Asma Jatak, who was forcibly disappeared in February 2025 & was later released, said in a video earlier today that she had been receiving threats from alleged govt-backed death squads. Hours later, her father, Master Inayatullah, was killed while on his way to a mosque in Khuzdar
درندے انسان نہیں ہیں!
اسمٰیٰ جتک چند گھنٹے پہلے اپنی جان کی حفاظت مانگ رہی تھی… آج یہ منظر سامنے ہے! باپ قتل، خاندان دہشت زدہ، اور یہ خون کے پیاسے کھلے عام اسلحہ لیے گھوم رہے ہیں۔
کون سا قانون؟ کون سی ریاست؟ کون سے انسانی حقوق؟
زندگی کا حق چھین لیا گیا۔
عورتوں کا تحفظ ختم کر دیا گیا۔
انصاف کا نظام تباہ کر دیا گیا۔
لوگوں کو درندوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا۔
یہ نظام ہی قتل کا نظام ہے۔ یہ ادارے ہی خاموش تماشائی ہیں۔
#AsmaJattak #JusticeForAsma #Balochistan #HumanRights #StateTerror #StopKillingBaloch
میرا نام اسماء ہے۔ میں آج پوری قوم، حکومتِ پاکستان، حکومتِ بلوچستان، قانون نافذ کرنے والے اداروں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور میڈیا سے انصاف کی اپیل کر رہی ہوں۔
5 فروری 2024 کو میں خضدار سے اغوا ہوا۔ اس واقعے میں ظہور جمالزئی ملوث تھے۔۔۔
خضدار: پولیس لائن کے قریب اسماء جتک کے والد کا قتل، سکیورٹی پر سنگین سوالات
خضدار میں پولیس لائن سے چند قدم کے فاصلے پر اسماء جتک کے والد کو فائرنگ کرکے قتل کر دیا گیا، جبکہ واقعے سے صرف چند گھنٹے قبل جی او سی، کمشنر، ڈی آئی جی، ڈپٹی کمشنر اور دیگر اعلیٰ حکام نے اسی علاقے کا دورہ کیا تھا۔
یہ علاقہ خضدار کا حساس ریڈ زون تصور کیا جاتا ہے، جہاں سابق وزیراعلیٰ نواب ثناء اللہ زہری اور میر شفیق الرحمان مینگل کی رہائش گاہیں بھی موجود ہیں، جبکہ پولیس لائن بھی چند قدم کے فاصلے پر واقع ہے۔
اس کے باوجود ملزم یا ملزمان واردات کے بعد موقع سے فرار ہونے میں کامیاب کیسے ہوئے؟ یہ سوال شہریوں میں شدید تشویش کا باعث بن گیا ہے۔ عوام کا مطالبہ ہے کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کرکے قاتلوں کو فوری گرفتار کیا جائے اور یہ واضح کیا جائے کہ اتنے حساس علاقے میں سکیورٹی میں یہ سنگین خلا کیسے پیدا ہوا۔
*اغوا کار ظہور جمالزئی کی جانب سے مظالم کا سلسلہ جاری، اسماء جتک کی تحفظ فراہمی کے لیے قرآن پاک ہاتھ میں اٹھاے بیان کے چند گھنٹوں بعد ہی انکے والد عنایت اللہ بلوچ کو قتل کردیا گیا*
خضدار: شہزاد سٹی میں نامعلوم افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں اسماء جتک کے والد، ماسٹر عنایت اللہ جتک جاں بحق ہوگئے۔ذرائع
یاد ہو کہ فروری 2025 میں سردار ثناء اللہ زہری کے بدمعاش خاص ظہور جمالزئی نے اسماء جتک کو زور زبردستی اغواء زبردستی اسماء سے شادی کرنا چاہتا تھا ۔
عوامی دباؤ کے بعد اسماء کو چھوڑ دیا گیا۔ اسی وقت ظہور جمالزئی نے اعلانیہ طور پے کہاں تھا کہ میں اس خاندان کو زندہ نہیں چھوڑوں گا۔
آج اسماء جتک نے سوشل میڈیا پر آکر یہ بات کہی تھی کہ ہمیں قتل کیا جائیگا۔
تو اس کی والد ماسٹر عنایت جتک کو دن دہاڑے شہید کیا گیا
Master Inayat Ullah Jattak, father of Asma Jattak, has been brutally murdered in Khuzdar by Zahoor Jamalzai of a local death squad.
Asma was abducted by the same forces in 2025. Today her worst fear came true.
This is not law. This is open slaughter of Baloch families under the cover of impunity.
Arrest the killers. Protect the remaining family. End the death squads.
Justice for Inayat Ullah Jattak. Justice for Asma.
Every few decades a general steps in and says “the system has collapsed.”
Ayub 1958. Yahya 1969. Zia 1977. Musharraf 1999. Now Field Marshal Asim Munir’s ally Mohsin Naqvi is saying the exact same thing.
Same script. Same excuses. Same result.
🚨 Enforced Disappearance Alert
NAME: RIZWANA
Father: GUL JAN
Age: 16
From: Killi Teri, Mastung
1st Year Student
Abducted on: 28 June 2026 at 10:00 PM
From: Samungli Road, Quetta
By: (CTD)
A 16-year-old girl snatched in broad daylight. Demand her immediate recovery & justice!