دنیا کی کوئی بھی صنعت آر اینڈ ڈی اور علم کی بنیاد کے بغیر عالمی مارکیٹ کا مقابلہ نہیں جیت سکتی—ہمیں اپنے پیداواری نظام کو نالج ڈریون بنانا ہوگا!
دورِ جدید میں دنیا کی ہر کامیاب پراڈکٹ کے پیچھے جدید تحقیق، دانش اور اختراع کارفرما ہے۔ پاکستان کو عالمی منڈیوں میں نمایاں مقام دلانے کے لیے صنعت اور جامعات کے درمیان ایک مضبوط اور فعال پل تعمیر کرنا وقت کی ناگزیر ضرورت ہے۔ ہماری جامعات کی لیبارٹریوں کو صنعت کے مسائل حل کرنے اور مصنوعا�� کا معیار بہتر بنانے کے لیے تحقیق کرنی چاہیے، جبکہ کاروباری برادری کو اپنے عملی چیلنجز کے حل کے لیے جامعات میں ریسرچ پروجیکٹس کو فنڈ ��رنا ہوگا۔
جب تک ملکی پیداواری شعبے کی پشت پر ٹھوس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ کا نظام کھڑا نہیں ہوگا، ہم بین الاقوامی مسابقت میں آگے نہیں بڑھ سکتے۔ پورے پیداواری نظام کا ڈھانچہ بدل کر اسے نالج اور انوویشن سے جوڑنا ہوگا؛ یہی اکیڈمیا-انڈسٹری پارٹنرشپ ان شاء اللہ 'میڈ ان پاکستان' کو دنیا بھر میں معیار کی مستند علامت بنائے گی۔
#AcademiaIndustryLinkage #ResearchAndDevelopment #KnowledgeEconomy #InnovationDriven #MadeInPakistan #ProductivityAndQuality #IndustrialGrowth
تحریکِ انتشار کی چالاکیاں اور قلابازیاں دیکھیں!
2013 میں دعویٰ تھا کہ خیبر پختونخوا پولیس کو خودمختار اور سیاست سے پاک بنائیں گے۔ اب 2026 کے مجوزہ بل میں کمانڈ، پالیسی، پوسٹنگ، بھرتی، نگرانی اور احتساب سب کچھ ٹی ٹی پی کے سیاسی ونگ تحریک انتشار اور وزیراعلیٰ کے ہاتھ میں مرکوز کر دیا جا رہا ہے۔ خودمختاری کا نعرہ لگا کر اب پولیس کو مکمل طور پر انتشاری جتھے کے کنٹرول میں لانے کی تیاری ہے.
آج بھی اسکو اقتدار کا آسرا کرائیں تو یہ تیل کی بوتل پکی جیب میں رکھ لے گا۔ دانتوں والے ڈاکٹر نے جب باجوہ سے ملاقات کرائ تو کو اقتدار کی واپسی کے لئیے ساری عمر کی ایکسٹنشن دینے پہ راضی تھا۔
خواجہ صاحب نے کہا ہے ہو سکتا ہے یہ آئیں ہی نہ اب پی ٹی آئی سے 27 ستمبر سے آگے جانے کی آوازیں آ رہی ہیں۔ لگتا ہے خواجہ صاحب کی بات درست نکل رہی ہے؛
اگر آے تو یہ آخری دفعہ ہوگا اس کے بعد یہ باب ھمیشہ کے لیے بند ہوجاے گا
خواجہ آصف سے نیویارک میں گفتگو
اب کہا جا رہا ہے لانگ مارچ ملتوی ہو جائے تو عمران خان کو شفاء ہسپتال لایا جائے گا مگر اس کی تردید بھی ہو رہی ہے۔ کوئی ایسا تاثر نہیں جائے گا کہ ڈیل ہو رہی ہے،پہلے باضابطہ طور پر پیچھے ہٹنا ہو گا، عامر الیاس رانا
اسلام آباد اسلامی ایٹمی ریاست کا دارالحکومت ہے اور یہ ان کا آخری اٹیمپٹ ثابت ہوگا، اس کے بعد یہ ادھر کا رخ نہیں کر سکیں گے۔ یہ ایک فیصلہ کن معرکہ ہے، خواہ وہ آئیں یا نہ آئیں، کیونکہ اب پاکستان اور وفاق اس انتشار کے متحمل نہیں ہو سکتے۔
اس شخص کے ساتھ میرا 1964 سے کواڈرینگل ھوسٹل گورنمنٹ کالج لاھور سے تعلق تھا ( دوستی کہتے مجھے حیا آتی ھے) جب ھماری عمر15سال تھی۔ بے شمار اچھے برے کام ساتھ کیے ۔ مشترکہ دوستوں کی بڑی تعداد تھیاور شاید ھے بھی ۔
عمران خان کی حکومت میں یہ وزیر تعلیم تھا۔ اس نے میرے خلاف کابینہ کی میٹنگ بعد عمران خان کے کہنے پہ پریس کانفرنس کی ۔ اور کہا کہ مجھے بیرون ملک سے ماہانہ 12لاکھ کیremittance آتی جو ایک حقیقت اور 30 سال آتی تھی اور میرے انکم ٹیکس ریٹرن میں ماقاعدگی کے ساتھ رپورٹ ھوتی تھی اور میں اس پہ ٹیکس دیتا تھا۔ اس الزام پہ عمران خان نے مجھ پہ آرٹیکل 6 کی کاروائی شروع کی اسکے بعد مجھ پہ نیب کی کاروائی شروع ھوئ اور پھر میں 6مہینے قید رہا۔ PTI کی حکومت کے دوران ھی ھائی کورٹ نے مجھے رہا کیا اور انکوائری اور الزامات کچھ بھی ثابت نہ ھو سکا ۔
یہ شخص پہلے PPPپھر مشرف کا وزیر پھر شہباز شریف کا درباری پھر PTi کا وزیر۔ اور اب کسی نئے مالک کی تلاش میں منتظر ۔
ضمیر اور وفا کے سوداگروں نے جتنی سیاست کی تذلیل کی ھے ۔ شاید جسم کے سوداگروں نے بھی اتنی تذلیل نہیں کمائ ھو گی۔
پچھلے اختجاج میں ایک یوتھی بھائی کنٹینر سے گرا تو قوم یوتھ نے رو رو کر آسمان سر پر اٹھا لیا تھا
آج پشاور میں سہیل آفریدی کی سکیورٹی ٹھڈے اور مکے مار مار کر یوتھی بھائیوں کو نیچے گرا رہی یے لیکن ایک یوتھی کی غیرت نہیں جاگ رہی
کیونکہ یہ صرف ذہنی غلام ہیں۔
خیبر پختونخوا میں انفراسٹرکچر تباہ حال ہے، تعلیم و صحت نظرانداز اور صوبائی حکومت کی امن و امان پر کوئی توجہ نہیں۔ ساڑھے 13 سالہ ناکامیوں کے بعد اب اسلام آباد پر چڑھائی اور پرتشدد احتجاج کی تیاری ہے جس سے قومی معیشت کو اربوں کا یومیہ نقصان پہنچتا ہے۔ ملکی معاشی استحکام کے اس نازک موڑ پر دارالحکومت میں امن و امان کی خرابی کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی، شہریوں اور شہر کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات یقینی بنائیں گے۔
It was a pleasure to meet my dear brother, President Dr. Masoud Pezeshkian, in New York today on the sidelines of UNGA.
We reaffirmed the deep and longstanding bonds between Pakistan and Iran and our shared desire to further strengthen bilateral cooperation across all areas of mutual interest.
We also had an important exchange on the evolving regional situation. I reiterated Pakistan’s deep concern over the prolonged conflict and stressed the urgent need for restraint, de-escalation and sustained diplomacy. We remain committed to building on the Islamabad Memorandum of Understanding and will continue to play a sincere and constructive role in the pursuit of lasting peace and stability in the region.
I deeply value President Pezeshkian’s commitment to Pakistan-Iran friendship and our close coordination for regional peace at this critical juncture.
خیبرپختونخوا حکومت کی شکایات کے جواب میں چند اہم حقائق
مئی 2025 سے اب تک خیبرپختونخوا پولیس کو 73 بلٹ پروف گاڑیاں دی جا چکی ہیں، جن میں 59 بلٹ پروف گاڑیاں اور 14 بکتر بند گاڑیاں شامل ہیں۔ مزید گاڑیاں بھی اکتوبر اور نومبر میں فراہم کر دی جائیں گی۔
اس کے علاوہ دہشتگردی کے خلاف پولیس کے لیے 81 جیمبرز اور 23 ڈرون شکن بندوقیں خریدنے کے معاہدے کیے گئے ہیں۔ 25 جیمبرز پہنچ چکے ہیں جبکہ باقی بھی مرحلہ وار اکتوبر 2026 سے مارچ 2027 تک فراہم کیے جائ��ں گے۔
یعنی دہشتگردی کے خلاف خیبرپختونخوا پولیس کو ضروری حفاظتی سامان فراہم کرنے کا عمل جاری ہے۔
اسلام آباد وفاقی دارالحکومت ہے جہاں اہم ترین دفاتر، سفارت کار اور غیر ملکی مہمان موجود ہیں، اس لیے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کا اولین فرض ہے۔ ماضی میں 25 مئی کے لانگ مارچ میں سرکاری املاک اور گرین بیلٹس کو جلانے سے لے کر عدالتوں کے در و دیوار ہلانے تک، پی ٹی آئی ہمیشہ انتشار اور تشدد کے ذریعے ریاست کو بیک فٹ پر دھکیلنے کی کوشش کرتی رہی ہے۔ یہ لوگ کسی بھی صورت سیاسی طریقہ کار اور جمہوری ڈائیلاگ کے ذریعے آگے بڑھنا ہی نہیں چاہتے۔