پاکستان کی سیاست میں مولانا کا کردار
امریکہ کی پاکستان میں نئے نامزد ہونے والے ڈپٹی چیف آف مشن برائے سیاسی امور ٹیری سٹیئرز گونزالیز نے مولانا فضل الرحمن کے در پر حاضری لگا دی
امریکہ کے پاکستان میں نامزد نئے ڈپٹی چیف آف مشن پاکستانی سیاستدانوں میں سب سے پہلے مولانا فضل الرحمن کی رہائش گاہ
کیوں گئے
مولانا فضل الرحمن صاحب نہ حکومت میں ہیں نہ اپوزیشن لیڈر
پھر بھی حکومت اور اپوزیشن سمیت سفارتکار ان کے در پر حاضری لگاتے ہیں
ایسا کیوں ہے کہ پاکستان کی سیاست مولانا فضل الرحمن سے ادھوری ہے
اور ایسا کیوں کہ عہدہ نہ ہونے کے باوجود صدر مملکت، وزیراعظم، وزرا، اپوزیشن لیڈر اور تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین ان کے در پر حاضری لگاتے ہیں
الرحمان سے الوادعی ملاقات کی
ملاقات میں خطے میں امن وامان صورتحال، سیاسی سمیت دلچسپی کے باہمی امور پر گفتگو ہوئی
اس صدی کا سب سے بڑا امن معاہدہ
یہ اویس نورانی کا فخر ہے یہ پاکستان کے ہر شہری کا فخر ہے۔
اور جو کوئی بھی اس پر ماتم کناں ہے اللہ اس کے دل کو جہنم کا گڑھا بنا دے۔
قائد ملت جناب مجبی خامنائی سے التماس ہے کہ ہم نے وہ جنگ رکوائی جس کے باعث آپ کو ولایت فقیہ ملی ورنہ اگر جنگ جاری رہتی تو یہ آپ کی بجائے آپ کے بچوں کو بھی مل سکتی تھی۔ اس لئے اس خوشی میں اہل پاکستان کو تیل سمگل کرنے کی بجائے سیدھی طرح آدھی قیمت پر برامد کرنے کا فتویٰ جاری فرمائیں۔ پچاس سال سے بھی تو آپ کا تیل عالمی بلیک مارکیٹ میں آدھی قیمت پر بھارت اور چین کو بکتا رہا ہے۔
مہربانی ہو گی
ایران، امریکہ اور اسرائیل معاہدے کے بعد پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات 200 روپے فی لٹر اور گھریلو و صنعتی صارفین کیلئے بجلی 50 فیصد سستی ہونی چاہیئے، بجلی و گیس بلوں میں فکسڈ چارجز والی ڈکیتی بھی بند ہونی چاہیئے۔
ملک کے اندر بدامنی ہے، روزگار کے لیے لوگ گھروں سے باہر نہیں جا سکتے، اور میں یہ بات کسی تعصب کی بنیاد پر نہیں کہہ رہا۔ میں مسلسل یہ بات کر رہا ہوں، ایک پاکستانی کی حیثیت سے اور ایک پارلیمنٹیرین کی حیثیت سے، کہ ملک کا امن و امان انتہائی حد تک خراب ہے۔
آپ لوگ سندھ سے تعلق رکھتے ہیں، جناب اسپیکر، آپ کے ہاں ڈاکوؤں کا مسئلہ ہے، کچے کے ڈاکوؤں کا مسئلہ ہے، اور ہمارے ہاں تو حکومتی رٹ ختم ہو چکی ہے۔ تھانوں پر قبضے ہو رہے ہیں، پولیس اسٹیشن تباہ کیے جا رہے ہیں، چھاؤنیوں پر حملے ہو رہے ہیں۔ ہماری فوج کے جوان، ایف سی کے جوان اور پولیس کے اہلکار آئے روز حملوں کا شکار ہو رہے ہیں اور شہید ہو رہے ہیں۔ دفاعی صلاحیت ہماری کمزور ہو رہی ہے۔
مناسب نہیں کہ ہم اس فورم پر یہ بات کہیں، لیکن میں یہ تجویز دے چکا ہوں کہ یہ مسئلہ اس حد تک گمبھیر ہے کہ ہمیں اِن کیمرہ اجلاس کرنا چاہیے اور پارلیمنٹ کے اراکین کو بتانا چاہیے کہ یہ صورتحال کیوں درپیش ہے۔ اصل حقائق سامنے لائے جائیں۔ افغانستان کی صورتحال، اس کے ساتھ ہمارے تعلقات کی نوعیت اس وقت کیا ہے؟ ایران کے ساتھ ہمارے تعلقات کی نوعیت کیا ہے؟ بھارت کے ساتھ ہمارے تعلقات کی نوعیت کیا ہے؟ ملک کے اندر دو چھوٹے صوبوں کی خصوصیات کے ساتھ ہم دیکھیں کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔
ہم نے تو صرف ایک سوال کیا تھا کہ ہمیں صرف اتنا بتایا جائے کہ پاکستان کہاں کھڑا ہے، بس۔ لیکن آج تک یہ نہیں بتایا جا رہا کہ پاکستان کہاں کھڑا ہے۔
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمان کا پارلیمنٹ میں خطاب
#MaulanaInParliament
فرض کریں اگر ایران یا سعودی عرب اہل پاکستان کے تشکر کے طور پر تیل مفت دینا شروع کر دیں تو پھر بھی اوگرا کے نام پر ایسا نظام مسلط ہے کہ وہ دیا گیا مفت تیل بھی آپ کو کم از کم سوا دو سو روپے فی لیٹر ملے گا کیوں کہ ایک لیٹر میں اتنے ہی ٹیکسز، کمیشن، ٹرانسپورٹیشن، لیویز اور ڈیوٹیز شامل ہیں۔
ڈپٹی آئل ڈگر
پاکستان کی ضرورت کی نوے فیصد ایل پی جی ملک کے اندر پیدا ہوتی ہے جس کی پیداواری لاگت، ٹھیکے کا خرچہ ڈال کے، چھبیس روپے فی کلو گرام ہے۔ تا ہم اوگرا کہتی ہے کہ مقامی تیار کردہ ایل پی جی بھی عالمی قیمت یعنی ساڑھے تین سو روپے پر خریدی اور بیچی جائے۔ اگر وفاقی کابینہ کے ایک رکن کو اس امر کا نہیں پتہ تو اندازہ لگا لیں کہ ملکی معاملات کیسے لوگوں کے ہاتھ میں ہیں۔
اللہ پاکستان پر رحم کرے
Day 6
Ṣalāt al-Ḍuḥa
Pray 2 rakʿāt in the morning (anytime after sunrise until before Ẓuhr).
The Prophet ﷺ said that praying Ḍuḥā is like giving charity on behalf of every joint in your body. It brings barakah, rizq, and ease in your daily affairs.
Make it a habit even if it’s just 2 rakʿāt.
انتہائی اہم 🚨 اسرائیلی بمباری سے ڈری ہوئی یہ بچی دھماکوں کی آواز سے بچنے کے لیے اپنے ہاتھوں سے کان بند کر رہی ہے کیا مہذب دُنیا کے پاس بچی پر ہوئے اس ظُلم کا کوئی جواب موجود ہے؟ یقیناً نہیں
( Does the civilized world have an answer to this fear of children )
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: شبِ جمعہ اور روزِ جمعہ یعنی جمعرات غروبِ آفتاب سے لے کر جمعہ کا سورج ڈوبنے تک مجھ پر درود پاک کی کثرت کر لیا کرو، جو ایسا کرے گا قیامت کے دن میں اس کا شفیع و گواہ بنوں گا۔
(شُعَبُ الْاِیمان جلد:۳، صفحہ:۱۱۱، حدیث۳۰۳۳)
(https://t.co/1mFm1KxlwX)
کثرت درود شریف کی مقدار کے بارے میں حضرات علماء کرام کے تین (3) اقوال ہیں۔
1: جمرات کے دن مغرب کے وقت سے جمعہ کے دن سورج غروب ہونے تک کم از کم تین سو (300) مرتبہ درود شریف پڑھنا، یہ ادنٰی درجہ ہے۔
2: ایک ہزار (1000) مرتبہ پڑھنا، یہ درمیانہ درجہ ہے۔
3: تین ہزار (3000) مرتبہ پڑھنا، یہ اعلٰی درجہ ہے۔
(جمعہ کے معمولات)
حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص جمعہ والے دن اور شب جمعہ مجھ پر درود بھیجتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی 100 ضروریات ان میں سے 70 آخرت میں جب کہ 30 دنیا میں پوری فرماتا ہے۔“
(فضائل الاوقات للبیہقی)
حضرت ابو الدرداء ؓ روایت کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص مجھ پر صبح و شام دس، دس مرتبہ درود بھیجےگا تو قیامت کے روز میں اس کا سفارشی بن جاؤں گا۔ اور سب سے افضل درود یہ ہے۔
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَعَلَی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّيْتَ عَلَی إِبْرَاهِيمَ وبارِکْ عَلَی مُحَمَّدٍ وَعَلَی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلَی إِبْرَاهِيمَ إِنَّکَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ
[الترغیب والترھیب]
جزاک اللہ خیرا
پنجاب سے گندم کی جو ترسیل ہے اس پر پابندی لگائی گئی ہے اور وہ آئین کی خلاف ورزی ہے، کسی زمانے میں جب میاں شہباز شریف صاحب صوبے کے وزیراعلی تھے، تو یہ اس زمانے سے وطیرہ چلا ا رہا ہے، لیکن جب ہم ان سے شکایت کرتے تھے تو کہتے تھے کہ جی ہم تو اجازت دے دیں گے لیکن یہ گندم جب آپ کے صوبے میں جائے گا تو پھر افغانستان سمگل ہوگا، افغانستان سے سمگل ہوگا، ہم نے کہا کہ نہیں ہمارے لوگ پنجاب جاتے ہیں، مزدوری کرتے ہیں، کٹائی میں شریک ہوتے ہیں، برداشت میں شریک ہوتے ہیں، اپنی مزدوری لے کر واپس اتے ہیں، آپ کس طرح ان کی مزدوری جو ہے ان کے گھر تک انے میں رکاوٹ بن سکتے ہیں اور آج ہم کہتے ہیں ان کو، کہ آپ ہی نے تو سرحد بند کی ہوئی ہے جب افغانستان اور پاکستان کے درمیان سرحدی بند ہے تو پھر سمگلنگ کا کیا تصور ہو سکتا ہے؟ تو اس صورتحال میں بھی ہمارے صوبے کے عوام کے لیے گندم کی بندش جو ہے آئین کی بھی خلاف ورزی ہے، انسانی حقوق کی بھی خلاف ورزی ہے اور یہاں کے غریب لوگوں کے حق پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے۔
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کی وزیراعلی سہیل آفریدی کے ہمراہ میڈیا ٹاک
#JUI #PTI #Punjab #Border #Afghanistan
اگر پاکستانی میڈیا ہماری کوریج سے دستبردار ہے تو کوئی بات نہیں، الحمدللہ ہمارا اپنا میڈیا موجود ہے۔ ان شاء اللہ ہم اپنے پاور شو کی آواز اور پیغام دنیا کے کونے کونے تک پہنچائیں
سندھیلہ صاحب.. یہ جلسہ عمران خان کے خلاف نہیں تھا، بلکہ جن کے گود میں آج آپ کی پارٹی بمع مرد و زن بیٹھی ہوئی ہے، ان کے خلاف تھا، اور یہ ہمارا چیلنج ہے کہ پاکستان ادارے جو جمہوریت میں عسکری انجینئرنگ کرتے ہیں ،وہ اپنے استطبل کے سارے خچروں کو اکٹھا کرکے اس کا 1/10جلسہ کرکےدکھائیں
مین سٹریم میڈیا پر مولانا فضل الرحمان کا جلسہ روکنے والے یا رکوانے والے اتنی عقل نہیں رکھتے کہ جتنے افراد اس جلسے میں موجود ہیں وہ بذات خود اپنے موبائل فون کے ذریعے ایک چینل بن چکے ہیں ۔ اتنا بڑا جلسہ تھا ۔جے یو آئی فے کی اہمیت برقرار ہے پارلمینٹ میں ایم کیو ایم کیطرح ۔ کیا فرق پڑتا اگر ٹی وی چینلز اس جلسے کی کچھ کوریج کر لیتے ۔
یہاں تو ایک طاقتور ذہن کہتا ہے کہ جو ہم کہتے ہیں وہی پاکستان کی وفاداری ہے، میں معذرت کے ساتھ کہتا ہوں کہ یہ تاریخ ہماری گزر چکی ہے یہ انگریز کا ورثہ ہے، برصغیر میں جو انگریز کا مخالف تھا ہزار مرتبہ وہ ہندوستان کا وفادار ہو لیکن انگریز کے مخالف کو وہ غدار کہتا تھا اور جو انگریز کا خوش آمدگر، اس کے ٹکڑوں پر پلنے والے، ان کو جاگیریں عطاء کی، وہ بڑے وفادار نکلے۔ آج پاکستان میں ہزار بار پاکستان کے وفادار بن جائیں لیکن اگر اسٹیبلیشمنٹ کی رائے سے اختلاف کیا تو آپ کو غدار کہا جاتا ہے، یہ وہی روایات ہیں جو اس زمانے سے ہماری اس ملک میں چلی آرہی ہیں، اس فکر کو تبدیل کرنا ہوگا، اس سوچ کو تبدیل کرنا ہوگا، ان ترجیہات کو تبدیل کرنا ہوگا اور ان شاءاللہ اگر ہم نے فرقہ واریت کو شکست دی ہے، اگر ہم نے قادیانی لابی کو شکست دی ہے، اگر ہم نے اسرائیلی لابی کو شکست دی ہے، اگر ہم نے قوموں کے درمیان نفرتیں پھیلانے والی سیاست کو شکست دی ہے تو ان شاءاللہ ہم اس ذہنیت کو بھی شکست دیں گے کہ پاکستان کے وفادار کو کیوں غدار کہا جاتا ہے، اگر وہ اسٹیبلشمنٹ سے اختلاف رائے کرے گا۔
آئیں! ہم پاکستانی ہیں، معاملات ٹھیک کرو، ہم اس قوم کے افراد ہیں، ہمیں مطمئن کرو یہ کیا الیکشن ہے اور دھاندلی کر کے اپنی اسمبلیاں بنا دی، اگر اس طریقے سے یہاں پر اگر یہ اسمبلیاں بنی ہیں، سندھ کی اسمبلی جس طرح بنی ہے، پنجاب کی اسمبلی جس طرح بنی ہے، یہ سارے کے سارے وہ سوالات ہیں جو ہمارے ملک کی سیاسی نظام کے اوپر ہیں، ہم نے یہ جنگ لڑنی ہیں اور ان شاءاللہ قوم ایک ہوگی تو جیتیں گے ان شاءاللہ
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا پشین میں خطاب
لاکھوں کا مجمع، عوام کا سمندر، اور ملکی تاریخ کا سب سے بڑا سچ ، لیکن غلام میڈیا خاموش !
پشین میں مولانا فضل الرحمٰن صاحب نے ملکی پالیسی سازوں کو وہ آئینے دکھائے ہیں کہ پورے ایوانوں میں زلزلہ آ گیا ہے۔ لیکن افسوس، ہمارے بکاؤ میڈیا نے اس تاریخی جلسے پر مکمل بلیک آؤٹ کر دیا۔