ایک وزیر کس طرح حکومت کے خلاف ایسا بیان دے سکتا؟ جبکہ2دن پہلے کیبنٹ میٹنگ تھی, وزیر داخلہ نے وہاں کوئی بات نہیں کی؟ جنرل صاحب تکلف برطرف"جمہور کی آواز" کی کوئی اوقات ہوتی توموجودہ سیاست دان حکومت میں نہ ہوتے، نہ آپکو یہ بات کہنے کی ضرورت رہتی اورنہ ہی محسن نقوی شتربےمہار بنتے۔
امیر العظیم: ایک شخص رخصت ہوا، ایک عہد میں خلا چھوڑ گیاکہ قدرت کا اصول اور فیصلہ ازل سے یہی ہے کہ ہر نفس کو موت چکھنی ہے۔ہے
امیر العظیم مرحوم میرے ایک عزیز دوست، نیک سیرت، صالح، باعمل، صاحب شعور اور صاحب کردار ایسے مسلمان تھ کہ ہر مد میں چارسو دھاک بیٹھا کر ہی جدا ہوئے۔ دین سے محض لگاؤ نہیں تھا بلکہ اپنے پورے شعور، فہم و ادراک اور عمل کے ساتھ تن من دھن ساری زندگی دین کے لیے وقف کر رکھا تھا۔ ان سے تعلق محض دوستی کا تعلق نہیں تھا، ایک ایسے تحریکی ساتھی اور نادر انسان کی رفاقت تھی جس پر ہمیشہ رشک آتا تھا کہ کس یکسوئی، استقامت اور اخلاص کے ساتھ انہوں نے اپنی زندگی کو ایک بڑے مقصد کے سپرد کر رکھا تھا۔
شعور کی دہلیز پر قدم رکھا تو پھر پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ اسلامی جمعیت طلبہ سے اپنے سفر کا آغاز کیا اور اپنی غیر معمولی صلاحیت، خطابت، تنظیمی بصیرت، فکری پختگی اور وفاداری کے باعث بہت جلد ملک بھر کے نوجوانوں میں اپنی شناخت بنا لی۔ وہ جہاں گئے، صرف اپنا نام نہیں چھوڑا بلکہ ایک فکر، ایک نظریہ، ایک کردار اور ایک روشن نقش چھوڑ گئے۔
وفاداری بشرط استواری اصل ایمان کو انہوں نے محض ایک جملہ نہیں سمجھا بلکہ اسے اپنی زندگی کا دستور بنا لیا۔ جماعت اسلامی سے وابستگی ان کے لیے کسی عہدے، منصب یا مصلحت کا تقاضا نہیں تھی بلکہ زندگی کے بیدار شعور کا شاخسانہ تھی۔ پھر جماعت ان کے ایمان، نظریے، عزم اور زندگی بھر کی جدوجہد کا حصہ بنتی چلی گئی اور وہ بھی جماعت کی فکری و تحریکی زندگی کا ایک معتبر حوالہ بن گئے۔ انہوں نے اپنی عمر عزیز کا بڑا حصہ دین، ملت اور وطن کی فکری و اخلاقی تعمیر کے لیے وقف کر دیا۔
ایسے لوگ کسی جماعت کے صرف کارکن نہیں ہوتے، وہ جماعت کا سرمایۂ افتخار، فکری اثاثہ اور اخلاقی سرمایہ ہوتے ہیں۔ اسی لیے امیر العظیم کا انتقال جماعت اسلامی کے لیے محض ایک بڑے رہنما، مخلص کارکن اور صاحب نظر انسان کی جدائی نہیں بلکہ ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔ ایسے خلا کسی نئے عہدے دار کی تقرری سے پُر نہیں ہوتے۔ ایک امیر العظیم کو وجود میں آنے کے لیے برسوں کی تربیت، مطالعہ، جدوجہد، قربانی، اخلاص، استقامت اور کردار درکار ہوتا ہے۔
اور یہی وجہ ہے کہ آج ان کی جدائی پر دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔
موت برحق ہے، ہر نفس نے اس راستے سے گزرنا ہے، مگر بعض لوگوں کی موت انسان کو محض غم زدہ نہیں کرتی بلکہ اندر سے توڑ دیتی ہے۔ امیر العظیم بھی انہی لوگوں میں سے تھے۔ ان کی کمی صرف امیر العظیم ہی پوری کر سکتے تھے، اور المیہ یہ ہے کہ وہ اب ہمارے درمیان نہیں رہے۔
وہ اپنے پیچھے انمٹ نقوش چھوڑ گئے ہیں۔ ان کی آواز خاموش ہو گئی، مگر ان کی فکر نے باقی رہنا ہے، اسی میں آسودگی ہے۔ اگرچہ ان کا سفر ختم ہو گیا، مگر ان کا راستہ باقی ہےاور ہمیں اس پر چلنا ہے پیروی کرنی ہے۔ ان کی زندگی ختم ہوئی، مگر ان کی جدوجہد کا اثر باقی رہے گا۔ یہی قدرت کا اصول ہے کہ انسان رخصت ہو جاتے ہیں، مگر ان کے کردار، افکار اور اعمال ان کی زندگی کا تسلسل بن کر زندہ رہتے ہیں۔
ان کے اہل خانہ، بالخصوص ان کے چاروں بیٹوں منیب، شہیر، فصیح اور وجیح کے لیے دل کی گہرائیوں سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنے والد کی روشن میراث کا امین بنائے۔ ان کے بیٹے اپنے والد کے نام کو مزید چار چاند لگائیں، ان کے کردار، علم، اخلاص اور دینی وابستگی کو آگے بڑھائیں اور ثابت کریں کہ عظیم باپ اپنی اولاد میں بھی زندہ رہتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ امیر العظیم مرحوم کی تمام دینی، ملی، قومی اور انسانی خدمات کو شرف قبولیت عطا فرمائے، ان کی لغزشوں سے درگزر کرے، ان کے درجات بلند فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔
اللہ تعالیٰ ان کے بچوں، عزیز واقارب ، دوستوں، رفقائے کار اور جماعت اسلامی کے ہر کارکن کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ یہ صدمہ صرف ایک گھر کا صدمہ نہیں، ایک جماعت، ایک تحریک اور ایک وسیع فکری حلقے کا نقصان ہے۔
آج ایک مطمئن نفس اپنے رب کے حضور حاضر ہے۔ پیچھے ایک خاندان سوگوار ہے، دوست غم زدہ ہیں، جماعت ایک بڑے نقصان سے دوچار ہے اور ایک پورا فکری و تحریکی حلقہ اپنے ایک درخشاں ساتھی سے محروم ہو گیا ہے۔
مگر امیر العظیم کی اصل زندگی شاید اب شروع ہوئی ہے۔ کیونکہ جسم رخصت ہو جاتے ہیں، کردار باقی رہتے ہیں۔ آوازیں خاموش ہو جاتی ہیں، مگر نظریات زندہ رہتے ہیں۔ انسان دنیا سے چلے جاتے ہیں، مگر ان کے نقش قدم آنے والی نسلوں کو راستہ دکھاتے رہتے ہیں۔
إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔
@TallalPMLN محض 11 سیکنڈ کی ویڈیو، جس کا نہ آغاز نظر آتا ہے اور نہ ہی انجام، اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ محترمہ نورین نیازی صاحبہ کی گفتگو کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔
Mr Trump:You are not God.
Arrogance has destroyed leaders before—Trump and Netanyahu are no exception; both are destined to bite the dust n will be humiliated to the hilt
I fear their reckless actions will ultimately harm n destroy their own nations. It’s only a matter of time before the seeds you’ve sown come back to haunt you.
You’re not bringing down others,you’re steering your own countries toward ruin. Lessons from history, Empires rise n then fall . USA had a great rise n now it's about sunset time to the once great rise of an American empire , die is cast,
بیمار لاغر 78سالہ چوہدری پرویز الٰہی کی تضحیک آمیزاورشرمناک طریقہ سے گرفتاری نے نہ صرف آئین اور قانون کا مذاق اڑایا گیا، ہ عدلیہ کے بھی پرخچے اڑا دئیے۔جنگل کا قانون نافذ ہے۔اس گرفتاری کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔
@HamidMirPAK مولانا صاحب نے کھینچ کے جوتا مارا اور آگے سے جو چوؤں چوؤں ہوئی مطلب نشانہ بالکل ٹھیک لگا اور مولانا صاحب نے معذرت کر کے اپنا قیمتی جوتا جھاڑ جھووڑ کے واپس پہن لیا ہے تاکہ دوبارہ مار سکیں موقع ملنے پر
@HamidMirPAK مولانا صاحب نے کھینچ کے جوتا مارا اور آگے سے جو چوؤں چوؤں ہوئی مطلب نشانہ بالکل ٹھیک لگا اور مولانا صاحب نے معذرت کر کے اپنا قیمتی جوتا جھاڑ جھووڑ کے واپس پہن لیا ہے تاکہ دوبارہ مار سکیں موقع ملنے پر
@Dr_FirdousPTI Madam kia ap unemployed PhD Doctors k liay bhi kuch karain gain ya ap logon ka anjaam bhi kuch aesa hi honay wala hai. Jhotay waday itni dair nhe chaltay. PhDs bhi jobless hain tou baqi logon ka kia hall ho ga