اے نبی ؐ! جس چیز کا تمھیں حکم دیا جا رہا ہے، اسے ہانکے پکارے کہہ دو، اور شرک کرنے والوں کی ذرا پروا نہ کرو۔ تمھاری طرف سے ہم ان مذاق اڑانے والوں کی خبر لینے کے لیے کافی ہیں جو اللہ کے ساتھ کسی اور کو بھی خدا قرار دیتے ہیں۔ عنقریب انھیں معلوم ہو جائے گا۔ (سورہ الحجر: 94-96)
جو کتاب تم پر نازل کی گئی ہے اور جو کتابیں تم سے پہلے نازل کی گئی تھیں، ان سب پر ایمان لاتے ہیں، اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔ ایسے لوگ اپنے رب کی طرف سے راہ راست پر ہیں اور وہی فلاح پانے والے ہیں
(سورہ البقرۃ:1-5)
یہ اللہ کی کتاب ہے، اس میں کوئی شک نہیں ہے۔ ہدایت ہے ان پرہیزگاروں کےلیے جو غیب پر ایمان لاتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، جو رزق ہم نے ان کو دیا ہے، اس میں سے خرچ کرتے ہیں
لوگو، ایک مثال دی جاتی ہے، غور سے سنو
جن معبودوں کو تم خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہو وہ سب مل کر ایک مکھی بھی پیدا کرنا چاہیں تو نہیں کرسکتے۔ بلکہ اگر مکھی ان سےکوئی چیز چھین لےجائے تو وہ اسے چھڑا بھی نہیں سکتے۔ مدد چاہنےوالے بھی کمزور اور جن سے مدد چاہی جاتی ہےوہ بھی کمزور۔ (الحج:73)
جو لوگ اللہ اور اس کے رسولؐ کو اذیت دیتے ہیں، ان پر دنیا اور آخرت میں اللہ نے لعنت فرمائی ہے اور ان کے لیے رسوا کن عذاب مہیا کر دیا ہے۔
(سورہ الاحزاب:57)
جوشخص اپنےآپکواللہ کےحوالےکردےاورعملا وہ نیک ہو،اس نےفی الواقع ایک بھروسےکےقابل سہارا تھام لیا اورسارےمعاملات کاآخری فیصلہ اللہ ہی کےہاتھ ہے
اب جوکفرکرتاہےاس کاکفر تمھیں غم میں مبتلا نہ کرے،انھیں پلٹ کرآنا توہماری ہی طرف ہے،پھرہم انھیں بتادیں گےکہ وہ کیاکچھ کرکےآئےہیں(لقمان22-23)
تم اپنے رب سے معافی چاہو اور اس کی طرف پلٹ آؤ تو وہ ایک مدتِ خاص تک تم کو اچھا سامانِ زندگی دے گا، اور ہر صاحبِ فضل کو اس کا فضل عطا کرے گا۔ لیکن اگر تم منہ پھیرتے ہو تو میں تمھارے حق میں ایک بڑے ہولناک دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔ (سورہ ہود، آیت 3)
جو لوگ سُود کھاتے ہیں، ان کا حال اس شخص کا سا ہوتا ہے، جسے شیطان نے چُھو کر باؤلا کر دیا ہو۔ اور اس حالت میں ان کے مبتلا ہونے کی وجہ یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں:”تجارت بھی تو آخر سُود ہی جیسی ہے“، حالانکہ اللہ نے تجارت کو حلال کیا ہے اور سُود کو حرام۔ (سورہ البقرہ: آیت 275)
جس شخص کو اس کے رب کی طرف سے یہ نصیحت پہنچے اور آئندہ کے لیے وہ سودخوری سے باز آجائے، تو جو کچھ وہ پہلے کھا چکا ، اس کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے۔ اور جو اس حکم کے بعد پھر اسی حرکت کا اعادہ کرے، وہ جہنمی ہے، جہاں وہ ہمیشہ رہے گا۔ (سورہ البقرہ: آیت275)
اےلوگوجوایمان لائےہو
خداسےڈرو جوکچھ تمھارا سود لوگوں پر باقی رہ گیاہے، اسےچھوڑدو اگرواقعی تم ایمان لائےہو
لیکن اگرتم نےایسا نہ کیاتو آگاہ ہوجاؤکہ اللہ اور رسول کی طرف سےتمھارےخلاف اعلانِ جنگ ہے۔اب بھ�� توبہ کرلو ﴿اورسود چھوڑدو﴾تو اپنا اصل سرمایہ لینےکےتم حقدار ہو
(البقرہ278-279)
تمھارا قرضدار تنگ دست ہوتو ہاتھ کھلنےتک اسےمہلت دو،اور جو صدقہ کردو،تو یہ تمھارےلیےزیادہ بہتر ہے،اگر تم سمجھو
اس دن کی رسوائی ومصیبت سےبچو، جبکہ تم اللہ کی طرف واپس ہوگے،وہاں ہرشخص کو اس کی کمائی ہوئی نیکی یا بدی کا پوراپورا بدلہ مل جائےگااورکسی پرظلم ہرگز نہ ہوگا
(البقرہ:81-280)
جو لوگ ایمان لے آئیں اور نیک عمل کریں اور نماز قائم کریں اور زکوٰة دیں، ان کا اجر بے شک ان کے رب کے پاس ہے اور ان کےلیے کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں۔ (سورہ البقرہ:277)