اور ہم سب بھوکے رہ گئے
آج بھی ایک کسان تکلیف میں ہے
اس کے درد پر ہنسنے والے
کل اسی درد میں روئیں گے۔
اس کے مرنے کی خوشیاں نہ مناؤ،
اس کے لیے آواز اُٹھاؤ
اس کے ساتھ کھڑے ہو جاؤ
کیونکہ زراعت اور کسان
ہماری آن، شان اور پہچان ہیں
خوش رہیں، آباد رہیں، مسکراتے رہیں
کاراچوہان pTi
جب بندروں کو خبر ملی
کہ جس کسان کی مکئی وہ چوری سے کھاتے تھے،
وہ اب اس دنیا میں نہیں رہا...
تو انہوں نے جشن منایا!
سمجھے اب کوئی روکنے والا نہیں۔
مگر اگلے سال...
جب کھیت خالی رہے، مکئی نہ اُگی،
تو ان پر حقیقت کھلی—
کہ جشن کا نہیں، ماتم کا وقت تھا۔
کسان گیا، تو کھیت سُونے ہو گئے
اہلِ غزّہ کی وفاؤں پہ قلم کیا لکھے
آبرو ریز جَفاؤں پہ قلم کیا لکھے
خون آشام فَضاؤں پہ قلم کیا لکھے
خاک آلودہ رِداؤں پہ قلم کیا لکھے
جاں بہ لب بچوں کی ماؤں پہ قلم کیا لکھے
بے گناہوں کی سزاؤں پہ قلم کیا لکھے
*
غزّہ کی وفاؤں پہ قلم کیا لکھے
انبیا نے جسے سینچا وہ چمن ہی دیکھو
قبلۂ اوّلِ سلطانِ زمنﷺ ہی دیکھو
خون آلودہ وہ بکھرے ہوئے تن ہی دیکھو
وَحْدتِ اُمّہ کے اعضائے بدن ہی دیکھو
اُن کی مجروح دعاؤں پہ قلم کیا لکھے