"اے اللہ! تمام اسباب منقطع ہوچکے ہیں، اہل زمین سے مدد مانگنا منقطع ہوچکا۔ صرف آپ باقی ہیں اے اللہ!
اے اللہ! وہ اپنی قوتوں سے طاقتور ہوتے ہیں، اور ہم آپ کی طاقت سے ان پر طاقتور ہوتے ہیں ۔
مدینہ میٹھا ترین شہر ہے یہاں آنے کے بعد بندہ کا دل کرتا ہے کہ مستقل سکونت یہیں اختیار کر لے مگر ساتھ میں ڈر لگا رہتا ہے کہ یہاں کے آداب بھی بہت زیادہ ہیں اللہ یہاں بے ادبی سے بچائے آمین
جب سے مسلمانوں نے تجارت سیاست اور عدالت سے اسلام کو بے دخل کرکے مسجد اور عبادات تک محدود کیا ھے
اس وقت سےمسلمان
خوار و زار ہیں
اور اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے۔کہ دینی ماہرین اور علماء کا بھی مذکورہ شعبہ جات میں ضرورت نھیں رہی۔
تو لازمی بات ہے۔کہ علماء صرف نماز پڑھائیں گے
لیکن یہ کوی خدای قانون نھیں بلکہ مسلمانوں کا اسلام کے ساتھ عدم تعلق کا اثر ہے۔
ماشاءاللّٰہ مشتاق احمد کی وصیت سب حیران ہوگئے
جنازے سے پہلے بالی ووڈ کے معروف اداکار مشتاق احمد خان کی ایسی مبینہ وصیت سامنے آگئی جس نے سب کو جذباتی کردیا! مسلم میڈیا بھارت کے مطابق مشتاق احمد خان نے اپنی وصیت میں واضح کیا تھا کہ اپنی جائیداد میں سے اولاد کا حصہ اسلامی طریقے کے مطابق دیا جائے جبکہ ایک کنال زمین انہوں نے مسجد کے لیے وقف کر رکھی ہے اور خواہش ظاہر کی ہے کہ ان کی وفات کے بعد اسی زمین پر مسجد تعمیر کی جائے۔ بتایا گیا ہے کہ یہ وصیت ممبئی کی مسجد بلال کے امام محمد اویس کو ان کی اہلیہ نے سنانے کے لیے دی۔ وصیت سنتے ہی مشتاق احمد خان کے بڑے بیٹے کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور انہوں نے کہا کہ والد کی تدفین کے فوراً بعد امام محمد اویس کے ساتھ مل کر مسجد کا سنگ بنیاد رکھا جائے گا اور میں اپنے ذاتی پیسوں سے اپنے والد کے لیے یہ مسجد تعمیر کروں گا تاکہ جب تک اس مسجد میں اللہ کا نام لیا جاتا رہے میرے والد کو اس کا ثواب ملتا رہے۔ اگر یہ رپورٹ درست ہے تو ایک اداکار کی زندگی کی آخری خواہش اب ایک ایسی مسجد کی صورت میں زندہ رہ سکتی ہے جو ان کے لیے صدقۂ جاریہ بن جائے
ابھی ایک قبرستان صدر کینٹ کے علاقے میں ہمارے دوست چوہدری خوشی محمد صاحب کی تدفین کے لیے حاضر ہوئے تو یہ منظر دیکھ کر بہت خوف ہوا اور یہ ویڈیو بنائی ہے کہ لواحقین پیچھے چکر ہی نہیں لگاتے وہ اپنی دنیا میں مست ہیں خدارا کچھ وقت ان مرحومین کی خبر گیری کے لیے بھی نکالیں
وزیراعظم صاحب آپ سے سیاسی اختلاف اپنی جگہ لیکن اقوام متحدہ کے فلور پر کھڑے ھو کر آپ نے جس انداز سے فلسطین کے لئے آواز اٹھائی وہ داد کے مستحق ھے۔
پاکستان ہمیشہ زندہ باد
@CMShehbaz
جبر کا الزام لگا کر قادیا/نیوں نے کیا دعویٰ کیا؟
مولانا امجد خان صاحب نے اسمبلی کے فیصلے کی حقیقت بتا دی
فیصلہ کسی دباؤ سے نہیں، دلائل کی بنیاد پر ہوا تھا
اقتدار کی کرسی بڑی یا اصول؟
ہم نے سولہ ماہ میں بھی حق کا ساتھ نہیں چھوڑا
اصولوں پر کھڑا ہونا ہمارے لیے اعزاز ہے
سابق وفاقی وزیر مولانا اسعد محمود کا لاہور میں خطاب
لگتا ہے بنگلہ دیش نے ہمیں آئینہ دکھانے کی ٹھان لی ہے، مگر ہمیں شرم آنے کا نام نہیں!
بنگلہ دیش کی معیشت اور برآمدات ہم سے آگے ہیں مگر وہاں کی وزیراعظم جنرل اسمبلی کے لیے عام فلائٹ سے نیویارک گئے۔
اور ہمارے وزیر اعظم اپنے ہی طیارے میں پہلے لندن گئے اور پھر لندن سے نیویارک چلے گئے۔
اور بچوں کی گریجویشن کا معاملہ الگ!
واقعی، ڈھٹائی میں ہمارے حکمرانوں کا کوئی ثانی نہیں۔
اس بندے کو کبھی دوبارہ موقعہ نہ دیں جس نے تمہارے کردار پرتمہارے رزق پر یا تمہارے تعلق پر تمہیں نقصان پہنچایا ہو کیونکہ سانپ سوراخ تو بدل لیتا ہے مگر زہر اس میں وہی رہتا ہے