کرنل کی بیوی کے بارے میں معلومات جو فوجی حلقوں سے مل رہی ہیں سرحد یونیورسٹی کے ڈاکٹر جدون ہیلتھ سائنسز ڈیپارٹمنٹ میں سٹوڈنٹس افئیر کے انچارج ہیں وہ سٹوڈنٹس کو فیس میں انسٹالمنٹ کی سہولت اور انٹرنشپ کے لئے ہسپتال جانے والے سٹوڈنٹس کو فری ٹرانسپورٹ سروس دیتے ہیں
کرنل کی بیوی ڈاکٹر اعینہ نے آتے ہی فیس انسٹالمنٹ اور ہسپتال کے لئے فری ٹرانسپورٹ سروس کی سہولت ختم کردی اس پر ڈاکٹر جدون نے اعت��اض کیا کروڑوں روپے کمانے والے ادارے کو ساڑھے سات لاکھ روپے سے خسارہ نہیں ہوگا لیکن سٹوڈنٹس کو بہت ریلیف ملے گا اس پر خاتون غصہ ہوئی یہ خیراتی ادارہ نہیں ہے نہ آپ کے باپ کا ہے جو اپنی مرضی سے چلاؤ ڈاکٹر جدون نے کہا تمھارے باپ کا بھی نہیں ہے اس پر خاتون نے مزید برا بھلا کہا ڈاکٹر جدون خاموش رہا پہلے اپنے بھائی کو فون کیا پھر پولیس کو فون کیا پولیس نے دونوں کو تھانے بلایا خاتون نے ہراسگی کا الزام لگایا دوستوں نے ڈاکٹر جدون کو سمجھایا کے شکایت کنندہ کی زیادہ سنی جاتی ہے تو ڈاکٹر جدون نے معافی مانگ لی اگلے دن ڈاکٹر اعینہ نے یونیورسٹی انتظامیہ پر پریشر ڈالا اس ڈاکٹر کو نوکری سے نکالو اگلے دن خبر پھیل گئی ڈاکٹر جدون کو طلبہ سے بھلائی کرنے پر استعفیٰ دینے پر مجبور کیا گیا ہے سٹوڈنٹس نے کیمپس کا گیٹ اندر سے بند کردیا اور ڈاکٹر صاحب کی بحالی کا مطالبہ کرنے لگے اس دوران محترمہ تشریف لائیں اور غصہ کرنے لگی لیکن طلبہ نہ مانے پھر خاتون نے کرنل صاحب کو بلایا اور یہ واقعہ رونما ہوا
عادل راجہ
ویڈیو میں کرنل کی گرل فرینڈ فرعون بنی ہوئی ہے!
پرامن سٹوڈنٹس کو ٹینگہ دکھا رہی ہے!!
کرنل کی گرل نے, بڈھے کرنل کو ایسا پھنسایا,
کہ آئندہ کوئی فوجی گرل فرینڈ کے سامنے تیس مار خان بننے سے پہلے ہزار بار سوچیں گے!!
اہم پیغام 🚨🚨
پشتو ترجمہ
ہمیں معلوم ہے، ہمارے پاس ویڈیو ثبوت موجود ہیں کہ کوہاٹی گیٹ بنوں سے گاڑیوں میں دہشت گردوں کو لا کر دوبارہ علاقوں میں آباد کیا جا رہا ہے۔ ہمیں ثبوت عام کرنے پر مجبور نہ کیا جائے کہ دنیا دیکھے کہ فوج دہشت گردوں کی آباد کاری کر رہی ہے۔
بنوں پولیس
سرحد یونیورسٹی واقعے پر انصاف کے تمام تقاضوں کی دھجیاں اڑا دی گئی ہیں۔ جہاں کرنل اسفندیار کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے تھی، وہاں الٹا کرنل کی اہلیہ کی مدعیت میں نامور پروفیسر جدون اور 25 سے زائد معصوم طلباء و طالبات پر ہی جھوٹا مقدمہ درج کر دیا گیا ہے۔
اسلام آباد پولیس یونیورسٹی انتظ��میہ اور طلباء کو لائحہ عمل بتاتے ہوئے یہ لالی پاپ دیتی رہی کہ "فوج کا قانون سخت ہے اور کرنل کے خلاف کارروائی کی جائے گی"، لیکن آج حقیقت سب کے سامنے ہے۔ انصاف فراہم کرنے کے بجائے انہی طلباء کے روشن مستقبل کو داؤ پر لگایا جا رہا ہے جو ظلم کے خلاف آواز اٹھا رہے تھے۔
یہ سراسر ناانصافی، ریاستی جبر اور ظلم کی انتہا ہے۔ کیا اس ملک میں بااثر افراد کا قانون الگ اور عام شہریوں کا الگ ہے؟ ہم اس انتقامی کارروائی کی پرزور مذمت کرتے ہیں اور پرچے کے فوری خاتمے کا مطالبہ کرتے ہیں...
نواب اکبر بگٹی شہید نے سوئی گیس پلانٹ میں کام کرنے والی لیڈی ڈاکٹر شازیہ خالد کے لیے اسٹینڈ لیا تھا جن کے ساتھ ایک فوجی افسر کیپٹن حماد نے جنوری 2005 میں جنسی زیادتی کی، جنرل مشرف نے اپنے افسر کو بچانے کے لیے بگٹی صاحب کو شہید اور بلوچستان کو مستقل آگ میں دھکیل دیا تھا۔
اگر یہ کسی طاقتور شخص کی بہن بیٹی یا بیوی ہوتی تو اب تک میڈیا اور لفافے Woman کارڈ کھیل کر قومی سوگ کا اعلان کرتے
افسوس یہ ایک غریب بلوچ خاتون ہے جس کو سر عام سڑک پر ننگا کر کے گھسیٹ بھی دیں تو کیا فرق پڑتا ہے ان کی کیا اوقات 💔
“بنوں پولیس اور فوج کے درمیان ایک خونریز تصادم ہونے جا رہا ہے۔
پولیس کا الزام ہے کہ ہمارے پاس ویڈیو ثبوت ہے کہ فوج کالے شیشوں کے گاڑیوں میں دہشتگردوں کو بھر بھر کر کینٹ لا رہے ہیں۔ تمام پولیس اہلکاروں نے ڈیوٹی چھوڑ دی۔ احتجاج جاری۔”
یہ کیا خبر ہے ؟ اس میں کتنی صداقت ہے؟؟
ہری پور کی آیت نور کا والد محمد شفیق انصاف مانگ رہا ہے کتنے دکھ اور کرب سے کہہ رہا ہے کہ میری معصوم بچی کا کیا قصور تھا میری کسی سے کیا دشمنی تھی مجھے انصاف چاہیے۔
ہم سب نے مل کر اس مظلوم باپ ، اس 5 سالہ معصوم بچی آیت نور کیلئے آواز اٹھانی ہے ۔ اور اس وقت تک اٹھانی ہے جب تک انصاف نہیں ہوجاتا ۔ اس وقت نہیں رکنا ہے ۔ ہم اتنا تو کرسکتے ہیں
#JusticeForAyatNoor
ایک صوبیدار کی کرنل کے سامنے کیا اوقات ہے
میں ایک کرنل کی بیوی ہوں ۔
یہ وہی مائنڈ سیٹ ہے جس میں آج پھر ایک کرنل کی بیوی نے اپنے شوہر کی وردی کی طاقت کا ناجائز استعمال کرنے کے لیے بلایا ۔
First, Sayed Muzzamil Shah, at the peak of his chawalism, was laughing and saying that Imran Khan wouldn’t stay in jail for even three days.
But after Imran Khan has spent more than three years in jail and 10 months in complete isolation this chawal has now come up with another video, crying because Mr. Khan isn’t making a deal with the establishment.
At this point, all that’s left for him is humiliation. 😂😂
ملٹری اسٹیبلشمنٹ گھریلو خواتین کو حراساں کرے ان پر مظالم کرے تو کوئی بات نہیں انکے مردوں کو احتجاج کا بھی حق نہیں مگر کرنل صاحب کی اہلیہ کو استثنیٰ حاصل ہے اور کرنل صاحب کا غیرت میں آ کر مشتعل ہو جانا عین فطری ہے۔کمال کی لاجک
ایک فوجی افسر اگر دارالحکومت کی یونیورسٹی میں گھس کر سرِ عام گولی چلا رہا ہے، تو سوچو، یہ ذہنی مریض بلوچستان میں کیا کرتے ہوں گے۔۔۔ علاوالدین
#pakistan@Aladeen_Pro
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں