اپریل 2022 سے اکتوبر 2026 تک سوائے تقریروں کے کونسا ماڈل ہے جو باقی ملک میں خوشحالی اور تبدیلی کا باعث بنا تو اب خیبرپختونخوا میں بھی نافذ کیا جائے گا ؟
میڈم چیف منسٹر نے آج بتایا ہے ’صبح 9 سے 6 بجے تک آفس ہوتا ہے، شام 6 سے رات 10 بجے تک گھر کی ذمہ داری‘۔ گھریلو ڈیوٹی شروع ہو جاتی ہے۔ نیچے ایک 17 ستمبر کی تقریر ہے، وہ بھی سن لیں
کامیابی کے سو دعوے دار نکل آتے ہیں، ناکامی مگر قیادت کے ظرف کا اصل امتحان ہے۔ لانگ مارچ کے فیصلے اگر اجتماعی مشاورت سے ہوئے تو ذمہ داری صرف سہیل آفریدی اور چند دیگر افراد پر کیوں؟ جو آج گرفتار ہیں اور اپنا دفاع بھی نہیں کر سکتے، سارا ملبہ انہی پر ڈالنا ناانصافی ہے۔ عمران خان نے ہمیشہ اپنی ٹیم کے ساتھ کھڑے ہونے کی روایت قائم کی۔ غلط فیصلہ اور دانستہ غداری میں فرق ہوتا ہے۔ مشکل وقت میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ کھڑا ہونا ہی آپکے کردار کا عکاس ہوتا ہے۔
امجد اسلام امجد ایک صحافی اور بے ضرر انسان ہیں، جنہیں تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد مبینہ طور پر جھوٹی ایف آئی آر میں گرفتار کر لیا گیا، اور آج دوسرے روز بھی وہ پولیس کی تحویل میں ہیں۔
ظلم اور جبر سے ریاستیں مضبوط نہیں ہوتیں، بلکہ ریاست اور اس کے اداروں کا وقار عوام کی نظروں میں مجروح ہوتا ہے۔
آخر کب تک اس ملک میں انصاف کے بجائے طاقت کا قانون چلے گا؟
اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کس طرح نامعلوم افراد ہمارے صحافی بھائی کا بس میں پیچھا کرتے آئے اور اترتے ساتھ ہی ان پر تشدد شروع کر دیا گیا۔
پولیس نے جھوٹی ایف آئی آر کاٹنے میں ذرا دیر نہ کی!
تحریک انصاف کے کارکنان سے شروع ہونے والا ظلم کا شعلہ صحافتی برادری کے آنگن میں آ گرا ہے۔
خدارا ہوش کے ناخن لو۔
مریم نواز شرم کرو؛
پنجاب میں ظلم و غنڈہ گردی کا نظام بند کرو!
جس ملک میں ڈاکٹرز اور انجینئرز کو چالیس پچاس ہزار ماہانہ تنخواہ پر رکھا جائے جہاں بنکوں میں پڑھے لکھے نوجوانوں کو پچیس تیس ہزار ماہانہ تنخواہ دی جائے۔ جہاں ریاست اجرت کا نظام طےنہ کر سکے وہاں کا پڑھا لکھا نوجوان انہیں ملکوں میں جائے گا جہاں انکی قابلیت کا پورا معاوضہ ملے جہاں میرٹ قابلیت ہو نہ کہ سفارش ۔۔
گزشتہ 3 سال کےدوران 18 لاکھ 71 ہزار سے زیادہ افراد بہتر روزگار کیلئے پاکستان سے بیرون ملک گئے، ڈاکٹرز، انجینئرز، آئی ٹی پروفیشنلز اور ماہرین تعلیم شامل، تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش۔۔!!
ایمرجنسی نافذ کیے ابھی ایک ہفتہ نہیں ہوا اور ابھی سے بیک فُٹ پر دفاعی انداز اختیار کرنا پڑ رہا ہے ۔ تحریک انصاف کو چھوریں عوامی نیشنل پارٹی اور مولانا صاحب کی جماعت شد و مد کے ساتھ مدعا اٹھا رہے ہیں ۔ عوامی حمایت تو پہلے مرحلے میں ہی دوسرے طرف کھڑی نظر آ رہی آگے کیا ہوگا ؟
رات کی بنی ٹھنڈی آلو گوبھی ناشتے میں گرم پراٹھوں کے ساتھ کھانے کا جو سواد ہے وہ کسی ڈش میں نہیں
ایسا کوئی کمبیشن جو آپکو کھانے میں اچھا لگتا ہو بھلے سننے پڑھنے میں عجیب ہو ؟
کہا جاتا ہے کہ ہلاکو خان جب بغداد میں داخل ہو کر مسلمانوں کی گردنیں کاٹ رہا تھا تب وہاں وقت کے دو بڑے علماء کے درمیان اس بات پر مناظرہ چل رہا تھا کہ کوا حلال ہے یا حرام اور سوئی کے ناکے سے کتنے فرشتے گزر سکتے۔
چار دن پہلے PTI کی منتخب حکومت ختم کر دی گئی، سینکڑوں لوگ لاپتا کر دئیے گئے، عمران خان کس حال میں ہے کوئی نہیں جانتا اور کل سے سوشل میڈیا پر دو ٹولے آپس میں لڑ رہے ہیں۔
یقین کریں مجھ اتنی انرجی نہیں کہ میں ایک ایک کو سمجھاتا اور صلح کرواتا پھروں اور نہ ہی میرا کسی ایک فریق کے لیے لڑائی میں کودنے کا کوئی ارادہ ہے۔
کیا یہ وقت ہے ایسی آپسی لڑائیوں کا؟
اللہ ان لوگوں کو ہدایت دے۔ اور اللہ انہیں احساس دے کہ پختونخوا احتجاج میں جن ورکرز کو سیدھی گولیاں ماری گئی ہیں، اُن کی جان سے تمہاری اَنا اور آپسی لڑائیاں زیادہ اہم نہیں ہیں۔ اس وقت جب سارا فوکس مخالفین پر ہونا چاہیے، یہ لڑائیاں عمران خان کے دشمنوں کو فائدہ پہنچانے اور سوشل میڈیا کو تقسیم ک��نے سے زیادہ کچھ نہیں ہیں۔
پاکستان میں ہر سانحے کا ایک ہی حل ہے، ’’افسوس کا اظہار، دکھ کا اظہار، متاثرہ خاندانوں سے اظہار تعزیت، درجات کیلئے دعا‘‘۔ لاہور میں اسکول کی چھت گرے، سانحہ پمز ہو یا آج سانحہ پشاور۔ فلاں کی تعزیت، فلاں کی دعا۔ اس کے بعد پھر چل سو چل، ایک دو ہفتے میں معاملہ دب جاتا ہے