کتنا اندوہناک واقعہ ہے کیا گزر رہی ہو گی ان ماؤں پر ان فیملیز پر جن کے نومولود بچے کتنی اذیت ناک صورتحال کا نشانہ بن گئے افسوس ، حکمران انکوائری بیٹھائیں گے اور پھر یوں ہی زندگی آگے چلتی جائے گی کسی کو کوئی اثر نہیں ہو گا
عمران ریاض صاحب، حامد میر صاحب، اقرار الحسن، فہیم صاحب، سلیم صافی صاحب، تمام صحافی حضرات، انسانی حقوق کے علمبرداروں، انسانیت کی آواز بننے والے کارکنوں، سیاسی و سماجی کارکنوں، نوجوانوں اور قوم کے تمام باشعور لوگوں!
یہ میرے سنٹرل کرم، چمکنی کے اُن غریب اور بے گناہ پہاڑی لوگوں کی صدائیں ہیں، جو کل ڈرون حملے میں اپنے پیاروں کی لاشوں کے سامنے چیخ چیخ کر رو رہے ہے۔ 💔😭
یہ صرف ایک علاقے کا درد نہیں، یہ انسانیت کا درد ہے۔ اُن ماؤں، بہنوں، بچوں اور خاندانوں کی چیخیں ہیں جنہوں نے اپنے پیاروں کو اپنی آنکھوں کے سامنے کھو دیا۔ یقین کریں، انسان تو کیا، ایک بے زبان جانور بھی اُس درد کو محسوس کر سکتا ہے۔
خدارا! سیاسی وابستگی، اختلاف اور ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر صرف انسانیت کے نام پر ہماری آواز بنیں۔ ہمارے ان بے گناہ لوگوں کے لیے آواز اٹھائیں۔ ان کی چیخیں دنیا تک پہنچائیں۔
ویڈیو دیکھیں، پھر خود فیصلہ کریں کہ یہ درد کتنا گہرا ہے۔ 💔😭
#کرم #انسانیت #انسانی_حقوق
ڈاکٹر فیصل کا مطالبہ 🚨
مجھے خان صاحب کو دیکھے ہوئے تقریباً 2 سال کا عرصہ گزر گیا ہے، عمران خان کے مؤثر اور جامع علاج کے لیے ذاتی ڈاکٹرز کو رسائی عمران خان تک رسائی دی جائے
#TorturingImranKhanIsACrime
ایک طرف اسلام آباد پولیس طلباء کو کہہ رہی ہے کہ وہ فوجی افسر کو ہتھکڑیاں نہیں پہنا سکتے اور پھر جب طلباء نے احتجاج شروع کیا تو اب یقین دہانیاں کروا رہے ہیں کہ
" وہ فوجی افسر چاہے برگیڈیر ہو یا پھر کوئی بھی ہو کاروائی ہو گی"
جناب صرف یقین دہانیاں ہی نہیں بلکہ کاروائی چاہئیے اور کاروائی ہوتی نظر آنی چاہیے
یہ ان طلباء کا نوکر ہے ، ان طلباء کے ٹیکس کے پیسوں سے تنخواہ لیتا ہے اور اب یہ نوکر انہیں طلباء پر فائر کررہا ہے
یہ صرف ان چند طلباء پر نہیں بلکہ پورے پاکستان کے طالب علموں کو ان کی اوقات یاد کروائی گئی ہے
یہ مناظر انتہائی افسوسناک اور خطرناک ہیں فوجی افسر کی وردی جنریشن زی کو سوٹی سے مارنا، پستول نکال کر فاہرنگ کرنا وہ بھی اسلام آباد میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔الله ہی رحم کرے اب
🚨طالبہ کا انکشاف
پولیس والے کہہ رہے ہیں کہ وہ فوجی افسر کو ہتھکڑیاں نہیں پہنا سکتے ، آپ کیوں ہتھکڑیاں نہیں پہنا سکتے،
یہاں کسی لڑکی کی عزت محفوظ نہیں ہے کہ " کوئی بھی آرمی افسر آکر اس کا دوپٹہ کھینچے "آج اگر آپ نے آواز نا اٹھائی تو کل کسی کی عزت محفوظ نا ہوگی