ایم کیو ایم نے کر دیکھایا..
الیکشن سے پہلے جو کہا وہ کر دیکھایا..!!
نا وزیراعظم نا منسٹریز, صرف عوام کے حقوق کی بات.!!
بلدیاتی ایکٹ میں آئینی ترمیم کے حوالے سے MOU سائن ہوگیا۔ یہ ہے منفرد ایم کیو ایم پاکستان!!!
#MQMPakistan#karachi#islamabad#MustafaKamal#PMLN
گزشتہ چند ہفتوں سے میری والدہ کی طبیعت شدید ناساز ہے۔ گردوں کے فیل ہونے کے باعث آئی سی یو اور اسپتال کی بھاگ دوڑ میں وقت گزر رہا ہے۔ آپ سب احباب سے دعاؤں کی درخواست ہے۔ اللہ پاک میری والدہ کو صحتِ کاملہ عطا فرمائے اور ان کی تکلیفیں آسان کرے۔ آمین۔
مصطفیٰ کمال کی انتظامی یونٹس کے قیام کی دلیل کو بین الاقوامی تائید! World Economic Forum کی ویب سائٹ پر شائع تجزیہ بھی نئے انتظامی یونٹس کے ذریعے اختیارات اور وسائل عوام کے قریب لانے کی حمایت کرتا ہے۔ یہی ایک وژنری رہنما کی دوراندیشی ہے!
Article:
https://t.co/EYsuoAk8LK
#SindhWantsAdministrativeUnits
#انتظامی_یونٹس_تو_بنکر_رہیگا
سینئر مرکزی رہنما انیس احمد قائمخانی نے گلستانِ جوہر وارڈ 9 کے انچارج فیصل مرزا کے والد کے انتقال پر ان کی رہائش گاہ پہنچ کر اہلِ خانہ سے تعزیت اور مرحوم کے ایصالِ ثواب کے لیے دعائے مغفرت کی۔
اس موقع پر مرکزی رہنما شاکر علی، رکن سی او سی منہاج قاضی و دیگر ذمہ داران بھی موجود۔
Is Pakistan’s current political system on the verge of collapse?
In an exclusive sit-down, Federal Minister & senior MQM leader Mustafa Kamal speaks out candidly on the country's administrative breakdown.
Administrative restructuring or new provinces? The failure of centralized governance & devolution of power.Why the current status quo can no longer sustain Pakistan's crises. Watch the full Podcast.
@KamalMQM @
https://t.co/ui3MlHEkGx
The Federal Health Minister Mustafa Kamal at his best on lifestyle medicine in the inaugural session of 7th Int Conference on Lifestyle Medicine yesterday, 29 September 2026 in Islamabad.
مرتضیٰ وہاب، مصطفیٰ کمال کی نقل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن مصطفیٰ کمال نے ہیلپ لائن بنانے سے پہلے پورا کراچی بنا دیا تھا، جبکہ مرتضیٰ وہاب نے وہ بنا ہوا کراچی بھی تباہ کر دیا۔ اب جتنا چاہیں ڈرامہ اور نوٹنکی کر لیں یا کروا لیں، عوام آپ لوگوں کا اصل چہرہ جانتے ہیں۔
#انتظامی_یونٹس_تو_بنکر_رہیگا
#نظام_بدلو_انتظامی_یونٹس_بناؤ
@murtazawahab1@HamidMirPAK@AajKamranKhan@TalatHussain12@WaseemBadami@OfficialDGISPR
گزشتہ رات فیڈرل بی ایریا یوتھ کنونشن میں نئے انتظامی یونٹس کے قیام کا مقدمہ مصطفیٰ کمال نے نوجوانوں کے سامنے جس انداز میں پیش کیا، وہ قابلِ تحسی�� تھا۔پاکستان کی تقریباً 66 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، اور جس طرح نوجوان اس مؤقف کو سمجھ رہے ہیں، اس سے محسوس ہوتا ہے کہ کم از کم کراچی کے نوجوان اس فرسودہ نظام سے نکل کر ترقی، سکون اور خوشحالی پر مبنی نئے انتظامی نظام کی جدوجہد میں اہم کردار ادا کریں گے۔
مصطفیٰ کمال نے 6 ہفتوں بعد شاہراہِ فیصل پر ایک بڑے پاور شو کا عندیہ بھی دے دیا ہے۔
#نظام_بدلو_انتظامی_یونٹس_بناؤ #SindhWantsAdministrativeUnits #انتظامی_یونٹس_تو_بنکر_رہیگا
ابھی کچھ دیر پہلے Foodpanda سے گھر کا کچھ سامان منگوایا۔ ایک نوجوان آیا، بظاہر پڑھا لکھا، کراچی ک�� نوجوان۔ آرڈر آن لائن Paid تھا۔ اس نے سر جھکا کر سامان دیا اور جلدی سے چلا گیا۔
کچھ دیر بعد فون دیکھا تو اسی Rider کا میسج آیا ہوا تھامیسج پڑھا تو وہ منظر دوبارہ ذہن میں آگیا کہ وہ کس طرح سر جھکائے، خاموشی سے سامان دے کر فوراً چلا گیا تھا۔
یہ واقعہ شیئر کرنے کا مقصد صرف ایک Foodpanda Rider کی بات کرنا نہیں، بلکہ کراچی کے نوجوانوں کا تاریک مستقبل اور اس شہر کی شدید محرومیاں دکھانا ہے۔
یہ شہر موجودہ نظام کی وجہ سے چند ہاتھوں میں یرغمال ہے۔ چند افراد، خاندان اور ��ن کے رفقاء گزشتہ 18 سال میں 22 ہزار ارب روپے انہی لوگوں کی سماجی و معاشی ترقی کے نام پر لئیے، مگر چند افراد پھلتے پھولتے گئے حرام کے پیسوں سے اور کراچی کے پڑھے لکھے نوجوان کا مستقبل Foodpanda، Bykea اور inDrive تک محدود ہوتا جا رہا ہے۔ محنت کرنے میں کوئی عار نہیں، ہر محنت کش قابلِ احترام ہے—لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس شہر کے نوجوانوں کے لیے ان کی تعلیم اور صلاحیت کے مطابق مواقع بھی پیدا ہوئے؟
اب وقت ہے کہ کراچی کے لوگ اپنے مستقبل کے بارے میں سوچیں، سوال کریں اور اپنےمطالبات کراچی کی انتظامی یونٹ بناؤ سامنے رکھیں اس کے لئے سڑکوں پر بھی آئیں۔
آج میرے ذہن میں بس اسی نوجوان کا جھک�� ہوا سر اور اس کا ایک جملہ گھوم رہا ہے:
“Sir… wapsi k petrol k liye paisay nahi hain.”
#نظام_بدلو_انتظامی_یونٹس_بناؤ
#انتظامی_یونٹس_تو_بنکر_رہیگا
#Karachi
پیپلز پارٹی جتنی مرضی پریس کانفرنسیں کرلے، ایک بار یہ مناظر بھی دیکھ لے۔
عائشہ منزل سے گراؤنڈ تک سڑکوں پر لوگ، اور گراؤنڈ میں پہلے سے موجود ہزاروں نوجوان۔
کراچی کی نئی نسل اپنے لیے اختیار مانگ رہی ہے، اپنے وسائل پر حق مانگ رہی ہے، اپنے مسائل کا فیصلہ اپنے قریب چاہتی ہے۔
بات صرف کراچی کی بھی نہیں۔ سوال یہ ہے کہ کراچی سے کشمور تک عام آدمی کو اختیار اور وسائل اس کی دہلیز پر کب ملیں گے؟
نام انتظامی یونٹس رکھیں یا نئے صوبے بحث نام کی نہیں، نظام کی ہے۔
یہ مطالبہ کسی سے سندھ چھیننے کا نہیں، سندھ کے ہر بچے کا مستقبل بہتر بنانے کا ہے۔
اور جو سمجھتے ہیں یہ صرف چند لوگوں کی آواز ہے، وہ یہ ویڈیو دیکھ لیں۔یہ کراچی کے صرف ایک ٹاؤن کے نوجوان ہیں۔
𝐒𝐞𝐞𝐢𝐧𝐠 𝐢���� 𝐁𝐞𝐥𝐢𝐞𝐯𝐢𝐧𝐠.
#انتظامی_یونٹس_تو_بنکر_رہیگا
#نظام_بدلو_انتظامی_یونٹس_بناؤ
6 ہفتے بعد کراچی میں بڑا پاور شو!
یہ پورے کراچی کا نہیں، صرف زمان ٹاؤن UC-01 کا پروگرام تھا—اور انتظامی یونٹس کے لیے جاری عوامی رابطہ مہم میں ہزاروں افراد شریک ہوئے۔
اسی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے 6 ہفتے بعد کراچی میں بڑے پاور شو کا اعلان کردیا۔
انتظامی یونٹس کی جدوجہد اب اگلے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے—کراچی پاکستان کے بہتر مستقبل کے لیے انتظامی فیصلوں کو عوام کے قریب لانے کی اس جدوجہد کا اہم مرکز بنتا جا رہا ہے۔
@OfficialDGISPR@HamidMirPAK@TalatHussain12@AajKamranKhan@KamalMQM
#انتظامی_یونٹس_تو_بنکر_رہیگا
#نظام_بدلو_انتظامی_یونٹس_بناؤ
#Karachi
پیپلز پارٹی کی کرپشن کی کمائی سے پیپلز پارٹی کا سوشل میڈیا پیسے لے کر مصطفیٰ کمال کے خلاف کیا چلا رہا ہے؟
20 سال پہلے عباسی شہید اسپتال میں ایک عورت کو ڈانٹ دیا؟ 6 سال پہلے نیب کورٹ کے باہر ایک شہری سے مکالمے میں بتایا کہ میرے میئر کے دور کا زیادہ عرصہ زرداری صاحب کے صدر ہوتے ہوئے گزرا، تو اس کا کریڈٹ انہیں بھی دے دو؟
چلو، اب ذرا اعداد و شمار سے جواب دیتے ہیں۔
آج بھی پیپلز پارٹی کے صدر آصف علی زرداری صاحب ہیں، وزیراعلیٰ سندھ پیپلز پارٹی کے مراد علی شاہ صاحب ہیں اور میئر کراچی بھی پیپلز پارٹی کے مرتضیٰ وہاب ہیں۔
اس سال وفاق سے سندھ کو ملنے والے فنڈز کا آبادی کے تناسب سے حساب لگائیں تو 40,600 روپے فی شہری سالانہ بنتے ہیں۔
دوسری طرف مصطفیٰ کمال کے پورے دور میں خرچ کیے گئے 300 ارب روپے کا اُس وقت کی کراچی کی آبادی کے حساب سے فی کس فارمولا لگائیں تو تقریباً 16,190 روپے پورے دور کے بنتے ہیں، یعنی صرف 3,700 روپے فی شہری سالانہ۔
مصطفیٰ کمال نے اپنے 52 ماہ کے دور میں 2,159 ترقیاتی منصوبوں کی رپورٹ جمع کروائی۔ اسی دور میں انہیں عالمی سطح پر دنیا کے بہترین میئرز میں شمار کیا گیا اور کراچی دنیا کے تیزی سے ترقی کرنے والے شہروں میں شامل ہوا۔
اب بات کرتے ہیں موجودہ میئر کی!
زرداری صاحب کو تو اسے گریبان سے پکڑ کر پوچھنا چاہیے کہ اتنا نااہل کیسے ہوسکتا ہے؟ فنڈز مل رہے ہیں، پیسہ مل رہا ہے، اختیار بھی موجود ہے، لیکن کرپشن اور بدانتظامی کی وجہ سے کراچی آج دنیا کے 4 بدترین قابلِ رہائش شہروں میں شمار ہو رہا ہے۔
تو مصطفیٰ کمال کی یہ پرانی ویڈیوز لگا کر آپ مصطفیٰ کمال کی دیانت داری اور قابلیت اور موجودہ میئر و پیپلز پارٹی کی بدانتظامی اور کرپشن کے الزامات کو بے نقاب کرنے کا ہمیں ایک اور موقع دے رہے ہیں۔
کچھ بھی کرلو، انتظامی یونٹس تو بن کر رہیں گے!
#نظام_بدلو_انتظامی_یونٹس_بناؤ
#SindhWantsAdministrativeUnits
@OfficialDGISPR@AajKamranKhan@HamidMirPAK@TalatHussain12
ذرا اعداد و شمار سمجھیں، پھر اصل سوال کی طرف آتے ہیں!
وفاق سے سندھ کو اس سال 2,263 ارب روپے ملے ہیں۔ سندھ کی آبادی پر تقسیم کریں تو تقریباً 40,600 روپے فی شہری بنتے ہیں۔
اب کراچی دیکھیے سندھ کی 36.6٪ آبادی کراچی میں رہتی ہے۔ حالانکہ کراچی کی حقیقی آبادی تین کروڑ سے کم نہیں، لیکن چلیں فی الحال حالیہ مردم شماری کے کاغذی اعداد و شمار ہی کو درست مان لیتے ہیں، تو اُس حساب سے بھی آبادی کے اسی تناسب سے تقریباً فی شہری 40,600 - 828 ارب روپے بنتے ہیں، مگر کراچی کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے صرف تقریباً 100 ارب رکھے گئے یعنی صرف 410 روپیہ ماہانہ 4,916 روپے فی شہری سالانہ!
چلیں ��ان لیا کراچی کو اس تناسب سے پیسہ نہیں ملا۔تو پھر پیسہ گیا کہاں؟ 18 سال میں وہ وسائل لاڑکانہ، نوابشاہ، سانگھڑ، دادو، مٹھی، تھرپارکر، میرپورخاص اور سکھر پر خرچ ہوئے ہوتے تو آج یہ شہر پیرس نہ سہی، لاہور، فیصل آباد اور گوجرانوالہ کو ٹکر تو دے رہے ہوتے! مگر زمینی حقیقت سامنے ہے: کراچی اور حیدرآباد مسائل کا شکار، اندرونِ سندھ کے علاقے بھی بنیادی سہولتوں کیلئے ترس رہے ہیں۔
تو سوال بالکل سیدھا ہے: کراچی کو اس کا متناسب حصہ نہیں ملا، کراچی 18 سالوں میں دنیا کے 12 بہترین شہروں سے 4 بدترین رہنے کے شہروں میں شامل ہوگیا باقی سندھ ترقی نہ کرسکا تو 18 سال کا پیسہ کرپشن کی نظر کر دیا یہی وہ وجہ ہے جس سے پیپلزپارٹی موجودہ مرکزیت زدہ نظام بچانا چاہتی ہے۔ وسائل اور اختیار چند ہاتھوں میں رکھنے کی وجہ ہزاروں ارب کی کرپشن ہے نہ کے سندھ دھرتی ماں۔
اسی لیے انتظامی یونٹس ناگزیر ہیں۔
نظام بدلو، اختیار نچلی سطح تک پہنچاؤ کرپشن سے ہونے والی دہشتگردی بند کرو۔
#نظام_بدلو_انتظامی_یونٹس_بناؤ
#SindhWantsAdministrativeUnits
@OfficialDGISPR @FrontlineKamran @AajKamranKhan @HamidMirPAK @TalatHussain12
کچھ نجی مصروفیات کی وجہ سے دو دن سوشل میڈیا پر قدرے خاموش تھا، لیکن واپس آیا تو ایک معاملے نے مزید پریشان کردیا۔دو دن قبل کراچی میں ہیلتھ ایشیا کے دوران ایک صحافی کے سوال پر مصطفیٰ کمال نے مرتضیٰ وہاب کے مسلسل ’’حساب دو‘‘ کے مطالبے کا جواب دیتے ہوئے کہا تمام صحافی کیمروں کے ساتھ جگہ اور وقت بتائیں، میں اکیلا آؤں گا اور حساب دوں گا لیکن حساب مجھ پر رکے گا نہیں، پھر دوسروں کا بھی ہوگا۔
میں نے اسی وقت مرتضیٰ وہاب کو ٹیگ کرکے پوچھا تھا: بتائیں، حساب کتاب کب کرنا ہے؟
جو ردِعمل سامنے آیا، اس نے مجھے مزید تشویش میں ڈال دیا۔ کراچی والو! دونوں ویڈیوز خود دیکھیں؛ ایک طرف سوال کا جواب اور کھلی پیشکش، دوسری طرف میئر کراچی کا ردِعمل۔ فیصلہ آپ خود کریں۔
اور یہی وجہ ہے کہ انتظامی یونٹس کا قیام اب کراچی کے لیے ناگزیر ضرورت ہے۔ ہمیں اپنے اختیارات اور اپنے مستقبل کے لیے آئینی و جمہوری جدوجہد پوری قوت سے جاری رکھنی ہوگی۔ ہم ان کے رحم و کرم پر نہیں رہ سکتے۔
#نئے_صوبے_خوشحال_پاکستان
#انتظامی_یونٹس_تو_بنکر_رہیگا