I request @Jemima_Khan to challenge Imran Khan's sentence in international court of justice because his life is in extreme danger.
Retweet if you're agree
چیئرمین عمران خان نے گزشتہ ہفتے اپنے خطاب میں پیش گوئی کی تھی کہ؛
”مجھے گرفتار کر لیں پھر بھی تحریک انصاف کا امیدوار جیتے گا“
خیبرپختونخوا میں آج کا بلدیاتی انتخاب ان کے مؤقف پر مہرِ تصدیق ثبت کرتا اور یہ ثابت کرتا ہے کہ رب العزت کے بعد طاقت کا حقیقی سرچشمہ عوام ہی ہیں۔
#PTISMT
چیئرمین پاکستان تحریک انصاف کا پیغام:
میری گرفتاری متوقّع تھی چنانچہ میں نے یہ پیغام اپنی گرفتاری سے قبل ریکارڈ کروایا۔
یہ لندن پلان پر عملدرآمد کی جانب ایک اور قدم ہے مگر میں چاہتا ہوں کہ میرے کارکنان پرامن، ثابت قدم اور مضبوط رہیں۔
ہم رب العزّت کے سوا کسی کے سامنے نہیں جھکتے جو ”الحق“ ہے۔ لاالٰہ الّا اللہ ہی ہمارا ایمان ہے۔
#لندن_پلان_نامنظور
We will file a case of 22A in the courts against IG police KP and the DCO responsible for these acts of vandalism. My message to police and government officials is that circumstances never remain the same and rest assured that you will be held accountable for these crimes. And “orders from above “
won’t keep you out of prison.
The practice of illegal raids and ransacking the homes of PTI leaders & workers still continues unabated.
PTI KP President Ali Amin Gandapur, who was arbitrarily detained earlier and spent a month in prisons all over the country where he was also subjected to custodial torture, has had his home raided again.
The authorities harassed his 82-year old father for 5 hours, plundered & looted millions of rupees worth valuables and took away 5 vehicles. Also, they deliberately caused a gas leak which could’ve even blown up the house.
These tactics will not break the resolve of Pakistanis or deter their spirits for Haqeeqi Azadi, but it is fracturing the relationship between the State & its citizens.
پاکستان تحریک انصاف کے اراکین اور ذمہ داران کے گھروں پر غیرقانونی چھاپوں اور توڑ پھوڑ کا سلسلہ بلا رکاوٹ جاری ہے۔
تحریک انصاف خیبرپختونخوا کے صدر علی امین گنڈا پور جنہیں پہلے بھی بغیر کسی جواز کے حراست میں لیا گیا اور ملک بھر کی جیلوں میں ایک ماہ تک قید رکھا گیا جہاں انہیں دورانِ حراست تشدد (کسٹوڈیل ٹارچر) کا نشانہ بھی بنایا گیا، کی رہائش گاہ پر پھر سے چھاپہ مارا گیا ہے۔
حکّام نے ان کے 82 سالہ ضعیف والد کو 5 گھن��وں تک ہراساں کیا اور نہایت بےرحمی سےلوٹ مار کرتے ہوئے لاکھوں روپے مالیت کی قیمتی اشیاء اور 5 گاڑیاں ساتھ لے گئے۔ اس کے علاوہ انہوں نے جان بوجھ کر گیس لیک کی جس سے پورا گھر ایک دھماکے سے اڑ سکتا تھا۔
ان حربوں اور ہتھکنڈوں سے اہلِ پاکستان کے پایۂ استقامت میں کوئی لغزش پیدا ہوگی نہ ہی ان کے دلوں میں حقیقی آزادی کی تڑپ ماند پڑے گی البتہ یہ ریاست اور شہریوں کے مابین رشتے میں دراڑیں ڈال رہے ہیں۔
ہم اس توڑ پھوڑ کے ذمہ دار آئی جی پولیس اور ڈی سی او کیخلاف عدالتوں میں 22A کا مقدمہ دائر کریں گے۔ پولیس اور سرکاری حکّام کیلئے میرا پیغام ہے کہ حالات بہرحال ہمیشہ ایک سے نہیں رہتے چنانچہ آپ یقین رکھئیے کہ ان جرائم پر آپ کا محاسبہ کیا جائے گا۔ اور ”اوپر سے ملنے والے“ احکامات آپ اور جیل کے مابین ہرگز حائل نہ ہو سکیں گے۔
میں نے مودی سرکار کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر (IIOJK) کی خصوصی حیثیّت کے خاتمے کی ہمیشہ نہات شدّت اور صراحت سے مذمّت کی ہے۔ بھارت نے پوری ڈھٹائی سے بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدّہ کی قراردادوں ہی سے انحراف نہیں کیا بلکہ یہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں آبادی کے تناسب کو بدل کر چوتھے جینیوا کنونشن کے تحت ایک جنگی جرم کا مرتکب بھی ہوا ہے۔ المیہ تو یہ ہے کہ عالمی برادری کا طاقتور حصّہ انسانی حقوق کے معاملے میں امتیازی طرزِعمل اختیار کئے ہوئے ہے۔
بھارت کو انسانی حقوق کی پامالی کی میسّر چھوٹ کو عالمی طاقتوں (م��الک) کے ہاں ملنے والی قبولیت میونخ اور ہٹلر کی خوشامد سے مشابہہ ہے۔ میں اہلِ کشمیر کی جدوجہد اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے ذریعے فراہم کردہ ان کے حقِ خودرادیت کی حمایت میں ہر فورم پر اپنی آواز بلند کرتا رہوں گا۔
ہماری 75 سالہ تاریخ میں کبھی کسی حکومت نے محض ایک شخص اور اس کی جماعت کو اقتدار سے دور رکھنے کیلئے ہماری جمہوریت، ہماری شہری آزادیوں (سول لبرٹیز)، ہمارے مذہبی، اخلاقی اور تہذیبی اقدار کو مِلیا میٹ کرنے کی ایسی جامع اور کثیرالجہت کوششیں نہیں کیں!
جبکہ اس پورے عمل کے دوران ہماری معیشت اور ریاستی اداروں کو مکمل طور پر تباہی کی بھینٹ چڑھانے کا سلسلہ جاری ہے۔
https://t.co/WS6ESktEtW
افتخار درانی کو نصف شب بغیر وارنٹس کیوں اٹھا لیا گیا ہے؟ ان کا تو 9 مئی کے واقعے سے کچھ بھی لینا دینا نہیں۔
چنانچہ ہر اس شخص کو غیر قانونی پکڑ دھکڑ اور کریک ڈاؤن وغیرہ کا نشانہ بنایا جارہا ہے جس کی تحریک انصاف سے کچھ بھی نسبت ہے۔
(پوری قوم پر) اب یہ واضح ہو جانا چاہئیے کہ پاکستان تحریک انصاف کیخلاف جاری سلسلۂ جبر و استبداد کا 9 مئی کے واقعات سے کچھ بھی تعلّق نہیں بلکہ اس سب میں تحریک انصاف کو کچلنے کیلئے تیار کیا گیا لندن پلان ہی کارفرما ہے۔
Never in our 75 years history has a government so comprehensively tried to dismantle our democracy, our civil liberties, our religious, moral and cultural values just to keep one man and his party out of power.
And in the process completely destroying the economy and our state institutions.
https://t.co/Z5W8Zme0AM…
مجھے اب یہ شمار کرنے میں بھی دِقّت کا سامنا ہے کہ عدالت کیجانب سے گرفتاریوں کی معطّلی کے بعد حکّام نے شہریار آفریدی کو کتنی مرتبہ گرفتار کیا ہے۔
پاکستان کے عوام دیکھ رہے ہیں کہ انکے نمائندوں کو محض اس لئے کہ وہ پاکستان تحریک انصاف سے ناطہ توڑنے یا میرے خلاف وعدہ معاف گواہ بننے سے انکاری ہیں، کس سطح کی بےانصافی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
عوام اس صریح ظلم و فسطائیّت کا انتخاب کے روز (بھرپور) جواب دیں گے، ان شاء اللہ
I’ve lost count of the times Shehryar Afridi has been rearrested by the authorities, after having his arrests suspended by the Courts.
The people of Pakistan are watching the injustice their public representatives are being put through only because they refuse to renounce PTI or become approvers against me.
Public will respond to this blatant fascism on the polling day, InshAllah.
Why has Iftikhar Durrani been picked up in the middle of the night without any arrest warrant?
He had nothing to do with the 9th May incident.
So the crackdown against anyone who has anything to do with PTI continues.
It should now be obvious that this oppression and clampdown against PTI has nothing to do with the events of 9th May but everything to do with the London plan to dismantle PTI.