سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن کی زیر صدارت محکمہ ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ کے اہم اجلاس میں عوامی سفری سہولیات میں مزید توسیع کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کی زیر صدارت اجلاس میں پیپلز بس سروس کی توسیع، ڈبل ڈیکر بسز، ای وی ٹیکسی سروس، پنک اسکوٹیز اور بی آر ٹی منصوبوں پر پیش رفت پرتبادلہ خیال کیا گیا۔
اجلاس میں سیکریٹری ٹرانسپورٹ اسد ضامن، سی ای او ٹرانس کراچی زبیر چنہ، ایم ڈی سندھ ماس ٹرانزٹ اتھارٹی عامر بہزاد میمن اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔
اجلاس میں سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کو صوبے میں پیپلز بس سروس کے جاری آپریشنز اور مختلف شہروں میں سروس کی توسیع سے متعلق بریفنگ دی گئی
اجلاس کو بتایا گیا کہ قمبر شہدادکوٹ تا لاڑکانہ روٹ پر پیپلز بس سروس جلد شروع کی جا رہی ہے، بسیں لاڑکانہ پہنچ چکی ہیں، جبکہ ڈبل ڈیکر بسوں کی آمد اور آپریشنل معاملات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔
اجلاس میں ای وی ٹیکسی سروس کے آپریشنل ماڈل اور سروس کے آغاز کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
اجلاس میں شرجیل انعام میمن نے ہدایت دیں کہ نئے روٹس پر بس سروس کے آغاز کے لیے تمام انتظامات بروقت مکمل کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز بس سروس کا دائرہ کار بڑھانے کا مقصد کے عوام کو بہتر ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کرنا ہے، میرپورخاص میں جلد پنک اسکوٹیز تقسیم کرنے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خواتین کو بااختیار بنانے اور ضروری سرگرمیوں تک آسان رسائی کے لیے پنک اسکوٹیز پروگرام انقلابی قدم ہے، بی آر ٹی منصوبوں پر کام کی رفتار کو مزید تیز کیا جائے ، غیر ضروری تاخیر سے بچنے کے لئے تمام متعلقہ ادارے باہمی رابطے کے ساتھ کام کریں۔
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ سندھ حکومت صوبے میں جدید، محفوظ اور ماحول دوست پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے، پیپلز بس سروس کی مختلف شہروں تک توسیع، الیکٹرک ٹرانسپورٹ کا فروغ اور بڑے بی آر ٹی منصوبے جامع ٹرانسپورٹ پالیسی کا حصہ ہیں۔
سندھ کی تقسیم نامنظور! تاریخی قرارداد کی منظوری اور سندھ اسمبلی میں دوٹوک اعلان نے واضح کر دیا کہ سندھ کی وحدت پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا، جبکہ بائیکاٹ کرنے والے بھی عوام کے سامنے ایکسپوز ہو گئے۔ پاکستان پیپلز پارٹی سمیت کوئی بھی قوت سندھ کی وحدت کو تقسیم نہیں کر سکتی، کیونکہ ہم سب کا جینا مرنا سندھ سے ہے۔ سندھ کے عوام اپنی دھرتی کو کسی صورت تقسیم نہیں ہونے دیں گے۔ ایک سندھ، متحد سندھ — سندھ ہمیشہ ایک رہے گا!
@sharjeelinam
چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے بڑی بہادری سے اتنے حساس موضوع پر سندھ اسمبلی میں مباحثہ شروع کروایا۔ صوبوں سے متعلق تحریکِ التواء سے واضح ہوجائے گا کہ کون دوست اور کون دشمن ہے۔
پیپلز پارٹی کی رکنِ صوبائی اسمبلی نزہت پٹھان کا سندھ اسمبلی میں اظہارِ خیال
ہمارا سندھ، ہماری دھرتی ہے، اس پر ہم کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ سندھ یہاں بسنے والے ہر شخص کا ہے۔ ہمارا جینا مرنا سندھ میں ہے۔ سندھ کا بچہ بچہ اس بات پر کھڑا ہے کہ ہم سندھ کو کسی صورت تقسیم نہیں ہونے دیں گے۔ یہ دھرتی ماں ہماری ہے، ہم اس کی حفاظت کریں گے۔
@FaryalTalpurPk
تعلیم کی مضبوط بنیاد، سندھ کے روشن مستقبل کی ضمانت!
سندھ حکومت سرکاری اسکولوں میں معیاری تعلیم، بہتر تعلیمی ماحول اور بچوں کے روشن مستقبل کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔
حیدرآباد کے گورنمنٹ گرلز لوئر سیکنڈری اسکول، ٹنڈو میر غلام حسین، لطیف آباد نمبر 9 نے دنیا کے ٹاپ 10 اسکولوں میں جگہ بنا کر پاکستان کا نام عالمی سطح پر روشن کر دیا۔ یہ اعزاز سندھ حکومت کے تعلیمی کی بہتری کیلئے کیے گئے اقدامات کی کامیابی کی مثال ہے
تعلیم سب کے لیے، روشن سندھ سب کے لیے۔
@BBhuttoZardari
#EducationForAll
Free Pink Scooty Training Session was successfully held in Mirpurkhas by the Sindh Mass Transit Authority that is another meaningful step towards women’s empowerment, independence, and safe mobility.
InshaAllah, free of cost Pink Scooties will soon be distributed among eligible women in Mirpurkhas, with the initiative continuing to expand across districts and divisions of Sindh.
Empowering women means empowering Sindh. When women move forward, Sindh moves forward!
“پاکستان پیپلز پارٹی کا نظریہ عوام کی خوشحالی ہے، جبکہ خون اور ن لیگ کی معاشی پالیسیاں امیر کو مزید امیر اور غریب کو مزید غریب بناتی ہیں۔ ہم حقِ روزگار، کسان، مزدور اور پسماندہ طبقے کے حقوق کی بات کرتے ہیں کیونکہ مضبوط معیشت کی بنیاد عام آدمی کی خوشحالی ہے، نہ کہ چند خاندانوں کی دولت۔”
@BBhuttoZardari
#KashmirPeDakaNamanzur
#VotePeDakaNamanzur
رکن قانون ساز آزاد جموں و کشمیر اسمبلی چوہدری یاسین نے اجلاس کے آغاز میں ٹروتھ اینڈ ریکنسیلیشن کمیشن کے قیام کی قرارداد پیش کی، جسے آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی نے اکثریتی رائے سے منظور کر لیا۔
Mirpur,
Aap ko buses, hospitals, roads aur airport ke waade sunaye ja rahe hain. Main har bus, har hospital, har road aur har airport ka khairmaqdam karta hoon.
Lekin awam ke paisay se banne wali cheez kisi siyasatdan ka tohfa nahin hoti, awam ka haq hoti hai.
Pakistan Peoples Party ne sirf waade nahin kiye. Hum AJK ka budget mein 3,308 naye teachers, cardiac hospital, naye roads, IT centres aur naujawanon ke liye rozgar ke mauqay rakhe hain. main nai khud pichily Wafaqi budget mai Mirpur Airport ki leya paisa dilwaya hain. Jis stadium mai hamary mukhalif taqree kartay hain - wo bhe PPP kay daur main bana.
Main Kashmir ke awam ko Haq-e-Hakimiyat, Haq-e-Milkiyat aur Haq-e-Rozgar dilwana chahta hoon.
wohi huqooq jo har Pakistani shehri ko hasil hain. Tab unhay is kisim ki tofay Kay zarrorat nahi hoga. Wo khud apni taraqi ki bandabast karaygay,
27 July ko bari tadaad mein bahar niklein, teer par mohar lagayen aur Pakistan Peoples Party ko kamyab karwayen.
Taraqqi bhi! Ikhtiyar bhi! Rozgar bhi! Aur Kashmir ka Faisla Kashmir ka!
آزاد جموں و کشمیر کا مستقبل صرف نعروں سے نہیں بلکہ سنجیدہ مکالمے، جمہوری فیصلوں اور عوامی مینڈیٹ سے طے ہوگا۔
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ آنے والی اسمبلی کو نوجوانوں کے سیاسی بحران، ریاستی نظام میں ضروری اصلاحات اور عوام کو مزید آئینی و جمہوری حقوق دینے جیسے اہم فیصلے کرنا ہوں گے۔ ایسے فیصلے صرف مضبوط، بااختیار اور عوام کے حقیقی مینڈیٹ سے منتخب ہونے والی اسمبلی ہی کر سکتی ہے۔
ہمیں ایسا آزاد کشمیر چاہیے جہاں ریاست کی حیثیت اور کشمیر کاز پر مؤقف برقرار رکھتے ہوئے عوام کو زیادہ حقوق، بہتر نظام اور روشن مستقبل فراہم کیا جا سکے۔
@BBhuttoZardari
مریم نواز شریف صاحبہ کی کشمیریوں کو دی ہوئی بسیں اگر کشمیر نہیں پہنچی ہوں گی تو ابھی استعفیٰ دے دوں گا
سینیئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کا رانا ثناء اللہ کے ٹی وی پروگرام ہے کھلا چیلنج۔
لائیو: سیمینار برائے عنوان “کراچی کو وفاق کے ماتحت چلانے، این ایف سی ایوارڈ میں کٹوتی، اٹھارویں آئینی ترمیم اور صوبائی خودمختاری کے خلاف باتیں پاکستان کو ون یونٹ کی طرف دھکیلنے کی سازش تو نہیں؟ https://t.co/lgtzYy7Ee2