سلطنت عثمانیہ کی بنیاد رکھنے والے، عثمان غازی کے چند اقوال جو ہر مذھب اور معاشرے کے آزمودہ ہیں، صرف اس امید پرپوسٹ کر رہا ہوں
“شاید کہ اࣿتر جائے ترے دل میں مری بات”
“ریاست کے امور کبھی ان لوگوں کے ہاتھ میں مت دینا جو اسے اپنی خواہشات کے تابع کریں یا جن کے دلوں کو لالچ نے اندھا کر دیا ہو"
"کیونکہ جہاں بندے سیدھے رہتے ہیں اور صرف اللہ کے لیے مخلص ہوتے ہیں وہاں نظام قائم ہوتا ہے اور ریاست میں استحکام اتا ہے"
"طاقت کے وقت رحمت کو اپنا زاد راہ بناؤ اور کمزوری کے وقت صبر کو اپنا ہتھیار"
"کیونکہ صبر تلوار سے زیادہ تیز ہے اور رحمت قلعوں کی دیواروں سے زیادہ مضبوط ہے،تاکہ لوگ جب تمہاری طرف دیکھیں یعنی حکمرانوں کی طرف دیکھیں تو خوف محسوس نہ کریں بلکہ خود کو محفوظ سمجھیں"
"جان لو کہ وہ ریاست جو اپنی رعایا کو ڈراتی ہے وہ پہلے ہی اندھی میں گر جاتی ہے"
ا
"انسان اس راستے پر پہچانا جاتا ہے جس پر وہ چلتا ہے “
“جو اللہ سے نہیں ڈرتا وہ لوگوں سے نہیں ڈرتا”
“ جو نبی کے راستے سے ہٹ گیا اس میں وفا اور اخلاص نہیں ہوتا”
“ریاست سوچ و بچار اور تدبر سے قائم رہتی ہے “
“انصاف پر مبنی حکمرانی تمہیں دلوں کو فتح کرنے دیتی ہے”
جس ریاست کے پاس دل نہیں ہوتا اس میں برکت نہیں ہوتی”
“انصاف سے حکومت کرو جب انصاف کا توازن بگڑ جاتا ہے تو ریاست تباہ ہو جاتی ہے”
“ریاست انصاف سے بنتی ہے پتھروں سے نہیں”
ہمیشہ انصاف سے فیصلہ کرو اور حقدار کو اس کا حق دو”
“جو اپنی رعایا کا بوجھ ہلکا کرتا ہے وہ اپنی ریاست کا بوجھ ہلکا کرتا ہے”
“ جس قوم کا اعتماد (حکمران)تم جیت لیتے ہو وہ ریاست کی دھال بن جاتی ہے اور وہ ریاست جس کی ڈھال اس کی عوام کی دعا ہو وہ دشمن کی تلواروں کے سامنے نہیں گرتی”
عمران خان کو یہ نہیں معلوم تھا کہ دن کونسا ہے ، تاریخ کیا ہے اور مہینہ کونسا چل رہا ہے وہاں عمران خان کو علیمہ خانم کی ریلیوں کی خبر کہاں سے ہوگئی؟
ہمیں علم ہے سب فلم ہے۔
عمران خان کی حکومت تھی۔ ملک میں چینی کی پیداوار زیادہ ہوگئی۔ مل مالکان نے ایکسپورٹ کرکے پنجاب حکومت سے سبسڈی لے لی۔ بات نکلی ۔ بیشتر مل مالکان تحریک انصاف میں تھے۔ ملک کی ایک چوتھائی چینی جہانگیر ترین کی ملز پیدا کرتی ہیں۔ عمران خان نے تحقیقات شروع کروا دیں۔ جہانگیر ترین اور عمران خان کے معاملات بگڑ گئے۔ ( کچھ لوگوں نے زیادہ پھرتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ترین کی بیٹیوں پر بلاوجہ مقدمات درج کروا دیے )۔ موقع آنے پر جہانگیر ترین نے فوج کی مدد سے فارورڈ بلاک بنا کر عمران خان کو کاری ضرب پہنچائی۔ عمران خان کی حکومت جاتی رہی۔
چوروں اور لٹیروں کی فوجی کٹھ پتلیوں کی حکومت ہے۔ چینی ایکسپورٹ ہوئی۔ اس پر مل مالکان نے سبسڈی لی۔ اب چینی امپورٹ ہوگی۔ کک بیکس کھائے جائیں گے۔ نا تحقیقات ہوں گی نا کوئی شور مچائے گا۔
عمران خان کی حکومت تھی ، شاہزیب خانزادہ نے اوپر تلے دو درجن پروگرام کردیے کہ عمران خان نے ایل این جی کے ایڈوانس معاہدے کیوں نہ کیے۔ ( ڈالر نہیں تھے اس لیے نہیں کیے )۔ گندم سکینڈل آیا ، چینی سکینڈل آیا ، جعلی حکومتیں بنیں ، عاصم منیر کی بیٹیوں کے ناجائز پاسپورٹس سامنے آئے شاہزیب خانزادہ کو کبھی بولنے کی جرات نہ ہوئی۔
ایماندار اور بے ایمان کا فرق ہے۔
میں نہیں مانتا
حبیب جالب وہ انقلابی شاعر تھا جو ایوب خان، یحی خان، ضیاالحق اور بھٹو کے دور میں سترہ دفعہ جیل گیا تھا اور کل ملا کر 12 سال جیل میں رہے، بلآخر 1993 میں انتقال کر گئے ورنہ اس فہرست میں نواز شریف، بینظیر اور مشرف کا بھی اضافہ ہو جاتا۔
حبیب جالب کی بیٹی سڑک پر کھانا بیچ کر گزارہ کرتی ہے جبکہ چوروں اور ڈاکوؤں کے بچے لندن، دوبئی، سوئٹزرلینڈ، امریکہ، یورپ میں لوٹے ہوۓ مال پر عیاشی کر رہے ہیں۔ایسے پاکستان کا کون ذمہ دار ہے؟ ایسی لوٹ مار کا محافظ کون ہے؟ پانامہ، پنڈورا،سوئس، دوبئی لیکس کا کون ذمہ دار ہے اور کون محافظ ہے؟
حبیب جالب وہ آزادی مانگتا تھا جو پاکستان بنانے کی واحد وجہ تھی۔وہ ٹاؤٹ نا بن سکا، وہ دلال نا بن سکا، وہ تمام عمر جیل جا رہا تھا یا جیل سے رہا ہو رہا تھا۔ وہ آج کے لینڈ کروزر اور فارم ہاوسز والے صحافیوں کی طرح اپنا قلم نا چلا سکا۔
ہماری قوم کے رول ماڈل حبیب جالب جیسے شاعر ہونے چاہیے، حبیب جالب کا کلام تمام تعلیمی اداروں میں پڑھانا چاہیے، آزادی، انسانی حقوق اور غیرت کے سبق پڑھنے کیلئے۔ حبیب جالب تمام عمر حسینیت کے راستے پر چلے۔ جو ہر یزید کے سامنے خالی ہاتھ اپنی شاعری کی کاٹ سے لڑے اور ہر دفعہ کہا “میں نہیں مانتا”
دیپ جس کا محلات ہی میں جلے
چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے
وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے
ایسے دستور کو، صبحِ بے نور کو
میں نہیں مانتا، میں نہیں جانتا
Everyone can see horizon, few can see beyond…..
Beyond The Horizon with Ahmad Jawad
تم کھرچ کھرچ کر مٹاتے رہے۔ ہم سینت سینت کر رکھتے رہے۔ تم کوڑے دان میں پھینکنا چاہتے تھے۔ ہم نےسینوں سے لگا لیا۔ پھر تمہاری وحشت بھری آنکھیں ہار گئیں۔ ہمارے لرزتے کانپتے ہاتھ جیت گئے۔ تمہاری طاقت کے زعم نے شکست کھائی ہے۔ ہماری استقامت رنگ لائی ہے۔ تم جیت نہیں سکتے تھے۔ ہم ہار نہیں سکتے تھے۔
قیدی کی دردناک کہانی - سابق قیدی کی زبانی
ایکدفعہ کا ذکر ہے ضد اور انا نے فیصلہ کیا کہ قیدی کے غیر معمولی عزم کو توڑا جاۓ:
۱- قیدی کو پہلے ملک سے باہر بھاگنے کا کہا، قیدی نے انکار کر دیا ۔
۲- قیدی کو خاموش رہنے کا کہا، قیدی نے انکار کر دیا۔ عوام خاموش رہی۔لیڈر نعرے مارتے رہے۔
۳- بزدل ساتھیوں پر دباؤ ڈال کر قیدی کو چھوڑنے پر مجبور کیا،زیادہ تر قیدی کو چھوڑ گئے سواۓ چند ایک کے، جو کئی سال سے مخلتف جیلوں میں قید ہیں، قیدی برداشت کر گیا، عوام خاموش رہی۔باقی لیڈر نعرے مارتے رہے۔
۴- قیدی کے خلاف جعلی مقدمے درج کیے، قیدی برداشت کر گیا۔ عوام خاموش رہی۔لیڈر نعرے مارتے رہے۔بہنیں سڑکوں پر جدوجہد کرتی رہیں اور آوازیں اُٹھاتی رہیں۔
۵- اسلامی تاریخ میں پہلی دفعہ اسلامی ملک کی عدالت میں ایک عورت (قیدی کی بیوی)کے پیریڈز کو تضحیک کا موضوع بنا کر اُسکی شادی کو غیر قانونی قرار دیا گیا، قیدی برداشت کر گیا۔ عوام خاموش رہی۔لیڈر نعرے مارتے رہے۔بہنیں انصاف کیلئے سڑکوں پر جدوجہد کرتی رہیں اور آواز اُٹھاتی رہیں۔
۶- قیدی کیلئے کتابوں اور اخبارات پر پابندی لگائ، قیدی برداشت کر گیا۔ عوام خاموش رہی۔لیڈر نعرے مارتے رہے۔بہنیں انصاف کیلئے سڑکوں پر اکیلی جدوجہد کرتی رہیں اور آواز اُٹھاتی رہیں۔
۷- قیدی کو وکیل تک رسائ محدود کر دی، قیدی برداشت کر گیا۔ عوام خاموش رہی۔لیڈر نعرے مارتے رہے۔بہنیں انصاف کیلئے سڑکوں پر اکیلی جدوجہد کرتی رہیں اور آواز اُٹھاتی رہیں۔
۸- قیدی کا مقدمہ عدالت میں سالوں سے جج کی توجہ حاصل کرنے کیلئے بھٹکتا رہا،قیدی برداشت کر گیا۔ عوام خاموش رہی۔لیڈر نعرے مارتے رہے۔بہنیں انصاف کیلئے سڑکوں پر جدوجہد کرتی رہیں اور آواز اُٹھاتی رہیں۔
۶- قیدی کو تقریباً ایک سال سے اپنی بہنوں سے ملنے سے روک دیا، قیدی برداشت کر گیا۔ عوام خاموش رہی۔لیڈر نعرے مارتے رہے۔بہنیں انصاف کیلئے سڑکوں پر جدوجہد کرتی رہیں اور آواز اُٹھاتی رہیں۔
۷- قیدی کو اپنے بیٹوں سے فون پر بات کرنے سے روک دیا گیا، قیدی برداشت کر گیا۔ عوام خاموش رہی۔لیڈر نعرے مارتے رہے۔بہنیں انصاف کیلئے سڑکوں پر جدوجہد کرتی رہیں اور آواز اُٹھاتی رہیں۔
۸- قیدی کے بیٹوں کو قیدی کے ملک میں آ کر ملنے سے روک دیا گیا، قیدی برداشت کر گیا۔ عوام خاموش رہی۔لیڈر نعرے مارتے رہے۔بہنیں انصاف کیلئے سڑکوں پر جدوجہد کرتی رہیں اور آواز اُٹھاتی رہیں۔
۹- قیدی کی پارٹی کا نشان چھین لیا، قیدی برداشت کر گیا۔ عوام خاموش رہی۔لیڈر نعرے مارتے رہے۔
۱۰- قیدی کی سزا کے ذمہ داروں پر تنقید کرنیوالوں کو جیلوں میں بھیج دیا گیا۔ عوام خاموش رہی۔لیڈر نعرے مارتے رہے۔بہنیں انصاف کیلئے سڑکوں پر جدوجہد کرتی رہیں آواز اُٹھاتی رہیں۔
۱۱- قیدی کی قید کو قید تنہائ میں بدل دیا، قیدی برداشت کر گیا۔ عوام خاموش رہی۔لیڈر نعرے مارتے رہے۔بہنیں انصاف کیلئے سڑکوں پر جدوجہد کرتی رہیں اور آواز اُٹھاتی رہیں۔
۱۲- قیدی کی ایک آنکھ علاج نا ہونے کیوجہ سے ضائع ہو گئی، قیدی برداشت کر گیا اور عوام خاموش رہی۔لیڈر نعرے مارتے رہے۔ بہنیں انصاف کیلئے سڑکوں پر جدوجہد کرتی رہیں اور آواز اُٹھاتی رہیں۔
جب تک ہے جاں، کیا ظلم جاری رہے گا؟ کیا قیدی برداشت کرتا رہے گا؟ کیا عوام خاموش رہے گی؟ کیا لیڈر نعرے مارتے رہیں گے؟ کیا بہنیں اکیلی سڑکوں پر جدوجہد کرتی رہیں گی اور احتجاج کرتی رہیں گی؟ کیا بیٹے باپ سے ملنے یا اُسکی آواز سننے کیلئے ترستے رہیں گے؟
کفر کا نظام چل سکتا ہے، ظلم کا نظام نہیں چل سکتا۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی بات کے پورا ہونے کا انتظار 25 کروڑ عوام کو ہے۔
میں نے ناکردہ گناہوں(پیکا ایکٹ) کی پاداش میں صرف 15 دن جیل بھگتی ہے اور جیل کو انسانی بے بسی کی انتہا کا منظر جانا ہے۔لیکن ایک قیدی تین سال سے انسانی بے بسی کی انتہا کو برداشت کر رہا ہے۔کیا ظالم کو اپنے مظالم سے شرمندگی نہیں ہوتی؟ کیا قیدی کے عزم کو توڑنا ضد اور انا ہے؟25 کروڑ عوام خاموش ضرور ہے لیکن اُنکی دعائیں تو عرش تک پہنچ رہی ہیں۔ انکی بد دعائیں بھی عرش تک پہنچ رہی ہونگی۔
بہنوں کو سیاست کا طعنہ دینے والے پارٹی کے لیڈرصرف ایکدن جیل میں گزاریں، ایک دفعہ صرف جیل میں عام قیدی کی طرح داخل ہونے اور قیدیوں کی جیل رجسٹریشن کے مرحلے سے عام قیدی کی طرح گزریں، جیل میں “ملاحظہ” سے قبل پہلی رات ان لیڈران کی ننچیخیں نا نکلیں، تو میرا نام بدل دینا۔میں اس مرحلے سے گزرا ہوں۔
بقلم ایک سابق قیدی
احمد جواد
کسی نے پوچھا، کیا خان صاحب زندہ ہیں؟
میں نے کہا، وہ اُسوقت تک نہیں مریں گے جبتک وہ گلے سڑے نظام کو دفن نہیں کر لیتے اور ایک نئے نظام کی بنیاد نہیں رکھ دیتے۔
سب سے بڑا نقصان جرنیلوں یا افسر شاہی نے نہیں بلکہ ججوں نے پہنچایا۔ جب بھی ٹینک سڑکوں پر آئے، عدالتوں نے بار بار 'ہاں' کہا۔ انہوں نے اقتدار پر قبضے کو قانونی جواز دینے کے لیے 'نظریۂ ضرورت' تراشا؛ غاصبوں سے حلف لیے؛ اور آئین شکنی کو قانون کا روپ دیا۔ جسٹس ریٹائرڈ منصورعلی شاہ
سورس جاننے کیلئے کیو آر کوڈ سکین کریں
#Pakistan