"ہماری تکلیف سمجھ لیں ہمیں عمران خان کی آنکھ کی فکر ہے ان کی آنکھ میں کلاٹ کیوں آیا؟ تحریک چلانے کا مطلب اس حکومت پر پریشر ڈالنا ہے تاکہ ان کا علاج ہو، عمران خان خود کبھی نہیں کہیں گے انہوں نے تو کہا تھا میں جیل میں مر جاؤں گا لیکن وقت کے یزید کے سامنے سر نہیں جھکاؤں گا"علیمہ خان
Pakistan economic survey issued. Bottom line: it confirms that 4 years of shehbaz sharif as PM have produced the lowest 4 year growth in Pakistan history of 2.3% per annum. Lower than even population growth. #Budget#EconomicDisaster
پانچواں بجٹ بنانے کی پاکستان میں شاز و نادر ہی کسی کو توفیق ہوئی۔ یہ انفرادیت تو شہباز صاحب کو مِلی ، اسٹیبلیشمنٹ کی بھی غیر معمولی حمایت ، پر عوام کو کیا ملا؟ مہنگائی ، بے روزگاری ، بَد امنی اور گھُٹن۔ کہاں ہے غیر مُلکی سرمایاکاری؟ اُلٹا درجنوں ملٹی نیشنل کمپنیاں بھی پاکستان چھوڑ گئی۔ بڑی ٹیم ہے جی ن لیگ کے پاس۔ سواہ ٹیم ۔ اگر آئی ایم ایف کے کہنے پر ٹیکس ہی ٹھوکنے ہیں تو یہ کام تو کوئی ایرا غیرا بھی کر سکتا ہے۔
پاکستان کے 75 سالوں میں پیٹرول کی قیمت 150 روپے تک بڑھی تھی، اور صرف ان تین سالوں میں 300 روپے سے زیادہ بڑھ چکی ہے۔ یہ انتہائی کی ناکامی ہے جو اس ملک پر مسلط کر دئے گئے ہیں۔
وزیر اعلی خیبر پختون خواہ سہیل آفریدی
@SohailAfridiISF
“اس ملک کے ججوں کو خود پر شرم آنی چاہیے۔ ہم نے بارہا عدلیہ سے رجوع کیا، لیکن انہوں نے اپنی ذاتی مراعات کے عوض اپنے ضمیر کا سودا کر لیا ہے۔ انہوں نے اپنی دیانتداری بیچ ڈالی ہے۔
وہ جانتے ہیں کہ وہ مجھے توڑ نہیں سکتے، اس لیے وہ میری اہلیہ کو اذیت پہنچاتے ہیں۔ ��رف مجھے بلیک میل کرنے کے لیے ججز بشریٰ بی بی کے ساتھ اس قدر غیر انسانی سلوک کی اجازت کیسے دے سکتے ہیں؟ انہیں دن کے 24 گھنٹے قید تنہائی میں رکھا جاتا ہے، اور پورے ہفتے میں مجھ سے ملاقات کے محض 30 منٹ دئیے جاتے ہیں، اور اکثر تو اس ملاقات پر بھی پابندی عائد کر دی جاتی ہے۔ اسلام میں عورتوں، بچوں اور بزرگوں کو نقصان پہنچانے کی ممانعت ہے۔ ان کے مقاصد بالکل واضح ہیں۔
جج معاشرے میں انصاف کے ذمہ دار ہوتے ہیں، لیکن اس ملک کے ججز کو خود پر شرم آنی چاہیے” -
ناحق قید سابق وزیرِ اعظم پاکستان عمران خان کا اڈیالہ جیل سے اپنے بیٹوں سے ٹیلی فونک گفتگو کے دوران پیغام
(21 مارچ، 2026)
Yesterday I spoke to my father. He asked me to relay the following message:
“The judges in this country should be ashamed of themselves. Time and time again we have gone to the judiciary. But they have sold their souls for their paid personal privileges. They have sold their integrity. They know they cannot break me, so they turn to my wife. How they can allow this inhumane treatment to Bushra BiBi, simply to blackmail me. She spends 24 hours a day in isolation, except for 30 minutes with me per week - and even that is often ignored. It is unislamic to harm women, children and the elderly - and their motives are plain and clear. The judges are responsible for the justice in a society. They should be ashamed of themselves.”
بڑی خبر: عمران خان کا اپنے بیٹے قاسم خان کے ذریعے اہم پیغام ! میں نے کل اپنے والد سے بات کی۔ انہوں نے کہا کہ ان کا یہ پیغا�� آگے پہنچا دوں، اس ملک کے ججوں کو اپنے آپ پر شرم آنی چاہیے۔ بار بار ہم نے عدلیہ سے رجوع کیا، لیکن انہوں نے اپنی ذاتی مراعات کے عوض اپنی روحیں بیچ دی ہیں۔ انہوں نے اپنی دیانت فروخت کر دی ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ وہ مجھے توڑ نہیں سکتے، اس لیے وہ میری اہلیہ کو نشانہ بناتے ہیں۔ وہ کیسے بشریٰ بی بی کے ساتھ اس غیر انسانی سلوک کی اجازت دے سکتے ہیں، صرف مجھے بلیک میل کرنے کے لیے؟ وہ دن کے 24 گھنٹے تنہائی میں رہتی ہیں، سوائے اس کے کہ ہفتے میں صرف 30 منٹ میرے ساتھ ملاقات کی اجازت ہوتی ہے، اور وہ بھی اکثر نظر انداز کر دی جاتی ہے۔ خواتین، بچوں اور بزرگوں کو نقصان پہنچانا غیر اسلامی ہے اور ان کے عزائم بالکل واضح ہیں۔ جج معاشرے میں انصاف کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ انہیں اپنے طرزِ عمل پر شرمندہ ہونا، قاسم خان کا ٹویٹ۔۔!!