اس کے بعد موت جیسا سناٹا تھا ادھر ابو کی عمر شاید چالیس ہو اسوقت پر زہن پر نقش ہیں ہمارے و��لدین کا احترام اپنے آباو اجداد کی طرف۔ اور وہ ہی چاچو ابو کے سب سے بہترین دوست تھے جن کے انے سے ہم سب بہن بھائی جیلس ہوتے تھے کے ابو کو وہ ہم سے زیادہ پسند ہیں ۔۔♥️
یہ ڑرامہ دیکھتے ہوئے اکثر اپنا قبیلہ یاد اتا ہے ۔ یہاں دادی یاد ائی ایک بار دونوں تایا ابو اور چاچو دادو کے پاس بیٹھے گپ شب لگا رہے تھے ابو اور چاچو میں بحث ہوئی اور بحت تلخی کی طرف بڑھ رہی تھی کے دادو نے اپنی چھڑی اٹھائی اور پہلے ابو کی کمر پر ہھر چاچو کی کمر پر لگائی۔ خاموش
لندن بھارتی سفارتخانے کے باہر جب ہم نے خان صاحب کے کہنے پر احتجاج کیا تھا تو یہ تصویر خود لی تھی ۔ اس وقت کشمیریوں کی بہت بڑی تعداد تھی اس وقت پاکستانی بھی بہت ہمارے ساتھ تھے ۔ اس وقت خان صاحب کی بات بار بار زہن میں اتی ہے۔ میرے پاکستانیوں!!!!!!!