وزیراعظم کی ’’آئیں بات کریں‘‘ کی پیشکش
تالی دو ہاتھوں سے بجتی ہے، یہاں دوسرا ہاتھ نہیں
ایک ہاتھ ہے جو قوم کے چہرے پر تھپڑ مار رہا ہے !
مولانا فضل الرحمٰن کی میڈیا سے گفتگو
نوجوانوں کو کہتا ہوں کہ آپکو سری لنکا، نیپال اور بھارت کی طرح باہر نکلنا ہوگا، آنیوالے دنوں ایک لاکھ نوجوانوں کے ساتھ سندھ پبلک سروس کمیشن ہیڈ آفس کے باہر ج��ع ہو کر ان کا حق لے کر جائیں گے ,راشد محمود سومرو
جے یو آئی ف رہنماء علامہ راشد محمود سومرو کی سندھ پبلک سروس کمیشن ہیڈ آفس کے سامنے قائم احتجاج کیمپ آمد انہوں نے احتجاجی کیمپ کے شرکاء کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا
علامہ راشد محمود سومرو کا کیمپ آمد پر طلباء کے ہمراہ میڈیا گفتگو میں کہنا تھا کہ۔
سندھ کے معماروں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے حاضر ہوئے ہیں واضح کہنا چاہتا ہوں کہ حکومت کو نوجوانوں کو حقوق دینا ہوں گے عجیب صورتحال ہے مقابلہ امتحان کا 25 ہزار امیدوار حصہ بنتے جن کی تعداد کم کر کے 12 پھر 7 ہزار کردی جاتی ہے اتفاق ہے کہ صرف 70 امیدواروں کا حتمی انتخاب کیا جاتا ہے جس میں اثر وسوخ والے بھی شامل ہوتے ہیں جن 70 بچوں کا انتخاب کیا ان کا تعلق کس سے ہے وہ کہاں مطالعہ کرتے تھے یہ وہ 70 بچے تھے جنہیں پردے کے پیچھے پاس کروایا گیا ایسا کونسا ادارہ تھا جن کی صلاحیتیں 7 ہزار بچوں پر فوقیت حاصل کر گئے،راشد محمود سومرو
میرٹ کا قتل عام کرکے کرپشن کا بازار گرما رکھا ہے ہے، جزائر و وسائل بیچے جا رہے ہیں وفاقی وزیر داخلہ صاحب فرماتے ہیں کہ کاکروچ نکلیں گے تو نظام پلٹ کر رکھ دیں گے میں نوجوانوں کو کہتا ہوں کہ آپ کو سری لنکا، نیپال اور بھارت کی طرح باہر نکلنا ہوگا
#قائدانقلاب_مولانا
سوشل میڈیا کے افق پر مولانا فضل الرحمٰن کے حامیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد، ایک واضح حقیقت
کی طرف اشارہ کر رہی ہے
نوجوان نسل بڑی تعداد میں جے یو آئی کے بیانیے پر اعتماد کا اظہار کر رہی ہے۔
یہ صرف لائکس اور کمنٹس کا طوفان نہیں، بلکہ ایک نئی سوچ کی لہر ہے۔
وہ نوجوان جو بدلاؤ کے خواب دیکھتے ہیں
جو نظام کی ناانصافیوں سے تنگ آ چکے ہیں
وہ آج مولانا کے اصولی موقف، آئینی جدوجہد اور بے باک آواز میں اپنی آوا�� پا رہے ہیں۔ سوشل میڈیا اب صرف تفریح کا ذریعہ نہیں رہا، بلکہ ایک طاقتور پلیٹ فارم بن چکا ہے جہاں جے یو آئی کا بیانیہ نوجوانوں کے دلوں کو چھو رہا ہے۔ یہ اعتماد کی نئی صبح ہے۔
#سیاسی_چوکیدار
#مولانا_سے_معافی_مانگ
#شہداء_صرف_بہانہ
#لشکر_نہیں_امن
کارگل میں سینکڑوں شہید ہوئے ان شہیدوں کو ہندوؤں کے حوالے کردیا
کرنل شیرخان کو ہندوؤں کے کہنے پر وصول کیا
جانتا ہوں تم شہیدوں کی کتنی عزت کرتے ہوئے
مولانا کے سوالات اور حقائق
بریک��گ ۔ بریکنگ۔بریکنگ۔۔
مولانا نے فوج سے معافی کا مطالبہ کر دیا۔۔۔
میرا مطالبہ ہے کہ جس فوج اور جس جنرل نے جس دفتر سے میرے خلاف اور میری جماعت کے خلاف پروپیگنڈا کمانڈ کیا ہے اسکو معافی مانگنی ہوگی۔۔
،۔۔مولانا فضل الرحمان
جمیعت علماء اسلام تو فوج نہیں ہے، ہم نےطلباء سے لےکر اکابرین تک 200 سے زائد شہید کس کےلیے دیے؟
تم نے اس طرح کی حرکت کرکے جمیعت کی قربانیوں کا مذاق اڑایا ہے، اب اسکا ردعمل آئےگا آپ سمجھتےہیں ہم پیچھے ہٹ جائینگے، ہم نے ترتیب بنالی ہےمیں اپنا موقف لےکر چاروں صوبوں میں جاؤنگا۔
قائد محترم
اپنے شہداء کی توہین تذلیل اور تحقیر جو تم لوگوں نے کی ہے وہ کسی اور نے نہیں کی اپنے جرائم کو چھپانے کے لیے شہداء کی اوٹ میں چھپنے کی کوشش کرتے ہو کرنل شیر خان کا جنازہ ہم نے ہندوستان کے اصرار کے بعد وصول کیا ہے تم نے اپنے شہداء ہندوؤں کے حوالے کیے تم ان کے جنازے وصول کرنے کے لیے تیار نہیں تھے تم نے اپنے شہداء کو ہندوؤں کے حوالے کیا اور وہاں سے ایک بیان آیا کہ ہم نے انہیں اسلام�� طریقے سے دفن کر دیا ! مولانا فضل الرحمان