🚨غریدا فاروقی چھوڑ رہی تھی مسلہ گھمبیر تھا
پھر اگیا ماہر ڈاکٹر ارشاد بھٹی صاحب پھر ایسا علاج کیا کہ مریضہ کو فوری شفا حاصل ہوئی
پی ٹی آئی کے کے کسی بھی ترجمان کو چیلنج ہے اگر اتنی معلومات حاصل ہے
جیو بھٹی صاحب✌️👍🔥
@jawadahmadone اگر عمران خان کی بات کرنی ہے تو اس کے لیول پہ آؤ تم بھی اس کی طرح تین نہیں بس ایک ہاسپٹل بنا دو تم بھی عوام سے پیسے لے کر بنا دو نا اگر ہے اتنی اوقات تو بنا کر دکھاؤ پھر ا کر بکواس کرنا
ملزم توقیر نذیر کا انکاؤنٹر کرنا غلط اور غیر قانونی تھا، اس نے تو قتلِ عمد کیا ہی نہیں۔ اس نے بچے کو روکنے کی نیت سے گاڑی دوڑائی تھی، مارنے کی نیت سے نہیں۔
سوشل میڈیا پر معروف قانون دان میاں عبدالمتین ایڈووکیٹ نے اپنی ویڈیو میں یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ توقیر نذیر نے وسیم عباس کو جان بوجھ کر ق��ل نہیں کیا تھا۔ ان کے مطابق، ملزم کے فعل کو قتلِ عمد قرار دینے سے پہلے قانونی پہلوؤں کو سمجھنا ضروری تھا۔ وہ سی سی ڈی کی جانب سے کیے گئے انکاؤنٹر کو غلط اور غیر قانونی قرار دیتے ہیں۔
میاں عبدالمتین ایڈووکیٹ کے بقول، یہ میں نہیں کہہ رہا، تعزیراتِ پاکستان میں لکھا ہوا ہے۔ انہوں نے قتل کی مختلف قانونی صورتوں کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ قتلِ عمد، قتل شبہِ عمد، قتلِ خطا اور قتل بالسبب الگ الگ صورتیں ہیں اور ان کی قانونی حیثیت اور سزائیں بھی مختلف ہیں۔
ان کے مطابق، توقیر نذیر نے قتلِ عمد نہیں کیا، اس نے قتل شبہِ عمد کیا۔ یعنی اس کا ارادہ وسیم کو قتل کرنے کا نہیں بلکہ اسے روکنے اور پکڑنے کا تھا۔
میاں عبدالمتین کا مؤقف ہے کہ اگر ملزم کا جرم قتل شبہِ عمد ثابت ہوتا تو اسے قانون کے مطابق سزا دی جاتی، جس میں دیت یا قید کا معاملہ سامنے آ سکتا تھا۔ انہوں نے دیت کی رقم ایک کروڑ 92 لاکھ روپے بتائی۔
میاں عبدالمتین ایڈووکیٹ نے اپنی ویڈیو میں یہ سوال بھی اٹھایا کہ جب توقیر نذیر کے فعل کی نوعیت، اس کی نیت اور اس پر عائد ہونے والی سزا کا تعین ہونا باقی تھا تو اسے پولیس مقابلے میں ہلاک کرنا کیسے درست قرار دیا جا سکتا ہے؟
ان کے بقول، توقیر نذیر سے جو ہوا وہ بہت غلط تھا، لیکن جو کچھ اس کے ساتھ ہوا، وہ بھی غیر قانونی فعل ہے، جس کی میں مذمت کرتا ہوں۔
ان کا کہنا ہے کہ کسی شخص کی نیت کا تعین کیے بغیر اسے قتل کے ارادے کا مرتکب قرار نہیں دیا جا سکتا۔ میاں عبدالمتین کے مطابق، اگر توقیر نذیر بچے کو روکنا چاہتا تھا تو اس پہلو کی بھی تفتیش ہونی چاہیے تھی۔ کیا وہ بچے کو کہیں لے جانے یا واپس چھوڑنے کی کوشش کر رہا تھا؟ کیا اسے خدشہ تھا کہ بچہ کہیں گم نہ ہو جائے؟ یا اس کے پیچھے کوئی اور وجہ تھی؟ ان کے مطابق، ان سوالات کے جواب تفتیش کے ذریعے سامنے آنے چاہییں تھے۔
انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ریاست نے تو اپنا نظام ہی آسان کر دیا ہے۔ 30 روپے کی گولی چلاؤ، بندہ مار دو، نہ تفتیش کی ضرورت، نہ عدالت میں جانے کی اور نہ جرم ثابت کرنے کی۔ ان کے مطابق، یہ دیکھنے کی بھی ضرورت نہیں سمجھی جاتی کہ گاڑی سے بچے کو روکنے کی کوشش کرنے والے شخص کی نیت کیا تھی۔
میاں عبدالمتین ایڈووکیٹ کے مطابق، عوام سوشل میڈیا پر آواز اٹھاتے ہیں، ریاست ملزم کو مار دیتی ہے اور لوگ سمجھتے ہیں کہ انصاف ہو گیا۔ ان کا مؤقف ہے کہ کسی بھی ملزم کے جرم اور اس کی سزا کا تعین قانونی کارروائی اور شواہد کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔
صادق آباد:سنگدل ماں نے ظلم کی انتہا کرڈالی
عوامی کالونی میں دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا نیلم نامی سنگدل ماں نے اپنے ہی چار سالہ معصوم بیٹے کو بدترین تشدد کا نشانہ بنا کر لہو لہان کر دیاواقعہ پر اے ایس پی آغا انعام اللہ کا نوٹس ملزمہ کے خلاف مقدمہ درج تشدد کرنے والی سنگدل ماں بس پوسٹس نیلم کراچی فرار
بچہ نانی کے حوالے کردیا گیاخاتون کو جلد گرفتار کرلیا جائے گا، ایس ایچ او
۔"
ایس ایچ او نے مزید بتایا کہ "مضروب بچے کی ماں طلاق یافتہ ہے اور بچے کو اپنے اوپر بوجھ سمجھتی تھی۔ وہ بچے کو نانی کے حوالے کرنے کے لیے خود اس پر تشدد کر کے ویڈیو بناتی رہی۔ واقعے کے بعد ملزمہ مسافر کوچ کے ذریعے کراچی فرار ہو چکی ہے، جس کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
Sadiqabad: A bus hostess accused of brutally assaulting her young child has reportedly fled to Karachi.
SHO City Sadiqabad Jam Aftab says case has been registered and the child has been handed over to maternal grandmother. Incident took place 2-3 days ago. Accused to be arrested soon.
صادق آباد کی عوامی کالونی میں 4 سالہ سبحان پر مبینہ تشدد کا افسوسناک واقعہ 💔
معصوم بچوں پر ظلم کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی ہونی چاہیے، بچوں کا تحفظ ہم سب کی ذمہ داری ہے۔
ثاقب یدھڑ پی ٹی آئی کارکنان کے ہتھے چڑھ گیا ، تم نے عمران خان کے نام کا ووٹ لیا ہے تم نے کہا تھا جو ہو جائے میں عمران خان کے ساتھ ہوں ، یدھڑ کی آئیں بائیں شائیں ۔۔