Captain Mandeep Singh made the supreme sacrifice during the Kargil War in 1999 for the nation.
26-Jul "Kargil Vijay Diwas": in remembrance of martyrs and to celebrate India's victory over Pakistan in the war.
Gurmehar Kaur: Cap Mandeep Singh's daughter, shocked everyone by making it a "war thing" and "not Pakistan" types of pseudo-intellectualism.
Remember (spl for this generation): it was Pakistan's regular army soldiers who intruded into India back then in 1999 and therefore India had to respond to push them back. This war was picked up by Pakistan.
Today, Gurmehar Kaur, would have been with the BJP, the NCP or any other party. But she is officially with Congress.
Compromised individuals in the U.S. administration are burying their heads in the sand.
They ignore the realities on the ground and seem focused only on 2028.
The mindless aggression they advocate will only ensure that POTUS pays heavier price for deal he's trying to achieve.
Was assured by Ukrainian FM @andrii_sybiha that the attack on an Iranian ship was unintentional and Ukraine seeks no escalation.
Iran does not seek escalation either, but made clear any attack on our citizens or interests is unacceptable. There must be restitution for losses.
He recorded a victory lap while the bombs were still falling.
Declared Iran’s time was up.
Smiled as if history had already sealed the ending.
Then history sealed his.
Iran remains.
The man who celebrated its death does not.
This is the fate of those who wish death upon Iran.
“And the evil plot does not encompass except its own people.”
— Quran 35:43
جیل میں لکھی احمد فرہاد کی تازہ نظم
اک قضیہ ہے
اک نعرہ ہے
اک سودا ہے
اک رستہ ہے
ایک الم ہے
ایک ہی غم ہے
ایک جنون ہے
ایک ہی خون ہے
ایک گھٹن ہے
ایک چبھن ہے
ایک خطا ہے
ایک سزا ہے
ایک سا مقتل کا نقشہ ہے
اِس منظر سے اْس منظر تک
راولاکوٹ سے سری نگر تک
پیروں میں زنجیریں ایک ہیں
جینے پر تعزیریں ایک ہیں
وحشت کی تصویریں ایک
خوابوں کی تعبیریں ایک ہیں
قبروں پر تحریریں ایک ہیں
اک شہ رگ کا نام لکھا ہے
اِس خنجر سے اْس خنجر تک
راولاکوٹ سے سری نگر تک
احمد فرہاد
کل تک جو پی ٹی وی میں بیٹھ کر حکومتی بیانیہ بناتے تھے اب انکو ہھی نوٹس ملنا شروع ہوگئے ہیں۔ سینئر صحافی عمران شفقت کو وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ کی مدعیت میں NCCIA نے نوٹس بھجوا دیا ہے۔
ایک شہری اپنی گاڑی میں سامان لیکر جا رہا تھا سامان بھی سارا اس کی کار کے اندر تھا اس کے باوجود ٹریفک وارڈن نے چالان کر دیاکہ گاڑی میں سامان نہیں لے جا سکتے
عجیب عذاب کی صورتحال ہے
کنٹرول لائن کے دونوں جانب حالات یکساں ہوگئے، نہ ادھر والوں کا ادھر والوں کی آزادی پر رشک باقی رہا اور نہ ہی ادھر والوں کو ادھر والوں کے دکھ بہت بڑے دکھائی دینے لگے ۔
آ عندلیب مل کے کریں آہ و زاریاں
تو ہائے گل پکار میں چلاؤں ہائے دل
ہم چار سال اپنا گھر جلتے دیکھتے رہے
چپ رہے
اب اپنی شہ رگ کٹتے دیکھ رہے ہیں
پھر بھی چپ ہیں
کسی کے ہاتھ پر اپنا خون تلاش کرنے کی ضرورت نہیں۔ ہم اپنے قاتل بھی خود ہی ہوں گے
بزدل گونگے مقتول
فرضی مقدمات میں عمر ایوب خان کو عمران خان سے وفا کے جرم میں لمبی سزائیں سنائی گئیں۔ علیمہ خان کی اسٹریٹ موومنٹ میں "وزیراعظم عمران خان" کا نعرہ لگا کر عمر ایوب اور ہری پور کے عوام نے عمران خان سے وفا کو دوآتشہ کردیا۔
پاکستان میں extreme بے حسی جو نظر آتی ہے وہ مریم نواز میں ہے مریم نواز وہ خاتون ہے جس کا ریکارڈ ہے کہ پاکستان میں جب جب لاشیں گرتی ہیں یہ عورت جشن مناتی ہے ۔
ثمینہ پاشا
راولاکوٹ میں
پُرتشدد جھڑپوں کے بعد میرپور میں
بھی عوامی ایکشن کمیٹی کے
کارکنوں اور پولیس میں تصادم،
کئی ہلاکتوں کی اطلاع ۰۰۰۰۰
خدارا ! روکو اس خونریزی اور
قتل عام کو
کشمیری اپنے لوگ ہیں ۔۔۔