#قومی_مطالبہ_خان_کی_رہائی
ہمارے موجودہ صورتحال ایسی ہی ہے جیسے انگریزی میں “It was the best of times, it was the worst of times” کہتے ہیں۔ مقابل اپنی آخری آخری چالیں چل رہا ہے، سائفر سے جس تنزلی کے سفر کا آغاز کیا تھا؛ عدت جیسے بیہودہ کیس میں ملک کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی کے قائد کو قید رکھ کر مقتدرہ اپنی قبر کھود چکی ہے۔ اُس کی ساری امیدیں اب آپ سے وابستہ ہیں۔ آپ ہی ہیں جو اُس کے مردہ وجود کو جینے کا سہارہ دے سکتے ہیں۔ It is the worst of times کیونکہ ہر شاطر دشمن کا بدترین وار اندرونی ہوتا ہے، وہ خدشے، وسوسے، اندیشے اور بدگمانیاں ڈال کر آپ کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کرتا ہے۔ آپ کی صفوں میں مایوسی پھیلاتا ہے۔ آپ کو تقسیم کرتا ہے۔ مگر it is the best of times کیونکہ وہ صرف آپ کے ردعمل پر اپنی ساری امیدیں لگائے بیٹھا ہے۔ اُس کے پاس مزید کوئی داؤ نہیں ہے۔ عمران خان نے ہمیں ۱۴-۱۵ مارچ کو بھی اپنی ڈھال بننے کو نہیں کہا تھا۔ ۱۸ مارچ کو بھی یہ عمران خان کا حکم نہیں تھا کہ قوم گولیوں کے سامنے کھڑی ہو۔ نہ ۹ مئی کو عمران خان نے احتجاج کی کال دی تھی۔ ہر مرتبہ اُس کی قوم اُس کا کارکن خود نکلا تھا۔ تو کیا ۵ اگست کو عمران خان کی گرفتاری اُس کی قوم کی ناکامی تھی؟ کیا عمران خان کا کارکن لڑ لڑ کر تھک گیا تھا جو اُس نے روزِ روشن کی طرح عیاں بدنیتی کے باوجود عمران خان کو ایک بوگس کیس میں گرفتار ہونے دیا؟ نہیں! عمران خان کا کارکن تھکا ہوتا، اُس کی قوم نے ہار مانی ہوتی تو ہماری سامنے ۸ فروری نہ ہوتا۔ نشان چھن گیا، ۱۰۰ اور یاد کرلیے۔ امیدوار اٹھا لیا، ۱۰ اور کھڑے ہوگئے۔ پولنگ والے دن عوام نے جو جنگ لڑی تاریخ کی کتابوں میں تحریر ہوگی۔ ۹ اپریل ۲۰۲۲ اے لے کر آج دن تک کیا کیا نہیں سہا ہم نے تو کیا چار دن اور گولیوں کے سامنے کھڑے نہیں ہوسکتے تھے؟ آج عمران خان ہمارے درمیان ہوتا۔۔ عمران خان کی گرفتاری وہ کڑوی گولی تھی جو ہم نے اپنے کپتان کے حکم پر اُس کے ہم پر لاگو کیے ��سپلن کے سبب نگلی۔ آپ کو کیا لگتا ہے سردی گرمی میں بنی گالہ سے لے کر زمان پارک تک جو لوگ عمران خان کے لیے کیمپوں میں پڑے رہے تھے۔ جنہوں نے ریاست کی بدترین فسطائیت کا مقابلہ کیا۔ ۱۸ مارچ کے حالات تو آپ کی آنکھوں کے سامنے تھے، ۱۵ مارچ کی صبح ایک موقع ایسا آیا تھا جب پولیس زمان پارک کا گیٹ توڑ رہی تھی اور ہم اندر بمشکل ۳۰-۴۰ بندہ رہ گئے تھے۔ ان کے پاس تازہ دم فورس تھی، شیل تھے، اسلحہ تھا، ہمارے پاس اپنے سروں کے سوا کچھ نہیں تھا۔ تب خان صاحب نے باہر آکر ہمیں سمجھایا تھا کہ میں گرفتاری دے دیتا ہوں۔ لڑکوں نے کہا ہم مرجائیں تو بے شک دے دیں۔ کیا ایسے لوگ ۹ مئی کے بعد زمان پارک سے ��پنی جان بچانے چلے گئے تھے؟ نہیں جب تک خان صاحب روک نہیں رہے تھے ہم نے اُن کے کہنے کا انتظار نہیں کیا۔ مگر جب وہ جان گئے کہ یہ ہوس اقتدار میں اتنے اندھے ہوگئے ہیں کہ یہ اپنی طاقت کو دوام دینے کے لیے اپنے ملک کو خاکستر کرنے سے بھی گریز نہ کریں گے اور ��ُن کی جانب سے باقاعدہ تاکید کی گئی پیچھے ہٹنے کی تب ہم پر واجب تھا کہ ہم لیڈر کا حکم مانتے۔ یہ جو لیڈر شپ ایک سال اپنے گھروں سے، اپنے والدین اپنے بچوں سے دور رہی۔ جن کے گھر توڑے گئے، جن کی خواتین کو ہراساں کیا گیا، اس ملک میں قانون نامی کسی چیز کا شائبہ بھی ہوتا تو خدا کی قسم جیل اس دربدری سے کہیں بہتر رہتی۔ ہفتے میں ایک بار کسی اپنے کی شکل دکھائی دے جاتی۔ دن میں ایک بار سہی آسمان تو دیکھنے کو ملتا ہوگا۔۔ تو کیا لگتا ہے یہ سب پارلیمان کی سیٹ اور ایم این اے بننے کے لیے سہا تھا؟ یا پارٹی عہدوں کے لیے؟ کیا لگتا ہے آج عمران خان باہر ہوتا تو یہ ”موقع پرست“ محض ایم این اے ہوتے یا اس کی کابینہ میں وزیر مشیر ہوتے؟ کون سی پوزیشن ذیادہ بہتر ہے؟ اس ایک سال میں میں ذاتی طور پر خان صاحب سے درجنوں مرتبہ اجازت مانگ چکا ہوں۔ جب اور جتنی اجازت ملی ہے اس حد تک کیا ہے۔ جہاں انہوں نے رُکنے کی تاکید کی ہے۔ میں رُکا ہوں، دل پر جبر کرکے رُکا ہوں کیونکہ وہ میرا لیڈر ہے۔وہ میرے سامنے ہوتا میں اُس کی سٹریٹجی پر اُس سے بحث کرتا، اپنی رائے دیتا۔ فیصلے کا اختیار اُسی کا تھا، اُسی کا رہے گا۔ میں پھر کہتا ہوں it is the best of times یہ آخری چال ہے، مشاہدہ کریں، تبصرہ کریں، بحث کریں کھل کر سب سامنے آنے دیں۔ لیکن اپنا فوکس مت تبدیل کریں نہ کسی کو کرنے دیں۔ عمران خان جیل میں اپنی پارٹی کی وجہ سے نہیں ہے۔ عمران خان جیل میں اس بدبودار، تعفن زدہ نظام کی وجہ سے جہاں عوام تو عوام جج تک انصاف کے دروازے سے مایوس لوٹ رہے ہیں۔ جہاں اپنے حق کے لیے آواز اٹھانا غداری ہے اور فرض کی بابت سوال کرنا بغاوت۔ جہاں اپنے ملک کی خودمختاری کا علم اٹھانا ننگی تلوار پر چلنے برابر کردیا گیا ہے۔ عمران خان جیل سے اُس دن نکلے گا، جب ہم اپنے اتحاد سے اس متعفن لاش پر مٹی ڈالیں گے نہ کہ اپنے ہاتھ ایک دوسرے کے گریبانوں پر ڈال کر اُس کو سانس لینے کا موقع فراہم کرکے۔ ایسا کرنا عمران خان سے اصل غداری ہوگی۔
حسّان نیازی اور عباد فاروق،جن پر غیرآئینی طور پر ایک فوجی عدالت میں مقدمہ چلایاگیا اور جو سزا/فیصلےکےمنتظر تھے،کے انہی لوگوں، جنہوں نے 9 مئی کے فالس فلیگ آپریشن کی منصوبہ بندی کی اور سی سی ٹی وی کی تمام ریکارڈنگز/فوٹیجز چرائیں، کے ہاتھوں اغوا پر نہایت تشویش میں مبتلا ہوں۔
فوجی عدالتوں سےمتعلق مقدمات کی سماعت کرنےوالا سپریم کورٹ کا بنچ جنگل پاکستان میں رائج جنگل کے اس قانون کا فوری نوٹس لے۔
بریکنگ نیوز:🚨
عمران خان نے چیف جسٹس پاکستان قاضی فائزعیسیٰ پرعدم اعتماد کردیا۔میرے کیسز نا سنیں۔اور یہ خود بتائیں کہ آپ ایکسٹنشن نہیں لے رہے۔خط لکھ دیا
شعیب شاہین کی اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا ٹاک
گویا ججز کو ڈرانا دھمکانا، عام انتخابات پر ڈاکہ ڈالنا اور پولیس تھانوں پر دھاوے بولنا کافی نہ تھا کہ وہ ” نامعلوم“ افراد جو اب زیادہ نامعلوم بھی نہیں رہے، این اے-8 باجوڑ میں الیکشن آفس پر حملہ آور ہوئے ہیں جہاں انہوں نے توڑ پھوڑ کے ساتھ الیکشن عملے کو بھی وحشیانہ سلوک کا نشانہ بنایا ہے جسکی تفصیلات ریٹرننگ افسر نے اپنے خط میں قلمبند کی ہیں۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں ریاستی نظم کا شیرازہ پوری طرح بکھر چکا ہے اور ”جنگل کا بادشاہ“ یہاں قانون کی حکمرانی کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہوئےپوری ڈھٹائی سے اپنے ایجنڈے کی تکمیل میں مصروف ہے۔ستم ظریفی تو یہ ہے کہ اعلیٰ عدلیہ بظاہرکسی ساز باز کے نتیجے میں اس لاقانونیّت میں ملوّث ہے یا اس کے خلاف اقدام کرنے سے بے حد خوفزدہ اور عاجز ہے۔
“کل ہونے والے ضمنی الیکشن میں آپ نے ناصرف ووٹ ڈلوانے ہیں بلکہ ووٹ پر پہرہ بھی دینا ہے-
ووٹ ڈلوا کر تب تک پولنگ سٹیشن پر رہیں جب تک پولنگ ایجنٹ کو فارم 45 نہ مل جائے- اس کے بعد ریٹرننگ افسر کے دفتر کے باہر پہنچیں اور جب تک ہمارے امیدواروں کو فارم 47 نہ ملے تب تک گھر نہ جائیں” -
بانی چئیرمین تحریک انصاف عمران خان کی پارٹی سپورٹرز اور ورکرز کے لیے ہدایات.
عطا تارڑ نواز شریف کے اٹارنی ہیں ان کے ذریعے نواز شریف کی حفاظتی ضمانتیں دائر ہوئی ہیں اور دونوں درخواستوں پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے رجسٹرار آفس نے کیوں کوئی اعتراض عائد نہیں کیا ؟ جب عمران خان صاحب کی ضمانتوں کی درخواستیں بطوراٹارنی میرے ذریعے دائر ہوئی تھی تو اسلام آباد ہائی کورٹ رجسٹرار آفس نے فورا اعتراض لگایا تھا کہ فوجداری کیسسز ضمانت وغیرہ میں اٹارنی کے ذریعے درخواست دائر نہیں ہو سکتی.اور عمران خان خود بائیو میڑک کے لیے اس کمرہ میں ویل چیئر پر بھی ہر دفعہ بائیو میٹرک کے لیے جاتے رہے . آج پھر نواز شریف کے لیے الگ قانون ہے ؟ رجسٹرار آفس نے نمبر بھی الاٹ کردیا گیا.دوہرا نظام انصاف.
رونگٹے کھڑے ہوجاتے ایسی تصاویر دیکھ کر یا اللہ فلسطین کے مسلمانوں کی غائبانہ امداد فرما میرے اللہ توں رحم کرنے والا ہے تیرے خزانے میں کوئ کمی نہیں 🙏🤲🇵🇸
#PalestineGenocide#مستشفى_المعمداني#فلسطين_الان
اس دنیا میں ایک پشتون کی طرح جیے، نظریں اٹھا کے جیے سر اٹھا کے جیے جابر کے گلے پہ ہاتھ ڈالیں ۔ ہم آپ کے ظلم کے ضابطوں کو نہیں مانتے ۔ اور یہ صرف وکیل کر سکتے ہیں کیونکہ ہمیں ان کے قانونی حقوق کا بھی علم ہے اور ہمیں اپنے حقوق کا بھی علم ہے۔ ہمیں پتا ہے کہ تھانے دار کب ہمارے گھر میں گھس سکتا ہے اور ہمیں پتا ہے کہ اگر وہ غلط گھسے گا تو قانون ہمیں حق دیتا ہے کہ اسی ٹانگ سے پکڑ کر اسے دیوار پر پھینکے۔ کوئی ناجائز ہم پر ہاتھ ڈالے تو اسے اسالٹ کہتے ہیں۔ اور اسالٹ کے لیے قانون ہمیں حق دفاع کا حق دیتا ہے۔ لہذا مجال ہے کہ کوئی ہمیں غیر قانونی طریقوں کے ہتھکنڈوں سے ڈرا سکیں ۔ تو کیوں وکیل ڈر سکتا ہے۔ اس قوم کو جس کو جبر ظلم کے بلبوتے پر ڈرایا گیا اور نفسیاتی مریض بنایا گیا ہے۔
گذشتہ ایک سال سے ارشد شریف کے بہیمانہ قتل کے حوالے سے بیہودہ بیانات خاموشی سے سن رہا ہوں۔ یہ نہیں کہ کہنے کو کچھ ہے نہیں، کہہ تو میں شائد سب سے زیادہ اور تفصیلاً چکا ہوں۔ مگر جو کہا ہے اُس پر بحث نہیں ہوگی کیونکہ میرے کہے میں وہ نام ہیں جن کو لینے کی ان کی اوقات نہیں۔ بحث ہوگی تو یہ کہ میں نے ارشد شریف کی مدد کی۔ بلکل کی۔ میرا بھائ مصیبت میں تھا اُس نے مجھ سے جب کہا جیسے کہا میں نے اُس کے لیے کیا۔ وہ اِس سے زیادہ کہتا میں اِس سے زیادہ کرتا۔ میرے بس میں اُس کے حصے کی گولی کھانا ہوتا میں وہ بھی کھا لیتا کیونکہ میں جانتا ہوں کہ وہ بھی اِس سے گریز نہ کرتا۔ وہ تو شاید اِن جیسوں کے لیے بھی اِس حد تک جانے سے گریز نہ کرتا مگر انہیں ایسی باتوں ایسے لوگوں کی کیا ��وجھ۔۔
یہ جو ایک سال سے ملعون بیٹھ کر بیانیے بنا رہے ہیں اِنہوں نے کیا کیا اُس کے لیے؟ جب وہ مصیبت میں تھا کہاں تھے یہ؟ کون کھڑا تھا اُس کے ساتھ؟ جب اُس پر ایف آئ آرز درج ہورہی تھیں دھمکیاں مل رہی تھیں کِس نے اُس کا ساتھ دیا؟ جب وہ ملک چھوڑ کر گیا کس نے آواز اٹھائ اس کے لئے؟ جب اس کو زبردستی دبئی سے نکلوایا گیا کِس نے اپنے صحافی ہونے کا حق ادا کیا؟ تم تو اتنے بد بخت ہو کہ اُس کی میت پر اپنا سودہ بیچ رہے تھے۔ کیا تم اس کے جرم سے واقف نہیں تھے؟ کیا تم اُس کے مجرموں سے واقف نہیں تھے؟ کب کِس کے ساتھ زیادتی ہوئ کہ جس پہ وہ چُپ بیٹھا ہو تم نے کونسا قرض ادا کیا اُس کا؟ تم زندگی میں ��س کے لیے انصاف مانگ نہیں سکے تم نے تو موت میں بھی اُس کے لیے انصاف کا رستہ ہی کھوٹا کیا۔ تُف ہو تم پر۔ نکالو فیکٹ فائنڈنگ ٹیم کی رپورٹ کرو اُس پر بات، نکالو جے آئ ٹی کے ہمارے بیان کرو اُن پر بات۔ نہیں اُس کی اوقات نہیں تمہاری۔ تم سچ کا بوجھ اٹھا سکو اتنا حوص��ہ نہیں تم میں لیکن ہاں کسی پر الزام تراشی کرنی ہو تو خدمات حاضر ہیں تمہاری۔ کسی کو عبث مروانا ہو تو قلم مُیسر ہیں تمہارے۔ نہ میرے پاس ارشد شریف کا فون ہے نہ لیپ ٹاپ یہ بھی جانتے ہیں کہ یہ بیانیہ مستقل کسی مقصد کے تحت بنایا جارہا ہے اور ۹ مئی سے کہیں پہلے سے بنایا جارہا ہے۔ میں نے جن لوگوں کے نام جے آئ ٹی میں دیے ہیں نا صرف اِس کے پیچھے اُن کا ہاتھ ہے بلکہ میرے خلاف ہونے والی تمام تر کاروائیوں میں وہی افراد ملوث ہیں۔ چاہے وہ گذشتہ سال آگست اسلام آباد میرے گھر پر اسلحہ بردار افراد بجھوانا ہو یا گذشتہ ہفتے میرے رشتہ داروں کے گھر بغیر وارنٹ دھاوا بول کر خواتین سے بدتمیزی ا��ر ڈاکا ڈالنا ہو۔
کوئ واقعی میں ارشد شریف کے قاتل ڈھونڈنے میں مخلص ہے تو میرے ایف ایف ٹی کو بھیجے سوالات اور جے آئ ٹی کو دیے گئے جوابات پر بحث کرلے۔ اگر کوئ بہت بڑا صحافی ہے اور اُس کو انکشافات کا شوق ہے تو میرے اِس دعوی کی تحقیق کرلے۔ رہی یہ بات کہ میری پارٹی یا عمران خان مجھے قتل کرنا چاہتے ہیں میں بارہا یہ بھی بتا چکا ہوں کہ کس کو میں کبھی ارشد شریف کے قتل کے بہانے، کبھی سرحد پار والوں کے نام پر اور کبھی ۹ مئی کی آڑ میں “زندہ یا مردہ مطلوب ہوں” مگر وہی بات کہ وہ نام لیتے تو پَر جلتے ہیں۔ سو اگر سچ بولنے کی استطاعت نہیں ہے تو اپنی جانوں پر رحم کرکے ایک اور قتل کے سہولتکار نہ بنو۔
اور چوتھی دفعہ مسلط کیا جائے گا ۔
چالیس سال میں پاکستان میں ایک بھی لیڈر پیدا نہیں ہوا اس لیے ایک ہی گیڈر کو بار بار لیڈر بنا کر مسلط کیا جا رہا ھے۔ جس نے 12 سال لندن میں پاکستان عوام کے لیے تکلیفیں برداشت کیں۔۔۔۔۔
منصوبہ یہی ھے لیڈر کو اندر رکھ کر پارٹی کو توڑ کر جتنا توڑ سکتے ہیں یہاں تک کہ کوئی ٹکٹ لینے والا نہ ہو پھر جا کر لیول پلیننگ فیلڈ ملکہ عالیہ کی ڈیمانڈ کے مطابق ہو۔ جس کے لیے کمپنی دن رات قانون و ائین کی دھجیاں اڑا رہی ھے
خالی میدان میں گیڈر کو شیر بنا کر پیش کیا جائے گا