کابل کی دارالعلوم منبع العلوم میں تیسرے سال کے طالب علم زبیر نے
"آزادی کی اہمیت" پر عربی میں تقریر کی۔ خلیفہ سراج الدین حقانی حفظہ اللہ کی موجودگی میں
انہوں نے کہا کہ آزادی اسلام میں ایک اہم قدر ہے،
اور یہ صرف اس صورت میں درست ہے
👇🏼
لندن میں مقیم معروف عالم ڈاکٹر ہانی السباعی نے عید کے خطبے میں کہا:
جب اسلامی امارت نے واشنگٹن کے مطالبات کو مسترد کیا تو اس جرات مندانہ مؤقف نے ٹرمپ کو غصہ دلایا، اور اس نے پاکستان کے مرتد رہنماؤں کو حکم دیا کہ افغانستان پر دباؤ ڈالیں۔ اس کے بعد پاکستان نے حملے شروع کیے، یہاں تک کہ نشہ کے عادی افراد کے ایک ہسپتال کو بھی بمباری کا نشانہ بنایا
طفلة تبكي على والدها بحرقة ولاتفرح بالعيد معه منذ سنوات طويلة لأن ميليشيات الحشد الشعبي قامت باختطافه مع مئات من رجال السنة وللآن مصيرهم مجهول وذنبهم الوحيد أنهم سنة.
لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ
ناسا نے خلا سے مریخ کی تصاویر شیئر کیں۔
اگر کوئی عمر بھر اللہ کے سامنے اس کی لامحدود اور عظیم الشان عظمت کے سامنے سجدہ میں رہے تب بھی ناکافی ہے۔
أعلن رئيس الهيئة المركزية لرؤية الهلال وقاضي القضاة الشيخ عبد الحكيم حقاني، وفقًا للإعلان الرسمي:
غدًا الخميس هو أول أيام عيد الفطر المبارك (شهر شوال المكرم).
عيدكم مبارك
تقصف #باكستان من جديد في آخر ليال الشهر الكريم: مستهدفة مستشفى لعلاج المدمنين في #كابل ويسفر عن مئات الضحايا
شهدت هذه الليلة (الاثنين 16 مارس) العاصمة الأفغانية كابل حادثة مأساوية بعد أن تعرض مستشفى مخصص لعلاج مدمني المخدرات لغارات جوية من قبل الجيش الباكستاني، ما أدى إلى سقوط عدد كبير من الضحايا بين المدنيين الذين كانوا يتلقون العلاج داخل المنشأة الطبية.
وأفادت وزارة الصحة الأفغانية بأن الغارات أسفرت عن مقتل نحو 400 شخص وإصابة مئات آخرين، معظمهم من المرضى المدمنين الذين كانوا يخضعون للعلاج في المستشفى وقت وقوع الهجوم.
من جهته، صرّح المتحدث باسم الحكومة الأفغانية ذبيح الله مجاهد بأن سلاح الجو التابع للنظام العسكري الباكستاني قام مجددًا بانتهاك الأجواء الأفغانية، مستهدفًا منشأة طبية في العاصمة كابل، الأمر الذي أدى إلى سقوط عدد كبير من الضحايا المدنيين.
وأضاف مجاهد أن معظم الضحايا كانوا من المرضى الذين يتلقون العلاج داخل المستشفى، مؤكدًا أن استهداف المرافق الطبية يعد انتهاكًا خطيرًا للقوانين والأعراف الدولية.
وأدان المتحدث باسم الحكومة الأفغانية هذا الهجوم بأشد العبارات، واعتبره جريمة خطيرة وانتهاكًا صريحًا للمبادئ الإنسانية والقوانين الدولية، داعيًا المجتمع الدولي إلى اتخاذ موقف واضح تجاه مثل هذه الاعتداءات التي تستهدف المدنيين والمنشآت الطبية.
ويأتي هذا الحادث في ظل تصاعد التوترات بين #أفغانستان وباكستان، وسط مخاوف من تفاقم الأوضاع الأمنية والإنسانية في المنطقة.
ایران نے اسرائیل پر میزائلوں کی 51 لہر داغ دی،
اسرائیل کا میزائل انٹرسیپٹ کرنے کا نظام مکمل طور پر فارغ ہو چکا ہے
ایران کے 90 پرسنٹ میزائل ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنا رہے ہیں
یہ تصویر ایک ایسے شخص کی کہانی کی ہے جو عرب ملک کے ایک مزرعے میں 27 سال تک مزدوری کرتا رہا۔ یہی بیگ اس کا ساتھی تھا — گھر سے مسافری اور مسافری سے گھر تک۔
بیگ بار بار ٹوٹتا رہا، مگر اس نے نیا بیگ کبھی نہیں خریدا۔ ہر بار اسے اپنے ہاتھوں سے جوڑتا، باندھتا، مرمت کرتا… کیونکہ اس کی کمائی اس کے لیے نہیں، اس کے بچوں کے مستقبل کے لیے تھی۔
سخت گرمی میں بھیڑ بکریاں چرانا، باغ میں کام کرنا، دن رات محنت مزدوری کرنا — اسی مشقت نے اسے وقت سے پہلے کمزور کر دیا۔
مگر اس نے ہمت نہیں ہاری۔
اسی مزدوری سے اس نے چھ بیٹیوں کی شادیاں کیں،
دو بیٹوں کو اعلیٰ تعلیم دلوائی،
ان کی شادیاں بھی کرائیں…
اور اپنی ہر خواہش قربان کر دی۔
یہ تصویر ائیرپورٹ پر لی گئی، جب کسی نے اس سے پوچھا:
“آپ کے بچے کیا کرتے ہیں؟”
وہ چند لمحے خاموش رہا… پھر دھیمی آواز میں بولا:
“اچھی تعلیم حاصل کی ہے… اب اپنی بیویوں کے ساتھ الگ گھروں میں رہتے ہیں۔ میں اور میری بیوی اکیلے رہ گئے ہیں…”
سوچئے…
پچاس سال مسافری اور مزدوری کرنے والا باپ اپنے لیے ایک نیا بیگ تک نہ خرید سکا، مگر بچوں کا مستقبل بنا دیا۔
اور آج اسی بڑھاپے میں وہی والدین تنہا چھوڑ دیے گئے۔
خدارا…
اپنے والدین کا خیال رکھیں۔
ان کی خاموشی کو کمزوری نہ سمجھیں، یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی زندگی جلا کر ہماری زندگی روشن کی