میں انتظار کر رہا ہوں کہ کب جُبہ پیر، گدی نشین، ولی، مجاور، خلیفہ، مخدوم، ملنگ اور خودساختہ مشائخ سڑکوں پر نکل کر امریکہ کے خلاف اُن کی ایمبیسی کے باہر دھرنے کا اعلان کرتے ہیں امریکی مصنوعات کا بائیکاٹ کرتے ہیں۔ کب جہاد فلسطین کا اعلان کرتے ہیں۔
ایک اکلوتے امریکا نے اگر یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرلیا ہے تو پریشان ہونے کی کیا ضرورت ہے؟ پچاس سے زیادہ مسلمان ممالک ہیں، سب یروشلم کو فلسطین کا دارالحکومت تسلیم کرلیں۔ نہیں؟
اب کوئی رضوی, کوئی قادری, کوئی حافظ سعید, کوئی نورانی, کوئی موسوی, کوئی سیالوی, کوئی خراسانی, کوئی سراجی, کوئی طالبانی, اسرائیل کے خلاف جہاد کا نعرہ مستانہ بلند نہیں کرے گا, یہ صرف مسلمانوں کے گلے کاٹنے کو جہاد سمجھتے ہیں!!!
ڈونلڈٹرمپ کامقبوضہ بیت المقدس کواسرائیل کادارلحکومت تسلیم کرناامت مسلمہ کےخلاف کھلی دشمنی ہے۔پاکستان سمیت تمام مسلم ممالک کوکھل اس کی مخالفت کرنی ہوگی اورایسااحتجاج کرناہوگاکہ ٹرمپ اپنافیصلہ واپس لینےپرمجبورہوجائیں۔
سنا ہے میاں نوازشریف کو “بادشاہ”کہنے والا، اداروں کے احترام پر لیکچر دینے والا آج پیشیاں بگھتنے پر بابر اعوان سے ناراض ہوا اور سوال کیا کہ “مجھے کیوں بلایا؟؟”😊