بریکنگ:معروف مبصر شناکا پریرا لکھتے ہیں کہ کل رات سعودی عرب نے ایران کے ہر میزائل کو فضا میں ہی تباہ کر دیا۔ ایران کے تین بیلسٹک وارہیڈز جو Prince Sultan Air Base کو نشانہ بنا رہے تھے، زمین سے ٹکرانے سے پہلے ہی مار گرائے گئے۔
کوئی نقصان نہیں ہوا۔ کوئی جانی نقصان نہیں۔ بیس مکمل طور پر فعال ہے۔
دفاعی نظام نے بالکل درست کام کیا۔
یہ ہے خبر کی سرخی۔
لیکن اس سرخی میں وہ چیز شامل نہیں جو اصل کہانی بتاتی ہ��۔
ہر Patriot PAC-3 انٹرسیپٹر کی قیمت تقریباً تین سے پانچ ملین ڈالر ہوتی ہے۔ ملٹری ایس او پیز کے مطابق ہر آنے والے خطرے کو تباہ کرنے کے لیے دو انٹرسیپٹر فائر کیے جاتے ہیں تاکہ ہدف کو مارنے کے امکانات زیادہ ہوں۔
اس طرح ایران کے تین بیلسٹک میزائلوں کو روکنے کے لیے چھ انٹرسیپٹر استعمال ہوئے۔
یعنی ایک ہی جھڑپ میں 18 سے 30 ملین ڈالر کے امریکی ساختہ فضائی دفاعی میزائل استعمال ہوئے تاکہ تین ایسے میزائل تباہ کیے جائیں جنہیں ایران غالباً اس سے کہیں کم لاگت میں تیار کرتا ہے۔
اب اس کو ضرب دیں۔
ایران 28 فروری کے بعد سے 500 سے زیادہ بیلسٹک میزائل اور 2000 سے زیادہ ڈرون داغ چکا ہے۔
سینٹکام نے5 مارچ کو ان اعداد کی تصدیق کی۔
امریکی وزیر خارجہ Marco Rubio نے کہا کہ ایران ہر ماہ 100 سے زیادہ میزائل بنا سکتا ہے جبکہ امریکہ ہر ماہ صرف 6 یا 7 انٹرسیپٹر تیار کرتا ہے۔
جون 2025 کی 12 روزہ جنگ میں THAAD کے تقریباً 150 انٹرسیپٹر صرف دو ہفتوں میں استعمال ہو گئے تھے — جو عالمی ذخیرے کا تقریباً 30 فیصد تھا۔
سعودیہ کا پرنس سلطان ائیربیس کوئی عام ہدف نہیں ہے۔
یہاں Boeing E‑3 Sentry (AWACS) طیارے اور Boeing KC‑135 Stratotanker موجود ہیں جو ایران کے خلاف فضائی جنگی مہم کے لیے فضائی کمان اور ایندھن فراہم کرنے کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔
چینی سیٹلائٹ کمپنی MizarVision نے جنگ شروع ہونے سے چند دن پہلے ایسی تصاویر جاری کی تھیں جن میں یہی طیارے اس بیس پر موجود دکھائے گئے۔
ایران کو معلوم ہے کہ ان رن ویز پر کیا موجود ہے۔
ایران تین میزائل اس امید پر نہیں چلا رہا کہ وہ پورا بیس تباہ کر دے گا۔
وہ تین میزائل اس لیے چلا رہا ہے تاکہ دفاعی نظام چھ انٹرسیپٹر خرچ کرے — ایسے انٹرسیپٹر جو اس جنگ کے دوران تیزی سے دوبارہ تیار نہیں کیے جا سکتے۔
یعنی کامیاب دفاع دراصل اسی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
یہ ایران کی ناکامی نہیں — بلکہ ایران کا طریقہ کار ہے۔
ہر وہ جھڑپ جس کا اختتام اس جملے پر ہو کہ “تمام میزائل تباہ کر دیے گئے” دراصل ایک ایسی جھڑپ ہوتی ہے جس میں دفاع کرنے والے نے حملہ آور سے زیادہ خرچ کیا۔
ہر رات جب یہ عمل دہرایا جاتا ہے تو انٹرسیپٹرز کا ذخیرہ کم ہوتا جاتا ہے۔
جو بیٹری آج فائر کرتی ہے اس کے پاس کل کے لیے کم میزائل رہ جاتے ہیں۔
اردن میں Muwaffaq Salti Air Base پر نصب AN/TPY‑2 ریڈار پہلے ہی ایک حملے میں تباہ ہو چکا ہے۔
ہر ایسے ریڈار کی قیمت تقریباً 500 ملین ڈالر ہے اور اسے بنانے میں سالوں لگتے ہیں۔
ہر ریڈار کے ختم ہونے سے فضائی دفاع میں ایسے خلا پیدا ہوتے ہیں جنہیں باقی بیٹریاں مکمل طور پر پورا نہیں کر سکتیں۔
ایران آج رات سعودی دفاع کو توڑنے کی کوشش نہیں کر رہا۔
ایران کوشش کر رہا ہے کہ اگلے مہینے تک انہیں خالی کر دے۔
فنانشل مارکیٹ کامیاب دفاع کو دیکھ کر خطرہ کم سمجھتی ہے۔
لیکن اصل نظام اس کے برعکس اشارہ دیتا ہے۔
اگر دفاعی لاگت حملہ آور کے مقابلے میں دس گنا ہو تو ہر کامیاب دفاع اس دن کو قریب لاتا ہے جب فائر کرنے کے لیے انٹرسیپٹر باقی نہیں رہیں گے۔
آج انٹرسیپشن کی شرح 100 فیصد ہے۔
لیکن اصل سوال یہ ہے کہ چار ہفتے بعد یہ شرح کیا ہوگی، جب میزائل میگزین تقریباً خالی ہو رہے ہوں گے اور نئی پیداوار مہینے میں 6 ہو گی جبکہ مخالف 100 میزائل بنا رہا ہوگا۔
سو فیصد انٹرسیپشن کوئی دیوار نہیں۔
یہ ایک الٹی گنتی ہے۔
Deeply appreciative of Greg Chappell for raising his voice for my father.
It is heartening to see global cricketing leaders call for dignity and justice while he remains in solitary confinement for nearly 1000 days, having lost approximately 85% of the vision in his right eye, and still denied proper medical care and access to his doctors and family.
Thank you Greg, and all those who have stood beside him.
https://t.co/wbq0qlyoPN