"آج کا دور جنرل مشرف دور سے کہیں زیادہ برا ہے۔
جنرل مشرف دور میں ایسی لاقانونیت کبھی نہیں تھی جیسی آج ہے۔
میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ نواز شریف اتنا کرپٹ آدمی نکلے گا" -
سابق ن لیگی سینیٹر ظفر علی شاہ
حکومت کو اب اعلان کردینا چاہیے کہ ہم ڈیفالٹ کر چکے ہیں کیونکہ ڈیفالٹ کی ساری نشانیاں پوری ہو چکی ہیں۔
اگر قرضہ جی ڈی پی کا 50 فیصد ہو جائے تو یہ ڈیفالٹ کی علامت ہے جبکہ ہمارا قرضہ جی ڈی پی کا 70 فیصد ہو چکا ہے ۔ ماہر معیشت حسن ظفر
میری 15 سالہ بیٹی گزشتہ 14 دن سے لاپتا ہے، لیکن پولیس ہماری کوئی مدد نہیں کر رہی۔ SHO نعیم اعجاز نے بھی تعاون نہیں کیا۔ میں CPO کے پاس بھی گئی، مگر انہوں نے بھی یہی کہا کہ آپ SHO کے پاس جائیں۔ اس کے باوجود SHO نے ہماری کوئی مدد نہیں کی۔ آج میری بیٹی کو لاپتا ہوئے 14 دن ہو چکے ہیں، مگر پولیس اسے تلاش کرنے کے لیے ذرا سی بھی کوشش نہیں کر رہی۔ میری سب سے گزارش ہے کہ خدارا میری بیٹی کو ڈھونڈنے میں میری مدد کریں۔ — گوجرانوالہ سے ایک ماں کی فریاد
@hinaparvezbutt@MaryamNSharif@OfficialDPRPP@GovtofPunjabPK
مکمل ستلج فلم ۔🚨🚨مودی نے انڈیا یہ فلم بین کردی گی کیونکہ اس میں پنجاب کے سکھوں کے ساتھ ظلم بربریت جو ہندوں نے کیا وہی دیکھاگیا ہے ۔
فلم دیکھیں اور موج کریں فری میں آپ دیکھ رہے ہو۔
سنتا جا شرماتا جا ، مریم صفدر اور ان کی ٹیم نے معذور بچوں کو بھی چونا لگا دیا ، نارووال میں ثانیہ عاشق نے معذور بچوں کو ویل چیئرز اور اسکوٹیز دیں لیکن جیسے ہی پروگرام ختم ہوا اور بچوں نے باہر جانا چاہا تو انہیں روک لیا گیا اور کہا گیا کہ پہلے ویل چیئر اور اسکوٹی واپس کرو پھر باہر جا سکتے ہو ۔۔
حدیث تو یہ بھی ہے
"تم سے پہلے کی قومیں اسی لیے ہلاک ہو گئیں کہ جب ان میں کوئی بڑا یا معزز آدمی چوری کرتا تو وہ اسے چھوڑ دیتے ا��ر اگر کوئی کمزور یا غریب چوری کرتا تو اس پر حد (سزا) نافذ کرتے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ ��یں میری جان ہے! اگر میری بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں اس کا ہاتھ بھی کاٹ دیتا۔"
سانحہ کاہنہ میں زندہ بچ جانے والے اس بچے کو ہسپتال والوں نے سر پر ٹانکے لگا کر پٹی اس لئے نہیں باندھی اور گھر بھیج دیاکیونکہ اس کی ماں ہسپتال کے باہر سے پٹی خرید کر ڈاکٹروں کو نہیں دے سکی۔ اس بچے کا منہ چوٹوں سے سوجا ہوا ہے اور اس اس کے جسم پر زخموں پر مکھیاں بھنبھنا رہی ہیں۔ میں نے جب اس کے خاندان والوں کو کہا کہ ہم اس کا علاج کسی پرائیویٹ ہسپتال سے کروا دیتے ہیں تو انہوں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ سب انسپکٹر نے کہا ہے کہ اسے جزل ہسپتال کے علاوہ کہیں نہیں دکھا سکتے کیونکہ پولیس تحقیقات کر رہی ہے۔ حکومت پنجاب نہ تو صحافیوں کو گلیوں میں جانے دے رہی ہے اور نہ ہی کسی کو متاثرہ بچوں کے علاج کی سہولت فراہم کرنے دے رہی ہے۔ یہ وزیراعظم شہباز شریف @CMShehbaz کا حلقہ ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کو اپنے حلقے میں ہونے والے اتنے بڑھے سانحے پر خود جانا چاہئے۔ وزیراعلی پنجاب @MaryamNSharif کو محکمہ صحت اور محکمہ تعلیم کے ذمہ داران کے خلاف کروائی کرنی چاہئے
ظلم کی انتہا دیکھیئے - اپنے لیئے اربوں کے جہاز اور غریب کے بچے کے لیئے پٹی تک نہیں ہے۔ کہا جاتا ہے پنجاب میں بہت ترقی ہو رہی ہے - یہ بے شرم ��کمران انسانیت بھی ختم کر بیٹھے ہیں.
ابھی اس بہن کی سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو دیکھی جس نے ہر حساس دل کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔
تصویر میں نظر آنے والی یہ ہماری بہن شاہدہ مختیار ہیں، جو اس وقت اسپتال کے بستر پر زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہی ہیں اور شدید تکلیف میں ہیں۔
شاہدہ مختیار کے مطابق، ان کے شوہر ابراہیم نے ان پر بدترین تشدد کیا، انہیں کمرے میں بند کر کے بجلی کے جھٹکے دیے اور پھر چوتھی منزل سے نیچے دھکیل دیا۔ وہ اس وقت شدید زخمی حالت میں اسپتال میں موجود ہیں، جہاں ان کا سر پھٹا ہوا ہے، آنکھ پر گہری چوٹ ہے اور ٹانگ بھی ٹوٹ چکی ہے۔ وہ درد سے تڑپ رہی ہیں لیکن تاحال انہیں وہ طبی اور قانونی امداد نہیں مل سکی جس کی وہ حقدار ہیں۔
سب سے زیادہ تشویشناک اور دل دہلا دینے والی بات یہ ہے کہ شاہدہ کے معصوم بچے ابھی بھی اس ظالم شخص کے قبضے میں ہیں، جنہیں مبینہ طور پر ایک اسٹور روم میں بند کر کے اذیت دی جا رہی ہے۔
اس سے قبل ابراہیم کی دوسری اہلیہ ربیعہ خان اور ان کی بیٹی اقصی بھی اس ظلم کا شکار ہو کر لاپتہ ہو چکی ہیں۔
یہ وقت خاموش رہنے کا نہیں ہے۔ ایک ماں اپنے بچوں کی زندگی کی بھیک مانگ رہی ہے اور انصاف کے لیے پکار رہی ہے۔
ہم اعلیٰ حکام، وزیرِ اعلیٰ، آئی جی پولیس اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے پرزور اپیل کرتے ہیں کہ:
اس واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے۔
ظالم شوہر ابراہیم کو گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
معصوم بچوں کو فوری طور پر بازیاب کرا کر تحفظ فراہم کیا جائے۔
شاہدہ مختیار کو مفت اور بہترین طبی سہولیات دی جائیں۔
آپ سب سے گزارش ہے کہ اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ یہ آواز حکامِ بالا تک پہنچ سکے اور اس مظلوم بہن اور ان کے بچوں کو انصاف مل سکے۔
یاد رکھیں، ظلم کے خلاف آواز نہ اٹھانا ظالم کا ساتھ دینے کے برابر ہے۔
ناموس رسالت پر ہمارا سب کچھ قربان ، اگر جان جاتی ہے تو جائے ، گھر جاتا ہے جائے ، اگر حضور کی ناموس پر پوری دنیا قربان کرنی پڑے تو کر دیں گے۔
لیکن آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں حرف بھی قابل قبول نہیں۔
لعنت بھیج کر ریپوسٹ کریں۔
جیو کو بلاک کر کے بائیکاٹ میں حصہ ڈالیں۔