Entrepreneur , CEO SS United LLC Oman, IT & Telecommunication services. Educationist. Politician , Founder member & Co-ordinater PTI Oman , Member CEC PTI SKP.
"میرے کشمیریو! آپ باشعور ہیں۔ آپ لوگوں نے مسلسل اپنی آزادی کی جنگ لڑی ہے، آپ لوگ، خاص لوگ ہیں"
2022 میں مظفرآباد کے جمِ غفیر میں عمران خان کا خطاب ثابت کرتا ہے قومی لیڈر کس طرح اپنے لوگوں کو عقیدت کا خراج دے کر انہیں ریاست سے جوڑتا ہے۔ آج پاکستان ہر سطح پر لیڈرشپ سے محروم ہے۔
طاقت نہیں ڈائیلاگ ہی سےمسائل حل ہوتےہیں۔ احتجاج پرطاقت کابےدریغ استعمال مسائل کو حلُ نہیں کرتا بلکہ حالات کومزید بگاڑ دیتاہے۔ جو حکمران تاریخ سے سبق نہیں سیکھتے تاریخ انکےلئےخود کودہراتی ہے۔ دیکھئیے
تابش ہاشمی نے جو پوائنٹس ہائی لائیٹ کئیے ہیں اگر ہمارے ملک کے کسی ادارے میں ٹکے کہ بھی شرم باقی بچی ہے تو اسکے مردہ ضمیر پہ دستک ہے یہ !!
“کشمیری ہمارے اپنے ہی لوگ ہیں ، یہ ہمارے ساتھ ہی ہنستے ہیں ہمارے ساتھ ہی روتے ہیں۔ ہماری باتھ ہی پاکستان کی ہار جیت پہ دکھی ہوتے ہیں ۔ پلیز انکے ساتھ بیٹھ کر بات کیجیے۔ اور بہت سے مسائل ہیں پاکستان میں اسکی طرف دھیان دیں ۔ بجائے اسکے کہ آپس میں لڑتے رہیں ۔”
🚨شاہد خٹک کا دھواں دھار خطاب
میں پارٹی کارکنان اور قیادت کو پیغام دیتا ہوں کہ ہم سب مل کر 5 اگست سے اپنے باہمی اختلافات بڑھا کر اتفاق کے ساتھ 5 اگست سے اسلام آباد کا رخ کریں اور کہیں "رہا کرو رہا کرو عمران کو رہا کرو"
اس مرتبہ عمران خان کی رہائی کے بغیر ہم اسلام آباد سے واپس نہیں آئیں گے۔ شاہد خٹک
وہ مناظر جو جیوڈیشیل کمپلیکس کےمرکزی دروازےسے داخل ہوتےہی مجھےدیکھنےکو ملے۔کوئی ابہام باقی نہیں رہناچاہئیےکہ نامعلوم افراد کےہمراہ اس ساری نفری کی وہاں موجودگی کا مقصد مجھےجیل میں ڈالنانہیں بلکہ ایک فرضی لڑائی کی آڑ میں مجھےرستےسےہٹانا اور میری موت کو ایک حادثہ قرار دینا تھا۔
انڈیا کے اس سٹوڈنٹ کی باتیں غور سے سنیں اس کا مطالعہ اس کا استدلال چیک کریں اس کے مسلمانوں کی سیاسی تاریخ کے حوالے چیک کریں ابھی یہ تعلیم کی بربادی پر احتجاج کر رہے
ہمارے والے تو سکول ہی بیچ کر بیٹھ گے ہیں
پاکستان کے علاوہ دنیا کے کسی ملک میں ایسا نہیں کہ جو شخص 1988 میں وزیراعظم کا امیدوار تھا وہی 2024 میں وزیراعظم کاامیدوار ہے۔۔ 1985 کی اسمبلی میں جو لوگ تھے وہ آج بھی اسمبلی میں ہیں۔۔ ماہر قانون بیرسٹر سعد رسول
عمران خان جیسا زمانہ پھر کبھی نہیں آنا
ریئل اسٹیٹ کے بزنس مین کہتے ہیں کہ وہ دور آئیڈیل تھا کنسٹرکشن کے حوالے سے کسان کہتے ہیں کہ اتنی برکت تھی کہ جو فصل کاشت کی بمپر کراپ ہوئی اور ریٹ بھی بہترین ملا اور پیسے بھی جلدی ملے اس جیسا دور کبھی آ نہیں سکتا۔ آٹو سیکٹر والے کہتے ہیں جتنی گاڑی خان کے دور میں بک رہی تھی پاکستان کی تاریخ میں اتنا کام کبھی نہ ہوا۔ غریب کہتے ہیں کہ ہمارے جیب میں 10 لاکھ روپے کا چیک تھا جب بھی کسی کو کوئی بیماری ہوئی مفت علاج ہوا دوائیاں تک مفت ملا کرتی تھیں۔۔
واقعی ایک غریب پرور اللہ کا خوف والا حکمران پاکستان میں آیا تھا۔ جب سے گیا یے ملک برباد ایسے ہو رہا ہے جیسے کسی نے تیار فصل میں خنزیر چھوڑ دئیے ہوں
🚨🚨 بریکینگ نیوز : مطیع اللہ جان چھا گئے, مطیع اللہ جان کے سوال کے بعد بلاول کو مرچیں لگ گئی ۔ !!!🔥🔥🔥
ذوالفقار علی بھٹو کی اتنی بڑی قربانی کے بعد آج تو ملک میں جمہوریت ہونی چاہیئے تھی، مگر آج بھی آپ سمیت تمام سیاستدان اسی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ سمجھوتے کرتے ہیں حکومت میں آنے کے لیے ۔ 🔥🔥🚨
عمران خان بہت کم کہنے کے بعد اڈیالہ جیل میں ہیں مولانا بہت کچھ کہنے کے بعد مزید کہنے کا عزم کر رہے ہیں تو یہ کیا ہے؟
مولانا آج اگر کھل کر 'آسمان" کیخلاف محاذ کھول رہے ہیں تو اس کی وجہ کیا ہے؟ ایک وجہ کہ طاقت کا استعمال ہی جوابی طاقت کو جنم دیتا ہے، اس اصولی وجہ کے علاوہ کیا مولانا کے پیش نظر کچھ دیگر بھی ہے، مولانا قصور کی تقریر کے بعد خاموش ہوجاتے تو اسے کسی سیاسی تبدیلی سے جوڑے بغیر شائز قرار دیا جا سکتا تھا، اب اس تقریر کے بعد معمول کے سب ہی لوگ ان سے معافی کا مطالبہ کرنے لگے، یہ سب ہی وہی تھے جن کی وجہ شہرت کی 'آسمان' کی مہربانی ہے، ان لوگوں میں درجن ایسے ہیں ان کا درجہ ہی نہیں کہ مولانا ان کو جواب دیں، مگر ہوا یہ ہے کہ مولانا کیخلاف مہم چلی تو ایک وکلاء کی تقریب کا انعقاد کیا گیا، اس سے پہلے مولانا نے جمیعت کے وکلاء سے کبھی خطاب نہیں فرمایا، اس تقریب میں فوجی شہداء سے متعلق اپنے بیان کی وضاحت دی اور کارگل کے شہداء کی داستان بھی سنا دی، سیاستدانوں کی ناسمجھی پر تھوڑی بات کی مگر 'آسمان کے آگے دل کھول کر رکھ دیا، جو کچھ مولانا نے فرمایا کوئی اور کہہ دے تو کفر اور غداری کے فتوے دے دیئے جاتے ، تحریک انصاف میں اگر کسی نے ایسا کچھ کہا ہوتا تو اس پر پہاڑ ڈھا دیئے جاتے، عمران خان نے اس سے تھوڑا کم کہا تھا تو ان کی مصیبت کم ہونے کو نہیں آرہی، قصور والی تقریر کے بعد مولانا نے یہ بھی کہا کہ اب بات ہوتی رہے گی،حبیب اکرم
"باہر سے گندم منگوائیں تو وہ نوے روپے کلو پڑے گی جبکہ پاکستان کا کسان کہتا کہ اس ریٹ پر وہ نقصان میں ہے نقصان کی وجہ کھاد ،ڈیزل ، ٹیوب ویل کے لیے بجلی حد سے زیادہ مہنگی ہونا ہے۔ملک میں زرعی عدم تحفظ بڑھ رہا ہے"۔مزمل اسلم
نورین خان نیازی کے ساتھ مولانا فضل الرحمان کو نوٹس نہیں بھیج سکتے تو بھارتی وزیر خارجہ کو نوٹس بھیج دیں جو بتا رہے ہیں کہ "ہم نے حملے سے پہلے پاکستان کو آگاہ کیا تھا اور پاکستان نے بہاولپور کا مدرسہ خالی کروا لیا تھا"
پاکستان نے پتہ ہونے کے باوجود اس حملے کو روکا نہ اس دعوے کی تردید کی۔
کیا یہ انڈرسٹینڈنگ نہیں تھی ؟
مسلم لیگ ن کے وزراء اور مولانا فضل الرحمن کے ساتھ جو لڑائی ہو رہی ہے یہ نورا کشتی ہے یا صحیح ہے؟ حامد میر
یہ بعد میں پتہ چلے گا، ہم اس معاملے میں امپائر بنے ہوئے ہیں، اس وقت ہم لڑائی کے ساتھ ہیں، شاہد خٹک
نورین خان کی وہ انٹریو جو کبھی نشر نہیں ہوا اس پر نوٹس کرنا صرف اور صرف انتقام ہے۔
سوشل میڈیا سے اپیل ہے کہ نورین خان کے ساتھ کھڑے ہوجائیں اور ڈٹ کر دفاع کریں 🔥