے گئے ہیں۔ ملٹری کورٹس کے ساتھ ساتھ مخصوص نشستوں پر بھی بینچ بنا کر تحریک انصاف سے یہ نشستیں چھیننے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ووٹ تحریک انصاف کو پڑا ہے مگر آئین کے بر خلاف یہ نشستیں دوسری جماعتوں کو دینے کی کوشش جاری ہے۔
۲: دوسرا یہ کہ عدلیہ اس قدر مفلوج ہو چکی ہے کہ اعلیٰ عدلیہ اور جج اپنی مرضی سے مقدمات لگا ہی نہیں سکتے۔ نتیجتاً مجھے بھی عدالتوں سے انصاف نہیں مل رہا۔ کبھی میرے کیسز کے لیے بینچ مکمل نہیں ہوت تو کبھی سماعت نہیں ہوتی۔ جان بوجھ کر میرے مقدمات کو التواء میں رکھا جاتا ہے۔ میرے بنیادی انسانی حقوق بھی معطل ہیں۔ جیل مینوئل کے مطابق جو حقوق ایک عام قیدی کو حاصل ہوتے ہیں مجھے وہ بھی نہیں دئیے جا رہے۔ میرے بچوں سے میری بات نہیں کروائی جاتی، میری اہلیہ سے ہفتے میں ایک طے شدہ ملاقات بھی روک دی جاتی ہے اور تو اور میری کتابیں تک روک لی جاتی ہیں۔ یہ سب صرف اس لیے کیا جا رہا ہے تاکہ میں ٹوٹ جاؤں۔
1/2
Pakistan losing to India in Sunday's cricket match is the direct result and reflection of the nation's helplessness.
A ruthless dictatorship masquerading as democracy has left even some of the best sportsman feeling there is nothing to win for anymore.
Hard watch.
سابق وزیراعظم عمران خان کا آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے نام تیسرا کھلا خط:
میں اپنی ذات کے لیے کوئی ڈیل یا اپنی جماعت کے لیے کسی سے کوئی رعایت نہیں مانگ رہا- بطور سابق وزیراعظم اور محب وطن پاکستانی مجھے صرف اپنی فوج کی ساکھ کی بحالی اور وطن عزیز کا مفاد مقصود ہے۔ اس امر کے باوجود کہ فوج دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہی ہے اورروزانہ شہادتیں ہو رہی ہیں، اسٹیبلشمنٹ کی پالیسیوں کے باعث عوام اور فوج کے درمیان ہم آہنگی نہیں ہے۔
میں آئی ایس پی آر سے کہتا ہوں کہ جھوٹا بیانیہ نہ دیا کریں۔ بار بار یہ کہنا کہ فوج سیاست میں مداخلت نہیں کرتی، قوم کی عقل کی توہین ہے۔ سوشل میڈیا کے اس دور میں کوئی چیز نہیں چھپ سکتی، ملک کا بچہ بچہ واقف ہے کہ آرمی چیف ہی اس ملک کا نظام چلاتے ہیں۔ انتخابات میں دھاندلی ہو یا اراکین پارلیمینٹ کی خرید و فروخت، عدلیہ کی تباہی ہو یا عوامی رائے دہی پر قدغن کے کالے قانون، ناصرف ہماری باشعور قوم بلکہ عالمی برادری کو بھی معلوم ہے کہ اس کے پیچھے کون سے "نامعلوم” ہاتھ کارفرما ہیں۔ لہذا میری ان سے گزارش ہے کہ غلط بیانی سے گریز کیا کریں کیونکہ یہ صرف من حیث الادارہ فوج کی بدنامی کا سبب بنتی ہے۔
میں پانچ نکات پر روشنی ڈالوں گا جس کی وجہ سے پاکستان آج تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے:
۱- دھاندلی زدہ انتخابات کے ذریعے قوم کی جانب سے مسترد شدہ چہروں کو ملک پر مسلط کرنا:
اسٹیبلشمنٹ کی اس پالیسی کی وجہ سے ملک کا شدید نقصان ہو رہا ہے۔ ابھی چند سال قبل تک جن کی سرے محل اور مے فئیر فلیٹس جیسی بے شمار کرپشن کی داستانیں قوم کو سنائی جا رہی تھیں، انہی کے لیے پوری ریاستی مشینری اور ایجینسیز کو استعمال کر کے ناصرف قبل از انتخابات بدترین دھاندلی کی گئی بلکہ پولنگ ڈے اور اس کے بعد بھی تاریخ کا سب سے بڑا ڈاکہ ڈالا گیا اور ان کو قوم پر مسلط کر دیا گیا۔
یہ بیانیہ بنانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ شریف خاندان اور زرداری پر کیسز سیاسی نوعیت کے تھے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے دور میں نیب کے کوئی کیسز نہیں بنائے گئے- انٹیلی جنس ایجینسیوں نے انکی کرپشن کے ثبوت اکٹھے کئے- جنرل احتشام ضمیر اور فاروق لغاری نے ان کے اربوں روپے کرپشن اور منی لانڈرنگ کے ڈوزئیر دئیے تھے کہ یہ لوگ کتنے کرپٹ ہیں- نیب تو ہمارے کنٹرول میں بھی نہیں تھا، جنرل باجوہ نیب کو کنٹرول کرتا تھا- انکے خلاف تمام کیسز ہمارے دور سے پہلے بنائے گئے- ہمارے دور میں صرف شہباز شریف کے خلاف مقصود چپڑاسی والا رمضان شوگر مل کیس بنا- اس کیس کو بھی بند کر دیا گیا ہے۔ قوم نے دیکھا کہ انھی نیب زدہ چہروں کو ڈیل کی ڈرائی کلین مشین سے گزار کر دوبارہ پاکستان پر مسلط کر دیا گیا۔ نیب ترامیم کے ذریعے این آر او دینے کے اس عمل سے ملکی معیشت کو ۱۱۰۰ ارب روپے کا نقصان ہوا۔ اس فراڈ کے تانے بانے ملائیں تو تمام کٹھ پتلیوں کی ڈوریاں ایک ہی ہاتھ کی طرف جاتی ہیں اور اسکا سارا نزلہ فوج پر گر رہا ہے-
۲ - جمہوریت کا خاتمہ:
جمہوریت اخلاقیات پر چلتی ہے- حکومت کے پاس اخلاقی قوت ہو تو ہی جمہوریت چل سکتی ہے- 30 سال لگا کر پاکستان میں رفتہ رفتہ جمہوریت کی کچھ بحالی ہوئی تھی، عدلیہ مسلسل جدوجہد سے خودمختار ہوئی تھی اور میڈیا کچھ آزاد ہوا تھا اور ملک بہتری کی طرف جا رہا تھا۔ لیکن پہلے سازش سے ہماری حکومت کو ہٹایا گیا، پھر ناصرف ایک جعلی حکومت کو مسلط کیا گیا بلکہ ان کو دوبارہ ملک پر مسلط کرنے کے لیے آئین توڑا گیا، انتخابات ملتوی کیے گئے، الیکشن سے پہلے ہر حربہ آزمایا گیا، قاضی فائز عیسٰی کے ذریعے ہمارا نشان چھینا گیا، ہمارے ترجیحی امیدواروں کو میدان سے ہٹوایا گیا، حتیٰ کہ الیکشن کمپین تک نہیں کرنے دی گئی- یہ سب کرنے کے باوجود جب الیکشن میں پاکستانی عوام نے ہمیں دو تہائی سے بھی زیادہ نشستوں پر کامیاب کیا تو فارم 47 کے ذریعے رزلٹ تبدیل کر کے صرف 17 سیٹیں جیتنے والی پارٹی کو ملک پر مسلط کر دیا- اور اس انتخابی فراڈ کو چھپائے رکھنے کے لیے اور تحریک انصاف کو کچلنے کی کوشش میں جمہوریت کو مکمل طور پر پاؤں تلے روند دیا گیا ہے۔
الیکشن آڈٹ کے خودمختار ادارے “پتن” کی رپورٹ اس سلسلے میں سب کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے کہ کیسے اس ملک میں جمہوریت کا نقصان کر کے دھاندلی کے 64 نئے طریقے اپنائے گئے۔ میڈیا پر بدترین قدغنیں لگا کر اور انسانی حقوق کو پامال کر کے جمہوریت کے تمام ستونوں کو برباد کر دیا گیا ہے۔ لوگوں کو ان کے نمائندگان چننے کا حق نہیں ہے۔
الغرض جمہوریت کے تمام بنیادی ستون بشمول خودمختار عدلیہ، حق آزادئ رائے، آزاد میڈیا اور انسانی حقوق ختم کر دئیے گئے ہیں۔ اس سب کے پیچھے بنیادی طور پر تحریک انصاف کو کچلنے اور الیکشن ڈاکے پر پردہ ڈالنے کی قبیح کوشش کارفرما ہے۔
1/3
سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے چیف آف آرمی سٹاف کو دوسرا کھلا خط:
”میں نے ملک و قوم کی بہتری کی خاطر نیک نیتی سے آرمی چیف (آپ) کے نام کھلا خط لکھا، تاکہ فوج اور عوام کے درمیان دن بدن بڑھتی ہوئی خلیج کو کم کیا جا سکے مگر اس کا جواب انتہائی غیر سنجیدگی اور غیر ذمہ داری سے دیا گیا۔
میں پاکستان کا سابق وزیراعظم اور ملک کی سب سے مقبول اور بڑی سیاسی جماعت کا سربراہ ہوں- میں نے اپنی ساری زندگی عالمی سطح پر ملک و قوم کا نام روشن کرنے میں گزاری ہے۔ 1970 سے اب تک میری 55 سال کی پبلک لائف اور 30 سال کی کمائی سب کے سامنے ہے- میرا جینا مرنا صرف اور صرف پاکستان میں ہے۔
مجھے صرف اور صرف اپنی فوج کے تاثر اور عوام اور فوج کے درمیان بڑھتی خلیج کے ممکنہ مضمرات کی فکر ہے، جس کی وجہ سے میں نے یہ خط لکھا۔
میں نے جن 6 نکات کی نشاندہی کی ہے ان پر اگر عوامی رائے لی جائے تو 90 فیصد عوام ان نکات کی حمایت کرے گی-
ایجینسیز کے ذریعے پری پول دھاندلی اور الیکشن کے نتائج تبدیل کر کے اردلی حکومت قائم کرنا، عدلیہ پر قبضے کے لیے پارلیمینٹ سے گن پوائنٹ پرچھبیسویں آئینی ترمیم کروانا اور پاکٹ ججز بھرتی کرنا، ظلم و جبر کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو بند کرنے کے لیے پیکا جیسے کالے قانون کا اطلاق کرنا، سیاسی عدم استحکام اور “جس کی لاٹھی اس کی بھینس” کی ریت ڈال کر ملک کی معیشت کی تباہی، ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کو مسلسل ریاستی دہشتگردی کا نشانہ بنانا اور تمام ریاستی اداروں کا اپنے فرائض چھوڑ کر سیاسی انجینئیرنگ اور سیاسی انتقام میں شامل کرنا ناصرف عوامی جذبات کو مجروح کر رہا ہے بلکہ عوام اور فوج میں خلیج کو بھی مسلسل بڑھا رہا ہے-
فوج ملک کا ایک اہم ادارہ ہے مگر اس میں بیٹھی چند کالی بھیڑیں پورے ادارے کا نقصان کر رہی ہیں۔ ایسا ہی ایک شخص اڈیالہ جیل میں بیٹھا کرنل بھی ہے جو جیل کے سٹاف کو کنٹرول کرتے ہوئے ناصرف آئین، قانون اور جیل مینول کی دھجیاں بکھیر رہا ہے بلکہ انسانی حقوق بھی پامال کر رہا ہے۔ وہ عدالتی احکامات کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہوئے ایسے عمل کرتا ہے جیسے “قابض فوج” کرتی ہے۔ پہلے اڈیالہ جیل کے فرض شناس سپرنٹنڈنٹ اکرم کو اغواء کیا گیا اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا کیونکہ وہ قانون کی پاسداری کرتا تھا اور جیل قوانین پر عمل درآمد کرتا تھا، اب بھی تمام عملے کو ڈرایا دھمکایا جا رہا ہے۔ بنیادی انسانی حقوق پامال کرتے ہوئے مجھ پر دباؤ بڑھانے کے لیے ایک کرنل کی ماتحت جیل انتظامیہ نے مجھ پر ہر ظلم کیا ہے۔ مجھے موت کی چکی میں رکھا گیا ہے۔20 دن تک مکمل لاک اپ میں رکھا گیا جہاں سورج کی روشنی تک نہیں پہنچتی تھی۔ پانچ روز تک میرے سیل کی بجلی بند رکھی گئی اور میں مکمل اندھیرے میں رہا۔ میرا ورزش کرنے والا سامان اور ٹی وی تک لے لیا گیا اور مجھ تک اخبار بھی پہنچنے نہیں دیا گیا۔جب چاہتے ہیں کتابیں تک روک لیتے ہیں۔ ان 20 دنوں کے علاوہ مجھے دوبارہ بھی 40 گھنٹے لاک اپ میں رکھا گیا۔ میرے بیٹوں سے پچھلے چھ ماہ میں صرف تین مرتبہ میری بات کروائی گئی ہے۔ اس معاملے میں بھی عدالت کا حکم نہ مانتے ہوئے مجھے بچوں سے بات کرنے نہیں دی جاتی جو میرا بنیادی اور قانونی حق ہے۔ میری جماعت کے افراد دور دراز علاقوں سے مجھ سے ملاقات کے لیے آتے ہیں مگر ان کو بھی عدالتی آرڈز کے باوجود ملاقات کی اجازت نہیں ملتی۔ پچھلے چھ ماہ میں گنتی کے چند افراد کو ہی مجھ سے ملوایا گیا ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے واضح احکامات کے باوجود میری اہلیہ سے میری ملاقات نہیں کروائی جاتی۔میری اہلیہ کو بھی قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔
گن پوائنٹ پر کروائی گئی چھبیسویں آئینی ترمیم کے ذریعے عدالتی نظام پر قبضے اور کورٹ پیکنگ کا مقصد انسانی حقوق کی پامالیوں اور انتخابی فراڈ کی پردہ پوشی اور میرے خلاف مقدمات میں من پسند فیصلوں کے لیے “پاکٹ ججز” بھرتی کرنا ہے تا کہ عدلیہ میں کوئی شفاف فیصلے دینے والا نہ ہو۔ میرے سارے کیسز کے فیصلے دباؤ کے ذریعے دلوائے جا رہے ہیں۔ مجھےغیر قانونی طور پر 4 سزائیں دلوائی گئی ہیں۔ میرے خلاف فیصلہ دینے کے لیے جج صاحبان پر اتنا دباؤ ہوتا ہے کہ ایک جج کا بلڈ پریشر 5 مرتبہ ہائی ہوا اور اسے جیل اسپتال میں داخل کروانا پڑا۔ اس جج نے میرے وکیل کو بتایا کہ مجھے اور میری اہلیہ کو سزا دینے کے لیے "اوپر" سے شدید ترین دباؤ ہے۔
1/2
“When all organs and agencies of the state that are mandated by the law to exercise power in order to safeguard life, liberty and democracy stand subjugated by brute force and are acting in aid of persecution and fraud. It is the duty of the Supreme Court of Pakistan to intervene.”
Writes the Former Prime Minister Imran Khan in his letters to the Chief Justice of Pakistan, Justice Yahya Afridi, and the head of the constitutional bench, Justice Amin Ud Din Khan, urging the Supreme Court to exercise its constitutional authority to safeguard the fundamental rights of the people of Pakistan. In his letter Imran Khan shares pictorial as well as documentary evidence of some of the ongoing murders, injuries, abductions and torture carried out against members and supporters of the Pakistan Tehreek-e-Insaf.
Below is the link to access copies of these letters sent by Imran Khan.
https://t.co/a8CncoDFIr
اس کلپ کو دیکھنا ہر پاکستانی کے لیے ضروری ہے:
“یہ انتہائی شاطر اور ظالم لوگ ہیں۔ انہوں نے اندازہ لگا لیا ہے کے ملک ڈوب رہا ہے۔ اس لئے جب تک طاقت میں رہ سکتے ہو رہو، جو لُوٹ سکتے ہو لُوٹ لو، اثاثے بناؤ، اور بے شک جو بھی رستے میں رکاوٹ آۓ تو اگر ملک کو انیسویں صدی میں بھی لے جانا پڑے تو لے جاؤ”
فیصل صدیقی ایک ذہین اور مایہ ناز وکیل ہیں. انتہائی اہم کیسز میں تحریک انصاف کی بھرپور نمائندگی کرچکے ہیں.
اس podcast میں دلائل، منطق اور مثالوں کے ساتھ انہوں نے بیان کیا ہے کے پاکستان کے آئین، نظامِ انصاف اور پاکستانیوں کے ساتھ کئے گئے کھلواڑ کے کتنے خطرناک نتائج نکلنے والے ہیں.
#PMKhanComingSoon
#NoRightsNoRemittances