بدقسمتی سے پاکستان آزاد نہیں ہے بلکہ کرائے پرچل رہاہے، اس کاخرچہ، امریکہ، آئی ایم ایف، ورلڈبینک اورمغربی ممالک کی امداداورقرضوں پر چل رہاہے، ملک چلانے کےلئے ایک پیسہ اعلانیہ دیاجاتاہے اور دوسرا غیراعلانیہ اورانڈر ٹیبل دیا جاتا ہے۔ عالمی سامراجی قوتیں جس طرح پہلے طاقتور اور بااثرتھیں،آج بھی ویسے ہی ہیں، وہ اپنے مفادات کے حصول کے لئے اپنے ممالک کے عوام کارخ جس طرح چاہیں موڑدیتے ہیں اور ہم ان سازشوں کا شکارہوجاتے ہیں جیسے ہندوستان کی تقسیم کے وقت ہندوستان کے عوام ان سازشوں کاشکارہوگئے۔
قائداعظم محمد علی جناح کوانگریزوں نے جھوٹ اورمکروفریب کے ذریعے اپنے جال میں پھنسایا اورپھر اپنے طے شدہ منصوبے کے تحت ہندوستان میں ایسے حالات پیدا کردیے کہ ہندو اورمسلم تقسیم کی جاسکے۔ اس تقسیم کیلئے انہیں ہندوستان میں فسادات اورخون خرابےکی ضرورت تھی توپھرحالات کو قابو میں رکھنے کیلئےصلح جوئی اوربات چیت کی کوئی ضرورت ہی نہیں تھی۔
ہندوستان کی تقسیم کی سازش کی تکمیل کیلئے ایک طرف دوقومی نظریہ پیش کیاگیا کہ ہندواورمسلمان الگ الگ ہیں، اب ایک ساتھ نہیں رہ سکتے۔اسی سازش کے تحت ہندوستان میں ہندو مسلم فسادات کرائے گئے اورلوگوں کے مذہبی جذبات بھڑکانے کیلئے مسجد کے دروازے کے آگے سور اورمندرکے دروازے کے آگے گائے کاٹ کرڈال دی جاتی تاکہ مسلمانوں اورہندوؤں کے مذہبی جذبات کو بھڑکاکر انہیں مشتعل کیاجاسکے حالانکہ یہ عمل نہ مسلمان کیاکرتے تھے اورنہ ہی ہندو کیاکرتےتھے۔ قائداعظم کو فسادات اورکشت وخون کی تصاویر اور خبریں دکھائی جاتی تھیں جنہیں دیکھ کر قائداعظم محمد علی جناح انگریزوں کے اس مؤقف پر قائل ہوگئےکہ ہندو اور مسلم اب ایک ساتھ نہیں رہ سکتے لہٰذا ہندوستان کی تقسیم ناگزیر ہے۔
انگریزوں کو ہندوستان میں ایک ایسے خطے کی ضرورت تھی جو انگریزوں کے ہندوستان سے چلے جانے کے بعد بھی سلطنت برطانیہ کے مفادات کیلئے کام کرتارہے اور وہاں انگریزوں کے وفاداروں کاکنٹرول ہو۔
1914ء میں پہلی جنگ عظیم،1919ء میں سانحہ جلیانوالہ باغ اور1939ء میں دوسری جنگ عظیم میں موجودہ پاکستان کے صوبہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کے لوگ برطانوی فوج میں شامل تھے اورسلطنت برطانیہ کے وفاداروں میں سرفہرست تھے، انگریزوں نے تقسیم ہند کاٹھیکہ انہی فوجیوں کو دیاتھاجبکہ قائداعظم کو انگریزوں نے محض ڈھال بناکررکھاتاکہ دنیاکو دکھایا جاسکےکہ قائداعظم مسلمانوں کےرہنما ہیں۔ہندوستان کی تقسیم انگریزوں کے سازشی منصوبے کاحصہ تھا، انگریزوں نے ہی ہندوستان میں ہندواورمسلم کی تفریق پیدا کی اورانگریزوں نے ہی 1885ء میں آل انڈین نیشنل کانگریس اور1906ء میں آل انڈیا مسلم لیگ بنوائی تھی جس کااحساس آل انڈین نیشنل کانگریس کے رہنماؤں کو نہیں تھا جبکہ مسلم لیگ کے رہنماؤں کو ہندوستان کی تقسیم کی سازش سے کوئی غرض نہیں تھی اوروہ انگریزوں سے وفاداری کاحلف اٹھاچکے تھے۔
متحدہ ہندوستان کے سب سے بڑے مبلغ کرم چند گاندھی ہندوستان کی تقسیم کے سخت خلاف تھے،انہوں نے ہندوستان کو متحد رکھنے کیلئے اپنی پوری زندگی وقف کردی تھی اور ہندوستان کی تقسیم کیلئے انگریزوں کی کسی بھی دلیل کو ماننے کیلئےتیارنہیں تھے لہٰذا انگریز انہیں اپنی سازشوں کا شکارنہیں بناسکے۔ جب ہندوستان میں ہندومسلم فسادات اپنے عروج پر پہنچے تو ان فسادات کورکوانے کیلئےکرم چند گاندھی نے تادم مرگ بھوک ہڑتال کی اورمطالبہ کیا کہ ہندو مسلم فسادات بند کیے جائیں۔کرم چند گاندھی کی یہ سوچ دیکھ کرہی انگریزوں نے آل انڈین نیشنل کانگریس کی تشکیل کی اور اس کے پہلے بانی ایک انگریز ریٹائرڈ سول سرونٹ Allan Octavian تھے۔ کانگریس کے رہنماء یہ راز نہیں سمجھ سکے کہ آخر ایک برطانوی سول سرونٹ Allan Octavian کو کیاضرورت تھی کہ وہ ہندوستان کی آزادی کے لئے کوئی جماعت تشکیل دیں اورانگریزوں کے خلاف آزادی کی تحریک چلائیں۔انگریزوں نے ہندوستان کی تقسیم کے منصوبے کے تحت ایک طرف قائداعظم محمدعلی جناح کو مسلمانوں کولیڈر اور دوسری طرف جواہر لال نہرو کو ہندوؤں کارہنمابنایا۔انگریزوں کے منصوبے کے تحت ہندوستان تقسیم ہوگیا اور قائداعظم محمد علی جناح پاکستان کے پہلے گورنر جنرل کے منصب پر فائز ہوئے۔لیکن قائداعظم محمدعلی جناح کو آزادی کے فوری بعد اندازہ ہوگیاتھا کہ تقسیم کے پیچھے اصل مقاصد کیاہیں۔ وہ ایک جمہوریت پسند تھے اورپاکستان کوایک حقیقی معنوں میں جمہوری ممالک بناناچاہتے تھے جہاں رہنے والے تمام شہریوں کومساوی حقوق میسرہوں اورفوج اور تمام ادارے اپنااپناکام کریں۔ 14جون 1948ء کوگورنرجنرل کی حیثیت سے کوئٹہ اسٹاف کالج میں فوج کے افسران سے خطاب کے دوران قائداعظم محمدعلی جناح نے واضح اوردوٹوک الفاظ میں کہاکہ ”فوج کاکام صرف سرحدوں کادفاع کرناہے، حکومتی معاملات سے فوج کاکوئی لینادینا نہیں ہے“
فیلڈ مارشل عاصم منیر صاحب کراچی کا دورہ کریں اور میر رضا علی شہید کے درندہ صفت قاتلوں کی گرفتاری کے احکامات جاری کریں
#JusticeForMirRaza#MirRaza#JusticeForMirRazaAli
میں مسلح افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر صاحب سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ کراچی کے نوجوان میر رضا علی شہید کے سفاکانہ قتل کانوٹس لیتے ہوئے درندہ صفت قاتلوں کی گرفتاری کے احکامات جاری کریں اور قاتلوں کو گرفتارکروائیں۔کسی ماں کے بیٹے کوسفاکی سے قتل کرکے اس کی گود اجاڑنااورکسی باپ کا سہارا چھیننا ایک گھناؤنا اور وحشیانہ عمل ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔
میں فیلڈمارشل عاصم منیرصاحب سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ میررضا شہید جن کے خاندان کے گھرکا چراغ گل کردیا گیا، اس کے گھر کا دورہ کرکے اہل خانہ سے خود اس وحشیانہ قتل کے بارے میں تمام معلومات لیں، ان کا غم بانٹیں اوراگر آپ اپنی انتہائی مصروفیات کے سبب وہاں نہ جاسکیں تو اپنے کسی معتمد اور بااثر شخصیت کووہاں بھیجئے جو آپ کی نمائندگی کرتے ہوئے میر رضا علی شہید کے اہل خانہ سے تعزیت کرے، ان سے واقعے کی تفصیل معلوم کرے اورقاتلوں کی گرفتاری کے لئے حکومت اورانتظامیہ کے حکام کو ہدایات جاری کرے۔میررضا علی شہید کے اہل خانہ کوپولیس کی جانب سے فراہم کی جانے والی سیکوریٹی واپس لینا اور انہیں ہراساں کرنا بھی شرمناک ہے، انہیں فی الفور سیکوریٹی فراہم کی جائے۔
حکومت سندھ اور پولیس کی جانب سے میر رضا شہید کے بہیمانہ قتل کی تحقیقات کارخ موڑنے اوراس بہیمانہ قتل کوخودکشی ثابت کرنے کی کوششیں بھی قابل مذمت ہیں۔ قتل کی پہلی ایم ایل او رپورٹ میں ہی بغیرمعائنہ کئے سفاکانہ قتل کوخودکشی قراردیا گیا، پولیس افسران کی جانب سے بھی یہی کہا جاتا رہا کہ یہ قتل نہیں بلکہ خودکشی ہے۔ اب بھی قاتلوں کوگرفتارکرنے کے بجائے عوام کوبیوقوف بنانے کے لئے طرح طرح کے ڈرامے کئے جارہے ہیں۔ میں پھریہ کہتاہوں کہ اس کھلے قتل کو خودکشی قرار دینے اورجھوٹی ایم ایل او رپورٹ بنانے والے کوپکڑا جائے تو قاتل خودپکڑے جائیں گے، یا پھرمجھے اختیارات دیدیں، ہم قاتل پکڑ کر دکھادیں گے۔
میں میررضاعلی شہید کے بہیمانہ قتل کے خلاف پرامن احتجاج کرنے والے Gen Zکودل کی گہرائیوں سے زبردست شاباش اورخراج تحسین پیش کرتا ہوں جومیررضا شہید کو انصاف دلانے اورقاتلوں کی گرفتاری کے لئے مستقل مظاہرے کررہے ہیں۔ میں جین زی سے یہ اپیل کرتا ہوں کہ اگر حکومت میر رضا شہید کے اہل خانہ کو سیکوریٹی فراہم نہیں کرے تووہ میر رضاشہید کے اہل خانہ کی حفاظت کے لئے سیکوریٹی کے فرائض انجام دینے کے لئے اپنے آپ کو پیش کریں۔میں تمام شہریوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ بھی میررضاشہید کے اہل خانہ کوانصاف دلانے کے لئے جوکرسکتے ہیں وہ ضرورکریں اوران کے ساتھ بھرپوریکجہتی کامظاہرہ کریں تاکہ کسی اوربے گناہ بچے کے ساتھ ایسا سفاکانہ عمل نہ ہوسکے۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 454 ویں فکری نشست سے خطاب
23 اگست 2026ء
22 اگست یوم عزم وفا ہے۔ وہ کارکنان جو 22 اگست 2016 کے بعد سے آج تک الطاف حسین کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں ان باوفا کارکنوں کی قربانیوں کی بدولت ایم کیو ایم آج بھی زندہ ہے، ایسے باوفا کارکنوں کو سلام
#یوم_عزم_وفا_22_اگست
2/2
دنیا میں کسی بھی ملک کی ترقی وخوشحالی اورگڈ گورننس کا دارومدار وہاں کے تعلیمی نظام پر ہوتا ہے، ہمارا تعلیمی نظام خراب کیوں ہے؟ پاکستان میں جتنا بجٹ ہم اپنی فوج پر لگاتے ہیں اگر اس بجٹ کو کم کرکے آدھا بجٹ تعلیم کے شعبے پرلگادیں، ملک بھر میں اسکولوں کاجال بچھادیں، تعلیم کا حصول ہربچے کیلئےلازم کردیں تو محض پانچ سال میں ملک میں تبدیلی کے اثرات رونما ہونا شروع ہوجائیں گے۔یہ صرف ایک قوم کامسئلہ نہیں ہے، ہمیں اپنی قوم کیلئے کام کرنےکے ساتھ ساتھ ملک کی دیگرقوموں کی بہتری کیلئے بھی کام کرنا چاہیے، اگرہمیں ملک کیلئے کام کرنے کا موقع دیا جائے تو ہم خلوص نیت سے کام کرکے ملک کی قسمت بدل سکتے ہیں، انصاف ومساوات کے اصول پر کام کرتے ہوئے پاکستان میں قومی یکجہتی اور بھائی چارہ قائم کرسکتے ہیں اور ایسا نظام حکومت ترتیب دے سکتے ہیں کہ کسی سرائیکی، پختون،بلوچ اوردیگر قوموں کو تکلیف نہ ہو، سب کو ان کے جائز حقوق میسر ہوں اورسب امن وسکون سے زندگی بسر کرسکیں۔
میری جدوجہد اپنی ذات یااپنے خاندان کے مفاد کے لئے نہیں بلکہ عوام کے اجتماعی حقوق کے حصول اور ملک کے نظام کی تبدیلی کے لئے ہے۔میری جدوجہد اقتدار کیلئے نہیں بلکہ فرسودہ نظام کی تبدیلی کیلئے ہے،میں سمجھتا ہوں کہ جب تک پاکستان سے فرسودہ جاگیردارانہ نظام ختم نہیں کیاجائے گا، جب تک ملک کانظام تبدیل نہیں کیاجائے گا، پاکستان ترقی نہیں کرے گا۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر فکری نشست نمبر449 سے خطاب
15،اگست2026ء
https://t.co/DsiscWXo5I
کراچی کے نوجوان، وفا پرست اور تمام عوام میر رضا کو انصاف دلانے کے لئے احتجاجی مظاہروں میں بھرپور شرکت کریں اور میر رضا شہید کے خاندان سے اظہار یکجہتی کریں۔
#JusticeForMirRazaAli#MirRaza
نظام تبدیل کئے بغیرملک بہتر نہیں ہوسکتا۔ الطاف حسین
پاکستان کوبنے ہوئے79 سال ہوچکے ہیں، ہمیں اس بات پر سنجیدگی سے غورکرنا چاہیےکہ ان 79 سالوں میں پاکستان اپنے پیروں پرکیوں کھڑانہیں ہوسکا۔ پاکستان کے وزیراعظم،فیلڈمارشل،وزیرخارجہ، وزیر خزانہ اوردیگروزراء مالی امداداور قرضوں کےلئے اکثر خلیجی ممالک سمیت دنیا کے مختلف ممالک کےدورے کرتے ہیں،آئی ایم ایف، ورلڈبینک اوردیگر مالیاتی اداروں کے پاس جاتے ہیں، خبریں آتی ہیں کہ پاکستان کاقومی خزانہ خالی ہے،اگرامداد یاقرضہ نہ ملاتوملک ڈیفالٹ کرجائےگا۔پاکستان اور انڈیاایک ساتھ ہی آزادہوئے لیکن اگرہم پاکستان اورانڈیا کا موازنہ کریں توہم دیکھتےہیں کہ معیشت، ٹیکنالوجی، سوفٹ ویئر انجینئرنگ،میڈیکل اوراقتصادی لحاظ سے انڈیاآگے نظرآتاہے،ہمیں سوچناچاہیے کہ ایساکیوں ہے؟ہمارے صدر،وزیراعظم یاوزراء جن ممالک کےدورے کرتے ہیں، وہاں کےحکمرانوں کاان کےساتھ کیارویہ ہوتاہے اورانڈین رہنماؤں کے ساتھ رویہ کیاہوتاہے۔ اوورسیزمیں رہنے والے پاکستانی خوداپنے مشاہدوں کے ذریعے بتاتےہیں کہ خلیجی ممالک ہوں، امریکہ، کینیڈااوردیگریورپی ممالک میں تمام بڑی کمپنیوں میں زیادہ ترانڈین نظرآتے ہیں جبکہ خلیجی ممالک اوردیگرممالک میں زیادہ ترپاکستانی ٹیکسیاں چلاتے ہیں۔آخر ایساکیوں ہے؟ہم ایجوکیشن، ٹیکنالوجی اورصنعتی ومعاشی میدان میں پیچھےکیوں رہ گئے؟اگرہم اپنے مرض کی تشخیص نہیں کریں گے تواس کاعلاج کیسےکریں گے؟اگرہم دشمن دشمن کاکھیل کھیلنے کے بجائے پڑوسیوں سے بہترتعلقات قائم کرتے اور تعلیم،صنعت، معیشت اورٹیکنالوجی پر توجہ دیتے جس کاعوام کافائدہ ہوتا تو کیابہترنہ ہوتا؟ہمیں ان وجوہات اوراسباب کوتلاش کرناہوگا،آخر پاکستان کب تک امریکہ،آئی ایم ایف اورورلڈ بینک کی امداد اورقرضوں پر چلتا رہےگا؟
انڈیانے آزادی کے فوری بعداپنے ہاں جاگیردارانہ، زمیندارانہ اورنوابی نظام ختم کردیا، سب کی جاگیریں چھین کر سرکارکی تحویل میں لےلیں جبکہ پاکستان میں آج تک فرسودہ جاگیردارانہ نظام رائج ہے، وڈیروں، جاگیرداروں اور سرداروں کے چند خاندانوں کے پاس ہزاروں لاکھوں ایکڑزمینیں ہیں جو نسل درنسل ملک پر حکمرانی کررہے ہیں۔
انڈیامیں آج تک مارشل لانہیں لگا جبکہ پاکستان میں آدھاعرصہ مارشل لاء نافذ رہا۔قیام پاکستان کے فوری بعد بانی پاکستان قائداعظم محمدعلی جناح کو قتل کردیاگیا، پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کوقتل کردیاگیا، قائداعظم کی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناح کوقتل کردیا گیا۔ 1947ء سے 1958ء تک 9 وزرائے اعظم تبدیل ہوئے،ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ پاکستان کے ساتھ یہ مذاق کیوں ہوتارہا؟پاکستان میں کبھی جمہوری وسیاسی استحکام کیوں نہیں آیا؟ ملک میں چارمارشل لاء کیوں نافذ ہوئے؟
ہم کہتے ہیں کہ ہمارے دشمن انڈیانے 1971ء میں پاکستان کوتوڑدیا، کیاہمارا ملک پلاسٹک کاتھاکہ دشمن کی کسی دھمکی یاکسی عمل سے ٹوٹ گیا؟ اگرہم اپنی غلطیوں کوتسلیم نہیں کریں گے تو بہتری کس طرح ہوسکتی ہے؟ اگرہم نے مشرقی پاکستان سے سبق حاصل کیا ہوتا توآج بلوچستان کی یہ صورتحال نہ ہوتی، خیبر پختونخوا میں یہ حالات نہ ہوتے اورآزادکشمیر کے عوام فوج کے مخالف نہ بنتے۔ ہم کشمیرکی صورتحال کاالزام بھی انڈیاپرلگاتے ہیں، سوال یہ ہے کہ انڈین کشمیرایک متنازعہ علاقہ تھالیکن جب انڈیانے 2019ء میں اپنے آئین کے آرٹیکل 370کوختم کرکے انڈین کشمیر کو اپنے ساتھ ملایاتو ہم نے فوجی طاقت کے ذریعے اسے انڈیاکے قبضہ سے آزاد کیوں نہیں کرالیا؟ اگرہم صرف دشمن کو گالیاں دیتے رہیں گے اورحقائق تسلیم نہیں کریں گے تواس سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔
پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہے تو پھر ہم زندگی کے ہرشعبے میں انڈیاسے پیچھے کیوں رہ گئے؟ پاکستان میں امن وسلامتی کی صورتحال بہترکیوں نہیں ہے؟ ملک بھرمیں بچیوں کی زندگی اور عزت محفوظ کیوں نہیں ہے؟ پورے ملک کا کوئی کونا ایسا نہیں ہےجہاں بچیوں کو سفاکانہ سلوک کا نشانہ نہیں بنایاجاتا ہو، ملک میں خواتین کو حقوق سےمحروم رکھاگیا ہے،نجانےیہ کیوں سمجھ لیاگیا ہےکہ خواتین صرف روٹی پکانے،بچے پیدا، بچوں کو پرورش کرنےکیلئے ہے اور خواتین پیر کی جوتی ہے۔ہمیں اس قسم کے فرسودہ تصورات سے نکلنا ہوگا تبھی ہم ایک اچھے معاشرے کے قیام کیلئے بہتر سے بہتر کوشش کرسکتے ہیں۔
ملک کے دیگر شہروں کے مقابلے میں کراچی میں امن عامہ کی صورتحال بہت خراب ہے،شہریوں کی جان ومال اور عزت وآبروعدم تحفظ کا شکار ہے، تہذیب یافتہ جمہوری ممالک میں ”مقامی پولیس“ کا اصول ہے یعنی کسی تھانے کی حدود میں جو علاقہ آتا ہے وہاں کےلوگوں کو پولیس میں بھرتی کیاجائے کیونکہ وہ اپنے علاقے کی گلیوں اور لوگوں کےمزاج سے واقف ہوتے ہیں اور انہیں بخوبی علم ہوتا ہے کہ کون کون سے علاقوں میں امن وامان کے مسائل ہیں۔یہ قابل غورسوال ہے کہ پاکستان میں امن وامان کی صورتحال کیوں بہتر نہیں ہوسکی؟ 1/2
📌پیپلزپارٹی کے وڈیروں نے شہید میررضا کے قاتلوں کوبیرون ملک فرارکرادیا ہے۔ بانی و قائد تحریک جناب الطاف حسین
13 اگست 2026
#JusticeForMirRazaAli#MirRaza
📌تیس سال پہلے جب یہ سفاکیت ہوئی تو بھی بھٹو زندہ تھا اور آج بھی بھٹو زندہ ہے سو نہ اُس وقت انصاف ملا اور نہ ہی آج انصاف ملے گا۔!!
🟥🟩⬜
@AltafHussain_90@OfficialMQM
2/2
میرے ہزاروں پیارے پیارے معصوم وبے گناہ ساتھی پولیس مقابلوں کے نام پر ماورائے عدالت قتل کردیے گئے، کیاان میں سے کسی ایک کی ماں، باپ، بھائی بہنوں، بیوی بچوں کو انصاف ملا؟ آج بھی میرے ساتھیوں کوگرفتار کرکے لاپتہ کیا جارہا ہے،نثارپنہور اوران کے بیٹے محسن پہنور گزشتہ دس ماہ سے لاپتہ ہیں، فیصل مجیب کئی ماہ سے لاپتہ ہیں، کراچی اورحیدرآباد کے کئی ساتھی لاپتہ ہیں، ان کی ماؤں، بہنوں،بزرگوں، بیوی بچوں پر کیاگزررہی ہے، ان کے گھروں میں رونا پیٹنا ہے، کیا وہ کوئی جشن مناسکتے ہیں؟
آپریشن کے دوران میرے بڑے بھائی ناصر حسین، بھتیجے عارف حسین کوگرفتار کرکے سفاکی سے قتل کردیا گیا، میرے بہنوئی اسلم ابراہانی کوگرفتارکرکے اڈیالہ جیل میں قید کرکے کئی ماہ تک تشدد کیا گیا جس کے نتیجے میں وہ بھی شہید ہوگئے،میں اپنے بھائی،بھتیجے اوربہنوئی کے قتل کاحساب کس سے مانگوں؟ میں اپنے ہزاروں ساتھیوں کے ماورائے عدالت قتل کاحساب کہاں مانگوں؟
کراچی کے ہونہار نوجوان میررضاعلی کوانتہائی بیدردی اورسفاکی سے قتل کردیاگیا،اس کے قاتل نہیں پکڑے گئے، اس کے گھروالوں کو انصاف نہیں دیاگیا، وہ آج کس طرح جشن منائیں؟
آج کشمیرکا چپہ چپہ لہو لہوہے، کشمیرکا کونساعلاقہ ہے جہاں سے اپنے حقوق کے لئے آوازاٹھانے والےکشمیریوں کے جنازے نہ اٹھائے گئے ہوں، آج بھی وہاں کشمیریوں کے ساتھ زیادتیاں کی جارہی ہیں، یہ کیسی آزاد ی ہے؟
ہمارے بزرگوں نے پاکستان بنایا، ہم نے 1991ء میں پاکستان کے جشن آزادی کے موقع پر تین روزہ قومی میلہ منعقد کیا اورایساتاریخی جشن چراغاں کیا تھا کہ شہرکا کوئی علاقہ ایسا نہ تھاجوروشن نہ ہو،جہاں چراغاں نہ ہو لیکن ہمیں اس کاانعام اس طرح دیا گیا کہ ایک سال کے بعد ایم کیوایم کے خلاف فوجی آپریشن شروع کردیا گیا اورہم پر ملک دشمنی کا بہتان لگایا گیا، ہمیں غدارقراردیا گیا۔ ہم غدار نہیں اس ظالمانہ نظام کے باغی ہیں، ہم اپنے حقوق کے حصول کے لئے جدوجہد کررہے ہیں، ہم نہ بھی رہے تو ہماری نسلیں یہ جدوجہد جاری رکھیں گی جب تک وہ اپنے حقوق اورحقیقی آزادی حاصل نہیں کرلیتیں۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 448 ویں فکری نشست سے خطاب
14 اگست 2026ء
(مکمل فکری نشست سنئیے 👇)
https://t.co/1DKz8phpyS
آج نرسری میں مظاہرہ ہوگا
کراچی کےنوجوان ،Gen Z بالخصوص @OfficialMQM کے وفاپرست کارکنان مقتول تاجرمیر رضا شہید کو انصاف دلانے کےلئے شہر میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں بھرپور شرکت کریں
@AltafHussain_90
بانی وقائد جناب الطاف حسین کا
فکری نشست نمبر 448 سے خطاب
14 اگست 2026
یہ کیسی آزادی ہے؟
#JusticeForAmirRazaAli
اگرکوئی ملک اپنےآپ کوآزاداورخودمختار کہتا ہولیکن اس ملک کے جغرافیہ میں رہنےوالےشہری غلام ہوں،خواہ وہ اکثریت میں ہوں یااقلیت میں ہوں، اس ملک میں غلامی کا ہونا آزادی کی نفی کہلاتا ہے۔
پاکستان 14اگست 1947ء کوقائم ہوا لیکن حقیقت یہ ہےکہ 14 اگست 1947ء کوگورے انگریزوں سے آزادی کے بعد پاکستان کے عوام کالے انگریزوں کے غلام بن گئے تو پاکستانیوں کوآزادی کہاں ملی؟
جس ملک میں انصاف کے ایوانوں پر خاموشی کا تالہ لگا ہو، وہاں عدالتیں تو موجودہوں لیکن وہ حق اورسچ کی بنیاد پر فیصلہ دینے سے قاصر ہوں، آپ اپنے اوپرہونے والی ناانصافیوں اورزیادتیوں کے خلاف عدالتوں سے رجوع کریں تو وہ آپ کوانصاف نہ دیں بلکہ آپ کی فریاد کو اٹھا کرباہرپھینک دیں، توآپ انصاف کے لئے کہاں جائیں؟ پھرایسی عدالتوں کی کیاضرورت باقی رہتی ہے؟
1992ء میں MQM کے خلاف فوجی آپریشن شروع ہوا، ہم نے ریاستی مظالم اور مہاجروں کے ساتھ کی جانے والی انصافیوں اورحق تلفیوں کے خلاف 1994ء میں ممتازماہرقانون بیرسٹر ڈاکٹر فاروق حسن کےذریعے سپریم کورٹ میں ایک تفصیلی پٹیشن دائر کی، آج 34سال ہوگئے لیکن آج تک اس پٹیشن کی سماعت نہیں ہوئی۔
پی ٹی آئی کے سربراہ اورسابق وزیراعظم عمران خان صاحب اوران کے رہنماء تین سالوں سے جیلوں میں قید ہیں، ان کے پاس وکلاء کی پوری بارات ہے جنہوں نے ہائیکورٹ اورسپریم کورٹ کے دروازے کھٹکھٹائے کہ عمران خان کی بہنوں اور وکلاء کوان سے ملاقات کی اجازت دی جائے لیکن وہ آج تک انصاف حاصل کرنے سے قاصرہیں۔
جب انصاف کے ایوانوں میں قفل لگے ہوں، جہاں عدالتوں کے ججز بھی طاقتوروں کے ہاتھوں قید اور دباؤ میں ہوں، عوام کے سوچنے، بولنے اور ضمیر پر بھی پابندیاں ہوں، کیاایسے ملک کوآزاد اور خودمختار کہا جاسکتاہے؟ کیا آزاد وطن کی یہ علامات ہوتی ہیں؟ یہ کیسی آزاد ی ہے؟ آخرایسی صورت میں کس آزادی کاجشن منائیں؟
کہا جاتا ہے کہ14 اگست کوپاکستان آزاد ہوا،یہ کلینڈر میں موجود صرف ایک تاریخ ہے،اس کے بعد سب مٹاہواہے۔ جو حقیقی اورسچی آزادی ہوتی ہے اس میں عوام آزادہوتے ہیں، آزادی صرف کسی ملک یا جغرافیہ کی آزادی نہیں ہواکرتی بلکہ حقیقی آزادی وہ ہے جس میں ملک میں آئین اورقانون کی حکمرانی اور بالادستی ہو، جہاں عدلیہ اورتمام ادارے اپنے اپنے دائرے میں رہ کرآزادی کے ساتھ اپنا اپنا کام کریں، جہاں عدلیہ آزاد ہو اور وہ کسی بھی قسم کے خوف وخطر اور دباؤ کے بغیر آزادی کےساتھ فیصلے کرسکے، جہاں ملک کے تمام شہریوں کو مساوی حقوق میسرہوں، سب کوبرابر کا شہری سمجھاجاتا ہو۔ مگر پاکستان میں عدلیہ،طاقتوروں کے زیراثرہے، بدقسمتی سے پاکستان میں ہرقسم کی آزادی، تمام تر حقوق اور خوشیاں صرف دوفیصد حکمراں اشرافیہ کے ان گھرانوں کے لئے ہیں جونسل درنسل اقتدارکی مسندوں پر براجمان ہیں۔پاکستان کے نام پر آئی ایم ایف اورعالمی مالیاتی اداروں اورمختلف ممالک سےکھرب ہا کھرب ڈالر کی امداد، قرضے اورگرانٹ حاصل کی گئیں مگرملک میں کوئی ترقی اورخوشحالی نہیں آئی، ملک کے 98 فیصد غریب و متوسط طبقہ کے عوام آج بھی بنیادی سہولتوں اوراپنے حقوق سے محروم ہیں، کیاملک صرف اس دوفیصد حکمراں اشرافیہ کے لئے ہی قائم ہواہے؟ کیاایسی صورت میں غلامی کی زندگی گزارنے والے 98فیصد عوام کوجشن منانازیب دیتا ہے؟ کیا ملک میں رہ کرکوئی یہ بلاخوف وخطریہ کہہ سکتاہے کہ ملک میں ظلم وجبراورانصافیاں کی جارہی ہیں؟ جب ہمیں اپنے دکھ کااظہاراورظلم کوظلم کہنے کی بھی اجازت نہیں توپھر کس بات کی آزادی ہے؟
جوجشن منارہے ہیں وہ ان مظلوم ماؤں سے جاکرپوچھیں جن کے جگر کے ٹکڑے تشددکرکے ماورائے عدالت قتل کردیے گئے، جن کے بچے برسوں پہلے گھروں سے اٹھائے گئے، وہ حکمرانوں اور عدالتوں سے مایوس ہوکربرسوں سے اپنے بچوں کی واپسی کی راہ تک رہی ہیں، آخر وہ آج کس بات کاجشن منائیں؟ جن کے گھروں میں ماتم ہو، ان کے سامنے جشن منانا،ڈھول تاشے بجانا،کیا ان کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے متراف نہیں؟ کیاوہ اپنے بچوں کے قتل اورجبری گمشدگی کا جشن منائیں؟
الطاف حسین 34 برسوں سے جلاوطن ہے، آخرمیری آزادی کوکس نے چھیناہے؟2016ء میں کراچی میں میرے گھر نائن زیرو (494/8 عزیزآباد) کو سیل کیاگیا اورپھر بارود کے دھماکے کرکے اسے آگ لگادی گئی اورپھربلڈوز کردیاگیا،اس کے باوجود آج بھی اس تباہ حال گھر پر فوج بیٹھی ہے۔
1/2
کراچی کے تمام نوجوان خصوصاً جین زی میر رضا شہید کو انصاف دلانے کےلئے شہر میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں بھرپور تعداد میں شرکت کریں اور اس وقت تک احتجاج جاری رکھیں جب تک میر رضا شہید کو انصاف نہیں مل جاتا۔ الطاف حسین کی اپیل
#JusticeForMirRazaAli#MirRaza