بانی PTI نے کبھی یہ نہیں پوچھا کے وزیراعلی کی خیبرپختونخوا میں عوام کے لئے کارکردگی کیا ہے ؟
کبھی اس بات پر وزیراعلی سے استعفیٰ نہیں مانگا کے دھشتگردی کے خلاف وزیراعلی نے کوئی اقدام نہیں کیا
لیکن اس بات پر استعفے مانگ لیا کے میرے لئے احتجاج نہیں کیا
بے شرم پہلے بکواس کرتے ھیں پھر معافیاں مانگتے ھیں...!!!!
پاکستان کو غلیظ کہنے والی اس غلاظت کو اٹھا کر پاکستان سے باھر پھینکنا چاھئے تاکہ انکی عقل ٹھکانے اسکے...!!!
یوتھیے جھوٹ بولتے ہیں کہ لانگ مارچ کی کال عمران نے ملتوی کی سہیل آفریدی خود کہ رہا ہے کہ ہم 24گھنٹے کی کال پر لانگ مارچ کے لیے نکل سکتے تھے 27 ستمبر کے لیے ہماری تیاری مکمل تھی حکمت عملی تحت لانگ مارچ کی تاریخ تبدیل کی،یعنی عمران کی کوئی سن ہی نہیں رہا
پولنگ کا وقت ختم ہونے سے قبل ہی مخالفین کے کیمپس اکھڑنا شروع ہو گئے ہیں اور میدان خالی چھوڑ کر روانگی جاری ہے جبکہ دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پولنگ کیمپس پر عوام کا غیر معمولی رش اور ووٹرز کا جوش و خروش دیدنی ہے۔ شہری بڑی تعداد میں پرچیاں بنوا کر شیر کے نشان پر مہر لگانے کے لیے پرعزم ہیں۔
#NA168SherKa
#بہاولپورشیرکا
اب سہیل آفریدی کو شہداء بھی یاد آئیں گے کیونکہ اب اس کی حکومت کا چل چلاؤ ہے مجھے اس حکومت کے خاتمے کیلیے ایک ہفتے کا وقت بھی بہت طویل لگ رہا ہے یہ حکومت اگلے تین سے چار روز میں ہی ختم ہو جائے گی۔ایک ہفتے سے پہلے پہلے کام ہو جائے گا۔
دنیا کی کوئی بھی صنعت آر اینڈ ڈی اور علم کی بنیاد کے بغیر عالمی مارکیٹ کا مقابلہ نہیں جیت سکتی—ہمیں اپنے پیداواری نظام کو نالج ڈریون بنانا ہوگا!
دورِ جدید میں دنیا کی ہر کامیاب پراڈکٹ کے پیچھے جدید تحقیق، دانش اور اختراع کارفرما ہے۔ پاکستان کو عالمی منڈیوں میں نمایاں مقام دلانے کے لیے صنعت اور جامعات کے درمیان ایک مضبوط اور فعال پل تعمیر کرنا وقت کی ناگزیر ضرورت ہے۔ ہماری جامعات کی لیبارٹریوں کو صنعت کے مسائل حل کرنے اور مصنوعات کا معیار بہتر بنانے کے لیے تحقیق کرنی چاہیے، جبکہ کاروباری برادری کو اپنے عملی چیلنجز کے حل کے لیے جامعات میں ریسرچ پروجیکٹس کو فنڈ کرنا ہوگا۔
جب تک ملکی پیداواری شعبے کی پشت پر ٹھوس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ کا نظام کھڑا نہیں ہوگا، ہم بین الاقوامی مسابقت میں آگے نہیں بڑھ سکتے۔ پورے پیداواری نظام کا ڈھانچہ بدل کر اسے نالج اور انوویشن سے جوڑنا ہوگا؛ یہی اکیڈمیا-انڈسٹری پارٹنرشپ ان شاء اللہ 'میڈ ان پاکستان' کو دنیا بھر میں معیار کی مستند علامت بنائے گی۔
#AcademiaIndustryLinkage #ResearchAndDevelopment #KnowledgeEconomy #InnovationDriven #MadeInPakistan #ProductivityAndQuality #IndustrialGrowth
تحریکِ انتشار کی چالاکیاں اور قلابازیاں دیکھیں!
2013 میں دعویٰ تھا کہ خیبر پختونخوا پولیس کو خودمختار اور سیاست سے پاک بنائیں گے۔ اب 2026 کے مجوزہ بل میں کمانڈ، پالیسی، پوسٹنگ، بھرتی، نگرانی اور احتساب سب کچھ ٹی ٹی پی کے سیاسی ونگ تحریک انتشار اور وزیراعلیٰ کے ہاتھ میں مرکوز کر دیا جا رہا ہے۔ خودمختاری کا نعرہ لگا کر اب پولیس کو مکمل طور پر انتشاری جتھے کے کنٹرول میں لانے کی تیاری ہے.
آج بھی اسکو اقتدار کا آسرا کرائیں تو یہ تیل کی بوتل پکی جیب میں رکھ لے گا۔ دانتوں والے ڈاکٹر نے جب باجوہ سے ملاقات کرائ تو کو اقتدار کی واپسی کے لئیے ساری عمر کی ایکسٹنشن دینے پہ راضی تھا۔
خواجہ صاحب نے کہا ہے ہو سکتا ہے یہ آئیں ہی نہ اب پی ٹی آئی سے 27 ستمبر سے آگے جانے کی آوازیں آ رہی ہیں۔ لگتا ہے خواجہ صاحب کی بات درست نکل رہی ہے؛
اگر آے تو یہ آخری دفعہ ہوگا اس کے بعد یہ باب ھمیشہ کے لیے بند ہوجاے گا
خواجہ آصف سے نیویارک میں گفتگو
اب کہا جا رہا ہے لانگ مارچ ملتوی ہو جائے تو عمران خان کو شفاء ہسپتال لایا جائے گا مگر اس کی تردید بھی ہو رہی ہے۔ کوئی ایسا تاثر نہیں جائے گا کہ ڈیل ہو رہی ہے،پہلے باضابطہ طور پر پیچھے ہٹنا ہو گا، عامر الیاس رانا
اسلام آباد اسلامی ایٹمی ریاست کا دارالحکومت ہے اور یہ ان کا آخری اٹیمپٹ ثابت ہوگا، اس کے بعد یہ ادھر کا رخ نہیں کر سکیں گے۔ یہ ایک فیصلہ کن معرکہ ہے، خواہ وہ آئیں یا نہ آئیں، کیونکہ اب پاکستان اور وفاق اس انتشار کے متحمل نہیں ہو سکتے۔
اس شخص کے ساتھ میرا 1964 سے کواڈرینگل ھوسٹل گورنمنٹ کالج لاھور سے تعلق تھا ( دوستی کہتے مجھے حیا آتی ھے) جب ھماری عمر15سال تھی۔ بے شمار اچھے برے کام ساتھ کیے ۔ مشترکہ دوستوں کی بڑی تعداد تھیاور شاید ھے بھی ۔
عمران خان کی حکومت میں یہ وزیر تعلیم تھا۔ اس نے میرے خلاف کابینہ کی میٹنگ بعد عمران خان کے کہنے پہ پریس کانفرنس کی ۔ اور کہا کہ مجھے بیرون ملک سے ماہانہ 12لاکھ کیremittance آتی جو ایک حقیقت اور 30 سال آتی تھی اور میرے انکم ٹیکس ریٹرن میں ماقاعدگی کے ساتھ رپورٹ ھوتی تھی اور میں اس پہ ٹیکس دیتا تھا۔ اس الزام پہ عمران خان نے مجھ پہ آرٹیکل 6 کی کاروائی شروع کی اسکے بعد مجھ پہ نیب کی کاروائی شروع ھوئ اور پھر میں 6مہینے قید رہا۔ PTI کی حکومت کے دوران ھی ھائی کورٹ نے مجھے رہا کیا اور انکوائری اور الزامات کچھ بھی ثابت نہ ھو سکا ۔
یہ شخص پہلے PPPپھر مشرف کا وزیر پھر شہباز شریف کا درباری پھر PTi کا وزیر۔ اور اب کسی نئے مالک کی تلاش میں منتظر ۔
ضمیر اور وفا کے سوداگروں نے جتنی سیاست کی تذلیل کی ھے ۔ شاید جسم کے سوداگروں نے بھی اتنی تذلیل نہیں کمائ ھو گی۔