میکسم گورکی کے ناول "ماں" میں جب پاول ولاسوف کی ماں نے اُس سے اور اسکے دوستوں سے پوچھا، ”میں نے سنا ہے تم خدا کو نہیں مانتے"؟
پاول ولاسوف نے جواب دیا، ”ماں ہم اُس خدا کی بات نہیں کر رہے جو تیرے دل میں ہے ، جو رحیم و کریم ہے، شفیق ہے اور اپنے بندوں سے محبت کرتا ہے“.
مسئلہ زندگی گزارنے کا نہیں، سکون پانے کا ہے۔ ہر شخص دن گن رہا ہے، سانس لے رہا ہے، ذمہ داریاں نبھا رہا ہے، مگر اندر کا اطمینان کہیں راستے میں بچھڑ گیا ہے کسی کے پاس سب کچھ ہو کر بھی دل بے چین ہے، اور کوئی محرومیوں کے بیچ بھی سکون کو ترس رہا ہے۔ اصل دکھ یہ ہے کہ ہم نے جینے کو عادت
مجھے رات کے اس پہر بُہت ڈر لگتا ہے
جب میرے ادر گرد لوگ خاموشی کی نیند سو رہے ہوتے ہیں
میرے ذہن میں ہزاروں یادیں ایسی ہوتی ہیں
جو اس قدر تکلیف دے رہی ہوتی ہیں کہ مجھے اپنی منہ پر ہاتھ رکھ کر رونا پڑتا ہے اس وقت زِندگی سے زیادہ بے رحم کچھ نہیں ہوتا!!
آقائے دوجہاں ﷺ کے غلاموں کو ربیع الاول کا چاند 🌙 بہت بہت مبارک ہو ☺️
وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ
"اور ہم نے آپ ﷺ کو تمام جہانوں کیلئے رحمت بنا کر بھیجا ہے" (الانبیاء :107)
میرا موسموں سے تو پھر گلہ ہی فضول ھے
تجھے چھو کر بھی میں اگر ہرا نہیں ھو رہا
تیرے جیتے جاگتے اور کوئ میرے دل میں ھے
میرے دوست کیا یہ بہت برا نہیں ھو رہا ــــــ
حــــافی ـــــــ