قابل فخر انجینئر ضیاء الرحمن صاحب کے سنگ وادی مہران سکھر میں سندھ کونسل کے اجلاس میں شرکت کی غرض سے الحمدللہ ، ان شاءاللہ ڈیجیٹل میڈیا کے محاذ پر نئے عزم کیساتھ آگے بڑھیں گے ۔
@ziaurrehman76
ایک بات واضح ہے ہماری طرف سے کہ ہم ملک سے وفاداری اور غداری کے لیے حکمران کو معیار تسلیم نہیں کر سکتے۔ تمہاری وجہ سے ملک ٹوٹا ہے، اسی سال اس ملک کے پورے ہو رہے ہیں۔ تمہاری وجہ سے ہم اوپر سے نیچے کی طرف آ رہے ہیں۔ اپنے اسی سال کا محاسبہ کیجیے۔ ہر زمانے میں تم تھے، یا تم جیسے اگر فکر تھی تو وہ بھی تمہارا مفاد تھا، تو وہ بھی تمہارا، اور جو آج ہم تنزّل میں گرے ہیں، وہ تمہارے اس اسی سالہ فکر و نظر اور اسی سالہ مفاداتی سیاست کے نتیجے میں ہم پہنچے ہیں یہاں تک۔
اس کو اَنا کا مسئلہ کیوں بناتے ہو؟ یہ ملک کوئی صرف تمہارا ہے؟ یہ ملک ہمارا ہے، اور میں اپنے وطنِ عزیز کے ساتھ وفاداری کا آپ سے کوئی سرٹیفیکیٹ بھی نہیں لینا چاہتا، کیونکہ تم میرے لیے معیار نہیں ہو۔
جب ہماری بات کا تمہارے پاس جواب نہیں بنتا تو پھر کچھ لوگوں کو چھوڑ دیتے ہو۔
میں اس سے کیوں ڈروں؟ میں نے چھتیس سال آپ کے انہی لوگوں کو بھگتا ہے۔ مجھے تمہارا زور معلوم ہے، مجھے تمہاری دلیل معلوم ہے اور مجھے تمہارا طریقۂ واردات معلوم ہے۔ کم بخت، وہی طریقۂ واردات ہے جو انگریز کے زمانے سے چلا آ رہا ہے۔ طریقۂ واردات تو تبدیل کر لو۔
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمٰن کا سکھر میں خطاب
سندھ کے میدان سے للکار!
سندھ کے اندر میرے اکابر، میرے بزرگوں نے اس جماعت کی جو آبیاری کی، آج یہ جماعت ان شہداء، اکابر اور اسلاف کے خون سے ایک تناور درخت بن چکی ہے!
جمعیت علماء اسلام سندھ کی ایک ناگزیر قوت اور طاقت بن چکی ہے۔
ہے کوئی طاقتور سے طاقتور؟
ہے کوئی بڑے سے بڑا حکمران؟
ہے کوئی بڑے سے بڑے منصب پر بیٹھنے والا؟
اقتدار بھی آپ کا، کرسیاں بھی آپ کی، نواب، خوانین اور سردار بھی آپ کے، وسائل بھی آپ کے... آئیں! سندھ کو ایک طرف رکھیں اور اپنی قوت کا مظاہرہ کریں۔
دوسری طرف قائدِ جمعیت، امامِ انقلاب حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب دامت برکاتہم العالیہ کے ایک آنکھ اور انگلی کے اشارے پر ہم سندھ کو بلاتے ہیں!
تاریخ وہ رکھیں، مقام وہ رکھیں...
فیصلہ سندھ کے عوام کریں گے!
سندھ کے عوام نے جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کو مسترد کیا ہے، برسوں سے سندھ پر حکمرانی کرنے والوں کو مسترد کیا ہے۔
آج سندھ کے عوام کی آواز جمعیت علماء اسلام ہے!
یہ صرف دیوبندیوں کا اجتماع نہیں، یہ صرف مسجد کے اماموں اور مؤذنوں کا اجتماع نہیں۔ یہاں دیوبندی بھی موجود ہیں، بریلوی بھی، اہلِ تشیع بھی، اور ہندو کمیونٹی کے نمائندے بھی موجود ہیں۔
سندھ ثابت کر چکا ہے کہ سندھ حضرت مولانا مفتی محمود رحمۃ اللہ علیہ کے فرزند، مولانا فضل الرحمٰن صاحب کے ساتھ کھڑا ہے!
سازشیں کرنے والوں کو کہہ دینا چاہتا ہوں، مولانا صاحب کے خلاف منصوبے بنانے والوں کو کہہ دینا چاہتا ہوں:
جہاں کھڑے ہو، وہیں رک جاؤ!
میرے قائد کی طرف تمہاری انگلی بڑھے گی تو جمعیت کے ابابیل اور پاکستان کے عوام جواب دیں گے!
کسی مائی کے لال کو مولانا فضل الرحمٰن اور جمعیت علماء اسلام کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی اجازت نہیں دیں گے، ان شاء اللہ!
اور جو بیٹھ کر محبِ وطن اور غدارِ وطن کے لائسنس بانٹ رہے ہیں، سن لیں!
ہم تم سے بڑے محبِ وطن ہیں!
آج اگر مولوی آئین کے ساتھ کھڑا ہے، پارلیمنٹ کے ساتھ کھڑا ہے، ووٹ کی پرچی کے ساتھ کھڑا ہے، اگر لاکھوں لوگ پاکستان کی سرحدوں کی حفاظت اور آئین کی جنگ لڑ رہے ہیں تو یہ قائدِ جمعیت، امامِ انقلاب مولانا فضل الرحمٰن صاحب کا پڑھایا ہوا درس ہے!
ہم اس ملک کے لیے اپنی جانیں قربان کر دیں گے، کسی کو پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی اجازت نہیں دیں گے، لیکن پاکستان کے اندر بیٹھ کر ملک کے مفادات، وسائل، جزائر، معدنیات، قوم اور قوم کے اثاثوں کے ساتھ مذاق کرنے کی اجازت بھی نہیں دیں گے!
یہ جمعیت علماء اسلام ہے!
جس نے ختمِ نبوت ﷺ کے قانون کے تحفظ کے لیے کردار ادا کیا!
یہ جمعیت علماء اسلام ہے!
جس نے کراچی کے طارق روڈ کی مدینہ مسجد کا دفاع کیا!
یہ جمعیت علماء اسلام ہے!
جس نے سکھر کی مساجد کا تحفظ کیا!
یہ جمعیت علماء اسلام ہے!
جس نے سیلاب اور کورونا میں بلا تفریق انسانیت کی خدمت کی اور سندھ کے عوام کی مدد کی!
یہ جمعیت علماء اسلام ہے!
جو ڈاکو کلچر کے خلاف امن مارچ کر چکی ہے!
یہ جمعیت علماء اسلام ہے!
جو قبائلی لڑائیوں اور تصادم کے خاتمے کے لیے امن جرگے کر چکی ہے!
یہ جمعیت علماء اسلام ہے!
جو معصوم بچوں کے خون، چادر اور چار دیواری کے تقدس کے لیے میدان میں ہے!
یہ جمعیت علماء اسلام ہے!
جو نوجوانوں کے میرٹ پر روزگار کے لیے جنگ لڑ رہی ہے!
اور یہ جمعیت علماء اسلام ہے!
جو داڑھی، پگڑی، مسجد اور مدرسے کے تحفظ کی جنگ لڑ رہی ہے!
سندھ جاگ چکا ہے... سندھ فیصلہ کر چکا ہے... اور سندھ اپنے قائد مولانا فضل الرحمٰن صاحب کے ساتھ کھڑا ہے!
قسط نمبر 4
ٹوئٹر ایکس پر زیادہ پوسٹیں یا بہتر پوسٹیں؟
اصل کھیل سمجھیں!
ساتھیو!
X کو مؤثر انداز میں استعمال کرنے کے لیے تین چیزیں سمجھنا بہت ضروری ہیں:
Limits — Impressions — Engagement
🔴 1️⃣ Posting Limits
X کے مطابق Unverified Account کے لیے:
• روزانہ 50 Original Posts
• روزانہ 200 Replies
کی حد درج ہے۔
اس کے علاوہ 2,400 Updates per Day کی عمومی Technical Limit بھی بیان کی گئی ہے۔
⚠️ لیکن یاد رکھیں:
Technical Limit = روزانہ اتنی پوسٹس کرنے کا مشورہ نہیں۔
بہت زیادہ یا غیر فطری activity Spam/Restriction کا سبب بن سکتی ہے۔
اس لیے اصول:
👉 کم پوسٹس، مگر معیاری اور متعلقہ پوسٹس۔
---
📊 2️⃣ Impression کیا ہے؟
Impression یعنی آپ کی پوسٹ X پر کتنی مرتبہ دکھائی گئی۔
مثلاً:
100,000 Impressions کا مطلب یہ نہیں کہ 100,000 مختلف لوگوں نے پوسٹ دیکھی۔
---
💬 3️⃣ Engagement کیا ہے؟
لوگوں نے پوسٹ کے ساتھ کیا کیا؟
❤️ Like
💬 Reply
🔁 Repost
📝 Quote
🔗 Link Click
👤 Profile Visit
🎥 Media Interaction
یہ سب Engagement میں شامل ہوسکتے ہیں۔
یعنی:
Impression = کتنی بار دکھائی گئی
Engagement = لوگوں نے کیا ردعمل دیا
---
📈 4️⃣ Engagement Rate
مثلاً:
100,000 Impressions
10,000 Engagements
تو Engagement Rate تقریباً 10% ہے۔
لیکن صرف Impressions کے پیچھے نہ بھاگیں۔
کم Impressions + حقیقی گفتگو
کئی مرتبہ
زیادہ Impressions + کوئی meaningful interaction نہیں
سے زیادہ مؤثر ہوسکتے ہیں۔
---
📊 5️⃣ Analytics ضرور دیکھیں
ہر ہفتے اپنی 3 بہترین Posts دیکھیں:
🔹 موضوع کیا تھا؟
🔹 تصویر یا Video؟
🔹 مختصر یا تفصیلی تحریر؟
🔹 کس وقت Post ہوئی؟
🔹 کتنے Replies آئے؟
🔹 کتنے Reposts ہوئے؟
🔹 کتنے Profile Visits ملے؟
پھر اس Pattern کو سمجھیں اور نئے Original Content میں استعمال کریں۔
❌ Copy-Paste نہیں
✅ کامیابی کی وجہ سمجھیں
یاد رکھیں:
X پر کامیابی صرف زیادہ پوسٹ کرنے میں نہیں، بلکہ صحیح Audience تک معیاری Content پہنچانے اور حقیقی Engagement حاصل کرنے میں ہے۔
ملتان: سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمن کی ممتاز سیاستدان مخدوم جاوید ہاشمی سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات
دونوں رہنماؤں نے ملکی سیاسی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا
مولانا فضل الرحمن نے جاوید ہاشمی کی سیاسی استقامت پر انہیں خراج تحسین پیش کیااور ریاستی اداروں کی جانب سے زیادتیوں اور مظالم کی مذمت کی
جاوید ہاشمی کی سیاسی استقامت آئندہ نسلوں کے لئے مشعل راہ ہے
اس موقع پر صوبائی قائم مقام امیر جے یو آئی مولانا صفی اللہ، مولانا جمال عبدالناصر، صوبائی ترجمان حافظ غضنفر عزیز، ضلعی امیر مفتی عامر محمود، طارق خان بلوچ بھی ہمراہ تھے۔
کون کون سے احباب روزانہ کی بنیاد پر اپنا ٹوئٹر ایکس اکاونٹس فعال رکھے ہوئے ہیں ۔۔؟
صاحب حیثیت ساتھی اپنا اکاونٹس فی الفور ویری فائی کرلیں (بلیو ٹک)
ان دنوں 1400 میں دو ماہ کا پیکیج چل رہا ہے اس کا فائدہ اٹھائیں ۔
عزیزو یہی وقت ہے ہمیں اپنی سرگرمیاں بہتر کرنی ہیں ۔ اکاونٹس کی کمزوریاں ختم کرنی ہیں ۔
پروفائل ایڈیٹ میں جاکر اس میں لوکیشن پاکستان ، بائیو میں اپنی ٹیم اور ویب سائٹ میں جےیوآئی پاکستان کی ویب سائٹ لازمی لکھیں ۔ جمعیت کے آفیشل ویب سائٹ کا لنک کمنٹ میں موجود ہے ۔
جو فیس بک پر پوسٹ کررہے ہیں وہ یہاں لازمی پوسٹ کرنے کی عادت ڈالیں ۔
ایک دوسرے کو وقفے وقفے سے فالو اور فالو بیک لازمی دیا کریں۔
ٹوئٹر ایکس سے متعلق روزانہ اپنے اکاؤنٹ سے پوسٹس کیا کرتا ہوں ، دلچسپی کم ہے اسے پڑھیں آپ کو ضرورت نا ہو تو دوسروں تک
لازمی پینچائیں ۔
" سمیع سواتی "
قائد جمعیت کے سیاست کے ہنگامہ خیزی سے ہٹ کر دریائے سندھ اٹک کے کنارے چند یادگار لمحے
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن نے اپنے دیرینہ رفقاء مولانا عبدالغفور حیدری، مولانا صلاح الدین ایوبی اور انجینئر ضیاء الرحمٰن کے ہمراہ سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اکرم خان درانی کی خصوصی دعوت پر ضلع اٹک کا دورہ کیا۔
ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال، قومی معاملات اور مستقبل کے سیاسی منظرنامے پر رفقاء کے ساتھ تفصیلی مشاورت ہوئی۔
پھر سیاست کی ہنگامہ خیز مصروفیات سے کچھ لمحے چرا کر دریائے سندھ کے کنارے اٹک کے پُرسکون کنارے جا بیٹھے۔ ٹھنڈی ہوا، خاموش لہریں اور فطرت کے حسین مناظر نے ماحول کو مزید خوبصورت بنا دیا۔
سیاست کی سخت راہوں میں ایسے پُرسکون لمحے بھی ضروری ہیں، کیونکہ یہی لمحے انسان کو اگلے سفر کے لیے نئی توانائی اور حوصلہ دیتے ہیں۔
رب کریم سلامت رکھے۔ آمین
آج سے سال ڈیڑھ سال پہلے کے مولانا فضل الرحمن صاحب کے الفاظ۔
فرق صرف اتنا ھے کہ محسن نقوی 1973 کے آئینی پارلیمانی نظام کے کولیپس ھونے کی بات کررھے ھیں جبکہ مولانا فضل الرحمن صاحب اس ھائبرڈ نظام کے کولیپس ھونے کی بات کررھے جس کے محسن نقوی وکیل ھیں
ہم پہلے کہہ چکے تھے کہ یہ سسٹم کلیپس کر چکا ہے
آج شریکِ جرم وزیر داخلہ نے بھی اقرار کر لیا
مولانا پر مقدمہ درج کیا گیا ان کے ساتھ کیا ہونا چاہیے ؟
سینیئر قانون دان سینیٹر کامران مرتضیٰ کی گفتگو
#سالار_امن_مولانا#شہدائےجمعیت_باجوڑ#پیغام_امن_جمعیت#عوام_کو_جینے_دو
#ابابیلوں_کا_شکریہ