تم اپنے جُوڑے میں گُوندھو ، میری اُداس شَبیں
میں اَپنی نَظم کے اَشعار میں ، پِرو لُوں تُمہیں
تُم اپنے ہونٹوں کی مَحراب میں ، سَجا لو مُجھے
میں اپنے فَن کی جَواں رُوح میں ، سَمو لُوں تُمہیں
ظَفر گورکھپوری
فشارِ جاں بھی قرارِ جاں ہی لگے ہے اب تو
جو مجھ پہ طاری تیرا اثر ہے، حسین تر ہے
یہاں وہاں ہے، اِدھر اُدھر ہے، کدھر کدھر یے
تیرا تصّور جدھر جدھر ہے، حسین تر ہے ❤️
کچھ بھی نہ سہی ضبط کی تضحیک تو ہے نا
پوچھےجو کوئی ہم سے کہ سب ٹھیک تو ہے نا
چھونے کی تمنا تھی مگر باز رہا میں
دی دل کو تسلی کہ وہ نزدیک تو ہے نا
اے زیست وضاحت نہیں دبے داد کہ میں نے
نقطہ جو اٹھایا ہے وہ باریک تو ہے نا
پھر اس کے سامنے کچھ بھی نہ دلنشین لگا
وہ مسکــــراتے ہوئے اس قدر حسین لگا
دوبارہ وصل کی خواہش کبھی نہ پیدا ہوئی
کـــــسـی کا ہجـــــر مجھے اتنا بہترین لگا
مبشر میو
جب میں چھوٹی تھی تو سوچتی تھی آخر عورت مرد کے مقابلے میں جلدی بوڑھی کیوں ہو جاتی ہے؟
جب میں نے زندگی کو دیکھا تو میں نے پایا کہ پاکستانی معاشرے میں عورت بہت سے معاملات میں بے بس ہوتی ہے کچھ نہیں کرسکتی تو سوچتی رہتی ہے اور وہ سوچیں اس کا حسن کھا جاتی ہے ۔